ہوسٹ: اسلام وعلیکم! نیو پاکستان میں خوش آمدید! آج ہم جس موضوع پر بات کر رہے ہیں وہ ہے دنیا کا واحد انسان کا تخلیق کردہ تعلق یعنی کہ شادی۔ یہ وہ واحد رشتہ ہے جو لوگ خود چنتے ہیں، خود بناتے ہیں باقی رشتے اﷲ تعالی ہمیں تحفے میں دیتے ہیں۔ تو اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ بات چیت کا آغاز کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ڈاکٹر صداقت علی بھی موجود ہیں۔ بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ کی تشریف آوری کا۔اور کراچی سے ہمارے ساتھ میرج ایکسپرٹ مسز خان موجود ہیں۔ مسز خان آپ کا بہت شکریہ! میں چاہوں گی کہ ڈاکٹر صداقت صاحب سے بات چیت کا آغاز ہو کیونکہ ڈاکٹر صاحب ہمیں بتائیں گے کہ اُن کے پاس کس طرح کے کیسز آتے ہیں۔ آج کل میرج کاوٗنسلر بہت زیادہ فیس لے کر کوشش کرتے ہیں کہ وہ کام سر انجام دیں جو کہ پہلے خاندان کے بڑے لوگ کیا کرتے تھے۔ بتائے آپ کی نظر میں یہ کیا صورتحال ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں اب تو ایسا ہے کہ طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے کیونکہ اب آپ کو بہت سننے کو ملتا ہے کہ فلاں میں طلاق ہو گئی ہے تو اس کا رویہ نارمل ہو جاتا ہے یہ بھی اس کو بڑھا رہا ہے۔ اب لوگ زیادہ تردد نہیں کرتے جلد طلاق لے لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہ مشورہ دیتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق کسی لڑکی کی تین سہیلیوں کو طلاق ہو جائے تو اس کے لئے بھی طلاق لینا کافی ضروری ہو جاتا ہے۔ تو یہ دیکھا دیکھی والی بات بھی بہت ہوتی ہے۔ کسی شادی میں طلاق خرابی کی وجہ سے یا خود فربیی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک سوچ بھی ہے کہ کچھ لوگ تو طلاق کی طرف بڑھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ بستے رہتے ہیں لیکن جذباتی طلاق ان میں بھی ہو چکی ہوتی ہے۔ لہذا طلاق کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ محبت کا ختم ہو جانا۔ یہ محبت کے عروج و زوال کی کہانی ہے۔ محبت پر زوال اس لئے آتا ہے کہ کچھ ازدواجی علتیں ہوتی ہیں جو کہ خود انسان کو زیادہ تر پتہ نہیں چلتا لیکن دوسرا ان سے بہت زیادہ نا خوشی یعنی دکھی محسوس کرتا ہے تو اس طرح ایک نا خوشگوار شادی میں قریب رہنا بہت ضروری ہے تو اس میں پھر اذیت بھرتی رہتی ہے آخر کار محبت کے چشمے خشک ہو جاتے ہیں اور پھر لوگ یا تو طلاق کی طرف بڑھتے ہیں، یا کسی تربیت کی طرف بڑھتے ہیں آپ نے جو کہا کہ پہلے جو کام خاندان مین کیا جاتا تھا وہ اب میرج کاوٗنسلرز کرتے ہیں کیونکہ خاندان میں عام طور پر میرج کاوٗنسلرز نہیں پائے جاتے بلکہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ہی شادی سے دوسروں کو مشورہ دیتے ہیں۔

ہوسٹ: لیکن ڈاکٹر صاحب جو ماں باپ ہوتے ہیں دونوں فریقین کے کیا آپ کو نہیں لگتا کہ وہ سب سے زیادہ چاہتے ہیں رشتہ بنا ہی رہے تو پھر وہ اچھے ہی مشورے دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: ماں باپ سے ہی تو زیادہ تر لوگ ازدواجی علتوں کو سیکھتے ہیں۔ بچپن میں چھوٹے چھوٹے بچے اپنے ماں باپ کو برا سلوک کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ یہ کوئی کرنے کا کام ہے یہ کرنے میں کوئی حرج نہیں جو کچھ ہمارے ماں باپ کرتے ہیں وہ ہمیں ٹھیک لگتا ہے چاہے ہمارے ماں باپ کچھ بھی کر رہے ہوں ہمارا ننھا سا ذہن اسے قبول کر لیتا ہے اور پھر جب دہرائی ہوتی ہے جیسے ٹیلی و یثرن پر اشتہار آتے ہیں تو آپ اس چیز کو جا کر خرید لیتے ہیں آپ کا ذہن پروگرام ہو جاتا ہے تو ماں باپ سے ہی زیادہ تر ہم سیکھتے ہیں۔ اب اُن سے ہم بری عادتیں اور بہت سی اچھی عادتیں بھی سیکھتے ہیں۔ ماں باپ ہماری خدمت بھی کرتے ہیں وہ ہمیں پروان بھی چڑھاتے ہیں تکلیفیں بھی اٹھاتے ہیں اور غلط غلط ہے، صیحح، صیحح ہے کا فرق بتاتے ہیں۔

ہوسٹ: ٹھیک ہے!سعدیہ آپ ٹرینر بھی ہیں آپ اس پورے معاملے کو کیسے دیکھتی ہیں؟ کیا وجہ ہے، قصور آج کل زیادہ تر کس کا د یکھا جاتا ہے؟

سعدیہ: دیکھیں میں تو سمجھتی ہوں کہ قصور تو دونوں طرف سے ہی ہوتا ہے۔ اگر تو کہیں کہ صرف لڑکے کا قصور ہے تو بھی غلط ہے، لڑکی کا قصور ہے تو بھی یہ کہنا غلط ہے۔ دراصل جو بات ڈاکٹر صاحب نے کی کہیں نہ کہیں برداشت کم ہو گئی ہے۔ میاں کچھ کہتا ہے تو بیوی سے برداشت نہیں ہوتا اور اگر بیوی کہے تو میاں سے برداشت نہیں ہوتا۔ وہ جو برابری والا چکر ہے وہ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں جو برداشت کی ہم نے بات کی تو برداشت کرنا ہی اس مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات لوگ اتنی زیادتی کر سکتے ہیں جتنی کسی کی برداشت ہو ہی نہیں سکتی لہذٰا برداشت کرتے رہنا اس مسلئے کا حل نہیں تو سب سے بہتر طریقہ جو ہے وہ یہ ہے کہ کون سی بری عادتیں ہیں، ازدواجی علتیں ہیں جو کہ شادی کو خراب کر سکتی ہیں۔ بالکل ڈاکٹر صاحب اس نکتہ پر میں ایک الگ سے بات کرنا چاہوں گی کہ وہ کون سی عادتیں ہیں جو کہ شادی کو خراب کر سکتی ہیں آپ کا تجربہ کیا کہتا ہے مسز خان کہ قصور کس کا ہوتا ہے؟

مسز خان: آج کل میں کہوں گی کہ قصور سب کا ہے جوڑے کا قصور زیادہ نہیں کہوں گی بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگ، خاص کر والدین! آج کل میں نے یہ دیکھا ہے کہ والدین اس چیز کو بڑھاوا دیتے ہیں!کچھ کیا تو سیدھا گھر بوریا بستر باندھو اور آ جاوٗ گھر!۔۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ہاں؟ لڑکیوں کو صبر و تحمل نہیں سکھایا جاتا۔ قرآن کیا کہتا ہے کہ کیوں نہیں ہے صبرو تحمل اور قربانیاں پہلے گھر کیسے بستے تھے۔ یہ ترجیحات ہوتی تھیں لڑکیوں کو بچپن سے ہی سکھایا جاتا تھا کہ تم نے دوسرے گھر جانا ہے، یہ تمہارا عیش و آرام، تمہارے لاڈ جو اٹھائے جا رہے ہیں یا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو تو پہلے سے ہی یہ سکھایا جاتا تھا، سکھایا جانا چاہیئے، ہم نے بھی اپنی بچی کو یہ کہا تھا، دیکھو ہم سب کچھ مہیا کر رہے ہیں، سارا کچھ تمہارا ہے۔ لیکن اس گھر میں جا کر تمہارے پاس کوئی نہ کوئی کمی ہو گی، تمہاری چاچی، نندیں بھی ہو سکتی ہیں تمہیں ان کا خیال بھی رکھنا پڑ سکتا ہے یہ نہ ہو کہ منہ بنا کر آ جاؤ کہ میں نے 6 لوگوں کا کھانا بنایا تو کیا ہوا!۔۔۔ اگر تم ان سب کے لئے تیار نہیں ہو تو شادی مت کرو۔ آپ کو سوچنا چاہیئے کہ آپ کو سسرال میں برداشت بھی کرنا ہے، قربانی بھی دینی ہے ادھر تم اکیلی ہی نہیں ہو بلکہ پورا خاندان ہے۔ آپ کو سب کی سننا پڑے گی ایک وقت آتا ہے آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ اس بہو نے ہماری ساری باتیں مانی ہیں بہو کو اس گھر کے عکس میں ڈھلنا ہے اس گھر کے حالات کا پتہ ہے، اس نے ہمارا ساتھ دیا۔

ہوسٹ: یہ بھی ایک صورت حال ہے میں جاننا چاہوں گی کہ کتنا برداشت کرنا ہو گا؟

مسز خان: ایسے لڑکی نہ ہی اپنے گھر میں سیٹ ہو سکتی ہے اور نہ ہی سسرال میں۔

ہوسٹ: ٹھیک ہے! سعدیہ آپ اتفاق نہیں کرتیں اس بات سے؟

سعدیہ: ہاں بالکل! دیکھیں انتہائی ادب کے ساتھ میں آپ کی بات سے بالکل متفق نہیں ہوں۔ ہمارا اسلام ایسی بات نہیں کرتا کہ آپ شادی کر کے لے جا رہے ہیں نوکرانی نہیں لے کر جا رہے جو پورے پورے خاندان کی خدمتیں کرتی ہیں۔ ہمارا اسلام ایسا بالکل بھی نہیں کہتا بلکہ یہ ہندو ازم ہے جب لڑکی کو لے کر جاتے ہیں تو پورے پورے خاندان کی خدمت کرتی ہے۔ بہو رانی صبح اٹھتی ہے اس نے اپنی ساڑھی باندھی اور پھر کام پر لگ جائے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہوتا۔ پیار سے چاہے آپ کچھ بھی کروا لو! آپ کچھ بھی کرو پر پیار محبت کے ساتھ میرے گھر میں بھابھی ہے۔ تمہارے گھر میں تمہاری بھابھی ہو گی، سب کے گھروں میں ہو گی لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے اتنے سال ایسے ہو اور پھر بہو راج کرے گی، معذرت کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا یہ پتہ نہیں کس صدی کی بات ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ تو کوئی انسان نہیں کر سکتا کہ وہ برداشت کئے جائے ہر چیز کو اور دس سال تک انتظار کرے اور اس طرح کئی مثالیں دی جاتی ہیں کہ روڑی کی بھی سنی جاتی ہے تو اس طرح کی مثالیں خواتین کے لئے استعمال کرنا مناسب نہیں۔

