فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب شیزوفرنیا کی علاما ت کیا ہوتی ہیں۔ جسے آج کل عام طور پر بھوت پریت کا نام بھی دیا جاتا ہے
ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے اسے پاگل پن کی بیماری بھی کہتے ہیں جس سے بعد میں بہت قباحتیں بھی پیدا ہوتی ہیں اور اس کی علامتوں میں سمجھا جاتا ہے کہ جو لوگ پتھر مارنا شروع کر دیں وہی اس بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ تصور غلط ہے۔ بنیادی طور پر اس کی تین چار قسم کی علامات ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں یہ علامات اس بیماری کے آغاز سے پہلے ہی واضح ہو جاتی ہیں یعنی ان کو اپنے روزمرہ کے کام کاج نپٹانے میں مسائل پیش آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی تنہائی کو ہی اپنا بہترین ساتھی سمجھ لیتے ہیں۔ یہ لوگ ایک اپنی ہی دنیا آباد کر لیتے ہیں اور سماجی رابطے بالکل ختم کر دیتے ہیں۔ اس طرح کی اور کئی علامات ہوتی ہیں جن کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور زندگی کا سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔ اب وہ علامات جن سے واقعی ہی خیالات میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور ان علامات میں مبتلا شخص ایسی باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے جو ماحول سے ٹکراؤ رکھتی ہیں اور پھر لوگ ان باتوں کو بڑی عجیب نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب یہ مرض شدت اختیار کر جائے تو ان کو مختلف قسم کی آوازیں سنائی دینا شروع ہو جاتی ہیں یا چیزیں نظر آنے لگتی ہیں۔

فرح سعدیہ: یعنی اس مرض کے مختلف مدارج ہیں جن سے گزرتے ہوئے یہ مرض اپنی شدت کو پہنچتا ہے اور مجھے آپ کی بات سے اندازہ ہوا ہے کہ اس کی کچھ خاموش علامات بھی ہیں جن کو آپ نے روزمرہ کے کاموں میں خلل کا نام دیا ہے۔
ڈاکٹر صداقت علی: جی بالکل! ایسی بہت ساری رویوں کی علامات ہیں۔ مثال کے طور پر بچہ اپنی پڑھائی کو توجہ نہیں دیتا وہ اپنی پڑھائی ویسے نہیں کر سکتا جیسے دوسرے بچے کرتے ہیں یعنی وہ پسماندہ کارکردگی دکھاتا ہے۔ ایسے حالات میں ان رویوں کا فوراً نوٹس لینا چاہیئے اور خاص طور پر جب کوئی سماجی تعلقات میں ناکاہ ہو جائے تو اس حالت میں فوراً مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی صحت کا خیال نہ رکھنا اور ایک الگ ہی دنیا بنا لینا۔ یہ صورتحال کافی تشویش پیدا کرتی ہے جن کا فوراً سے کوئی حل ڈھونڈنا چاہیئے۔ لیکن ایسی علامات جن میں کوئی شخص کہتا ہے کہ مجھے مختلف شکلیں نظر آتی ہیں۔ میرے کانوں میں آوازیں گونجتی ہیں اور معاشی و سماجی رابطہ منقطع کر دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے، آپ کے ساتھ اس کا کوئی رابطہ ہی نہیں اور وہ اپنی زندگی کو مینج کرنے کے قابل ہی نہیں رہا، یہ تو پھر ذیادہ بگڑی ہوئی صورتحال ہے۔ جس میں کہ اگر فوری علاج ہو جائے تو بہت سارے مریضوں کو ہمیشہ کے لیے افاقہ ہو سکتا ہے، کچھ مریضوں کو علاج کے ساتھ افاقہ چلتا رہتا ہے۔ شیزوفرینیا میں بہت سی مشکلات آتی ہیں، کیونکہ لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ خاندان میں عام طور پر کسی نوجوان کو یہ بیماری ہوتی ہے اور خاندان میں ایک صدمے کی کیفیت ذیادہ آ جاتی ہے، غم و غصے کی کیفیت آ جاتی ہے کہ آخر ہمارے ساتھ یہ ہوا کیوں؟ ان دماغی بیماریوں کے بارے میں لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ زیادہ عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔ اس حوالے سے خاندان بہت پریشان رہتے ہیں، لوگ ڈر جاتے ہیں اور سہمے رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں جب ان کو کوئی لارا لگائے کہ آپ فلاں عامل کے پاس جائیں تو آپ کا مریض چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ چونکہ اس بیماری میں مبتلا 25 فیصد مریض بہت جلد ٹھیک ہو جاتے ہیں چاہے وہ کچھ بھی نہ کریں اور پھر وہ ہمیشہ ٹھیک بھی رہتے ہیں اور اگر اس دوران وہ کسی عامل کے پاس چلے جائیں تو ان کے چرچے ہو جاتے ہیں لیکن سائنس نے یہ بات حتمی طور پر ثابت کر دی ہے کہ یہ ایک دماغی بیماری ہے۔

