فرح سعدیہ: السلام علیکم! خوش آمدید اور صبح بخیر! آج میرے ساتھ ہیں ڈاکٹر صداقت علی جو کہ ولنگ ویز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہیں۔ ہم بات کرتے ہیں مختلف نفسیاتی مسائل، پریشانیوں، ایڈکشن اور ان کے علاج پر۔

ڈاکٹر صداقت علی: واعلیکم السلام!

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب آپ کیسے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: الحمداللہ! میں ٹھیک ہوں۔

فرح سعدیہ: آج جو یہ گفتگو چل رہی تھی آپ کو سمجھ آئی ہے کہ کیا صورتحال ہے اور اس صورتحال میں کیسی بہتری لائی جا سکتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: بنیادی طور پر جو بات ہو رہی تھی وہ سارے پرانے اور بڑے نمایاں کھلاڑی تھے اور وہ اپنے دل کی بات کر رہے تھے اپنا مائنڈ سیٹ بتا رہے تھے اور انہوں نے بتایا کہ کس طرح سے کھلاڑی اپنے آپ کو بربادی کی طرف لے جاتے ہیں کیونکہ لائف لائن میں جب وہ ایک دفعہ آ جائیں تو ان کے ساتھ بڑی کھینچا تانی ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ان کو کوچ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسے کھلاڑی کوچ سے بڑے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر وہ اثرورسوخ استعمال نہیں کرتے۔ صرف وہ کوچ اثرورسوخ استعمال کر سکتا ہے جو بہت عزت دار ہو اور خوددار ہونے کے ساتھ ساتھ رابطہ بھی رکھتا ہو۔

فرح سعدیہ: اس کا مطلب کہ کوچ کو آپ کے خیال میں کیسا بندہ ہونا چاہئے؟ کیا جس کا معاشرے میں کوئی مقام ہو، اچھا چال چلن ہو، لوگ عزت بھی کرتے ہوں اور اسے چیزوں کا اتہ پتہ بھی ہو۔

ڈاکٹر صداقت علی: قدرتی طور پر وہ پہلے سے اپنے پاس بھی ایک کامیابی کا ٹریک ریکارڈر رکھتا ہو اور وہ ریکارڈر اس کھلاڑی سے بڑا ہونا چاہئے اگرچہ وہ اب کھلاڑی نہیں لیکن اس کے پاس کوئی بات کرنے کے لئے ہو کیونکہ ہر کھلاڑی اس کو اپنے پیمانے پر جج کرے گا کہ اس کی کارکردگی اپنے وقت میں کیا رہی اور میری کیا ہے؟ اگر اس کی کارکردگی کم تھی تو کھلاڑی سمجھ لے گا کہ یہ مجھے کوچ نہیں کر سکتا یہ صرف اپنی مزدوری کر رہا، اپنی تنحواہ لے رہا ہے اور کچھ نہیں۔ میں آپ کو بتاؤں کہ انسان کا ذہن بڑے عجیب طریقے سے چلتا ہے۔ حتٰی کہ جو ماں باپ یہ کہتے ہیں کہ ذرا موبائل مجھے بتا دو کہ یہ کیسے چلے گا، یا یہ کمپیوٹر میں فلاں چیز کر کے دکھا دو تو بچے اس سے یہ رائے لیتے ہیں کہ اگر یہ چھوٹے چھوٹے کام نہیں کر سکتے تو یہ زندگی کے مختلف معاملات میں ہماری رہنمائی بھی نہیں کر سکتے۔

فرح سعدیہ: یعنی ان معاملات میں بچوں کو ایسا نہیں کہنا چاہیئے؟

ڈاکٹر صداقت علی: بالکل نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ آپ ایک غلط پیغام ان تک پہنچا رہے ہیں اور وہ اس پیغام کو بڑا وسیع کر لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کو ایک چھوٹی سی چیز کا نہیں پتہ تو ان کی نسبت بچوں کو دیکھیں وہ بڑے پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ جب وہ پیدا ہوتے ہیں تو یہ اخبار اور رسائل ان کے سامنے ہوتے ہیں۔