ہوسٹ: ڈاکٹر صاحب یہ بتائیے گا کہ برداشت کی کیا حد ہونی چاہیئے مطلب کس حد تک ہم برداشت کریں اور کب ہمیں فیصلہ لینا ہے اور الگ ہونا ہے۔ ﷲ تعالٰی کے نزدیک بھی یہ ناپسندیدہ چیز ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اس میں اہلیت کا تعلق ہے شادیاں خراب ہوتی ہیں لڑکوں اور لڑکیوں کی غیر مطابقت کی وجہ سے۔ جب کوئی بچہ پیدا کرنے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس کی شادی کر دی جائے تو یہ اہلیت کافی نہیں ہے۔ اہلیت کے لئے کسی کو کچھ پتہ ہونا چاہیئے کہ آگے جا کر کیا مشکلات ہوں گی؟ لڑکی کو پتہ ہونا چاہیئے۔ جب وہ اپنے گھر سے دوسری جگہ جائے تو گھر، ماں باپ، اپنا کمرہ، اپنا باتھ روم، اپنا ریموٹ کنٹرول کتنا یاد آئے گا، اپنی سہلیاں یاد آئیں گی اور وہ اپنی زبان پر بھی نہیں لا سکتی سسرال میں جا کر مجھے یہ سب یاد آتا ہے۔

سعدیہ: یہ سب پختگی ہے ڈ اکٹر صاحب۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ سب پختگی ہے اسے پہلے سے پتہ ہونا چاہیئے اور لڑکے والوں کو احساس کرنا چاہیئے کہ لڑکی مہمان آئی ہے اور لڑکی کے اندر اہلیت ہونی چاہیئے بات چیت کرنے کی مہارت ہونی چاہیئے کہ وہ ایک لڑکے بارے میں یہ سوچے کہ وہ بھی اپنی ماں سے 25 سال سے محبت کر رہا تھا اب محبت تقسیم ہو رہی ہے اور ہماری ثقافت لڑکے کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ بیوی کو بہت صدقے واری جائے، اس کے ارد گرد منڈلائے۔ ہماری ثقافت تو یہ بھی برداشت نہیں کرتی کہ کھانے کی میز پر خاوند اپنی بیوی کو کوئی پلیٹ پکڑا دے۔ ماؤں اور ساسوں کو برا لگتا ہے تو اس طرح کی جو بہت ساری چیزیں ہیں کچھ ازدواجی علتیں ہیں۔ جو بیچ میں چھپکلیاں داخل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ازدواجی علتین بہت اہم ہیں جس میں سے تنقید سے ایک دوسرے کو سدھارنے کی کوشش کرنا، میاں بیوی کا رشتہ ایک دوسرے کو سدھارنے کے لئے نہیں ہوتا۔

ہوسٹ: اچھا ٹھیک ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ واپس آتے ہیں مسزخان کی جانب آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ بھی ایک عنصر ہے جو ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے جو عجیب وغریب رسومات ہیں جن کا نہ تو ہمارے مذہب سے کوئی تعلق ہے۔

مسز خان: بالکل صحیح! میں متفق ہوں دیکھیئے پہلے دن سے ہی جا کر ایک عورت آدمی کو اپنا بنا کر اپنے ساتھ نہیں بیٹھا سکتی، اس نے اپنی ماں کے ساتھ اور اپنی بہنوں کے ساتھ وقت گزارا ہوتا ہے اور لڑکے کو بیوی اور گھر والوں دونوں ہی کو جگہ دینا پڑے گی۔ لڑکی بھی لڑکے کو لے کر ساری زندگی الگ تو نہیں بیٹھ سکتی۔ ایک دم سے تو وہ سب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس کو تھوڑی ہاں میں ہاں ملانی پڑے گی، اس کو دل جیتنے کے لیئے تھوڑے سے زائد کام کرنا پڑیں گے۔

ہوسٹ: نیو پاکستان میں آج ہم بات کر رہے ہیں طلاق کی بڑھتی شرح اور اس کی وجوہات آپ کی نظر میں کیا ہیں؟ عوام سے جب ہم نے یہ سوال کیا تو عوام کی رائے کیا تھی؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

عوام: اصل وجہ ہے جی کہ ماں باپ کی نافرمانی اور من مرضی ہو رہی ہے جو لڑکیوں اور لڑکے اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔

عوام: عورت جو ہے وہ اپنے گھر میں ہمیشہ غالب نہیں ہونی چاہیئے باہر جتنی بڑی کمپنی میں کام کر رہی ہو، گھر میں یا ااپنے گھر کو بچانے کے لیئے طلاق بچانے کے لئے ہمیشہ کوشش عورت ہی کی ہوتی ہے۔

عوام: لوگ اپنی کی پسند کی شادی کریں تو اپنے ماں باپ کو منا ہی لیتے ہیں لیکن بعد میں معاشرے کے تجربات نہ ہونے کے باعث طلاق کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

عوام: سب سے پہلے میاں بیوی میں سمجھ بوجھ ہونا بہت ضروری ہے اگر اس کے علاوہ بھی کوئی حل نہیں نکلتا تو والدین کو بھی چاہیئے کہ وہ سارا معاملہ ختم کریں۔

عوام: مرد تعاون نہیں کرتے اور زیادہ تر عورتیں تعاون کرتی ہیں اور ہمیشہ دونوں میں سے کسی ایک کو ہی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے جس میں عورت ہی زیادہ سمجھوتہ کرتی ہے۔

عوام: غلط استعمال موبائل کا، لڑکوں سے دوستی اور پھر شکوک و شبہات کا پیدا ہو جانا وجہ ہے۔