فرح سعدیہ: 25 فیصد ویسے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں؟
ڈاکٹر صداقت علی: جی بالکل 25 فیصد بغیر کسی علاج کے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ یعنی وہ سیلف رمشن میں آ جاتے ہیں اور اس وقت ہو چاہے وہ کسی ڈاکٹر، عامل یا سیانے کے پاس بھی ہوں، انہوں نے ٹھیک ہو جانا ہوتا ہے۔ پھر ایک دوسرے 25 فیصد ہیں جو ذرا دیر سے ٹھیک ہوتے ہیں اور تیسرے 25 فیصد کو مستقل علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ٹھیک رہتے ہیں اور اگر علاج چھوڑ دیں تو ان کی حالت ناساز گار ہوجاتے ہیں اور ایک آخری 25 فیصد ہیں جن کو بہترین علاج کے ساتھ بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اب جو پہلے 25 فیصد ہیں یہ عاملوں کی شہرت کا باعث بن جاتے ہیں اور آخری 25 فیصد ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ یہ 25 فیصد ان عاملوں کے پاس جائیں بھی تو وہ ان کو نہیں لیتے کیونکہ عامل اپنا کیس لینے میں بہت محتاط ہوتا ہے اور انھوں نے تو محض شعبدہ بازی ہی کرنی ہوتی ہے جبکہ ڈاکٹر نے ہر کسی کی مدد کرنی ہوتی ہے وہ کسی بھی مریض کی مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ کوئی بھی نہیں کہتا کہ شیزو فرینیا کا علاج ہو جائے تو یہ دوبارہ نہیں آ سکتی ڈاکٹرز وہ دعوے نہیں کرتے جو درست نہیں ہوتے۔

فرح سعدیہ: لیکن لوگ ادویات بھی تو نہیں کھاتے؟
ڈاکٹر صداقت علی: اس بیماری میں ادویات کو چھوڑ دینا، ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر دوا کو چھوڑ دینا اس بیماری کو دوبارہ دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بہت سارے لوگ اس لیے بھی ادویات کھانا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اس سے ان کے اوپر رہے گا کہ ان کو یہ بیماری ہے اور اگر وہ دوا کھانا چھوڑ دیں گے تو ان کو یہ ہو گا کہ ان کے ساتھ یہ بیماری نہیں رہے گی۔ یہ جو جن بھوت اور جادو ٹونہ اور سایہ وغیرہ کی بات ہے تو اس کے بارے میں سائنس واضح طور پر کہتی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا اور جب سائنس واضح طور پر کہتی ہے تو سائنس کے لیے ہم سند کسی مذہب یا روایت سے نہیں لیتے کیونکہ سائنس اپنی سند آپ ہوتی ہے۔ سائنس اس بات کا دعوٰی ہی نہیں کرتی جس کو ثابت نہ کر سکے۔ موبائل فون تو ہم سب استعمال کرتے ہیں چاہے ہم قدامت پسند ہوں یا کچھ بھی ہوں۔ ہم اور بھی بہت جدید سہولیات استعمال کرتے ہیں۔ ہم کمپیوٹر کا استعمال بھی کرتے ہیں، ہم ہوائی جہاز پر سفر ہیں لیکن جب علاج معالجہ کا معاملہ آتا ہے تو پھر ہم سیانے ان پڑھ ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں جو نہ صرف جاہل ہوتے ہیں بلکہ ان میں مجرمانہ رجحانات بھی ہوتے ہیں۔ وہ جنسی استحصال بھی کرتے ہیں۔ ہمیں تھوڑی سمجھ بوجھ سے کام لینا چاہیئے۔ اگر ہم ڈاکٹر کے پاس بھی جائیں تو اس بیماری کے بارے میں انٹرنیٹ پر تحقیق کرنی چاہیئے کہ یہ بیماری ہے، ہمیں ڈاکٹر سے سوال کیا کرنے ہیں تاکہ وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچا جا سکے۔