فرح سعدیہ: بالکل! بچے بہت تیز ہوتے ہیں۔ میرے بیٹے نے ڈاکٹر صاحب بھلا کیا کیا؟ اس کو چوٹ لگی اور اس نے کہا کہ آپ کو محسوس ہوا تھا؟ اس پر میں نے کہا اولاد کو چوٹ لگے تو ماں باپ کو محسوس تو ہوتا ہے۔ تو اس نے پوچھا آپ کو کہاں لگی ہے چوٹ تو میں نے کہا کہ مجھے یہاں پر لگی تھی تو کہتا کہ اچھا تو آپ کو چوٹ لگی؟ تو میں حیران تھی کہ یہ بچہ کیا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ زمانے کا فرق ہے پہلے تو فرق واضح ہوتا تھا اور ان دس سال کا بھی فرق ہے تو وہ زمانے کا فرق ہے کیونکہ اب زمانہ دس سال، پانچ سال پر محیط ہونے لگا ہے۔ تو ان کا ذہن بہت عجیب طریقے سے سوچتا ہے۔ وہ ایک ایسے طریقے سے بات کو بات سے ملاتا ہے تو بچہ یہ سوچتا ہے کہ والدین چھوٹے چھوٹے معاملات میں مجھ سے رہنمائی لے رہے ہیں تو میرے بڑے معاملات میں میری رہنائی کیسے کر سکتے ہیں۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح! ابھی جو ہم ریٹائرڈ قیوم صاحب کی بات کر رہے ہیں ان کی جو سفارش ہے وہ یہی ہے کہ وقار یونس ٹیم کے ساتھ متنازعہ تھے ان پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ تھا، تفتیش کی گئی لیکن ان پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ اس طرح کے لوگ جب رول ماڈل ہونگے اور ساتھ چلیں گے تو یقیناًایسے معاملا ت تو ہونگے ہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے اگر عمران خان ٹیم کے ساتھ ہوتے کھلاڑی کے طور پر نہیں مگر کوچ کے طور پر آتے یا پی سی بی کے سربراہ کے طور پر آتے تو خودبخود چاروں طرف سے احترام سمیٹنا شروع ہو جاتا اور بات کا اثر ہونا شروع ہو جاتا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان خود کبھی راضی نہیں ہوئے اور ہم نے انہیں کبھی راضی کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ راضی کیا بھی جا سکتا ہے اگر آپ کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو واقعی میں کایہ پلٹ تو پھر اس کو راضی کرنا پڑتا ہے۔

ٖفرح سعدیہ: مجھے اس بات سے یاد آیا کہ قائداعظم کو بھی راضی کیا گیا تھا کہ آپ لیڈر شپ سنبھال لیں اور اس معاملے میں علامہ اقبال نے انہیں قائل کیا کہ آپ آئیں اور قوم کی رہنمائی کریں اور پھر انہوں نے اس کام کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر صداقت علی: بالکل آپ نے ٹھیک کہا کہ ایسے لوگ جو عہدوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اس کے لئے اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں لیکن جب وہ عہدے پر آ جاتے ہیں تو وہ غیر محفوظ رہتے ہیں۔ جو شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے وہ رہنما نہیں ہو سکتا۔