ہوسٹ: بہت شکریہ آگاہ کرنے کے لئے! ڈاکڑ صاحب پانچ علتوں کی آپ بات کر رہے تھے ایک تو یہ کہا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو سدھارنے کے لئے نہیں ہیں تو پھر کیوں یہ رشتہ بنا؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں! سدھارنے کے لئے والدین ہوتے ہیں اور ان کو بہت بڑا موقع ملتا ہے کہ وہ شروع سے ہی بچوں کی پرورش کرتے ہیں، سدھارتے ہیں لیکن میاں بیوی کا رشتہ جو ہے وہ بنیادی طور پر تین چیزوں کے لیے ہوتا ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ نسل انسانی کو آگے بڑھانا، منظم طریقے سے دنیا میں انسانوں کی جو افزائش نسل ہے وہ اس کے لیئے ہوتا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ قربت کے لمحات کے لئے جو بنیادی چیز ہے جس کی وجہ سے لوگ شادی کے رشتے میں بندھتے ہیں ورنہ ان کے باقی کام ادھر اُدھر سے ہو سکتے ہیں۔ تیسرا ایک دوسرے کا ساتھ ہے جس میں انسانوں کو دوسرے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے ہر دم قریب ہونے کے لیئے۔ آپ دیکھیں کہ لوگ بلی کو گود میں لے کر بیٹھے ہوتے ہیں، کتے کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے انسانوں کے ساتھ معاملات اتنے ٹھیک نہیں چل رہے ہوتے جب ہم سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں، نقطہ چینی جب کرتے ہیں تو اس سے دل ٹوٹتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جب نقطہ چینی کرتے ہیں تو دوسرا دفاع کرنے پر اُتر آتا ہے۔ پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے پھر دوسرا جوابی طور پر نکتہ چینی پر اُتر آتا ہے اور اچھا جب ہی چیزیں اس طرح کی باتوں میں چل رہی ہوتی ہیں تو بیچ میں توہین آمیز رویہ شامل ہو جاتا ہے، تمہاری ماں ایسی ہے، تمہارا باپ ایسا ہے، جیسی زبان آنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر حد جب بڑھ جاتی ہے تو سب سے زیادہ ناکام کام شروع ہو جاتا ہے اور وہ ہے خاموشی تو یہ چار چیزیں ہیں جو کہ ایک شادی کو خراب کرتی ہیں لیکن جو ازدواجی زندگی کی علتوں کی میں بات کر رہا تھا اس میں سے یہ پہلی تنقید ہے۔ دوسری جو ازدواجی علت ہے وہ آپ یوں سمجھ لیں کہ میں نے کسی کو خرید لیا ہے۔ اچھا انسانوں کو خریدا نہیں جا سکتا کبھی بھی عورتیں بھی سمجھتی ہیں کہ یہ میرا خاوند ہے، یہ میری بیوی ہے حالانکہ وہ کئی اور رشتے بھی رکھتی ہے تو اس طریقے سے کچھ چڑچڑی عادات بن جاتی ہیں جیسے اسمارٹ فون لے کر بیٹھنا، ایک دوسرے کے ساتھ نظر نہ ملانا شامل ہیں۔ نظر سمار ٹ فون میں ہے تو اسی میں ہی جواب دینا یا دیر سے جواب دینا۔ اس طرح کی بہت ساری چیزیں ہیں جیسے ناجائز مطالبات روپے پیسے کے معاملے میں بعض اوقات مرد جس کی ذمہ داری ہمارے معاشرے میں سمجھی جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ عورت کو ذرا اونچا مقام دیا گیا ہے کہ مرد اس کے لئے کما کر لائے گا لیکن بعض اوقات آمدنی کے ذرائع نا کافی ہوتے ہیں، بعض اوقات ایسی خواہشات ہوتی ہیں۔ پھر غیر ایمانداری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کسی اور میں دلچسپی لے رہے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی اور چیز میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، جیسے صبح سے شام تک کام کرتے ہیں اور پھر آپ دوستوں کے ساتھ مصروف ہو گئے ہیں معاشرے میں شادیاں ہوتی ہیں آج سے ہزاروں سال پہلے ویسے ہی رہتے تھے لیکن پھر ایک ادارہ بنایا گیا، شادی کو بنایا گیا، پھر اس کے اندر بہتری لائی گئی۔ شادی دنیا بھر میں ایک بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے اوراس میں ایک بنیادی سوچ ہمیں رکھنی چاہیئے برداشت اور قربانی وغیرہ کی ضرورت نہیں آپ کے پاس ایسے طریقے ہیں کہ آپ اپنی شادی کو، اپنے سسرال والوں کو خوش رکھ سکتے ہیں۔

سعدیہ: میں یہ کہنا چاہوں گی کہ قربانی عید پر کی جائے

ہوسٹ: بریک کے بعد ملتے ہیں۔

رپورٹ: ادی کرنا کسی بھی شخص کی زندگی کا ایک اہم فیصلہ ہوتا ہے یہ دو لوگوں کے بیچ ایک معاہدہ ہوتا ہے جس کی رو سے دو لوگ ساری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جہاں دو لوگ شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں وہیں نا مساعد حالات کی بدولت دوریاں بھی بڑھتی ہیں اور نوبت علیحدگی یعنی طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ دنیا بھر میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مال، جھوٹ، زبردستی کی شادی، مشترکہ خاندانی نظام کی وجہ سے بہت سی شادیاں زیادہ عرصہ نہیں چل پاتیں۔ ایک اندازے کے مطابق طلاق کی شرح غریب گھرانوں میں زیادہ ہے۔ سال 2016 میں سب سی زیادہ طلاق کی شرح بیلجیم میں ہے جہاں یہ شرح 22271 ہے۔ 22255 فرانس اور 22253 ریاست ہائے متحدہ امریکہ سر فہرست ہیں ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں روزانہ کی بنیاد پر طلاق کی 222100 کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اسی طرح قطر میں آدھی سے زیادہ شادیاں طلاق کی نظر ہو جاتی ہیں جبکہ سعودی عرب میں روزانہ کی بنیاد پر 40 شادیاں اور 20 طلاقیں رجسٹر ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بھی پچھلے کچھ سالوں سے طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں لاہور میں 2300 خواتین نے کورٹ میں طلاق کے کیسز دائر کئے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 150 کیسز کورٹ میں درج کیے جاتے ہیں۔

