سحر: السلام علیکم! آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں سمارٹ سلوشنز میں ۔ میں ہوں سحر اور میرے ساتھ ہیں محسن نواز صاحب۔

محسن نواز: السلام علیکم ناظرین کیسے ہیں آپ امید ہے خیریت سے ہوں گے خوش ہوں گے اور اپنی اپنی زندگی میں خوب مزے میں ہوں گے۔

سحر: بالکل! اور آج جو ہم ٹاپک لائے ہیں وہ بہت زیادہ اہم ہے۔ ہر انسان اس مسئلے کا شکار نظر آتا ہے۔

محسن نواز: سمارٹ سلوشنز میں ہم ایسے مسائل پر بات کرتے ہیں جس میں لوگ کسی نہ کسی طرح سے اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہم انسانوں کو کسی نہ کسی دکھ، نقصان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس کو ہم سوگ کا نام بھی دیتے ہیں۔

سحر: جی بالکل! اور اس سلسلے میں ہمارے ساتھ تعاون کے لئے ڈاکٹر صداقت علی موجود ہیں جو کہ دنیا کے جانے مانے ماہرِ نفسیات ہیں۔

السلام علیکم! ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں آپ؟

ڈاکٹر صداقت علی: واعلیکم السلام! الحمداللہ۔

سحر: ڈاکٹر صاحب! آج کا ٹاپک بہت اہم ہے۔ ہر انسان سوگ میں مبتلا نظر آتا ہے اس بار ے میں آپ ہمیں بتائیں کہ کس طرح کے سوگ دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں کیونکہ عام طور پر کسی کے مرنے یا کسی کے چھوڑ جانے کا سوگ بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

محسن نواز: اس میں کئی طرح کے نقصانات ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہم آپ سے پوچھنا چاہیں گے کہ ہم اکثر سوگ کا لفظ کسی کی موت سے جوڑے رکھتے ہیں لیکن درحقیقت ان نقصانات کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ موضوع واقعی بہت اہم ہے۔ سوگ جسے ہم انگریزی میں “Grief” کہتے ہیں ۔ عام طور پر سب سے پہلے جو خیال آتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی کے مر جانے پر ہمیں جو غم ہوتا ہے اسے سوگ کہتے ہیں اور جیسا کہ ہم اکثر سنتے ہیں کہ3 روزہ سوگ منایا گیا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن درحقیقت ہر قسم کے نقصانات، جیسے پھوٹ پڑ جانا، طلاق ہو جانا، کوئی دوسری تباہ کاریاں حتیٰ کہ اگر کوئی آپ کا فون بھی چھین کر لے جائے تو اس کا بھی دکھ ہوتا ہے۔

محسن نواز: حال ہی میں میری کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک اڑ گئی۔ ڈیٹا ضائع ہو گیا اور کافی نقصان ہوا اور بہت مشکل سے میں اس غم سے باہر نکلا۔

ڈاکٹر صداقت علی: اگر ہماری زندگی میں ہم سے کوئی چیز چھن جائے یا گھر کا کوئی فرد بیمار ہو جائے یا کسی مرض میں مبتلا ہو جائے جیسے کہ اگر ایڈکشن، ذیابیطس یا دل کا مرض ہو تو ان چیزوں کا سوگ بھی کافی گہرا ہوتا ہے۔ تو انسانوں کے ساتھ یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ ریگولر سوگ کسی کے دنیا چھوڑ جانے کا ہوتا ہے۔ یہ سوگ انسانوں کو نمٹانا آتا ہے انسان کافی تیزی سے ان rituals سے گزر کر دوبارہ زندگی کی گہما گہمی میں شریک ہو جاتا ہے لیکن باقی بے شمار سوگ ہیں اور کچھ بڑے پیچیدہ سوگ ہوتے ہیں جن میں shame بھی ہوتی ہے۔ کچھ سوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں غصہ اور شرمندگی اور کچھ سوگ کے ساتھ بدنامی بھی وابستہ ہوتی ہے تو یہ سوگ نمٹانے بہت مشکل ہوتے ہیں اور ان سوگوں کو نمٹانے کے لئے کچھ رسومات نہیں ہیں اور جب تک انسان سوگ سے نمٹنے کیلئے رسومات نہیں بنا لیتا تب تک انسان ان معاملات میں تکالیف سے گزرتا رہے گا۔ اس میں سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ جس سوگ کو ہم مٹا نہیں پاتے وہ گھر بنا لیتا ہے ہمارے دماغ میں اور وہاں باقاعدہ رہنے لگ جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات ہمیں اپنے سوگ سے پیار ہو جاتا ہے اور اس سوگ کو چھوڑنا ہمیں عجیب یا لگتا ہے۔

محسن نواز: غم کو سہنے والی کیفیت میں بھی خدا نے مزہ دے رکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک بہت مزے کی بات کی کہ بعض اوقات بدنامی سے بھی سوگ ہوتا ہے۔ جیسے پچھلے دنوں ایک نیوز تھی کہ کسی کی لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی اور پھر ان کے والد کو دل کا دورہ بھی پڑ گیا اور وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ تو ڈاکٹر صاحب جو اس طرح کے نقصانات ہوتے ہیں ان کے ہماری نفسیات پر کیسے اثرات ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلے تو گہرا صدمہ جسے shock کہا جاتا ہے اس کا احساس ہوتا ہے جس میں انسان گھم سم سا ہو جاتا ہے اور اسے صحیح شعور نہیں ہوتا کہ کیا ہوا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جو اسے بتایا جا رہا ہے وہ حقیقتاََ نہیں ہوا وہ ایک تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے کہ اس میں انکار یا خود فریبی سی آ جاتی ہے اور لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا ابھی آنکھ کھل جائے گی اور پتہ چل جائے کہ سب ٹھیک ہے۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب! آپ اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جیسا ہم فلموں میں دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی کسی کو کوئی بڑی خبر ملتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹر صداقت علی: بالکل یہ اس طرح کی کیفیت ہے۔ پھر جب denial میں کچھ دیر گزرتی ہے تو پھر ادراک ہونے لگتا ہے کہ یہ واقع تو ہوا ہے اور پھر بہت زیادہ غصہ آتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ کون ہے جس نے ایسا کیا اور سمجھ میں نہیں آتا اور غصہ بے پایا ہوتا ہے اور جسم میں وہ خون سے زیادہ تیزی سے گردش کرنے لگتا ہے اور اس غصے کی کیفیت میں گزرتے گزرتے ایک اور کیفیت آجاتی ہے جسے ہم ڈپریشن کہتے ہیں ڈپریشن کے بعد بندہ سوچنے لگتا ہے کہ یہ میرا نقصان ہو گیا ہے لیکن یہ بچ گیا ہے اگر میں اس نقصان کو ایسے پورا کر لوں، دل کو تسلی دے دوں یا کسی طرح زندگی کو آگے چلانے کی کوشش کروں اسے ہم سودے بازی کی سٹیج کہتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ وہ اپنے دل کو سہارادے دیتا ہے کہ اچھا میں اس طریقے سے اس سے نمٹ سکتا ہوں۔

سحر: مطلب اس حالات میں ہم کچھ مثبت ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ چلو اگر یہ غلط ہو گیا۔ کچھ تو بچ گیا۔ کچھ تو مثبت ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: کوئی راستہ ایسا نکال لیتے ہیں جیسے اگر کسی کرکٹر کو ٹیم سے نکال دیا گیا ہو اور وہ سوگ میں ہے تو وہ سوچتا ہے کہ اچھا اگر میں کمینٹری میں چلا جاؤں گا تو یہ ایک سودے بازی کی سٹیج ہے۔ یہ ہر سوگ کے معاملے میں آ جاتی ہے اور اس کے بعد جو اگلی سٹیج ہے وہ قبولیت کی سٹیج ہے۔ قبولیت کی سٹیج کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس نقصان کو تسلیم کر لیتا ہے یا اس نقصان کے ہونے کو مان لیتا ہے قبولیت کا مطلب یہ ہے کہ گلے شکوے کے بغیر اس نقصان کو مان لیتاہے اس دنیا میں ہونے والے واقعات کے درمیان ایک ریگولر واقعے کے طور پر اس کی شکایت زبان پر نہیں ہوتی اور اسے مان لیا جاتاہے۔ انسان ان مراحل میں سے آگے پیچھے ہوتا رہتا ہے یا ہوسکتا ہے کہ قبولیت کی سٹیج میں سے ہوتے ہوئے دوبارہ ڈینائل کی سٹیج پر آ جائے تو اس کو لوگ لاشعوری طور پر اس طرح نمٹاتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے شعوری طور پر ماہرین کے ساتھ مل کر کیا جائے اس طرح انسان اس سے ہمیشہ کے لئے نمٹ سکتا ہے اور تیزی سے نمٹ سکتا ہے کیونکہ سوگ کا تیزی سے نمٹنا ضروری ہے کیونکہ سوگ اگر ٹھہر جائے تو بدبودار پانی کی طرح ہو جاتا ہے۔

