محسن نواز: کچھ دیر بعد آپ کے سوال شامل کئے جائیں گے۔

سحر: جی ہاں! آپ اپنے سوال تیار کر لیجئے۔ جن کا جواب ڈاکٹر صداقت صاحب دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب سے ہماری گفتگو چل رہی تھی اسی کو آگے بڑھائیں گے۔

محسن نواز: اور ہمارا آج کا موضوع ہے سوگ۔۔

سحر: ڈاکٹر صاحب! جب سوگ لمبے عرصے تک ہمارے ساتھ رہ جائے تو کیا علامات ہو سکتی ہیں کہ جس سے ہمیں پتہ چل سکے یہ اب یہ سوگ صحیح نہیں ہے۔

محسن نواز: مطلب! کسی شخص کو دیکھ کر کیسے پہچانا جائے کہ یہ وقتی سوگ ہے یا روگ لگ گیا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: جب سوگ اٹک کر رہ جائے، جب فرد زندگی کی گہما گہمی میں حصہ نہیں لے رہا ہو۔ خود کو دوسروں سے الگ تھلگ کر رہا ہو۔ دوسروں سے کٹ کر زندگی گزارنا چاہ رہا ہو۔ جب وہ کہتا ہے کہ مجھے کچھ وقت اپنے آپ کے لئے چاہیئے اور وہ معاشرے سے الگ ہو جائیں تو سمجھیں کہ اس کا سوگ لنگر انداز ہو گیا ہے۔ جب کوئی چیز کسی جگہ گڑھ جاتی ہے۔ تو وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور بھی پختہ ہو جاتی ہے اور مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ جتنی جلدی اس چیز کو پہچان لیا جائے تو بہتر ہے۔ یعنی کسی واقعے کے بعد 6 ہفتے کے اندر سوگ ختم نہیں ہو رہا ہو اور فرد زندگی کے کاموں میں دوبارہ شریک نہیں ہو رہا ہو۔ اس کے چہرے پر غور سے نظر ڈالیں اگر آپ کو غم یا پریشانیاں نظر آتی ہیں اور وہ مسکراتا ہوا نظر نہیں آتا اور اپنے مشاغل کو دوبارہ سے نہیں پکڑ رہا۔ اسے لگتا ہے کہ مشاورت کی طرف جانا بے وفائی ہے۔ ایک خاص حد تک یا وقت تک سوگ میں رہنا وہ تقاضا کرتا ہے۔

سحر: یہ وفا سوگ سے ہو رہی ہوتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: آپ نے ایسا بھی دیکھا ہو گا کہ کسی کے ساتھ حادثہ ہوتا ہے اور وہ بندہ جلد نارمل ہو جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ کچھ دن پہلے تو ایسا ہوا تھا اب کتنی جلدی بدل گیا ہے۔ تو معاشرتی اور ثقافتی لحاظ سے اسے منفی بھی لیا جاتا ہے اور اسی چیز کو سراہا جاتا ہے کہ سوگ میں رہا جائے۔ ایسے بھی واقعات ہیں جن میں لوگ 3 دن بعد یہ سمجھتے ہیں کہ سوگ ختم ہو گیا ہے اور وہ اپنی زندگی کو نارمل بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسلمانوں میں دنیا سے کسی کے چلے جانے کا سوگ جلد ہی چلا جاتا ہے لیکن پھر مواد کی کئی قسمیں ہوتی ہیں خاص طور پر خودکشی کا افسوس فیملی والوں کو بہت زیادہ ہوتا ہے کہ اس میں کچھ شرم کی بات ہوتی ہے کچھ پچھتاوا ہوتا ہے۔ تقریباََ ایک سال پہلے مجھے میرے ایک عزیز نے فون کیا اور بتایا کہ میں ابھی دفتر سے آیا ہی ہوں “کچن میں مجھے ایک پرچہ ملا جو میری بیوی نے لکھا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ باتھ روم مت جانا پہلے 1122 پر کال کرو اور پھر بیٹھ کر انتظار کرو” لیکن اس نے 1122 پر کال کرنے کے بجائے مجھے کال کر دی اور بتایا کہ میری بیوی نے خوفناک سی حرکت کر دی ہے اور اپنی زندگی کو ختم کر لیا ہے۔ بتائیے میں کیا کروں۔ میں ہمدردی رکھتے ہوئے چلا گیا کفن دفن ہوا رسومات ہوئیں اور پھر میں واپس آ گیا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ بندہ فیملی کے ساتھ مل کر ایک دو ہفتے تک نارمل ہو جائے گا مگر 2 ہفتے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ بہت گہرے صدمے میں ہے۔ ایک سال کے عرصے کے بعد وہ کسی بھی طرح ڈپریشن سے باہر نہیں آ رہا۔ مجھے ایسے واقعات پر بہت بے بسی محسوس ہوتی ہے۔ میرا دل کرتا ہے کہ ایسا کوئی تحقیقاتی کام کروں کہ لوگوں کو سوگ میں سے نکلنے میں مدد ملے۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب! کیا اس میں یہ دیکھنے کی ضرورت بھی ہو گی کہ ایسے لوگوں کے ذہنی مسائل عام لوگوں سے مختلف ہیں۔ مطلب وہ زیادہ سوگ پذیر تو نہیں؟

سحر: مطلب جو لوگ غم کا زیادہ اثر لے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: کچھ اس میں جینیاتی پہلو بھی ہوتا ہے۔ مگر زیادہ تر لوگ معصومیت میں سوگ اور غم سے لگاؤ رکھتے ہیں اور اسے وفا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ کلچر بھی اسی چیز کو فروغ دیتا ہے تو لوگ انجانے میں ایسے مقام پر آ جاتے ہیں جہاں بند گلی ہوتی ہے اور سوگ سے نکل نہیں پاتے۔ ایسے میں ان کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ مدد کوئی ماہر نفسیات ہی ان کو دے سکتا ہے یا پھر کوئی عزیز یا رشتہ دار جو بات کو ان کے ساتھ شئیر کر سکے اور اس کے ساتھ بات چیت کرنا بھی آسان ہو وہ مدد کر سکتا ہے ایک فقرہ ایسے موقع پر بہت عام ہوتا ہے کہ بہت افسوس ہوا آپ کے ساتھ ایسا ہوا میں آپ کے غم میں برابر کا شریک ہوں آپ کو میری کوئی ضرورت ہو تو ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں ایسے لوگوں کو انگلی پکڑ کر عملی زندگی میں لانا بہت ضروری ہے۔ بعض اوقات لوگوں کو تھوڑا دھکا لگانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ معاملات زندگی میں واپس آ جائیں جیسے کسی کی وفات پر جب کھانا پینا ہوتا ہے تو اس کا ایک مقصد فوت ہونے والے کے گھر والوں کو کھانے کی طرف واپس لانا بھی ہوتا ہے جو کھانا چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب! آپ کی باتیں سن کر مجھے بہت دلچسپی پیدا ہو رہی ہے کہ کس طرح، طرح طرح کے سوگ ہوتے ہیں۔ میں نے پچھلے سے پچھلے الیکشن میں جن لوگوں کو ووٹ دیا وہ ہار گئے اور پچھلے الیکشن میں انہوں نے حصہ ہی نہیں لیا۔

ڈاکٹر صداقت علی: الیکشن میں ہارنے کا سوگ بھی اپنی نوعیت کا انوکھا سوگ ہے۔ اس میں شرم کا پہلو بھی ہوتا ہے کہ آپ ہار گئے اور دوسرا جیت گیا۔ پہلے بندہ حقیقت کو قبول نہیں کرتا کہ لوگ کہتے تھے کہ وہ ووٹ دیں گے مگر نہیں دئیے اور ہار گئے۔ توقعات پوری نہ ہونے کا بھی ایک سوگ ہوتا ہے۔ بعض لوگ تو بڑا دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ہیں۔

سحر: کھیل میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ اگر انٹرنیشنل لیول کے میچ میں ٹیم ہار جائے تو لوگ خودکشی بھی کر لیتے ہیں۔

