اینکر پرسن: آج کا جو ٹاپک ہے ہمارا وہ بچوں کے حوالے سے ہے۔ ایک تو یہ کہ بچے اغوا بہت زیادہ ہو رہے ہیں اور دوسرا جو گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔ ان کو کس طرح سے اپنے گھر واپس پہنچایا جاتا ہے۔ جب بچے سپیشلی کمسن بچے جب گھروں سے بھاگتے ہیں تو ان کو تحفظ فراہم کرنا آپ کی اور ہماری ذمہ داری ہے اور کچھ ادارے ایسے کام کر رہے ہیں جن کا تعلق چائلڈ پروٹیکشن سے ہے۔ ڈاکٹر صداقت علی جو کے ایک سائیکٹرسٹ ہیں ہمارے ساتھ یہاں سٹوڈیو میں موجود ہیں۔ ان کو ویلکم کرتے ہیں پروگرام میں اسلام علیکم۔

ڈاکٹر صداقت علی: وعلیکم اسلام

اینکر پرسن: شکریہ ڈاکٹر صداقت علی صاحب آپ ہمارے شو گڈ مارننگ پاکستان میں تشریف لائے۔ پہلے تو یہ بتائیے گا ایک بہت بڑی تعداد ہے بچوں کی جو گھروں سے بھاگتے ہیں۔ اس میں بلاشبہ اغوا کا عنصر الگ ہے اور اس کی ہم نے نشاندہی کی ہے کہ زیادہ تر جو علاقے ہیں جہاں سے یہ بچے اغوا ہو رہے ہیں وہ باغ کا ایک علاقہ ہے اور ابھی ہم پروگرام سے پہلے بات کر رہے تھے اس کی کیا وجہ ہے آپ بھی ہمارے ناظرین کو بتائیے۔

ڈاکٹر صداقت علی: بچے زیادہ تر گھروں سے اغوا نہیں ہوتے گھر سے وہ پہلے بھاگتے ہیں اور پھر خطرے میں ہوتے ہیں یعنی نظر آتے ہیں جب وہ سڑکوں پر گھومتے پھرتے ہیں تو لوگ پھر انہیں اپنے مقاصد کے لیے اغوا کرتے ہیں یہ عرصہ دارز سے ہو رہا ہے اور پنجاب میں ایک ادارہ ہے جو کہ ان بچوں کی پہلے نشاندہی کر کے ادارے میں سیٹل کرنے کی کوشش کرتے ہیں میں کافی عرصہ تک اس ادارے کے ساتھ کام کرتا رہا ہوں بچوں کو گروپ کی شکل میں کاؤنسلنگ کرنا اور پھر واپس اپنے گھروں میں سیٹل کرنا لیکن بنیادی طور پر ایسے بچے گھروں سے اغوا نہیں ہوتے گھروں سے سکول جاتے ہوئے یا سکول سے واپس گھر آتے ہوئے اغوا نہیں ہوتے سب سے پہلے وہ خود گھر سے بھاگتے ہیں جب انہیں کہیں سے ہیٹ یا تپش ملتی ہے کیونکہ یہ تو انسان کی فطرت ہے کہ جہاں سے اس کو تکلیف ملتی ہے وہ وقتی طور پر یہ سوچتا ہے کہ میں یہاں سے بھاگ جاؤں اس کا آگے جا کے کیا انجام ہو یہ بعد کی باتیں ہیں دیکھیں ایک ننھا منا ذہن عام طور پر اس طرح سے سوچتا ہے وہ قتی طور پر اپنی جبلت کے تحت فیصلہ کرتا ہے وہ جب مار پیٹ ہوتی یا بڑا بھلا کہا جاتا ہے یا اردگرد حالات ایسے ہوتے ہیں جن سے بہت زیادہ تکلیف پہنچتی ہے تو پھر بچے گھروں سے بھاگنے کا سوچتے ہیں اور ان کی سوچ میں اتنے تخیلات نہیں ہوتے کے بچہ جب گھر سے بھاگے گا تو سڑک پر آنے کے بعد اس کے ساتھ کیا کیا گھناؤنے کام ہو سکتے ہیں یا کتنا برُا حال اس کا ہو سکتا ہے اس بارے میں پھر وہ بچہ بالکل نہیں سوچتا ہے اور وہ گھر سے نکل جاتا ہے اور بعض اوقات بچہ اکیلے نہیں بھاگ سکتا وہ بھاگنے سے پہلے اپنے جیسے کئی اور بچوں کو ساتھ ملاتا ہے اور پھر بغیر سوچے سمجھے کسی بس پر سورا ہو کے بادامی باغ کے اڈے پر پہنچ جاتے ہیں۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر صداقت علی صاحب تو اس کی وجوہات جو ہیں اس کے اندر تشدد شامل ہے؟ آپ کا تجربہ کیا کہتا ہے کہ کیا وجہ بنتی ہے بچوں کے گھر چھوڑنے کی؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے بڑی وجہ تو تشدد ہے جو بچوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ گھر سے بھاگیں لیکن کچھ بچوں میں تجسس بھی ہوتا ہے وہ ٹیلی ویژن پر دیکھ کر یا کسی اور طریقے سے دیکھتے ہیں کہ دنیا بڑی وسیع ہے اور بڑے مزے کی ہے تو وہ اپنے گھر جس میں وہ محدود ہوتے ہیں یا کسی گاؤں میں ہوتے ہے یا انہیں کوئی تنگی ہوئی ہے یا کوئی تکلیف ہوتی ہے تو بچے خیالات بھی بنا لیتے ہیں کہ جب وہ گھر سے نکلیں گے تو وہ کوئی بڑا مستقبل بنا لیں گے لیکن بنیادی وجہ بچوں کے ساتھ مار پیٹ ہوتی ہے یا انہیں مجبور کیا جاتا ہے جیسے بعض اوقات بچوں کو چھوٹی عمر میں محنت مزدوری پر مجبور کیا جاتا ہے والدین کی طرف سے جو کہ بڑی عام بات ہے کہ کچھ لوگ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کے اپنے بچوں کو مختلف جگہوں پر کام کاج کے لیے بھجوا دیتے ہیں جہاں مارپیٹ ہو سکتی ہے گالی گلوچ ہو سکتی ہے اور اس طرح کے بہت سارے مسائل ہو سکتے ہیں تو بچے کے ذہن میں اور کچھ نہیں آتا کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے یا وہ کسی سے بات کریں وہ اپنے کسی رشتہ دار سے یا کسی دانشور سے یا کسی سمجھدار سے بات کر سکتے ہیں یا کسی بزرگ سے بات کر سکتے ہیں مسجد میں امام مسجد سے بات کر سکتے ہیں سکول میں ٹیچر سے بات کر سکتے ہیں لیکن ایسے موضوعات پر بات کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے یہ ان ڈسکس ایبل ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے اور بھاگنا ان کے لیے اس کی نسبتاً بہت آسان کام ہوتا ہے اور اس میں نئی دنیا کے بارے میں جاننے کے بارے میں ان کے ذہن میں ایک خیال ہوتا ہے۔ تو اس طرح بچے انجانے میں یہ فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔ لیکن جو بھی بچہ سڑکوں پر رہتا ہے وہ بہت ولنرایبل ہوتا ہے وہ اغوا ہو سکتا ہے اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جبری مشقت اس طرح کی بہت ساری چیزیں ہو سکتی ہیں۔

