محسن نواز: ڈاکٹر صاحب کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غم کے موا قع تلاش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی : Negaholism ایک رویہ ہے جس میں منفی چیزو ں میں لوگوں کو مزہ آتا ہے آپ اسے بیما ری بھی کہہ سکتے ہیں جونہی وہ منفی چیزوں سے گزرتے ہیں تو ان کے جسم میں ایڈرینا لین زیا دہ مقدار میں بہتا ہے جس کی وجہ سے ان کو ہائی محسوس ہو تا ہے ایسے لوگ منفی سوچوں اور خیالات کےعادی ہوتے ہیں جب کوئی قومی نقصان ہو جائے اور ٹی وی پر اس کی خبر دیکھتے ہیں تو لوگ جب تک ہر چینل سے یہ خبر سن نہ لیں ان کو سکون نہیں آتا انسانوں کی بڑی دلچسپ قسمیں ہیں جن مِس سے ایک یہ بھی قسم ہے۔

سحر: ڈاکٹر صاحب ناظرین کی طرف سے کچھ سوالات ہیں ہمارے پاس جو انہوں نے ہمارے فیس بک پیج پر پوچھے ہیں میرے پاس جو پہلا سوال ہے وہ مس عشرت نے ہم سے پو چھا ہے کہ غمگین شاعری موسیقی اور ڈرامے بھی ہماری نفسیات پر اثرانداز ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: شروع میں پاکستان میں سپرہٹ فلمیں بنا کرتی تھیں اور وہ اتنی اثر انگیز ہوتی تھیں کہ خواتین سینما سے روتی ہوئی باہر آتی تھیں لیکن اس طرح کا رونا اتنا اثر نہیں رکھتا جب آپ کسی کردار یا کسی سین میں گم ہو جاتے ہیں پھر یقیناً اس کا نتیجہ کچھ اور ہوتا ہے اگر یہ چیزیں آپ کو بھانے لگیں تو سمجھ لیں کہ نیورو ٹرانسمیٹر زیادہ مقدار میں خارج ہونے لگتے ہیں جس کی انسان کو عادت ہو جاتی ہے وہ کہتے ہیں نا کہ تم نے تو عادت ہی بنا لی ہے اب جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا ہمیں شعوری طور میں عادتیں بنانی چا ہییے کیونکہ اگر ہم اپنی عادتیں نہیں بنائیں گے تو کوئی ہم پر عادتیں ٹھونس بھی سکتا ہے اور بعد میں پھر ان عادتو ں میں ہم پھنس بھی جاتے ہیں۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب عادتوں کو تبدیل کرنا خاصا مشکل کام لگتا ہے میں پوچھنا چاہوں گا کہ لوگوں کی سال ہا سال سے جو عادات بنی ہوتی ہیں ان کو کیا تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی پچھلے 25 سال میں جتنی تحقیق عادتوں پر ہوئی اتنی کسی پر نہیں ہوتی خود رو بھی ہوتی ہیں جو کہ ڈیزائن کیئے بغیر ہم اپناتے ہیں جتنے بھی کامیاب لوگ ہوتے ہیں ان کی کچھ ایسی عادات ہوتی ہیں جو ان کو کامیاب کرتی ہیں اور جتنے بھی ناکام لوگ ہوتے ہیں ان کی بھی کچھ ایسی علتیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ آگے بڑھ نہیں پائے۔

سحر: منفی عادت عِلت کہلاتی ہے؟
ڈاکٹر صداقت علی: عادت ہمیشہ اچھی عادت ہوتی ہے اور علت کوئی غلط عادت یعنی اگر کسی عادت میں سے کوئی اچھائی نہ نکل رہی تو پھر وہ علت کہلاتی ہے۔

سحر: اچھا جی اگلے سوال کی طرف بڑھتے ہیں جو ہمیں عمر صاحب نے کہا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایسے نقصانات جن کی ریکوری ممکن ہے اور ایسے نقصانات جن کی ریکوری ممکن نہیں ہے تو کیا ان کو بھی دکھ سے نجات (grief recovery) کے عمل سے گزرنا ہو گا یعنی غم کے مراحل سے گزرنا ہو گا جو کہ bargaining, denial, anger وغیرہ ہیں ۔

ڈاکٹر صداقت علی: زیادہ تر چیزیں سوگ کے حوالے سے مختلف ہو تی ہیں یعنی کچھ چیزیں Recoverable ہوتی ہیں اور کچھ نہیں یہ بنیادی فرق ہے جہاں شرم موجود ہو گی وہاں آپ کو حکمت عملی سے کام لینا ہو گا اور جہا ں غصہ سے یعنی کوئی چھوڑ کر چلا گیا ہے اور اس کے بعد زندگی میں ویرانی آ جاتی ہے اور کہتے ہیں کہ اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے ہم جذباتی تعلق قائم کر لیتے ہیں کچھ رشتوں سے تو جب یہ رشتے ٹوٹتے ہیں پھر ان کا سوگ کچھ اور قسم کا ہوتا ہے لہذٰا جتنی قسم کے سوگ ہیں اتنی ہی قسم کی حکمت عملی ہمیں اپنانا ہوتی ہے بلکہ ہمیں ہر بندے کیلئے ڈیزائن کرنا پڑتی ہے۔ دیکھیں اگر کسی کا پیارا دنیا سے چلا جائے تو اور بات ہے یعنی اس بندے یا بندی کو غم سے نکالنے کیلئے کچھ وقت چاہییے اور ایک ایسا بندہ جس کا کوئی پیارا گم ہو گیا ہے لیکن اسے یقین ہے کہ وہ کہیں زندہ ہے تو اس کا غم کسی اور طرح کا ہو گا اگر کوئی اغوا ہو گا تو غم ہو گا اس صورتحال میں ہمیں ان کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی اور جتنا جلدی یہ کام ہو جائے اتنا ہی بہتر ہو گا تاکہ غم ان کے جسم میں رچ بس نہ جائے۔

