مریم اسماعیل: السلام علیکم! نیو پاکستان میں خوش آمدید! آج ہم بات کریں گے “خودکشی کے حوالے سے”۔ نوجوانوں میں جس طرح خودکشی کا رجحان بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے یہ یقیناََ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہمارے ساتھ ڈاکٹر صداقت علی موجود ہیں جو کہ ماہر نفسیات ہیں اور اس مضمون پر خاصا عبور رکھتے ہیں۔ ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لئے بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب! کراچی سے شعیب برنی بھی ہمارے ساتھ شرکت کریں گے، بڑے خاص قسم کے تحقیقاتی رپورٹر ہیں۔ دنیا میں خودکشی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال خودکشی کی وجہ سے تقریباََ 10 لاکھ لوگوں کی موت واقع ہوتی ہے جبکہ دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کر لیتا ہے۔ پاکستان خودکشی کے تناسب کے حوالے سے دنیا میں 73 ویں نمبر پر ہے۔ خودکشی کرنے والوں میں صوبہ پنجاب پہلے نمبر پر ہے، صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ تیسرے نمبر پر ہے۔ خودکشی کرنے کی وجوہات زیادہ تر عشق میں ناکامی، تعلیمی و سماجی مسائل اور ڈیپریشن سمجھی جاتی ہے۔ اسلام میں خودکشی حرام قرار دیے جانے کے باوجود یہ قدم کیوں اٹھایا جاتا ہے؟ اس کی روک تھام کیسے کی جا سکتی ہے؟ اس پر آج نیو پاکستان میں بات کریں گے۔

مریم اسماعیل: ڈاکٹر صداقت علی خودکشی کے بارے میں آپ بتائیے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ خودکشی کرتے وقت بنیادی طور پر دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں خود کشی کی بنیادی وجہ موڈ کی خرابی ہے یعنی موڈ ڈس آرڈر جب ڈپریشن کی طرف جاتا ہے تب ڈیپریشن دو طرح سے ہو سکتی ہے۔ براہ راست ڈیپریشن ہو سکتی ہے، حالات کی وجہ سے یا اندر سے ہی کچھ ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جس میں ڈیپریشن ہو یا پھر بائی پولر ڈیپریشن کا حصہ بھی ڈیپریشن ہوتی ہے۔ لیکن ڈیپریشن یعنی مایوسی کی ایک اندرونی کیفیت جو دماغ پر چھا جاتی ہے یہ ایک بنیادی عنصر ہے جس کی وجہ سے خودکشی ہوتی ہے لیکن اور بھی بہت سارے عناصر ہیں جیسے جسمانی صحت کا خراب ہونا یا پھر کوئی سماجی طور پر روابط نہ ہونا، دوستیاں نہ ہونا اور انسان کو لگے کہ وہ اکیلا ہے کوئی اس کا ساتھ دینے والا نہیں۔ پھر ایک اور عنصر ہے جسے ہم روحانی عنصر کہتے ہیں یعنی اس کا رابطہ اپنے خدا سے ختم ہو چکا ہو یا کمزور پڑ چکا ہو۔ اس سے بھی خودکشی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ مذہب ایک بہت مضبوط عنصر ہوتا ہے جو کہ آپ کو ان تمام برائیوں سے بچا کے رکھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں خودکشی حرام ہے تو اس وجہ سے مسلمان دوسری قوموں کی نسبت ذرا کم خودکشی کرتے ہیں۔ جاپان میں چونکہ ان کے مذہب میں خودکشی کے بارے میں کچھ مثبت رجحانات پائے جاتے ہیں تو وہاں خودکشی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ خودکشی کریں گے تو اس سے ان کو اجر ملے گا۔ تو آپ کو حیرت ہو گی سن کے کہ وہاں پر تمام اونچی عمارتوں کی چھت پر جانے کا راستہ بند ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسے کھلا رکھیں گے تو لوگ کود کود کر خودکشی کریں گے۔ ایک بات میں آپ کو اور بتاؤں کہ دنیا میں جتنے امیر ممالک ہیں وہاں بھی نسبتاََ خودکشی زیادہ ہے جیسے کہ ڈنمارک میں خودکشی زیادہ ہوتی ہے۔ افریقہ کے ممالک میں خودکشی بہت کم ہوتی ہے حالانکہ وہاں بہت غربت ہے۔ اس کا موسم سے بھی تعلق ہوتا ہے کیونکہ موسم کا ہمارے موڈ و مزاج سے بھی تعلق ہوتا ہے جب موسم بدلتے ہیں تو ہمارا موڈ و مزا ج بھی اس کے ساتھ اچھا یا برا بنتا ہے۔ اسی طرح سردی کا موسم اکثر لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے مثلاََ اگر سردی میں مسلسل رہنا پڑے اور آپ کے پاس کوئی ایسا انتظام نہ ہو کہ آُس سردی سے بچ سکیں تو اس سے بھی ڈیپریشن خاص قسم کی پیدا ہوتی ہے۔ دھوپ اگر نہ ملے تو اس سے بھی خاص قسم کی ڈیپریشن پیدا ہوتی ہے موڈ ڈس آرڈر پیدا ہوتے ہیں تو یہ ساری بات سمجھنے کی ہے۔

مریم اسماعیل: ڈاکٹر صاحب!آپ نے تو مجھے اتنے سارے مسائل بتا دیے ہیں مجھے ایسے لگتا ہے کہ یہ بہت خود غرض قدم ہے جو کہ نوجوان اٹھاتے ہیں۔ میں ان لوگوں کی بات نہیں کر رہی جو کہ بچوں سمیت خودکشی کر لیتے ہیں۔ جو جوان عشق میں ناکامی، دسویں جماعت کے بچے کر رہے ہیں۔ ایک بچے کو جیب خرچ نہیں ملا تو وہ خودکشی کر رہا ہے، ایک بچے کی ماں اسے بازار نہیں لے کر گئی تو وہ پنکھے سے لٹک گیا۔ یہ کیا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ! اس وقت جس نوجوان کی ہم بات کر رہے تھے کہ جس نے خودکشی کی ہے اسے امتحان میں بیٹھنے نہیں دیا گیا کہ وہ بہت دیر سے آیا تھا لیکن اس کا پچھلا ریکارڈ بھی یہی کہتا ہے کہ وہ پڑھائی میں سنجیدہ نہیں ہے وہ پڑھائی کر نہیں پا رہا ہو گا اور یہ دوسرے گھر کا مسئلہ ہے کہ بچے ماں باپ کی تمناوں کے مطابق پڑھ نہیں سکتے یا اپنے اساتذہ کی توقعات کے مطابق جب بچے پڑھ نہیں پاتے تو انہیں ڈانٹ ڈبٹ ہوتی ہے انہیں ٹھکرایا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ کسی قابل نہیں ہیں تو یہ جو تعلیم و تربیت کا سلسلہ ہے جو سکول، کالج اور یونیورسٹی میں ہوتا ہے۔ پچھلے تین، چار سو سال سے دنیا میں تعلیم و تربیت کا سلسلہ چل رہا ہے اور کہیں نہ کہیں تعلیم و تربیت کو ایسا بنایا گیا ہے جو ان کے لئے ایک بہت مزے کا کام نہیں ہے یا بچے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بہت تکلیف دہ کام ہے۔ بچے روتے ہوئے سکول جاتے ہے، بڑے بچے بھی سکول جا کر کوئی اور کام کرتے ہیں، پڑھتے لکھتے نہیں ہیں۔ یونیورسٹی میں بھی لوگ بس ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں۔