اینکر پرسن: تو آپ کا ادارہ پھر ان کو کس طرح سے حفاظت فراہم کرتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: ہمارا ادارہ ولنگ ویز تو ایک کاؤنسلنگ فیسیلٹی ہے وہاں پر جو لوگ بھی اس طرح گھر سے بھاگنے کا رحجان رکھتے ہیں زیادہ تر جو کلائنٹس کے طور پر جو لوگ آتے ہیں وہ ذیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں جن میں گھر سے بھاگنے کا رحجان عروج پر ہوتا ہے۔ آپ سمجھیں کہ جوں جوں بچہ بڑا ہوتا چلا جاتا ہے اس میں گھر سے بھاگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ ان کے اندر اپنا بارود ہوتا ہے اپنے نیورو ٹرانسمیٹر ہوتے ہیں جو کہ برداشت نہیں کرتے تو چھ میں سے ایک نوجوان گھر سے ضرور بھاگتا ہے اور پھر وہ بعض اوقات تو چند گھنٹوں کے ہی بعد واپس آ جاتا ہے۔ بعض اوقات چند دنوں کے بعد واپس آ جاتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ جو بچہ یا نوجوان کوئی دو ہفتوں تک سڑکوں پر رہے پھر اس کے لیے سڑکوں پر رہنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ پھر ماں باپ کی پابندیوں کو قبول نہیں کرتا اس لیے کوشش یہ کرنی چاہیئے کہ بچہ کبھی گھر سے نہ بھاگے اور اگر بھاگے تو اس کی جلد بازیابی ہو اوراس کی ذہنی تربیت ہو کہ جس کی وجہ سے وہ دوبارہ بھاگنے کے بارے میں نہ سوچے بلکہ بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرے۔

اینکر پرسن: لیکن ڈاکٹر صداقت علی صاحب یہ بڑی ایک مشکل سی صورت حال ہو گی شاید آپ کے لیے بھی کہ جب بچے کے اوپر تشدد کیا جا رہا ہو اور اس کو جبری مشقت کے لیے مجبور کیا جا رہا ہو۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہمارے پاس 25 ملین ایسے بچے ہیں جو سکول نہیں جاتے۔ ایک بہت بڑی تعداد ہے ڈھائی کروڑ بچے جو کہ اس قوم کے 20 سے 22 کروڑ عوام کا 5% بچہ وہ سڑکوں کے اوپر موجود ہے اگر وہ سکولوں کے اندر نہیں ہے تو پھر یقینی طور پر وہ سڑکوں پر ہے گھروں سے باہر یا پھر محنت مشقت کر رہا ہے یا پھر کسی دوسرے جرائم میں شامل ہو رہا ہے۔ تو ایسے بچے جو آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کو پتہ ہے کہ اگر ہم نے گھر واپس بھیجا ان کے اوپر تو وہی ظلم اور تشدد ہو گا ان کے اوپر وہی جبری مشقت تھوپ دی جائے گی تو پھر اس صورت حال میں کیسے اس کو حل کرتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: ان حالات میں چونکہ ہمارا ماحول پر زیادہ اختیار نہیں ہوتا تو جتنا بھی کام ہم نے ایسے بچوں پر کرنا ہوتا ہے وہ خود ان کی ذات پر کرنا ہوتا ہے تو اس کے لیے ایک حساب ہے جس کو ہم ہوم رن آوے کری کیولم کہتے ہیں جس میں بچوں کے دماغ پر ان کی سوچوں پر ان کی ایمانیات پر ہم کام کرتے ہیں اور ان کی تبادلہ خیا لات کی مہارت کو بڑھاتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں ان کے پاس کیا کیا راستے ہیں وہ کس سے بات کر سکتے ہیں اور کیسے بات کر سکتے ہیں اور کیسے دوسرے لوگ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ جو لوگ مسِ گائیڈ کرتے ہیں ان کا انداز کیا ہوتا ہے کن لوگوں کو آپ نے بالکل رابطہ نہیں کرنا ہوتا اور کن لوگوں سے آپ نے ملنا ہوتا ہے اور کن سے آپ نے رہنمائی لینی ہے۔ تو یہ بچوں کی صلاحیت ہے اس پر کام کرتے ہیں۔ ان کی سٹرس مینجمنٹ پر کام کرتے ہیں۔ ان کے اندر جب تپش ہو تو وہ کیا کریں۔ انہیں غصہ ہو تو وہ کیا کریں جب کوئی پٹائی پر تلا ہوا ہو تو اس سے کیسے نپٹیں۔ یہ ایک نصاب ہے، باقاعدہ نصاب ہے جس میں سے وہ گزرتے ہیں اوپر سے ان کے اوپر اس طرح کی صلاحیت دینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے ان کا سڑیس لیول اُوپر نہ جائے اور انہیں ایسے راستوں کا پتہ چل جائے جس سے وہ اپنی زندگی کو محفوظ بنا سکیں۔ والدین کو یہ بات ہمیشہ کے لئے سمجھ لینی چاہیئے کہ بچوں پر تشدد اور ان کے ساتھ مار پیٹ سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکتا اور تشدد انسانی حدوں سے باہر کی بات ہے یہ جانور کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ کیونکہ وہ بات چیت نہیں کر سکتے اپنے خیالات ایک دوسرے تک نہیں پہنچا سکتے ہیں تو جانور ایک دوسرے کو گُھور کر دیکھتے ہیں غراتے ہیں اور ایک ددسرے کو مار کر اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ انسان کو اس لئے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کیونکہ وہ سوچ سکتا ہے اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے اپنی سوچ کے ذریعے وہ مسائل کا حل بھی نکال سکتا ہے۔ ہٹ اینڈ ٹرائل سے بھی وہ ایک طریقہ آزماتا ہے اور کبھی دوسرا طریقہ آ زماتا ہے اور اس کے بعد اس کا مسئلہ حل ہونا شروع ہو جاتا ہے تو بچوں کے ساتھ اگر والدین بات چیت کرنا شروع کریں تو اس سے زیادہ آسانی سے مسائل حل ہو سکتے ہیں لیکن بات چیت کی نسبت مار پیٹ کرنا بہت آسان لگتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ والدین کا حق ہے کہ بچوں کو مار پیٹ کریں یا ٹیچر کا حق ہے، یا مولوی کا حق ہے کہ وہ بچوں پر مار پیٹ کرے تو ایسا کسی کا حق نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ قائل کرتے ہیں بات چیت کے ذریعے سمجھاتے ہیں اور ایسے روایتی طریقے ہی استعمال کرتے ہیں جس سے بچوں کو پڑھنے لکھنے کی ترغیب ملتی ہے یا گھر کے کام کاج کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ جب بچے سکول نہیں جایا کرتے تھے تو یہ عام بات تھی کہ وہ گھر کے کام کاج میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور جو کام کاج ہوتا تھا وہ زیادہ تر کاشت کاری ہوا کرتا تھا۔ کیونکہ ازل سے عام پیشہ ہے تو والدین بھی یہی کرتے تھے۔ لیکن آج سے چند سو سال پہلے باقاعدہ یہ سکول سسٹم آیا پھر اس میں کوئی قباحت ہوئی اور اسے تکلیف دہ بنا دیا گیا عام بچوں کے چہروں پر چھٹی کے نام سے خوشی آ جاتی ہے۔ تو ایسا کچھ کرنے کی ضرورت ہے کہ سکول میں جو پڑھائی کا سسٹم ہے اس میں سے تکلیف کو ذرا ختم کرنے کی ضرورت ہے اس میں ذرا کھیل کود شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر صاحب یہ ایک بہت اہم پوائنٹ ہے شکریہ۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور اس میں مزہ شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اب دنیا میں بہت مزے دار چیزوں کو دریاقت کر لیا گیا ہے جس میں وڈیو گیمز کمپیوٹر گیمز ہے اور بہت سی ایسی چیزیں ہے جسے بچوں کی تعلیم کے ساتھ مکس اپ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی توجہ تعلیم میں بھی ہو۔

اینکر پرسن: کوئی اختتامی الفاظ جو والدین اور بچے کے درمیان تعلق کے مطابق ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: جیسا کے میں نے عرض کیا کہ مار پیٹ بالکل نہیں ہونی چاہیئے اور دوسرا بچوں کو پڑھائی کے لیے بھی نہیں مارنا چاہیئے کہ اگر بچہ پڑھ نہیں رہا تو اس کے ساتھ مار پیٹ کی جائے جب آپ بچے کو پڑھائی کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں اور وہ نہیں ہوتا تو اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اس کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ چھوٹے بچوں سے ہم اکثر مستقبل کے بارے میں بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ ہمیں لگتا ہے۔ یہ کوئی فضول بات ہو رہی ہے حالانکہ چھوٹے بچوں کو بھی اگر آپ یہ سوچ سمجھ دے دیں کہ پڑھنے لکھنے سے آخرکار ان کا مسقبل کیسا بن سکتا ہے تو ان کی موٹیویشن اس سے بڑھ سکتی ہے۔ پھر ان سے ایسے سوال جواب کیے جا سکتے ہیں جن سے ان کا ذہن خود سے سوچے۔

اینکر پرسن: یعنی ایک مائنڈ سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو شاید اس بات کا اندازہ ہو گا اگر نہیں ہے تو ہو جانا چاہیئے کہ بچہ اگر تین سال کا بھی ہو تو اس کے اندر شعور آ جاتا ہے کہ اس نے سکول جانا ہے اور اس نے کوئی بڑا کام کرنا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دوسری طرف معاشرے میں ہمیں تھوڑی نظر ڈالنی چاہیئے کہ ایسے کون سے حالات ہیں کہ جس سے بچے آسانی سے سڑکوں پر جاتے ہیں ان کا کھانے پینے کا بندوبست ہو جاتا ہے یا ایسی بہت سی جگہیں ہیں جہاں بچوں کو پتہ ہوتا ہے وہا ں مختلف اقسام کے کھانے مل جائیں گے جیسا کے داتا دربار ہے۔

اینکر پرسن: ان کے ذہین میں یہ ہوتا ہے کہ وہاں جا کے بغیر کچھ کیئے مل جائے گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: بہت سے ایسے دسترخوان ہوتے ہیں جو لوگ نیکی کے جذبے سے لگاتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ اس سے ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ پھر لاہور میں ایسے علاقے ہیں۔ جہاں ایسے بچوں کو ملازمت کے مواقع بھی مل جاتے ہیں اور کسی ہوٹل میں ٹپ بھی مل جاتی ہے۔

ٰاینکر پرسن: اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر اوقات ہم چوراہوں کے اوپر یہ دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور جلد ہی یہ بچے نشہ کا رستہ بھی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ صمد بانڈ سونگھنے لگتے ہیں یا اس طرح کے نشے جیسا کہ سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں اور منشیات کے دھندے میں باقاعدہ شروع ہو جاتے ہیں۔

اینکر پرسن: یا پھر دہشت گردوں کے ہاتھوں لگ جاتے ہیں یہ بھی ایک المیہ ہے اس قوم کا۔ ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ ہمارے پروگرام میں آنے کا۔