سحر: ہمارا تیسرا سوال ہے کہ بیماری کی تشخیص ہونے پر مریض کو جو صدمہ پہنچتا ہے اس کا حل کیے بغیر کیا علاج میں کامیابی ممکن ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہ پہلا مرحلہ ہے جس میں لوگ تسلیم ہی نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر ذیابیطس کے مریض شروع میں یہ نہیں مانتے کہ ان کو ذیابیطس ہے حالانکہ ان کے سامنے ان کے ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں۔ کم از کم پانچ سال لگتے ہیں اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے۔ اس دوران وہ پیر، جادو ٹونے سب کرتے رہتے ہیں جب کچھ نہیں ہوتا تو پھر اپنے علاج کو تسلیم کرتے ہیں۔ پہلا مرحلہ ہی صدمہ سے نکالنا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور ڈاکٹر سب سے پہلے اسے تسلی ہی دیتا ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں نے ایک وکیل کو دیکھا کہ وہ اپنے client سے بات کر رہا تھا کہ مجھے آپ کی صورتحال کا بالکل خیال ہے اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ ایسے حالات میں بندے کی کیا کیفیت ہو سکتی ہے۔ آپ بس پریشان نہ ہوں میں نے ایسے بہت سارے کیس نبٹائے ہیں۔

سحر: ڈاکٹر صاحب آپ سے ہمارا آخری سوال کہ ہماری ایک viewer ہیں جو کہتی ہیں کہ ان کی ماں کی وفات دو سال پہلے ہو چکی تھی لیکن ابھی بھی وہ صدمے سے باہر نہیں نکل سکیں۔ کیا ڈاکٹر صاحب کچھ ایسے ذرائع ہیں جن سے میں اس صدمے سے باہر نکل آؤں؟

ڈاکٹر صداقت علی: اسے ہی ہم Grief کہتے ہیں جو کہ ان کا پختہ بن گیا ہے۔ کیونکہ دو سال ایک مدت ہے۔ اس غم سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے ان کو دنیاوی کاموں کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ ایک دم وہ اپنے غم کو کم نہیں کر سکتیں یعنی دماغ کو کوئی ایسی کمانڈ نہیں دے سکتیں جس سے ان کا دماغ اپنی ماں کا غم منانا چھوڑ دے۔ ان کو کچھ کام کرنے ہوں گے جس سے ان کو مدد ملے گی۔ روزانہ سیر کرنا، دن میں ہلکا پھلکا 4 سے 5 بار کھانا کھانا، کسی دوسرے بندے کا غم سننا، غم بانٹنے سے بٹتا ہے۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب کچھ لوگ اپنے بچھڑے ہوؤں کی چیزوں کو بڑا سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ایسے ان کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ کیا ان چیزوں کو پھینک دینا چاہیئے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیے ایسا نہیں بھی ہوتا۔ کچھ لوگ ان اشیا کو دیکھ کر بڑا فخر بھی محسوس کرتے ہیں اور خوش ہو جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ غمزدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ پہلے دیکھ لینا چاہیئے کہ اگر زیادہ آپ غمگین ہو جاتے ہیں تو پھر آپ نہ دیکھیں۔ ویسے زیادہ تر ایسے ہونا چاہیئے کہ آپ ان کی یادوں کو یاد کریں، مسرت محسوس کریں کہ ہم یہاں گئے تھے، ہم نے یہ کھایا تھا۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت شکریہ۔ آج آپ نے بہت خاص موضوع پر بات کی۔ آج ہمیں پتہ چلا کہ کسی پیارے کے کھو جانے کا ہی غم نہیں ہوتا بلکہ موبائل کے کھو جانے کا بھی غم ہوتا ہے، میچ کے ہار جانے کا بھی افسوس ہوتا ہے۔ ایک بار پھر ڈاکٹر صاحب آپ کا بے حد شکریہ۔

ڈاکٹر صداقت علی: آپ کی بہت مہربانی۔ آپ نے مجھے اپنے پروگرام میں بلایا اور یہ ساری باتیں کرنے کا موقع دیا۔

سحر: آج ناظرین اپنے اس پروگرام کے اختتام پر ہم آپ کو ایک گانا سنائیں گے جو کہ ہماری آج کی بات چیت کو بہت واضح بیان کرتا ہے۔

محسن نواز: جی تو ناظرین ہم آج کے سمارٹ سلوشن کے پروگرام سے چاہیں گے اجازت۔ محسن نواز اور سحر کو دیجیے اجازت۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments