ایسے بھی میں نے لوگ دیکھے ہیں جن کے مالی حالات بدل جاتے ہیں اور وہ ملازموں کو تنخواہ نہیں دے سکتے اور اُن کے ملازم پھر بھی اُن کو چھوڑ کر نہیں جاتے۔ ایک اور بات بھی ہے کہ آج کل ہم اپنے بچوں کو تیار کرتے ہیں آسمان پر ستاروں کی طرح چمکنے کے لئے۔ اس طرح تیار نہیں کرتے کہ وہ ہماری خدمت کریں۔ اب اگر آپ کے بچے آپ کی خدمت نہیں کرتے تو اس کا گِلہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ آپ نے انہیں خدمت کے لئے تیار ہی نہیں کیا۔ آپ نے انہیں جس مقصد کے لئے تیار کیا ہے وہ ہے آسمان پر ستاروں کی طرح چمکنا اور اگر وہ یہ مقصد پورا کر دیتے ہیں اور آپ کو فخر دیتے ہیں، اطمینان دیتے ہیں اور آپ دنیا کو کہہ سکتے ہیں کہ فلاں میرا بیٹا ہے جو اتنا اہم رول معاشرے میں ادا کر رہا ہے۔ تو انہوں نے اپنا کردار انجام دے دیا۔ میں نے دیکھا ہے کہ پہلے بہت کم چیزیں ہوتی تھیں جو زندگی میں مسائل پیدا کرتی تھیں اور بہت کم ایسی چیزیں ہوتی تھیں جو ہم دوسروں کے ساتھ نہ کر سکیں۔ اب وہ چیزیں بڑھتی جا رہی ہیں جس میں ہم دوسروں کی مدد کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں یا مدد کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

مدد کے اصول ہوتے ہیں۔ ایک اصول یہ ہے کہ جب آپ کسی کی مدد کریں تو وہ اس کے مسئلے کے مطابق ہونی چاہئے کہ اگر مسئلہ تھوڑی مدت کا ہے تو مدد بھی تھوڑی مدت کی ہو گی۔ اگر مسئلہ زیادہ مدت کا ہے تو وقتی مدد غلط فہمی پیدا کرے گی۔ کسی کو مسئلے میں مبتلا دیکھ کر، جو دوست ہو سکتا ہے، فیملی ممبر ہو سکتا ہے! دل کرتا ہے کہ اُس کی مدد کی جائے۔ اچھا یہ جو دل کرتا ہے یہ ایک چیز ہے اور مدد کرنے پر تُل جانا دوسری چیز ہے یعنی جو ہماری استطاعت ہے مدد کرنے کی جو ہماری ہمت اور طاقت ہے مدد کرنے کی یا جو ہماری مہارت ہے مدد کرنے کی اس میں کمی ہو سکتی ہے۔ پر جو ہماری تمنا ہے وہ بے پناہ ہو سکتی ہے تو اس کے درمیان توازن قائم کرنا کہ میری تمنا اور میری مہارت، استقامت اور طاقت یہ ساری چیزیں الگ الگ نظر آنی چاہئیں۔ یہ مِکس نہیں ہونی چاہئیں۔ بعض اوقات آپ کو مدد کرنے کی توفیق بھی ہوتی ہے اور آپ کر بھی سکتے ہیں لیکن اگر آپ خود ہی مدد آفر کر دیتے ہیں تو اس کی بھی بے قدری ہوتی ہے اور دوسرے لوگ بعض اوقات مدد قبول نہیں کرتے “کیا آپ نے کسی کی گاڑی کو اُس کی فرمائش پر دھکا لگایا” ضرور لگایا ہو گا۔ کبھی نہ کبھی موقع آ گیا تو آپ نے کہا کہ چلو تھوڑا دھکا لگا دیتے ہیں لیکن اگر گاڑی پھر بھی سٹارٹ نہیں ہوتی تو کیا گھر چھوڑ کر آئیں گے؟ بہت سارے لوگ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دِل کے دورے کے ساتھ اِس وجہ سے پہنچتے ہیں کہ وہ اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں دوسروں کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں اور واپسی میں انہیں کوئی انعام نہیں ملتا اور آخر میں وہ دکھ درد کے ساتھ دل کے دورے میں مبتلا ہو کر ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔

اولاد کے ساتھ ہم شروع ہوتے ہیں وہاں سے جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ بہت مضبوط رشتہ ہے۔ اُن پر مہربانیاں کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ رشتہ بالکل بھاپ بن جاتا ہے۔ مگر ایک طرف اور بھی لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ آپ کا رشتہ کوئی نہیں ہوتا، ملازمت کے رشتے میں آپ اُن سے ملتے ہیں جیسے کہ گھر کے ملازم ہیں۔ چوکیدار ہے، گارڈ ہے جن کے ساتھ آپ کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا آپ انہیں ایک ملازمت میں رکھتے ہیں۔ اُن کو پیسے دیتے ہیں، اُن سے کام نکلواتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ آپ کا رشتہ بننا شروع ہو جاتا ہے اور آپ آخر میں دیکھتے ہیں کہ رشتہ بہت زیادہ بن گیا ہے اور اِسی لئے اُن کے ملازم اُن کو چھوڑ کر نہیں جاتے۔ شاید ہی کوئی ایسا بہت کم چانس ہے کہ کسی کا 15 سال پرانا ملازم ہے جسے وہ تنخواہ دیتے رہے ہوں اور پھر ایک دم گھرانہ غربت میں مبتلا ہو جائے تو وہ چھوڑ کر نہیں جاتا۔ کتنی عجیب سی بات ہے کہ جس طرح ہم اپنے رشتہ داروں کو overestimate کرتے ہیں اور باقی لوگوں کو underestimate کرتے ہیں۔ مثلاََ: ہمسائیوں کو یا جو ملازمت میں ہمارے رشتے ہوتے ہیں تو جب ہم خود ہی گڑبڑ کرتے ہیں تو خطا بھی کھاتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس توفیق ہے تو آپ لوگوں کو روزگار دے سکتے ہیں اور اُس روزگار میں محبت شامل کر سکتے ہیں اور پھر آپ لوگوں کی دِل جوئی کر سکتے ہیں اور وہ آپ کی خدمت کر سکتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی ہو۔ اچھا یہ جو دوسروں کی مدد کے اصول ہیں بات اُن پر ہو رہی ہے کیونکہ ازل سے انسان جب جنگل کے زمانے میں رہتا تھا تو کوئی اصول نہیں تھے۔ عموماََ لوگ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور اُن کو جن کاموں میں مدد کی ضرورت ہوتی تھی وہ عام سے تھے۔ جب وہ ایک دوسرے سے ان کاموں کے لئے مدد مانگتے تھے تو ختمی طور پر مدد مل جاتی تھی۔ زندگی آگے چل کے زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اب مسائل بڑے نئے نئے اُبھر کے سامنے آ گئے ہیں اب کسی کا بچہ پڑھ نہیں رہا اور والدین اُس پر پریشان ہیں یا کسی میاں بیوی کی زندگی میں پیچیدگی ہے اور بات طلاق تک پہنچے ہوئی ہے تو ایسے کاموں میں دوسرے لوگ ہماری زیادہ مدد نہیں کر سکتے، پروفیشنلز زیادہ مدد کر سکتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ پہلے بہت کم چیزیں ہوتی تھیں جو زندگی میں مسائل پیدا کرتی تھیں اور بہت کم ایسی چیزیں ہوتی تھیں جو ہم دوسروں کے ساتھ نہ کر سکیں۔ اب وہ چیزیں بڑھتی جا رہی ہیں جس میں ہم دوسروں کی مدد کرنے میں مشکلات محسوس کرتے تھے یا مدد کرنے سے قاصر ہوتے تھے۔ ہمارے والدین اگر مارکیٹ چلے بھی جاتے ہیں، ہمارے لئے تحفہ لینے۔ اُس زمانے میں ایسا رواج نہیں تھا لیکن اگر چلے بھی جاتے تو وہ کیا خریدتے۔ لیکن آج کل کے والدین جب مارکیٹ میں جاتے ہیں اپنے بچوں کے لئے کچھ خریدنا چاہتے ہیں تو بہت سی چیزیں موجود ہیں۔ تو ہمارے والدین ہماری ذمہ داریاں ہمارے اوپر ہی ڈالنا چاہتے تھے لیکن جب ہم والدین بنتے ہیں تو ہمیں اپنے بچپن کی محرومیاں یاد آتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں یہ نہیں ملا تھا یا وہ نہیں ملا تھا تو ہم اپنے بچوں کو ضرور دیں گے۔ تو یہ بچوں کو خوش کرنے کا آسان ترین طریقہ ہے انہیں ایک برگر کھلا دیں انہیں کوئی تحفہ لا دیں، انہیں کوئی آئی فون لا دیں، توہ وہ فٹافٹ خوش ہو جاتے ہیں اور پھر وہ I Love You Dad. کہتے ہیں یا You are the best dad in the world ۔ تو اس طرح کی بہت سی چیزیں چلتی رہتی ہیں۔

مدد کے پرنسپل میں سے ایک یہ ہے کہ جب آپ کسی کی مدد کریں تو وہ اس کے پرابلم کے مطابق تھوڑی دیر یا زیادہ دیر کی مدد فراہم کریں وہ بھی اس کے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ اگر آپ کسی کی مدد کریں تو اس کو کام سیکھنے کے عمل سے محروم نہ کریں۔ کیونکہ جب ہم سیدھا کسی کی مدد کر دیتے ہیں جیسے ایک ماں اپنے بچے کے ہوم ورک میں مدد بعض اوقات اس طرح سے کر دیتی ہے کہ اس کا سارا ہوم ورک خود ہی کر دیتی ہے۔ تو اس طرح کرنے سے بچہ سیکھ نہیں سکے گا۔ بعض اوقات باس اپنے sub-coordinate کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتا ہے کہ تھوڑی سا نقشہ دے کر اس کے ہاتھوں کام کروانے کے بجائے خود ہی اس کا کام کر دیتا ہے تو اس سے بہت خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ جس کا کام آپ کرتے ہیں اُسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُسے کام کرنا نہیں آتا۔ اُسے shame ملتی ہے اور جب آپ وہ کام کرتے ہیں تو آپ کو دوسرے کاموں کے لئے وقت نہیں ملتا اور آپ بہت مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس سے آپ کو مسائل ہوتے ہیں۔ تو کسی کو مسئلے میں مبتلا دیکھ کر دل کرتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔ اچھا یہ جو دل کرتا ہے یہ ایک چیز ہے اور مدد کرنے پر تُل جانا دوسری چیز ہے۔ یعنی ہماری جو ہماری استطاعت ہے، طاقت، ہمت یا مہارت ہے مدد کرنے کی اس میں کمی ہو سکتی ہے پر ہماری تمنا ہے وہ بے پناہ ہو سکتی ہے۔ تو ان دونوں میں توازن پیدا کرنا کہ میری تمنا اور میری ہمت سب الگ الگ نظر آنی چاہئے۔ ہم اظہار کر سکتے ہیں جسے validation یا تصدیق کرنا کہتے ہیں۔ جب کوئی بندہ بات کرتا ہے اپنے مشکل حالات کی اسے جو اپنے بچے، خاوند یا بیوی کے معاملے میں ہیں اور آپ acknowledge کرتے ہیں اس کے دکھ درد کو ایسے غور سے سنتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں اور آپ بتاتے ہیں کہ ایسے حالات میں آپ کی بے چینی بجا ہے آپ کو فکر مند ہونا ہی چاہئے یا آپ اس طرح کی بات کرتے ہیں تو بطور انسان، آپ اپنا حق ادا کر رہے ہوتے ہیں اور اب guilty محسوس کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر وہ آپ سے مدد نہیں مانگتا تو زبردستی کی مدد دینے کی کوشش نہ کریں بعض اوقات لوگ صرف بات کرنا چاہتے ہیں اگر کوئی کہتا ہے کہ میرا باس مجھ سے کچھ زیادہ توقعات رکھتا ہے اور پریشر ڈالتا ہے اور بہت مشکل میں مبتلا کر دیتا ہے تو آپ آگے سے مشورہ دینے لگ جاتے ہیں کہ آپ جا کر اپنے باس سے بات کیوں نہیں کرتے؟ اسے جا کر سمجھاؤ کہ وہ تمہارے ساتھ ایسا نہ کرے تو وہ کہتا ہے کہ اگر میں باس کو سمجھانے بیٹھا تو وہ کہیں مجھے نوکری سے ہی نہ نکال دے۔ میں تو صرف تم سے بات کرنا چاہتا تھا۔ تو آپ بات سن سکتے ہیں اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں ایسے موقع پر بندہ مشکل محسوس کرتا ہے جب باس زیادہ کام آپ کی طرف بھیج رہا ہوتا ہے اور deadline کے بارے میں کوئی compromise کرنے پر تیار نہیں ہوتا تو بعض اوقات آپ کو صرف validation کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن بعض اوقات آپ کو مدد کرنے کی توفیق بھی ہوتی ہے اور آپ کر بھی سکتے ہیں لیکن اگر آپ خودہی مدد آفر کر دیتے ہیں تو اس کی بھی بے قدری ہوتی ہے اور لوگ بعض اوقات مدد قبول نہیں کرتے۔ جہاں جو چیز تعلق رکھتی ہے وہیں سے ابھرے تو اچھا لگتا ہے۔ میری بھی عادت رہی ہے اور اب بھی ہے کہ میں لوگوں کے مفاد میں بہت دور تک نکل جاتا ہوں جہاں سے واپسی تھوڑی مشکل ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو کہتا رہتا ہوں کہ آپ یہ کر لیں آپ یہ کر لیں۔ اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کو میں خوش کرتا رہتا ہوں کہ آگے بڑھو یہ کام کرو وہ کام کرو۔ بعض اوقات یہ دوسروں کی طرف سے آنا چاہئے او جب آپ خود کچھ کرتے ہیں تو اُن کے لئے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک لڑکا روٹیاں پکانے پر تھا جو ایک وقت میں 500 روٹیاں بنا لیتا تھا۔ میں اُسے اکثر کہتا تھا کہ اگر تم روٹیاں پکانے کے ساتھ ساتھ کھانا پکانا بھی سیکھ لو تو تم ترقی کر سکتے ہو۔ وہ اس کے بعد غائب ہو جاتا تھا پھر چھ مہینے بعد وہ آ جاتا تھا کہ میں کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ تم کہاں چلے گئے تھے تو وہ کہتا کہ آپ جو کہتے رہتے ہیں کہ کچھ کرو کھانا پکانا سیکھو، تو میں نے آخر کار اُسے کہنا چھوڑ دیا تو بعض اوقات کسی کیلئے وہ بہت ٹھیک ہوتا ہے جو وہ کر رہا ہوتا ہے۔

کینٹ میں میرا گھر ہے وہاں پر زیادہ تر میں گھر کے سامنے صبح کی ایک چھوٹی سی واک کرتا ہوں اور کوئی وہاں آتا جاتا نہیں ہے۔ میں اکثر دیکھتا تھا کہ سائیکل پر ایک بندہ جو کندھے پر بانس لمبا سا رکھے ہوئے وہاں سے روز گزرتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے تو ایک دن وہ رک بھی گیا تو میں نے اسے کہا کہ یار یہ تم کیا کر رہے ہو تو کہتا کہ کیا کر رہا ہوں؟ میں نے کہا کہ یہ کوئی کام ہے کرنے کا جو تم کرتے ہو؟ تم اس سے اچھا کام کر سکتے ہو۔ کہتا نہیں سر جی! آپ کو نہیں پتا یہ کیسا کام ہے یہ دیکھیں میرا فون جو سارا دن بجتا رہتا ہے جس وقت لوگ کال کرتے ہیں تو ان کی جان مصیبت میں پھنسی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر میں بہت نخرہ کرتا ہوں میں کہتا ہوں ٹائم نہیں ہے۔ یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے۔ پھر جب میں جاتا ہوں تو اپنی مرضی کے پیسے لیتا ہوں، گٹر بند ہوتا ہے تو سارا گھر پریشان کھڑا ہوتا ہے اور تب میں ہاتھ باندھ کر کہتا ہوں کہ پیچھے ہٹ جاؤ اور پھر میں اپنا کام دکھاتا ہوں اور پانی آبشار کی طرح چلتا ہے اور ان کے چہروں پر رونقیں آتی ہیں۔ سر آپ کو نہیں پتہ کہ یہ کیسا کام ہے بہت زبردست کام ہے۔ میں نے بھی کہا جاؤ کرتے رہو۔ اس وقت مجھے لگا کہ بہت اچھا کام ہے کیونکہ وہ اپنے کام سے متعلق کافی پُرجوش تھا۔ دیکھیں اللہ نے یہ نظام چلانے کے لئے مختلف انسانوں کو بنایا ہے وہ بالکل ایک جیسے نہیں بنا سکتا۔ کسی کرکٹ ٹیم میں 11 سپنرز کی گنجائش نہیں ہوتی نہ ہی 11 بیٹسمینوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کو شوق نہیں ہوتا۔ شوق پہلے آنا چاہئے یا پھر آپ پہلے اُن میں شوق پیدا کر دیں۔

ایک واقعہ ہے ملک آزاد ہونے سے پہلے ایک پٹواری کے افسر نے اس کی ترقی کر دی جس سے اس نے آگے بڑھنا تھا لیکن اسے یہ پسند نہیں آیا تو اس نے لکھ کر بھیجا کہ مجھے ترقی نہیں چاہئے تو مہربانی کر کے آپ ترقی واپس کر دیں تو اس افسر نے ترقی واپس کر دی۔ اس کے بعد افسر کا تبادلہ ہو گیا۔ نیا افسر آیا اس نے اس کی فائل دیکھی تو کہا کہ اس پٹواری کی ترقی بنتی ہے۔ اس نے پھر ترقی کر دی۔ اس نے پھر لکھا کہ جناب پہلے بھی میری ترقی ہوئی تھی میں نے پہلی بھی عرض کر کے اپنی ترقی رکوائی تھی تو آپ بھی اس طرح نہ کریں۔ میرا یہی عہدہ کافی ہے۔ تو اس نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں اس نے بھی ترقی واپس لے لی۔ پھر ایک تیسرا افسر آیا اُس نے فائل دیکھی اور کہا کہ ترقی تو ضروری ہے۔ اس نے پھر ترقی کر دی۔ اس بار اس سے رہا نہیں گیا تو اس نے اس وقت کے انگریز گورنر کو ایک لمبی سی چٹھی لکھی اور اس میں سارے حالات بتائے اور اپنے اوپر ہونے والے تفصیلی ظلم کا ذکر کیا اور ایک آخری فقرہ اس نے یہ لکھا کہ “جناب! جب فدوی ترقی کرنا ہی نہیں تو اسے بار بار ترقی دے کر کیوں پریشان کیا جا رہا ہے” اس طرح اس کی ترقی کا سلسلہ بند ہوا۔ تو کچھ لوگ پہلے سے ہی بہتر ہوتے ہیں۔ ایک پٹواری بادشاہ ہوتا ہے۔ آپ اس کی ترقی نہیں کر سکتے۔

اسی طرح بعض لوگ اپنے کام کے ساتھ اس طرح جڑے ہوتے ہیں پر جوش انداز میں، یہاں تک کہ پچھلے دنوں مجھے آفر آئی کہ آپ یہ کام چھوڑ دیں ہم آپ کو اس سے اچھا کام دیتے ہیں اور وہ کام اپنے طور پر اس سے اچھا تھا لیکن میں نے اپنے کام کے متعلق ایک منٹ بھی سوچے بغیر کہہ دیا کہ نہیں میں نہیں کرنا چاہتا۔ کہتے کہ میں نے بڑی مشکل سے آپ کے لئے موقع پیدا کیا تھا۔ میرے ایک بڑی اچھے جرنلسٹ دوست ہیں، انہوں نے گورنمنٹ میں کوئی بڑی پوزیشن میرے لئے تلاش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سب چھوڑ چھاڑ کر آپ یہ کام کریں۔ میں نے کہا نہیں میں یہ نہیں کر سکتا۔ مجھے اپنے کام سے بہت لگاؤ ہے۔ تو وہ کہتے کہ آپ سارا دن کھچ کھچ میں پڑے رہتے ہیں۔ میں آپ کو اچھا سا کام دیتا ہوں میں نے کہا کہ میرا یہ کام بھی بہت اچھا ہے۔ اس دن جو میں بات کر رہا تھا اس شخص سے کہ تم کیا کام کر رہے ہو۔ اس سے بہتر کام موجود ہیں۔ تو انسانوں کے اپنے طور طریقے ہوتے ہیں۔ آپ کسی فرد کو شاپنگ کے لئے لے جائیں اور اپنی مرضی شروع کر دیں کہ میری مرضی کا رنگ، میری مرضی کے کپڑے۔ تو وہ کہے گا کہ شکریہ مجھے نہیں چاہئے۔ انسان کا جو دل ہے وہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کئی لوگ تو حتیٰ کہ دوسروں کے لئے انٹرویو تک فکس کر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہارے پاس جاب نہیں ہے تو میں نے فلاں جگہ پر کام کیا ہے تم جا کے وہاں انٹرویو دے آؤ، تمہیں کام مل جائے گا۔ وہ کہتا ہے اچھا میں چلا جاؤں گا۔ اگر وہ ایسے دل کے ساتھ جائے گا تو وہ کیا کام کرے گا۔ تو لوگ گونگے تو نہیں ہیں نہ اگر وہ بتا رہے ہیں کہ مجھے یہ مصیبت ہے مجھے یہ مصیبت ہے تو پھر آپ نتظار کریں کہ وہ آپ سے ایک فارمل سی التجا کر لیں کہ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے اور زیادہ تر لوگ جن کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