سحر: ڈاکٹر صاحب! ایک سوال میرے ذہن میں آ رہا ہے کہ اس سوگ کا ہمارے جسمانی اور نفسیاتی طور پر کیا اثر ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی بظاہر تو کوئی بھی نہیں۔ اگر سوگ نارمل ہو یعنی حدوں کے اندر ہو اور مدت لمبی نہ ہو عرصہ دراز نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوتا انسان کی زندگی کا ایک بڑا عام سا حصہ ہے کہ ہمیں کچھ نہ کچھ سوگ منانا پڑتا ہے وقتاََ فوقتاََ۔ مگر بات یہ ہے کہ اگر یہ مسلسل رہے اور کسی کو اس میں مزہ ہی آنے لگے۔ شروع شروع میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ مزہ آتا ہے اور آگے جا کر وہ مستقل ہو جاتا ہے اور اس سے بڑی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے کسی کے مرنے کا سوگ 40 دن میں نمٹ جاتا ہے جسے چالیسواں کہا جاتاہے یہ کوئی بھی تکلیف یا غم ہوتا ہے۔ انسان کی جسمانی اور دماغی تکلیف کے لئے چاہیئے ہوتا ہے۔ لیکن سیل فون جیسا سوگ ہفتے میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔

سحر: جی ڈاکٹر صاحب! ایک تو یہ ہوتا ہے کہ آپ کو سوگ محسوس ہوا یا آپ سوگ منا رہے ہیں اور پراسس سے گزر رہے ہیں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو سوگ منانا نہیں چاہ رہے ہوتے یعنی وہ اپنے آپ کو یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم بہت مضبوط ہیں۔ آنسو تک ان کی آنکھوں سے نہیں نکل رہے ہوتے تو کیا ایسے لوگوں کی نفسیات پر کوئی اثر پڑتا ہے ایسی چیز کا۔

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے زیادہ اہم سوگ جو زیادہ تر دیکھنے کو آتا ہے وہ ماں باپ کا سوگ ہوتا ہے خصوصاََ والد کو اس بات کا بڑا سوگ ہوتا ہے کہ اس کا بیٹا جس کے بارے میں اس نے بڑے خواب دیکھے تھے۔ پڑھ لکھ نہیں سکا یا نشے جیسی بُری عادت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ پھر وہ ایک بہت ہی زیادہ گہرے سوگ سے گزرتا ہے اور جب تک اسے نمٹایا نہ جائے تو والدین کی زندگی اسی جگہ جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ تو اسی طرح نت نئے سوگ دیکھنے میں آتے ہیں جیسا کہ کسی لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو اس کی والدہ سوگ کے مراحل میں سے گزرتی ہے۔

سحر: اچھا ڈاکٹر صاحب! یہ بات تو مجھے سمجھ آئی آپ نے بات کی کہ انوکھے قسم کے سوگ ہوتے ہیں۔ کوئی ایسا سوگ جو واقعی مجھے بھی سن کر ایسا لگے کہ یہ کوئی واقعی انوکھا قسم کا سوگ ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں! جب کسی بیٹے کی شادی ہوتی ہے تو ماں کیلئے ایسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے جو ایک سوگ کی کیفیت ہوتی ہے کیونکہ اب وہ اپنے بیٹے کو کھونے والی ہے اسے شئیر کرنے والی ہے اور 25 سال سے گود سے لے کر جوانی تک بالکل ایک ٹھوس حقیقت کے طور پر اپنے ساتھ زندگی میں دیکھا ہوتا ہے اور اب اس کی زندگی میں ایک کشش آنے والی ہے اور رجسٹری کسی اور کے نام ہونے والی ہے تو اس میں وہ یہ نہیں کہہ سکتی ہے کہ مجھے بڑا سوگ اور تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ اسے خوشی کا اظہار بھی کرنا ہے۔ اسے گانے بھی گانے ہیں اور اندر ہی اندر اس کا کلیجہ منہ کو آ رہا ہوتا ہے۔ تو یہ جو سوگ ہے جس میں سے سب خواتین کو گزرنا پڑتا ہے انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ اس سے کیسے نمٹا جائے تو یہ ایک بڑا خاص قسم کا سوگ ہے۔

محسن نواز: آپ کی بات سے ایسا سمجھ آ رہا ہے کہ سوگ کے پیچھے وجہ کوئی اور کام کر رہی ہوتی ہے اور بظاہر نظر آنے والی صورتحال کسی اور طرح بنتی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور آپ دیکھ لیجئے یہ سوگ ختم نہیں ہوتا ہے۔ یہ چلتا رہتا ہے۔ یہ مختلف شکلیں اختیار کرتا رہتا ہے۔ کبھی ڈپریشن کی شکل کبھی غصے کی شکل کبھی کچھ تو کبھی کچھ اور بڑا یہ مساوی قسم کا ہوتا ہے پھر اس کو نمٹانے کے لئے بھی بڑے خاص طریقے موجود ہیں۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3