ہوسٹ: ایک بار پھر آپ کو خو ش آمدید کہیں گے۔ بریک میں جانے سے پہلے آپ دونوں سے میں یہ شیئر کروں کہ میں یہ بتا رہی تھی کہ ایک نامور جوڑے سے جب انٹرویو لیا گیا کہ آپ کی جو زبردست شادی کی انینگز ہیں اس کا راز کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ساتھ مل کر آغاز کیا اور انفرادی طور پر بھی۔

ڈاکٹر صداقت علی: افزائش بہت ضروری ہے۔

ہوسٹ: میرے چچا نے بتایا کہ بچے زندگی میں ایسے چلنا جو تمہیں اُوپر کی طرف لے کر جائے نہ کہ آپ کو مسلسل نیچے گراتا رہے۔ عزت سب سے پہلی آتی ہے اور پھر یقین آتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: شادی میں، میں آپ کو ایک بات اور بھی بتاؤں کہ چناؤ میں آپ جو مرضی کر لیں اگر آپ کے پاس مہارت نہیں ہے تو آپ شادی کا کھیل نہیں کھیل سکتے۔

ہوسٹ: ٹھیک ہے اگر آپ کسی کو عزت دیتے ہیں اس رشتے میں تواس کے ہر رشتے اور ہر چیز کو عزت دیں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: لیلی سے پیار ہو تو لیلی کے کتے سے بھی پیار ہو جاتا ہے اگر آپ دیکھتیں ہیں کہ آپ کے میاں، دوست یا اس کی والدہ ہے، بہن ہے یا بھائی ہے تو آپ کو خود بخود ہی اُدھر پیار ہوتا ہے ورنہ جیسے تتلی کو مٹھی میں لے کر آپ بھینچ لیتے ہیں یہ آپ کے ہاتھ میں ہی رہتی ہے لیکن مر جاتی ہے۔ لیکن محبت کا جو ایک بینک اکاونٹ ہے اسے بھرتے رہنا چاہیئے بجائے نکلوانے کے۔ ایک دوسرے کے لیئے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیئے اور جب ایک دوسرے سے شکوہ ہو تو بات کرنی چاہیئے اور پھر موضوع بدل دینا چاہیئے۔

ہوسٹ: واہ! زبردست بات کی ہے۔ ہمیں ڈاکٹر صداقت کے ساتھ پھر بیٹھنا پڑے گا۔ مسز خان میں چاہوں گی کہ آخر میں کوئی کمنٹ آپ بھی دیں اس حوالے سے کہ شادی چلتی کس چیز سے ہے۔مختصراایک دو باتیں بتائیے گا۔

مسز خان: اس بات سے تو میں بھی متفق ہوں، پیار، محبت اور قربانی۔ عورت ذرا بیوی تھوڑی سی ڈھل کر سچ بول دے گی دیکھیں گھر میں سارے فتنے فساد ختم ہو جائیں گے۔

ہوسٹ: ٹھیک ہے مسز خان! بہت شکریہ۔ ڈاکٹر صداقت علی، سعدیہ تشریف آوری کے لیئے بہت شکریہ اور ان تمام لوگوں کا جنہوں نے کالز کیں۔ جس نتیجے پر ہم پہنچے ہیں چونکہ وقت کم تھا اس موضوع پر بات کرنے کے لیئے لیکن عزت اور بھروسہ بہت اہم ہے اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ پیار محبت ہو جاتے ہے جس رشتے میں یہ دونوں چیزیں شامل ہوں۔ بہت شکریہ نیو پاکستان دیکھنے کے لیئے۔