فرح سعدیہ: قصور ہمارا ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں لاتے جن کو لانا چاہئے اور ان لوگوں کو آگے لے آتے ہیں جن کو آگے نہیں آنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ان کے ذریعے ہمیں ایک اور چیز جاننے کو ملی وہ یہ کہ جو پریشانی اور دباؤ ہوتا ہے۔ پاکستانی ٹیم چائنہ سے اس لئے ہار گئی کہ جاپان کے ساتھ انہوں نے تھوڑ ی سی سیٹنگ کر لی تھی۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے بات یہ ہے کہ اگر آپ جیتتے رہے ہیں تو آپ بلاوجہ تو نہیں جیت رہے۔ اگر آپ جیت رہے ہیں تو اس میں تو ایک بات یہ ہے کہ آپ کی گیم بہت اچھی ہے اور دوسرا یہ کہ آپ کے اندر جیتنے کی تمنا ہے۔ آپ کے دماغ میں ایک ہی چیز چل رہی ہوتی ہے کہ آپ نے جیتنا ہے اور آپ سوتے جاگتے یہ سوچ رہے ہوتے ہیں۔ اچانک آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ نے آج نہیں جیتنا تو آپ واقعی میں نہیں جیتتے اور پھر آپ کی سوچیں بھی بدل جاتی ہیں اور آپ کا جسم ایک نئی بائیولوجی کو تخلیق کرتا ہے جسے ہارنے کی بائیولوجی کہا جا سکتا ہے۔ دیکھیئے ایک جیتنے کی بائیولوجی یعنی آپ کا جسم، آپ کے نیورو ٹرانسمیٹر آپکی جیت کے لئے تیار ہیں اور اچانک آپ نے ان کو گھما کر کہ نورا کشتی کی جس میں آپ ہارنے کے لئے تیار ہیں تو آج آپ کے جسم میں وہ بہت ساری تبدیلیاں تیزی سے آ جائیں گی پیچھے کی جانب آنے میں آپ ہار جائیں گے تو اس کے بعد دوبارہ جیت کی بائیولوجی خاصا مشکل کام ہے جیسے آپ کسی سپیڈ بریکر کے پاس آکے گاڑی کی سپیڈ آہستہ کرتے ہیں تو سپیڈ بریکر سے گزرنے کے بعد بہت زور لگا کے گاڑی کو پہلے جیسا بنانا پڑتا ہے۔ اگر آپ اس کو ویسی ہی حالت میں چھوڑ دیں تو وہ گاڑی نہیں چل سکتی۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب یہ تو بہت سے ایسے لوگوں کے لئے بھی ہے جو کہ ہر وقت زندگی میں ہار جیت بس ٹھیک نہیں ہے، ہاں جی بس یونہی ہے وغیرہ کرتے ہیں۔ ہم لوگ اکثر بڑا خود کو یہ ظاہر کرواتے رہتے ہیں بہت سارے لوگوں کا فلسفہ ہوتا ہے نظر نہ لگے، بہت سارے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ دوسروں کو پتہ نہ چلے کہ ان کے پاس کیا ہے کتنا ہے یا وہ خوش ہیں تو وہ اپنے آپ کو کسی اور طرح سے ہی رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے جب ہم ڈرامہ کرتے ہیں تو ہمارے دماغ کا ایک بڑا حصہ نہیں جانتا کہ ہم ڈرامہ کر رہے ہیں بلکہ ایک چھوٹا سا حصہ جانتا ہے کہ ہم دکھاوا کر رہے ہیں یعنی شعور، لیکن ہمارا لاشعور اس بات سے واقف نہیں ہوتا کہ ہم ایسے ہی اوپر اوپر سے کر رہے ہیں۔ جب ہم اپنی چار کنال کی کوٹھی کے باہر ہو کر کہتے ہیں کہ ہاں جی یہ میرا غریب خانہ ہے، جب آپ لوگوں سے ایسے نہیں جی، بس یہ میری واجبی سی صورت ہے کر کے کہتے ہیں تو وہ آپ کا لاشعور ہے۔ جب آپ حقیقت کی بات کرتے ہیں تو آپ کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے یہ ڈرامہ کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

فرح سعدیہ: پھر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ڈرامہ نہ کریں اور چیزوں کو بالکل صاف اور ٹھیک رکھنا شروع کر دیں تاکہ ہمارا ذہنی توازن ٹھیک رہے۔

ڈاکٹر صداقت: اگر کوئی آپ کو کہتا ہے کہ آپ خوبصورت ہیں اچھی ہیں یا آپ کی گفت و شنید بہت اچھی ہے۔ یا آپ میں یہ خوبی ہے تو آپ یہ کہ سکتی ہیں شکریہ۔ ہاں ایسا ہے یعنی کوئی دوسرا ہی کہہ رہا ہے اور آپ اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں تو وہ حیران تو ہو ہی جائے گا۔ جب لوگ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ میرا غریب خانہ، بس جی یہ میری معمولی شکل ہے تو میں کہتا ہوں بس جی جیسا اللہ نے دیا ہے ٹھیک ہے کچھ کہتے ہیں کہ ابھی چار کنال کا گھر ملا ہے تو آگے سوا کنال کا بھی مل جائے گا۔ مطلب جب آپ اس طرح کے جواب دیتے ہیں تو وہ سیدھے راستے پر آ جاتے ہیں۔

فرح سعدیہ: اچھی اب اس تمام صورتحال میں چینج کا جو فلسفہ ہے وہ کیسے عمل میں آئے گا؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے چینج کا فلسفہ نافذ کرنے کے لئے نتائج کو ریوارڈ نہ کیا جائے، موڈ اور مزاج کو ریوارڈ کریں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے بچے کو جو بارہ مہینے پڑھتا ہے اس کو اس وقت موڈ اور مزاج جو پڑھنے لکھنے کے ہیں، جیسے صحیح وقت پر پڑھنا، روزانہ کی بنیاد پر پڑھنا وغیرہ۔ آپ اس کو زیادہ تر ریوارڈ نہیں کرتے آپ ان سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جب امتحان میں یہ نتیجہ دیں تو پھر ہم تمہیں لیپ ٹاپ، سیل فون، یا پھر کوئی اور چیز لے کر دیں گے۔ جب وہ امتحان میں اتنے نمبر لے لیتا ہے اور آپ اسے قیمتی سیل فون بھی لے دیتے ہیں تو مجھے بتائیے کہ اگلے بہت سے ہفتے یا دنوں میں اس کی توجہ کس چیز پر ہو گی؟