محسن نواز: لوگ مستعفی ہو جاتے ہیں اور بھی اایسے کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ سب عام سی باتیں ہیں اگر کسی کی زندگی میں سوگ نہیں آتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھرپور زندگی نہیں گزار رہا۔ سوگ زندگی کا ضروری حصہ ہوتے ہیں۔ 2 سوگوں کے درمیان بھی اونچ نیچ آتی رہتی ہے جسے انسان نوٹ کرتا رہتا ہے کہ اسے یہ بات اچھی گزری یا بری۔ ہمارے جذبات کے پیچھے جو نیورو ٹرانسمیٹرز ہوتے ہیں ان کا اپنے انداز میں ایک خاص بہاؤ ہوتا ہے اگر ہم چاہیں تو بہت اچھی طرح اپنے سوگ کو نمٹا بھی سکتے ہیں لیکن اس کے لئے وقت سے کافی پہلے کچھ تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب! یہ جو ایک جیسا غم رکھنے والے لوگ ہم پلہ بن جاتے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ نہیں؟ اور دوسری بات کہ یہ طریقہ غم کو دوبارہ تازہ کرتا ہے یا کم کر دیتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں! غم کا ذکر کرنے میں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر ایک غمزدہ دوسرے غمزدہ سے ملتا ہے تو اس سے غم اور بڑھ جاتا ہے۔ وہ دونوں ایک جیسی باتیں کرتے ہیں۔ جیسے یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ بندہ مر ہی جائے۔ منفی سوچنے والے لوگ جب ایسی باتیں کرتے ہیں تو اس سے غم بڑھتا ہے۔ اس میں جن لوگوں کو کسی غم یا دکھ کا سامنا ہے تو وہ ایسے لوگوں سے ملیں جو روشن خیال یا زندہ دل ہوں۔ وہ اسے غم اور پچھتاوے سے نکال سکیں۔ غم سے نکلنا کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ اچھی بات ہے۔ کسی سے پوچھا جائے کہ اگر آپ کا پیارا دنیا سے چلا گیا اور وہ جنت میں رہتے ہوئے اس سے پوچھے کہ وہ کیا چا ہتا ہے کہ آپ غمزدہ رہیں یا خوش رہیں۔ تو وہ کہے گا کہ خوش رہیں۔ یہ بہت سارے طریقے ہیں مگر ان میں شئیرنگ کرنا اہم ترین حصہ ہے۔ غم کے بارے میں بات کی جائے جتنی باتیں کوئی اپنے نقصان کے بارے میں کرے گا۔ جیسے اگر کسی کا موبائل گم ہوا ہے تو ان باتوں سے شفاء نکلے گی۔ پردہ پوشی کرنے یا ڈرنے اور گھبرانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ بعض اوقات لوگ بالکل الٹ چیزیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کسی کو کوئی غم ہو”اس کا پیارا دنیا سے چلا جائے” اور اس کے بارے میں وہ بہت تکلیف سے ہو تو پھر اسے دوسروں کے ایسے موقعوں پر ضرور جانا چاہیئے جہاں کسی دوسرے کا پیارا دنیا سے چلا گیا ہے۔ وہ جا کر اپنا غم شئیر کرے۔ بہت سارے لوگ اس طرح کرتے بھی ہیںَ ایسی مرگ پر بھی چلے جاتے ہیں جہاں ان کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔ یہاں پر تو رواج بھی ہے کہ اگر فوتگی ہوئی ہو تو خواتین جاتے جاتے کہتی ہیں”پہنا اسی وی منہ دیکھ لئیے” ان کا یہ طرز عمل ان کو صحت مند اور اچھا بناتا ہے۔ نظر انداز کرنے سے مسئلے بڑھتے ہیں اور سامنا کرنے سے کم ہوتے ہیں۔ مگر ضروری یہ ہے کہ پہلے سے تیاری کر لیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ اس دنیا سے کوئی زندہ بچ کر نہیں جا سکتا۔ یہ جب بھی دنیا سے جائے گا تو بچ کر نہیں جائے گا ۔اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے سمجھنا پڑے گا اس کے لئے تیاری کرنی چاہیئے۔ کچھ تیاری ہر غم کے لئے ایک جیسی ہوتی ہے جیسے ساری کھیلوں کے لئے دوڑنا اور فٹ رہنا بنیادی ضرورت اور تیاری ہے اگر کسی بندے کی زندگی میں کوئی اور سوگ نہ بھی آئے تو بڑھاپے کا سوگ آنا ہی آنا ہے۔ بڑھاپا بھی ایک ایسی چیز ہے جس کا سوگ سب کو سہنا ہی پڑتا ہے۔ چہرے پر جُھڑیاں اور ایسی بہت سی چیزیں دیکھ کر بہت پریشانی ہونے لگتی ہے جب اپنے ہم عمر لوگ دنیا سے جا رہے ہوتے ہیں تب بڑی مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو بہت سی تیاری سب کے لئے ایک جیسی ہے جیسے سب سی پہلی تیاری یہ ہے کہ اگر کوئی جسمانی طور پر صحت مند ہے تو اسے سوگ کو برداشت کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔ جس کی جسمانی اور ذہنی صحت اچھی ہو گی تو سوگ اچھے سے برداشت کر لے گا۔ اس کے علاوہ جو لوگ زندگی کی گہما گہمی میں شریک ہوتے ہیں بڑی پرجوش دنیا میں کام کر رہے ہوتے ہیں ان کے منصوبے بڑے ہوتے ہیں تو ان کو غم نپٹانے میں کافی آسانیاں ہوتی ہیں پھر جو ایسے معاملات زندگی بحال رکھتے ہیں جیسے نہانا، دھونا، شیو کرنا، کپڑے بدلنا۔۔۔۔۔۔زندگی کے معمول بہتر رکھنے سے غم آسانی سے بہتر وہ جاتا ہے۔

محسن نواز: جی بالکل! وہ لوگ آسانی سے غم سے نکل آئیں گے جو لوگ اپنے معمولات زندگی بہتر رکھتے ہیں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ یو آسکڈ فار اٹ سے سوالات ہم تک پہنچ گئے ہیں اور بریک کے بعد ڈاکٹر صاحب ان کا جواب دیں گے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments