اگر ہم زہر آلود رشتوں پر بات کریں، تو یہ کیا ہیں؟ کیا یہ کیمیائی مادے ہوتے ہیں؟ جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی بندہ نشے میں دھت ہے تو اس نے کوئی کیمیائی مادے پیے ہوتے ہیں جیسا کہ شراب یا کوئی اور نشہ کیا ہوتا ہے؟ بظاہر لگتا ہے کہ یہ کوئی کیمیائی مادوں کی بات ہے۔

لیکن جب رشتوں میں زہریلا پن ہوتا ہے، جس میں کبھی کبھی ہم جذباتی ہو کر بہت زیادہ غصہ کرتے ہیں۔ تو کیا اس معاملے میں بھی جسم میں کیمیائی مادوں کا عمل دخل ہوتا ہے؟ جیسے کم یا زیادہ نمک سے کھانے کا ذائقہ متاثر ہوتا ہے ویسے ہی چیزوں کا صحیح مقدار اور درجے میں ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جب کیمیائی مادے ایک حد سے زیادہ ہو جائیں تو انہیں زہریلے مادے کہتے ہیں۔ جیسا کہ کولیسٹرول اگر حد سے زیادہ ہو جائے تو وہ زہریلی ہو جائے گی اسی طرح خون میں شوگر کا لیول اگر 126 سے زیادہ ہو جائے تو وہ بھی زہریلی ہو جائے گی۔

زہریلے مادے اور زہریلا پن دو ایسی چیزیں ہیں جن کے آگے پیچھے ہونے سے جسم کا نظام چلتا ہے۔جیسے کسی زمانے میں آور گلاس یعنی ریت سے بھرا برتن ہوتا تھا، جس میں ایک طرف ریت ختم ہونے کے بعد اس کا رخ بدل دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے جسم میں زہریلے مادے بنتے ہیں اور پھر ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم زیادہ محنت والا کام کرتے ہیں تو جسم میں لیکٹک ایسڈ بنتے ہیں جو بعد میں الٹ ہو کر پروِک ایسڈ بن جاتا ہے جو کہ صحت مند ہوتا ہے۔

لیکن یہ جو جسمانی زہریلے کیمیائی مادے ہیں، ہمارے سارے جسم کا کھیل انہیں کیمیائی مادوں کے اثر میں ہوتا ہے جیسا کہ اگر نیند آ رہی ہے اور ہم سو نہیں رہے تو زہر یلے مادے بننا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح بھوگ لگی ہو اور ہم کھانا نہیں کھا رہے تو بھی ایک قسم کے زہریلے مادے بن جاتے ہیں۔ جو بھی احساسات ہوتے ہیں وہ کسی کیمیائی مادے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ پیار کا احساس بھی ایک کیمیکل کی مرہون مِنت ہے اور اسے آکسی ٹاسن کہتے ہیں۔ خواتین میں آکسی ٹوسن زیادہ ہوتی ہے اس لئے پیار ان کا دائرہ اقتدار ہے اور مردوں میں آکسی ٹوسن کم پیدا ہوتا ہے اس لئے انہیں پیار زیادہ محسوس نہیں ہوتا۔ پیار ایک سیکھا جانے والا عمل ہے۔ مرد آکسی ٹوسن کے بغیر بھی پیار کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ اسے رویوں کے طور پر بھی سیکھ سکتے ہیں۔ مثلاََ ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہم کھانا کھاتے ہیں، یہ قدرتی طریقہ ہے کہ کوئی کیمیائی مادے بنتے ہیں تو ہمیں بھوک لگتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے سیکھ لیا ہو کہ کوئی وقت ناشتے کا ہے، دوپہر کے کھانے کا ہے، رات کے کھانے کا ہے یا 5 بجے کی چائے کا ہے تو یہ ہم نے سیکھ لیا ہوتا ہے اور تب اس میں زہریلے مادوں کی گنجائش نہیں رہتی۔