میزبان: سگریٹ سے متعلق میں تھوڑی سے آپ سے معلومات لینا چاہوں گا۔ کیونکہ ایک سوشل فیکٹر ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ہم نے نشہ افورڈ کرنے کی بات کی جیسے ایک صاحب نے کہا کہ اس میں price factor بھی بہت اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ افیون کی قیمت ہیروئن کی نسبت کم ہے۔ حشیش جو کہ نسبتا عام ہے وہ مہنگی ہو گئی ہے۔ اس میں Supply demand factor بھی شامل ہے۔ لیکن جو اہم عنصر ہے وہ یہ کہ یہ شروع ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا یہ ایک سماجی دباؤ اور اس کا استعمال جیسے ماحول میں شروع کیا جاتا ہے؟ کیا یہ ایک سیاسی پریشر ہے؟ کس ماحول میں منشیات کا استعمال شروع ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: نشہ شروع کرنے سے پہلے تو انسان کے اندر ایک ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ دباؤ یا کسی ناراضگی کا عنصر زندگی میں ہونا جو کہ نوجوانی کی عمر میں بہت زیادہ خطرات لا سکتا ہے۔ جیسے ایک نوجوان اپنے والدین سے اپنی زندگی میں تھوڑی پریشانی محسوس کر رہا ہے اور اتفاقََا سکول کالج یا یونیورسٹی میں اس کے ایسے دوست بھی بن گئے ہیں جنہوں نے نشہ کی جو آفر کی۔ شروع میں پہلی دفعہ جب کوئی کسی کو سگریٹ یا چرس! کی آفر کرتا ہے۔ عام طور پر شروع میں جو اس سے انکار بھی کرتا بھی ہے تو یہ چیز یا یہ pattern تو کوئی ایک وقت آئے گا کہ کسی موقع پر اس کی ذہنی حالت ایسی ہو گی کہ اسے پرواہ نہیں ہو گی کہ اس میں کیا خطرہ ہے پھر وہ بھی مان سکتا ہے اور اسی طرح نشہ کا آغاز ہوتا ہے۔ چونکہ یہ منشیات بہت طاقتور ہوتی ہیں تو ان سے آپ کی تعلیم متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ والدین سے تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں نئے دوست بن جاتے ہیں آپ نے تعلیم جو ہے وہ اس میں بعض اس عمر میں اس کی self-esteem بہت کم ہوتی ہے۔ تو یہ ساری چیزیں مل ملا کر نشے کے آغاز کی جانب لی جاتی ہیں

میزبان: یہاں میں ایک سروے شامل کرنا چاہوں گا۔ نوجوانوں میں منشیات کا استعمال جو کہ کراچی میں کیا گیا۔ جن میں سولہ سے بائیس سال کی عمر کے لوگ شامل تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق 34 فیصد ڈرگ ابیوزر تھے۔ جن میں اکیس فیصد مرد اور تیرہ فیصد خواتین شامل تھی۔ اور دوسری بات یہ کہ 52 فیصد لوگ سگریٹ سموکنگ کر رہے تھے۔ جن میں سے 33 فیصد مرد اور 19 فیصد خواتین شامل تھیں اور 17 فیصد وہ لوگ تھے جن کے والدین میں طلاق ہوئی۔ یعنی کہ یہ بھی سموکنگ کی جانب ایک وجہ بن سکتی ہے اور ان میں سے 22263 ایسے بچے شامل تھے جن کے والدین خود منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔ یعنی منشیات کے استعمال میں گھر کا بہت زیادہ اثر بچوں پر مرتب ہوتا ہے۔ دوسری جو وجہ تھی وہ طالبات کے مابین ساتھیوں کا دباؤ تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق 31 فیصد بہترین دوست منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں 22 فیصد خود ڈرگ ابیوزر ہوتے ہیں۔ یعنی کہ ساتھیوں کا دباؤ بھی ایک بہت بڑا عنصر ہے۔ اس کو حل کس طرح کیا جائے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں پہلے تو ہمیں ماننا ہو گا کہ ہمارے بچے جو سکول کالج میں پڑھتے ہیں۔ کبھی نہ کبھی منشیات کا تجربہ ضرور کرتے ہوں گے۔ ایسا کبھی شاید ہی کوئی ہو جس نے کبھی منشیات کا تجربہ نہ کیا ہو۔ تو یہ بڑا اہم معاملہ کیونکہ ہے یہ ہمارے بچوں کا معاملہ ہے اور یہ ہمیں تسلیم کرنا چاہئے اور اس کی تیاری ہمیں وقت سے پہلے کرنی چاہئے۔ دودھ میں ابال آ جانے کے بعد نہیں، یعنی کہ پہلے ہمیں اپنے بچوں سے بات کر لینی چاہیئے۔ گھر کا ماحول ایسا بنانا چاہئے کہ اس میں سگریٹ مہمانوں کو بھی پینے کی اجازت نہ دی جائے۔ کیونکہ یہیں سے معاملہ کا آغاز ہوتا ہے۔

میزبان: ہمارے معاشرے میں 52 فیصد سگریٹ کا استعمال ہے یعنی کہ ہم لوگ سگریٹ کو ایک غیر قانونی نشہ تسلیم نہیں کرتے۔۔۔

ڈاکٹر صداقت علی: اصل میں قانونی اور غیر قانونی کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جیسے مٹھائی قانونی حیثیت رکھتی ہے لیکن شوگر کے مریض اسے نہیں لے سکتے۔ عام لوگوں کے لئے بھی مٹھائیاں زیادہ صحت افزاء نہیں اسی طرح منشیات جیسا کہ الکوحل اور چرس کئی ممالک میں قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔ امریکہ میں بھی ایک دفعہ الکوحل کو غیر قانونی حیثیت دی گئی تھی، 13 سال تک یہ سرکاری طور پر منع تھی لیکن پھر لوگوں نے اسے گھروں میں بنانا شروع کر دیا تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو ڈیمانڈ ہے وہ ختم ہو جائے تو پھر یہ مہیا ہونا بھی خود ہی ختم ہو جائے گی تو اصل بات اس کو ختم کرنے کی ہے جو کہ زندگی میں مہارتیں سیکھنے سے آتی ہیں۔ جسے اگر والدین خود منشیات کا استعمال نہ کریں تو بچوں میں بھی اس چیز کی رکاوٹ رہے گی۔ ماں باپ منشیات استعمال کریں گے تو بچوں کی ذہنی رکاوٹ دور ہو جائے گی۔ اس کے بعد گھر میں آنے والے مہمانوں سے معذرت کریں کہ ہمارے گھر میں سگریٹ نوشی بالکل بھی نہیں ہوتی۔ تو پھر بچوں کے معصوم ذہن کو شروع سے ہی یہ چیز پتہ چل جائے گی کہ یہ چیز منع ہے سگریٹ کبھی بھی سادہ نہیں ہوتا۔ سگریٹ کے اندر ایک بڑی پکی ڈرگ شامل ہے جو کہ نکوٹین اور چار ہزار اور بہت سی زہریلی چیزیں رکھتی ہے۔ تو سگریٹ کے بارے میں کسی نے یہ خیال پھیلایا ہے کہ یہ سادہ ہوتا ہے تو میں نے کوئی بھی سگریٹ سادہ نہیں دیکھا۔