فرح سعدیہ: بالکل اسی ریوارڈ پر ہو گی۔

ڈاکٹر صداقت: اس ریوارڈ پر ہو گی جو اس کی سوچو ں کا مرکز ہے۔ وہ ٹریک پر ہے یا ڈی ٹریک ہے۔

فرح سعدیہ: ڈی ٹریک ہو گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: اچھا اگر آپ بارہ مہینے اسے ریوارڈ دیتے ہیں اور ریوارڈ کے لئے ضروری نہیں کہ وہ مالی انعام ہو یا کسی مسکراہٹ سے اسے گلے لگا کہ انعام دیتے ہیں یا اس کو جب وہ پڑھنے بیٹھتا ہے تو کوئی کھانے کی چیز دے دیتے ہیں اور اس طرح اسے احساس دلاتے ہیں کہ تمہارے پڑھنے کی وجہ سے ہم ایسا کر رہے ہیں یعنی تم پڑھ رہے ہو تو تمہیں یہ دودھ کا گلاس یا مٹھائی مل رہی ہے یا کچھ اور۔ جب آپ موڈ مزاج کو ریوارڈ کرتے ہیں تو معاملات مستقل اچھے رہتے ہیں جیسے کھلاڑی ہو تو ہم ان کے موڈ اور مزاج کو کبھی ریوارڈ نہیں دیتے ہم رکاوٹیں دیتے ہیں ہم انہیں بہت منت اور ترلوں سے ٹیم میں جگہ دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ حقدار ہوتے ہیں کہ ان کو سفارش سے ٹیم سے جگہ دی جا رہی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ تم پر احسان کر رہے ہیں، اسے ریوارڈ نہیں کرتے بلکہ سزا دیتے ہیں اور اس طرح وہ ہر وقت ٹینشن میں رہتا ہے اور جب وہ نتیجہ دیتا ہے تو پھر اسے ریوارڈ کرتے ہیں۔ جب ہم نتیجہ کو ریوارڈ کرتے ہیں کہ دس بیس لاکھ دے دیا جائے تو اس کی توجہ پیسے کی طرف ہو جاتی ہے اور وہ پھر پیسے کو براہ راست سوچنے لگتا ہے۔ اس کی سوچوں کا مرکز کھیل کے بجائے پیسہ بن جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: اس کے نتیجہ میں آپ پیسہ حاصل کرتے رہیں تو یہ ایک الگ بات ہے۔

ڈاکٹر صداقت: اس کی نظر سکور بورڈ پر نہیں بلکہ بال پر ہونی چاہئے کیونکہ اگر آپ کی نظر سکور بورڈ پر ہو گی اور بال پر آپ کی نظر ہی نہ ہو تو بال آپ کے ساتھ وفا نہیں کرے گا۔

فرح سعدیہ: بہت بہت شکریہ! ڈاکٹر صاحب آپ ساتھ رہیئے۔ ان کی بہت ساری ای میلز تھیں کیونکہ ان کا تعلق کسی اور طرف تھا تو ان کو ہم نے نہیں چھیڑا۔ آج علینہ آپ کو شامل کریں گے رابعہ آپ کو شامل کریں گے۔ علی نواز ہم آپ کو اپنے اگلے پروگرام میں شامل کریں گے۔ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ اگر خاتون شادی نہ کرنا چاہے لیکن اس پر والدین اور معاشرے کا دباؤ ہو تو کیا کرنا چاہیئے۔ کیونکہ اسے ایسا لگتا ہے کہ جو کام اس کو کرنے کو کہا جا رہا ہے وہ یہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کا شوہر اس کو اب پیسہ دینے میں کافی کنجوسی کرنے لگ گیا ہے جبکہ وہ پہلے ایسا نہیں کرتا تھا۔ یہ بہت پریشان ہے کیا کرے اور ایک یہ بھی کہ ان کی منگنی ہونے جا رہی ہے اور منگیتر صاحب بہت ڈیمانڈنگ ہیں۔ اکثر اوہ ایسی فرمائش کرتے ہیں جسے وہ پورا نہیں کرنا چاہتیں تو وہ پوچھ رہی ہیں کہ اس کو کیسے ڈیل کیا جائے۔

ڈاکٹر صداقت علی: بہت کچھ کیا جا سکتا ہے، تیاری کی جا سکتی ہے، ایسے معاملات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ان کو اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی پڑے گی۔ اگلی دفعہ ہم ان پر بات کر لیں گے۔

فرح سعدیہ: یہ تینوں ایک ہی وجہ سے ہمیں فون کر رہے ہیں تو اگلی دفعہ ان تینوں کو ہم موقع دیں گے اور تمام مسائل پر غوروفکر کریں گے۔