وہ کُنڈا لے کر پھر رہے ہوتے ہیں۔ جدھر جگہ ملی کُنڈی ڈال دی۔ کچھ لوگوں کے پاس ایک بڑا فطری طریقہ ہوتا ہے کہ وہ آپ سے مدد حاصل کر لیتے ہیں انہیں مدد حاصل کرنے کا طریقہ آتا ہے اور اس کے لئے وہ یہ طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ پہلے بتائیں گے کہ آپ کتنے اچھے ہیں۔ پھر بتائیں گے کہ آپ کی دوستی کو وہ کتنی اہمیت دیتے ہیں اور پھر آپ کو کوئی کام سونپ دیں گے۔ میرے ایک دوست تھے جو مجھے کام دے دیا کرتے تھے۔ اپنی فیملی میں جو بھی تنازعات تھے اور سب کچھ اور بہت سی مہارتیں میں نے اِس دوارن اُن سے سیکھیں۔ انہوں نے میرے سے کام کروانے کے لئے ایک لفظ ایجاد کیا ہوا تھا مجھے شروع کرنے کے لئے اور وہ لفظ تھا کہ “ڈاکٹر صاحب! تُسی تے اَمرت دھارہ او” اور مجھے یہ اتنا اچھا لگتا تھا اور میں کہتا تھا کیا بات ہے۔ پھر اس کے بعد دن رات میں اُن کے کام کرتا تھا۔ بلکہ وہ مجھے خط لکھا کرتے تھے۔ اتنے لمبے لمبے خط اپنے بچوں کی بُری حرکتوں کے، ان کے ساتھ بُرے سلوک کے خط اور ان کی اپنی مہربانیوں کے طنز بھرے خط تو مجھے روز ہی ملتے تھے مگر روز ایک خط بھی لکھ دیتے تھے کہ میں مزید فرصت میں انہیں پڑھ سکوں۔ مجھے اب خیال آیا کہ اُن کے پاس ایک مضبوط کُنڈا تھا اور ان کا جب دل چاہتا تھا مجھے اس کنڈے سے پکڑ لیتے تھے۔ تو کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ سے محبت سے بات کرتے ہیں اور آپ کو پُرانے تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں اور اب یہی وہ کر رہے ہوتے ہیں تو پھر آپ خود ہی آمادہ ہو کر انہیں آفر کر دیتے ہیں اور یا پھر اس طرح کی بات کہ میں کافی دنوں سے سوچ رہا تھا یا میں دُعا کر رہا تھا۔ کسی کو اگر کچھ نہیں آتا تو کم از کم مانگنے کا سلیقہ تو آنا چاہئے۔ جسے کچھ نہیں آتا تو کم از کم اُسے مانگنا تو ٹھیک سے سیکھنے دیں۔

دیکھیں اب اگر وہ کہہ رہا ہے بار بارمیں سوچ رہا تھا ، دعا کر رہا تھا، بار بار آپ کا نام آ رہا تھا۔ کون لا رہا تھا آپ کا نام تو کہتے ہیں کہ “اللہ لا رہا تھا” اچھا اب سننے والا کہہ رہا ہے لو جی اب فیصلہ تو اللہ نے کر دیا ہے میں کون ہوتا ہوں سوال کرنے والا۔ اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کام میں میں ان کی مدد کروں اور جو مدد مانگ رہا ہے وہ بتا نہیں رہا کہ کرنا کیا ہے۔ میرے پاس لوگ آتے ہیں ایک گھنٹے میں وہ اپنا مسئلہ بیان کرتے ہیں تفصیل سے اور پھر میں اُن سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ چھوٹا سا کہ اب آپ کیا چاہتے ہیں اور وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ میں نے یہ سوال کس سے اور کیوں پوچھا ہے۔ میں پھر پوچھتا ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں اب؟ وہ کہتے ہیں کہ میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم آسٹریلیا منتقل ہو جائیں تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ مسئلہ پاکستان میں ہے آسٹریلیا جا کر حل ہوگا یا ایسا جواب دیں گے جو میں بہت کم توقع کر رہا ہوتا ہوں۔ انہوں نے کبھی مسئلے کے حل کے بارے میں نہیں سوچا ہوتا۔ انہوں نے صرف مسئلے تک سوچا ہوتا ہے۔ اُس مسئلے کے جو ممکنہ حل ہیں اس کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہوتا کہ اِس کے ممکنہ حل کیا ہیں تو میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ اگر انہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں تو میں انہیں کیا دوں۔ جیسے اکثر گھر میں خواتین اپنے خاوند سے پوچھتی ہیں کہ آج میں کیا پکاؤں تو وہ کہتے ہیں کہ کچھ بھی۔ اب کچھ بھی تو کسی ڈش کا نام نہیں اور جب کھانا سامنے آئے تو کہتے ہیں کہ روز یہ کیا بنا لیتی ہو۔ اچھا اگر ریسٹورنٹ جاتے ہیں تو آپ سے کوئی پوچھے کہ کھانے میں کیا آرڈر کرنا پسند کریں گے تو کہتے ہیں جو بھی۔ اب جو بھی تو مینو میں کہیں نہیں لکھا ہوتا۔ اگر چھوٹا بچہ بھی ماں سے دودھ چاہتا ہے تو روتا ہے اور پھر ماں دودھ دیتی ہے۔ ماں ویسے نہیں دیتی۔ جب بچہ روتا ہے تو ماں کا دودھ اُترتا ہے تو اسی طریقے سے آپ ماں سے بڑھ کر تو نہیں ہیں نا، کہ کسی سے بات ہو رہی ہے تو آپ اُسے بات کرنے دیں۔ الفاظ تو بولنے دیں تاکہ وہ کچھ کہہ سکے کوئی لفظ بیان کر سکے پھر اگر مدد کر سکتے ہیں تو بتاد یں۔ ورنہ کہہ دیں کہ میں یہ مدد نہیں کر سکتا۔ میں یہ مدد کر سکتا ہوں یا میں اگر یہ مدد کروں تو آپ کا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اگر میں پھر لوگوں کو اس طرح پوچھتا ہوں اُن کی مدد کرنے کے لئے کہ اچھا اگر آپ کے ہاتھ میں اللہ دین کا چراغ ہو تو کون سی تین چیزیں ہیں جو آپ فوراََ بدل دینا چاہیں گے۔ پھر انہیں سمجھ آتی ہے اللہ دین کے چراغ سے کہ یہ تین چیزیں ہو جائیں۔ پھر ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اچھا اگر یہ ہو جائے تو آپ خوش ہو جائیں گے کہتے ہیں نہیں۔ پھر پوری کسوٹی کی گیم کے بعد وہ یہ سوچتے ہیں کہ مسئلے کا حل کیسے ہو گا۔

جیسے کہ اگر کوئی کسی کو پوچھے کے میں بہت پریشان ہوں میرا بیٹا پڑھتا نہیں ہے۔ یونیورسٹی جا کر ٹائم ضائع کرتا ہے۔ آپ کی وہ بڑی عزت کرتا ہے آپ بھی بڑی شفقت اس سے کرتے ہیں ذرہ اس سے ملیں۔ آپ اس سے پوچھیں کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں اس سے ملوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا اور آپ گھر آ کر پریشان ہو رہے ہیں کہ اب مجھے ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ آپ آ کر اس سے مل لیں تو میں اس سے کیسے ملوں اس کو گھر لے کر آؤں یا خود جاؤں۔ اتنا عمر میں فرق ہے کسی ریسٹورنٹ بھی نہیں بُلا سکتا۔ مل کر میں کیا کروں آپ سوچتے ہیں کہ ایسا کیا ہے لیکن اللہ کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کے ذہن میں خیال آیا ہے وہ دعا مانگتے رہے تھے اور بار بار میرا نام آتا رہا تھا تو ایک خدا کا فیصلہ ہے میں اس سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا۔ مجھے اس سے ملنا ہے۔ ملاقات میں کیا کرنا ہے۔ مجھے نہیں پتہ ہے۔ تو اس طریقے سے تو کام نہیں ہوتا دنیا میں آپ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیا ہے! لیکن اگر آپ خود ہی اُدھار کھائے بیٹھے ہیں کسی کی مدد کرنے کے لئے۔ تو پھر بڑے مسئلے ہو جاتے ہیں۔ بے قدری ہو جاتی ہے۔ ابھی دو دن ہوئے ہیں میری بیگم امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری دورے پر گئی ہیں اور ایک سال سے یہ سارا سلسلہ چل رہا تھا۔ وہ پرسوں ہوائی اڈے پر مجھے کہتی ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ امریکہ والوں نے مجھے کیوں بلایا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو اس وقت اندر جاتے ہوئے کیوں یہ خیال آیا کہ امریکہ والوں نے کیوں بلایا ہے۔ ان کی سوچ ہو گی کہ پتا نہیں ان کے کیا ادارے ہیں کہ انہوں نے مجھے بُلا لیا، اتنی خطیر رقم خرچ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ امریکہ اچھے لوگوں کا ملک ہے۔ 70 سالوں سے وہ پاکستان کے سارے مسائل خود ہی حل کرتا رہا ہے۔ پولیو کے قطرے ہمیں وہ پلاتے ہیں ہم ناراض ہیں۔ تعلیم کے معاملات وہ ہمارے اچھے بنانے کی کوششیں کرتے ہیں ہم ناراض ہیں۔ صاف پانی کے منصوبوں پر وہ پیسہ خرچ کرتے ہیں ہم ناراض ہیں وہ تعلیمی سلسلے بہتر بنانے کے لئے سکولوں کے معاملات میں مدد کر رہے ہیں۔ میں نے کہا انہیں اچھے ہونے کی بیماری ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ میں نے کہا وہ پیسہ خرچ کرتے ہیں پر ہم ناراض ہیں وہ تعلیمی سلسلے بہتر بنانے کے لئے سکولوں کے معاملات میں مدد کر رہے ہیں وہ کاشتکاری کے معاملات میں مدد کر رہے ہیں۔ انہیں اچھے ہونے کی بیماری ہے۔ وہ کہتی ہیں وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ میں نے کہا کیونکہ یہاں کوئی ایسا نہیں کرتا۔ میں نے کہا مجھے کبھی کسی نے پاکستان میں نہیں پوچھا باہر پوچھتے ہیں اور تمہیں بھی کبھی کسی نے پاکستان میں نہیں پوچھا باہر پوچھتے ہیں۔ جو لوگ کام کرتے ہیں ان کے اوپر وہ نظر رکھتے ہیں ان کو سٹڈی کرتے ہیں ان کے معاملات کا پتہ رکھتے ہیں۔ ان کے ڈیپارٹمنٹس ہیں اس مقصد کے لئے میں نے اُسے کہا کہ فکر مت کرو اور اس دن کو محسوس کرو۔ یہ دن ہے تمہارا اِسے وَسوَسوں میں ضائع مت کرو۔ خوشی سے جاؤ کام کرو اور واپس آ کر اپنے ملک کی خدمت کرو۔ پہلے سے بھی بہتر خدمت کرو۔ تو یہ خیال بعض اوقات آنے لگتا ہے جب ہم اور آپ کسی کی مدد کرنے میں اُدھار کھائے بیٹھے ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ وہ جان ہی نہیں چھوڑتا۔ تو بعض اوقات یہ لوگوں کے لئے بڑی تکلیف دہ ہو جاتا ہے کہ جب آپ اَز خود مامتا کے جذبات لئے شبنم کے قطرے اپنے اوپر اکھٹے کر کے لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور انہیں کہیں کہ بیٹا کوئی اچھا کام کرو۔ لوگ تو ماں باپ کی نہیں سنتے جب ماں باپ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بیٹا پڑھا لکھا کرو، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔ پڑھ لیا کرو کچھ بن جاؤ گے۔ تو کہتے ہیں کہ کیا بولتے رہتے ہیں اور پھر وہ ملنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب ماں باپ جیسی ہستیاں ازخود مدد کرنے کے لئے آگے بڑھتی ہیں تو بچے پرواہ نہیں کرتے تو دوسرے لوگوں کا آپ کیا کریں گے۔ تو ذمہ داری کو وہیں رہنے دیں جہاں سے اس کا تعلق ہے اور کسی کا چھابہ اٹھاتے اٹھاتے یہ نہ کریں کہ چھابہ آپ کے سر آ جائے۔ ذمہ داری جہاں ہے وہاں ہی رہنے دیں۔ اس سے آپ کی زندگی کٹھن نہیں ہو گی اور آپ لوگوں کی مدد کر سکیں گے۔ آپ کو مدد کرنا آ جائے گی۔

اچھے لوگوں کی قسمت میں صرف بیماریاں آتی ہیں جن میں کینسر اور دل کی بیماریاں شامل ہیں اور اگر آپ چاہیں تو اپنے لائف سٹائل کو بدل کر اپنی ذمہ داریوں کو خود بھی اچھی طرح اٹھا سکتے ہیں۔ آپ دوسروں کی ذمہ داریوں کو ان تک ہی رہنے دیں اگر وہ آپ سے مدد مانگیں تو آپ حسبِ توفیق انہیں اچھا مشورہ دے سکتے ہیں۔ ان کیلئے دعا کر سکتے ہیں یا ان کی کوئی ایسی مدد کر سکتے ہیں جس سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اگر آپ کو مدد کرنا مجھے تکلیف دے رہا ہے تو یہ مدد نہیں درد ہے تو ذہن میں ایک بات اچھی طرح رکھنی چاہئے کہ جب میں کسی کی مدد کروں اور اس کو فائدہ ہو اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہو تو مجھے بھی کم از کم خالی مسکراہٹ کا تو حق ہے کہ اگر مجھے کوئی فائدہ نہ ہو تو خالی مسکراہٹ پر تو میرا حق ہے۔