میزبان: میں یہاں آپ کو اپنی ذاتی مثال دونگا کہ جب میں نے زندگی میں پہلا سگریٹ لگایا تھا تو وہ ایک خیال کے طور پر تھا کہ اب ہم بڑے ہو چکے ہیں peer pressure میں منشیات کا بھی یہی ایک عنصر ہوتا ہے کہ لیکن سچ بتاؤں جب یہ پینے کے بعد آپ کو کھانسی آئے اور امکانات کا اندازہ ہو جائے توآپ کو خود خیال آئے گا کہ آگے سے آگے کہاں تک یہ کہانی چلنی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اسے ابھی بجھا دیں اور تب میں نے سموکنگ چھوڑ دی اور شکر ہے اس کے بعد میں نے کوئی اور چیز بھی شروع نہیں کی۔ کیا یہ ضروری ہے کہ سگریٹ سے ہی انسان مزید نشوں کی جانب بڑھتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: اصل میں پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ چرس انسان کو مزید نشوں کی جانب لے جاتی ہے لیکن حقیقت میں سگریٹ ہی مزید نشوں کی جانب آپ کو لے جاتا ہے اور یہ بڑی ایکٹو ڈرگ ہے۔ کیونکہ سگریٹ پینے کے کچھ ہی دیر کے بعد محسوسات شروع ہو جاتے ہیں۔ تو سگریٹ شروع شروع سے ہی مزاق مزاق میں نہیں پینا چاہیئے ور زندگی کی مہارتوں کے بارے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تعلیم کے علاوہ زندگی کی مہارتیں پہلے سے سیکھنے کی ضرورت ہے یعنی کہ آج کل پانچ سال کا بچہ بھی پریشان ہوتا ہے، دباؤ لیتا ہے جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ بچے جلدی سمجھدار ہو گئے ہیں۔ کیونکہ الیکٹرانک میڈیا، موبائل فون، انٹرنیٹ نے ایک نیا طرز زندگی بنا دیا ہے۔ اس نے جہاں زندگی کو آگے بڑھایا ہے۔ وہیں ہمیں تھوڑا سا پیچھے بھی دھکیل دیا ہے، دباؤ زیادہ ہونے لگا ہے اور مزید آگے زندگی اب بڑی تیزی سے بھڑے گی۔ پہلے جو تبدیلیاں پچاس سال میں آتی تھیں اب وہ پانچ سال میں آ جاتی ہیں پھر شاید سال میں آ جائیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم زندگی میں سٹریس مینجمنٹ سیکھیں اور یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں۔ ہم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے سولہ سال لگا دیتے ہیں تو یہ تو دو یا تین ہفتوں کا کام ہے۔

میزبان: بالکل صحیح! سٹریس مینجمنٹ کے حوالے سے دو چیزیں مجھے یاد ہیں ایک تو صحیح طرح سانس لیا جائے اور دوسرا کسی نے سٹریس مینجمنٹ کے بارے میں مجھے بڑی خوبصورت بات کہی تھی کہ یاد کرو پچھلا کوئی ایسا واقعہ جس کے بعد تم کہ رہے کہ بس یہ کیا زندگی ہے۔ تو یاد کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اب وہ کتنا بڑا مرحلہ لگتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ وقت کے ساتھ بہت سی چیزیں ٹھیک ہو جاتی ہیں تو ضروری نہیں کہ ان چیزوں میں ہم شامل ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے الیکٹرانک میڈیا کی بات کی۔ اسی الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جو بچے یہ پروگرام دیکھ رہے ہیں ہم ان کو خبردار کر رہے ہیں کہ خیال رکھیے گا۔ ان کی بدولت کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں اور یہ ذمہ داری تب ہی آتی ہے جب ہمیں اندازہ ہو گا کہ یہ کرنے سے کیا ہو گا تو جب ہم بچے کو یہ کہتے ہیں کہ آگ کو ہاتھ نہ لگاؤ تو بچے کو یہ وہم نہیں ہے کہ آگ سے کیا ہو گا؟ ہم جیسے بڑے ہوتے جا رہے ہیں ہمارا شعور بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لئے ہم آپ کو دور اندیش بنا رہے ہیں کہ اس سے کیا ہو گا؟ منشیات سے صحت اور سماجی زندگی پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی نوجوانی میں منشیات کا استعمال کرے تو اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ کچھ بن ہی نہیں سکے گا۔ مطلب کچھ بننے سے پہلے ہی بکھر جائے گا۔ اس کا 10 فیصد امکان یقینی ہے کہ سارے خاندان کے لئے مسائل پیدا ہونگے اور اگر کچھ بننے کے بعد منشیات کا استعمال شروع کریں گے۔ جیسا کہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ بن جانے کے بعد زندگی میں سکون ہو جانا کہ اب ہمارا کوئی مقصد نہیں، تو پھر کچھ بننے کے بعد وہ سب کچھ کھو بھی سکتے ہیں۔ آگے لوگوں کو بہت سے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔ تو منشیات کی جو ضرورت سمجھی جاتی ہے کہ کچھ اچھا محسوس کرنا، ہائی محسوس کرنا، تو اب تو یہ نشہ کے بغیر آپ کے پاس ایسی مہارتیں ہیں کہ جب چاہیں اپنے موڈ کو مینج کریں، جب چاہیں اپنے فیصلوں کو بہتر بنائیں، زمانہ بدل گیا ہے، صحیح جینے کا مزہ تو آج کے ہی زمانے میں آ سکتا ہے۔ میں تصور نہیں کر سکتا کہ 100 سال پہلے جینے میں کیا مزہ ہو سکتا تھا اور اگر بھرپور زندگی گزاری جائے۔ مثلاََ کم از کم ایک درجن خوشیاں اپنی زندگی میں دیکھی جائیں، موسیقی سنیں، تفریح کے موقع ڈھونڈیں، تعلقات بہتر بنائیں، دوسروں کی زندگی میں دخل دینے کے سلیقے سیکھیں اور دوستانہ ماحول رویہ اپنانے میں مدد کریں۔ کھانے، کھیل تماشے میں بھی بڑا لطف ہے۔ ابھی پوری قوم کتنا خوش ہو رہی تھی جب کرکٹ کا معاملہ تھا۔ ایسی چیزیں جو خوشیاں دیتی ہیں ان کی تلاش میں ہمیں چلنا چاہئے۔ ہم بعض اوقات بری خبر کے پیچھے چلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ جب کوئی بم دھماکا ہو جائے تو پوچھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ تم خیریت سے تو ہو نہ۔

میزبان: اسی دکھ میں ہم گم جاتے ہیں! یہ ڈاکٹر صاحب نے واقعی بہت زبردست بات کہی ہے۔ دنیا میں بہت سی چھوٹی چھوٹی بے تحاشہ خوشیاں خدا نے آپ کو دی ہیں ان سے لطف اندوز ہوں۔ بجائے اس کے کہ کوئی ایسی چیز اپنائیں کہ ہم اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ میں اور میرے دوستوں میں سے جس نے بھی نشہ چھوڑا۔ تو اس کو اور بھی نشے ملے مثلاََ میوزک، ملنے جلنے میں آپ کو نشہ ملے گا تو وہ نشہ ڈھونڈیں جس سے لوگوں کو فائدہ ہو۔ بجائے اس کے کہ آپکو فائدہ ہو اور دوسروں کو نقصان۔ ریسرچ میں جن بچوں نے یہ کہا کہ ہم کچھ بننا چاہتے ہیں۔ منشیات ہمارے لئے نہیں تو وہ نشے کی جانب نہیں گئے تو انہوں نے کچھ بن کر دکھایا اور اس چیز کا مزہ لیا۔
بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب! امید ہے کہ آپ کی ان باتوں سے بہت سے لوگوں کو کوئی نہ کوئی نظریہ نظر ملا ہو گا اور خدانحواستہ جو کوئی بھی ان منشیات میں ملوث ہیں وہ اپنے قریبی منشیات بحالی ادارہ سے رجوع کریں۔