مریم اسماعیل: آپ کو لگتا ہے کہ ماں باپ سے دوری، کیا یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے؟ پیسہ تو بچوں پر لگا رہے ہیں لیکن وقت نہیں دے رہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ماں باپ کو ابھی تک یہ طریقہ نہیں آیا کہ بچوں کی پڑھائی کے لیے کیسے حوصلہ افزائی کریں۔ کیونکہ پہلے ماں باپ بچوں کی پڑھائی کے معاملے میں حوصلہ افزائی نہیں کرتے تھے۔ سینکڑوں سال پہلے ماں باپ جو کام کر رہے ہوتے تھے بچے ذرا بڑے ہوتے تھے توان کو کسی کام پر لگا دیا جاتا تھا اور بہت بچپن میں ہی لگا دیتے تھے تو اس زمانے میں بچے کام کاج پر لگ جایا کرتے تھے لیکن جب انھیں سکول بھیجنے کی کوشش کی گئی تو آج تک بچے پڑھائی سے بھاگتے ہیں تو ماں باپ کو سب سے پہلے یہ سکھنے کی ضرورت ہے اور اساتذہ کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ پڑھائی کو مزیدار کس طرح بنائیں کہ بچے پڑھنا لکھنا شروع کریں اور خاص طور پر اب جبکہ بچوں کے پاس کھیل تماشے بہت ہیں، موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو گیمز ہیں تو مجھے بتائیں کہ ایک طرف ویڈیو گیمز ہیں یا مزیدار کام ہیں اور دوسری طرف پڑھائی ہے تو بچے خود بخود کس جانب بڑھیں گے؟ ایسے ہی ماں باپ اور بچوں کے درمیان جھگڑا پیدا ہوتا ہے اب یہ بچہ ہے جس کی گھر میں لعنت ملامت ہوتی ہی ہو گی اور آخر کار اس کا جو ذہن ہے وہ اتنا بیمار ہو گیا، اس کا موڈ اس بات پر خراب ہو گیا کہ بھائی بہت سے لوگ تو پڑھتے ہی نہیں۔ پہلی بات تو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خودکشی حالات و واقعات کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ وہ فائنل ٹرگر ہے آخری بات ہے جو کہ خودکشی کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس سے پہلے ایک تیاری ذہن میں ہوتی ہے اور وہ موڈ کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ دماغ کے اندر مسئلہ ہوتا ہے اور جب موڈ خراب رہنے لگتا ہے تو آپ دیکھیں کہ نوجوان آج کل منشیات کی جانب رجوع کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے موڈ کو کسی طریقے سے سنبھال سکیں لیکن منشیات سے موڈ نہیں سنبھالا جاتا بلکہ موڈ مزید خراب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب بھی وہ منشیات کا استعمال کرتے ہیں تو وقتی طور پر انہیں سہارا ملتا ہے تو دوبارہ اسی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب موڈ اتنا خراب رہنے لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ختم کر لینے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ خودکشی نشے کے مریضوں میں ہی پائی جاتی ہے کیونکہ موڈ کے بیمار لوگ ہی ڈرگز کا استعما ل کرتے ہیں۔ جن کا موڈ ٹھیک رہتا ہے انہیں ڈرگز کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ موڈ کو ٹھیک رکھنے کے لئے چار چیزوں کو بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے ایک تو رات کو وقت پر سوئیں اور 8 گھننٹے نیند پوری کریں۔ یعنی رات کو 3 بجے تک جاگتے رہنے کے بعد صبح دیر تک سوتے رہنا یہ ایک غیر طبعی زندگی ہے۔

قدرت کی روشنی سے محروم رہنا، صبح کے وقت کے محروم رہنا۔ یہ سب انسان کے موڈ پر بہت برا اثر ڈالتی ہیں۔ تو نیند نمبر 1 چیز ہے جو ہمارے موڈ کو سنبھالتی ہے یہ قدرت نے ہمارے اندر رکھا ہے کہ جب ہم سو جاتے ہیں تو وہاں شفایابی شروع ہو جاتی ہے لیکن جب ہم سوتے ہی نہیں یا ٹرینکولائزر لے کر سوتے ہیں تو یہ نیند نہیں ہوتی۔ جب ہم راتوں کو بار بار کچھ نہ کچھ بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ رات کو 2 بجے پیزا آرڈر کرتے ہیں۔ دوسروں کو بھی سوتے میں جگا کر ان کو دیتے ہیں تو پھر یہ سب چیزیں رات کو دیر تک چلتی رہتی ہیں۔ گھروں میں بھی رہتے ہوئے لڑکے اور دوسرے لوگ ایک دوسروں سے رابطے میں رہتے ہیں تو نیند پر دھیان نہیں دے پاتے۔

دوسری چیز ورزش ہے۔ جو لوگ ورزش کرتے ہیں ان کا موڈ تقریباََ اچھا ہی رہتا ہے کیونکہ ورزش کرنے سے ہمارے جسم میں ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو کہ ہمارے موڈ کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ لہذٰا ورزش کرنے والوں میں آپ کو خودکشی نہ ہونے کے برابر یا شاید آپ کو کوئی ملے ہی نہ۔ جو لوگ ورزش کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جم جا کر ورزش کریں۔ وہ اپنی زندگی کو اگر ایکٹیو رکھتے ہیں، پیدل چلتے ہیں، لفٹ کا استعمال کرنے کے بجائے سیڑھیوں کا استعمال کرتے ہیں، بھاگ دوڑ کرتے ہیں، چھوٹی چھوٹی جگہوں پر جانا ہو تو پیدل چلے جاتے ہیں۔ ایک تو ہم نے نیند اور ورزش کی بات کی۔ اب تیسری چیز ہمارا کھانا پینا ہے تو اس کا بھی کوئی سٹرکچر یا ڈیزائن ہونا چاہیئے۔ ہم گاڑی کے پیٹرول اور آئل کا تو زیادہ خیال رکھتے ہیں لیکن اپنی زندگی میں ہم کچھ بھی کھا لیتے ہیں، ڈھیر سارا کھا لیتے ہیں تو دن میں 5 دفعہ چھوٹے چھوٹے کھانے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کی کیلریز کا آپ کو پتہ ہو کہ آپ جتنا کھا رہے ہیں آپ اس کو اس طرح توانائی کے طور پر استعمال کر لیں اور چوتھی چیز تعلقات ہے۔ یہ جو جھگڑا فساد ہم لوگ سیکھ لیتے ہیں سب سے پہلے ہم اپنے ماتحتوں کو ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم ان لوگوں کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں جو لوگ ہمیں جواب میں کچھ نہیں کہتے اور ایسے لوگوں میں والدین بھی شامل ہیں کیونکہ والدین جواب میں بچوں کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ والدین اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچوں کی طرف سے ناروا سلوک برداشت کرتے ہیں تو یہ جو ہم سیکھنا شروع کرتے ہیں جسے ہم سادہ لفظوں میں برا سلوک کرنا کہہ سکتے ہیں، بدتمیزی کرنا سیکھتے ہیں یا جب ہم ملازموں سے، ماتحتوں کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جب ہم بدتمیزی کرتے ہیں اور جواباََ وہ کچھ نہیں کہتے تو یہ ہماری نیٹ پریکٹس ہوتی ہے۔ ہم اس چیز کو اپنے لائف پارٹنر کے ساتھ، ماں باپ کے ساتھ، اساتذہ کے ساتھ، اپنے افسران کے ساتھ بھی کرتے ہیں تو ایک چیز جو رجحان ہے بدتمیزی کا اس سے بھی موڈ خراب ہوتا ہے۔

مریم اسماعیل: بہت شکریہ ڈاکٹر صداقت علی، مولانا صاحب اور شعیب برنی صاحب۔ زندگی کو انجوائے کیجیئے اور شکر گزار بنیئے۔ نیو پاکستان دیکھنے کا بہت بہت شکریہ۔