اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت مزے کا بنایا ہے یعنی چیز بہت اچھی بنائی ہے یہ میں نے نوٹ کیا ہے کہ انسان کو بہت ہی زبردست بنایا ہے۔ انسان کے اندر بہت سارے جانداروں جتنے جانداروں کو میں جانتا ہوں ان کا دماغ بھی ہے انہیں ہم ’’اینیمل برین‘‘ کہتے ہیں یعنی انسان میں مویشوں کا دماغ بھی پایا جاتا ہے۔ انسانوں میں مینڈک کا دماغ بھی پایا جاتا ہے انسان میں چھپکلی کا دماغ بھی پایا جاتا ہے آپ نے اسے بس ٹریس کرنا ہے کہ اچھا یہ چھپکلی والا ہے، یہ شیر والا ہے، درندوں والا ہے، یہ گائے بھینسوں والا ہے، یہ بندروں والا ہے اور آپ کو ہر انسان کے اندر جانوروں کا دماغ ملے گا اگر آپ ٹریس کرنا چاہیں اور اسے ہم ’’اینیمل برین‘‘ کہتے ہیں اور یہ آنکھوں کے لیول سے نیچے نیچے ہوتا ہے اور آنکھوں کے اوپر انسانی دماغ ہوتا ہے اسے اوپر بھی رکھا گیا ہے اور سپریم بھی رکھا گیا ہے اور یہ کسی سٹیج پر انسان اس کرہ ارض پر تھے تو کسی اسٹیج پر انہیں تحفتاً پیش کیا گیا ہے اور یہ بعد میں ملا۔ اسے ہم نے ہیومین برین کہا کیونکہ یہ انسانوں کے لیے ہی مخصوص ہے یہ دوسرے جانوروں کے لیے نہیں ہے۔ جانوروں والا دماغ ہمارے پاس ہے۔ ہمارے والا دماغ جانوروں کے پاس نہیں ہے۔ اس وجہ سے جانور گھاٹے میں ہیں اور انسان اس لیے اشرف المخلوقات کہلاتے ہیں اور عین ان دونوں کے درمیان ایک سوفٹ وئیر ہاؤس رکھا ہے کہ جس میں عادتیں، علتیں جو کہ ٹیکنیکلی ایک جیسی ہیں۔ جو عادتیں ہوتی ہیں وہ فائدے مند ہوتی ہیں لیکن جو علتیں ہوتی ہیں وہ نقصان دہ ہوتی ہیں۔ جو علتیں ہوتی ہیں وہ اکثر خود رَو بھی ہوتی ہیں۔ لیکن جو عادتیں ہوتی ہیں ان کو اکثر نشوونما خود دی جاتی ہے۔ ان کی بنیاد رکھی جاتی ہے یا انہیں تیار کیا جاتا ہے۔ اچھا جتنی بھی عادتیں ہوتی ہیں جو کہ خیال کی بھی ہو سکتی ہیں اور یقین کی بھی ہو سکتی ہیں اور نمونوں کی ہو سکتی ہیں اور سرگرمی کی ہو سکتی ہیں، مادہ کی ہو سکتی ہیں، کھانے پینے والی چیزوں کی ہو سکتی ہیں، کام کاج کی ہو سکتی ہیں، جوئے کی بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ساری چیزیں جو ہوتی ہیں یہ ایک سوفٹ کی طرح اوپر والے برین اور نیچے والے برین کے درمیان پلتی ہیں۔ ان میں کچھ عادتوں کو ہم علت کہنے لگتے ہیں جب یہ حد سے زیادہ ہو جاتی ہیں یعنی ایک حد کو پہچاننے کی بات ہے جس پر وہ میں نے ابھی بات کی تھی کہ حد کو کیسے پہچانیں کہ کوئی چیز حد کے اندر ہے یا باہر ہے؟ تو مجھے بتائیں کہ جب ہم کھجلی کرتے ہیں تو مزا آتا ہے۔ جب ہم کھجلی کرتے رہیں تو پھر مزا بدمزگی میں بدلنے لگتا ہے تو یہ حد ہے۔ جب آپ کھانا کھاتے ہیں تو مزا آتا ہے، پھر مزا کم ہونا شروع ہو جاتا ہے پھر وہ بھی بدمزگی میں بدلنے لگتا ہے لیکن ہم کھاتے رہتے ہیں۔ تو جب کھانے کا مزا جب ذرا کم ہونے لگے تو آپ یہ سمجھیں کہ یہ حد ہے۔ اچھا عادتیں جو ہوتی ہیں وہ ہیومین برین کو سپورٹ کرتی ہیں اور جو علتیں ہیں وہ انیمل برین کو سپورٹ کرتی ہیں اور عادتیں ہیومین برین کو طاقتور کرتی ہیں جبکہ علتیں انیمل برین کو طاقتور کرتی ہیں۔ انیمل برین ایک ہارڈ وئیر کی طرح کام کرتا ہے اور ہیومین برین ایک سوفٹ وئیر کی طرح کام کرتا ہے۔ جو انیمل برین ہے اس میں سے ہارمون نکلتے ہیں جو ازخود ہمارے خون کے بہاؤ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ تو یہ سارے کام ہمارا انیمل برین بہت اچھے طریقے سے کرتا ہے۔ پیاس لگے تو کون ہمیں بتاتا ہے؟ انیمل برین۔ بھوک لگے تو کون ہمیں بتاتا ہے؟ نیند آئے تو کون بتاتا ہے؟ انیمل برین۔ انیمل برین غلبہ پا لیتا ہے جب ہیومین برین کام نہیں کرتا ہے۔ جیسے کہ اگر ہیومین کام کرتا ہے اور آپ ہر دو گھنٹے بعد پانی پی لیتے ہیں تو پیاس لگے گی کہ نہیں؟ انیمل برین درمیان میں آئے گا کہ نہیں؟ اسی طرح اگر آپ ہر چار گھنٹے بعد کچھ کھا لیں تو بھوک لگے گی کہ نہیں؟ انیمل برین درمیان میں آئے گا کہ نہیں؟ اور اگر آپ روزانہ کسی وقت پر پہلے سے طے کر لیں کہ میں نے سونا ہے گیارہ بجے اور آپ اس کی تیاری کرتے ہیں اور موڈ بنا لیتے ہیں سونے کا، لائٹ آف کر لیتے ہیں اور کام وائنڈ اپ کر لیتے ہیں یا آپ کا سیل فون آپ کو ریمائنڈر دیتا ہے کہ اچھا وائنڈ اپ کرنا شروع کر دو۔ تو یہ پھر ہیومین برین کر رہا ہے کہ آپ وقت پر سوتے ہیں۔ آپ نیند آنے کا انتظار نہیں کرتے لیکن آپ نے دیکھا ہو گا کہ کئی لوگوں کو بے انتہا نیند آئی ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو جھٹکے دے دے کر جگا رہے ہوتے ہیں کہ نہیں میں نے سونا نہیں ہے اور کئی لوگ تو اس کے لیے ایسی دوائیاں استعمال کرتے ہیں کہ میں کھا کر پڑھ لوں یا ایسی سرگرمی میں چلے جانا جس سے کہ نیند کو دور بھگانا آسان جیسے کہ سگریٹ پی کر، چائے پی کر، کافی پی کر یا کسی اور طرح تو اس طرح ہم اپنے انیمل برین کو سپورٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے ہیومین برین کو اگر طاقتور بنانا ہے تو ہمیں اچھی عادتیں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جیسے کہ پانی کے بارے میں یہ طے کر لینا کہ فلاں فلاں وقت یا فلاں فلاں موقع پر جیسے جب بھی میں گاڑی میں جاؤں گا تو گاڑی میں پانی کی بوتل ہو گی تو میں جتنا بھی سفر کروں گا تو ایک بوتل پانی کی میں پیوں گا۔ جب میں جا کر اپنے گھر میں داخل ہوں گا تو اس وقت بھی میں نے پانی پینا ہے۔ جب میں نے واک کرنی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس وقت میرے ہاتھ میں نہ صرف پانی کی بوتل ہونی چاہیئے بلکہ اس میں تھوڑا بہت او۔آر۔ایس بھی شامل ہونا چاہیئے۔

ایک اور چیز ہے کہ اگر آپ حد کا تعین پہلے کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ تعین کر لیتے ہیں کہ آپ نے تین کلو میٹر چلنا ہے اور آپ پانچ کلو میٹر چلتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے کہ بری بات ہے؟ بری بات ہے کیونکہ آپ نے اپنے ہیومین برین کو مطمئن نہیں کیا ہے۔ یہ انیمل برین والی بات ہے کہ جو اوریجنل سوچ تھی کہ آپ نے سوچا تھا کہ پہاڑی کی چوٹی تک نہیں جانا اور آدھے راستے سے واپس آنا ہے اور پھر آپ چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں تو شاید آپ اپنے آپ کو بہت شاباش دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کوئی وجہ ہونی چاہیے اس بات کی کہ آپ نے سوچا تھا کہ آپ کو دو کلو میٹر چلنا تھا یا آپ نے پانچ کلو میٹر چلنا ہے یا آپ نے اتنے قدم چلنا ہے اور آپ اس سے زیادہ کام کر لیتے ہیں میں نے کہا کہ یہ غلط بات ہے۔ لیکن اگر آپ نے سوچا ہے کہ رات کا کھانا ساڑھے آٹھ بجے کھاؤں گا اور پھر ساڑھے نو بجے کھاتے ہیں تو پھر اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے ہیومین برین کو للکار رہے ہیں۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ لاک کو بند کر کے تو چلے جانا چاہیئے اور پھر آپ اسے کھینچ کر دیکھتے ہیں اور پھر آپ جا کر واپس آ کر پھر دو دفعہ کھینچ کر دیکھتے ہیں اور پھر کھول کر ایک دفعہ پھر بند کر کے دیکھتے ہیں اور اس پر دو دفعہ کلک کلک کا بندوبست ہے۔ جب بھی آپ اپنے ہیومین برین سے آگے چلنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ O.C.D ہے۔ یہ O.C.D ہے کہ جب آپ ایک چیز کو حد سے زیادہ کرنے لگتے ہیں تو یہ O.C.D ہے اور اس میں کئی دفعہ ہم اس وجہ سے آ جاتے ہیں کہ اچھا آج کا دن۔ آج کا دن میں ایسا کر لیتا ہوں ذرا آسانی ہو جائے گی، یا آج کا دن موسم اچھا ہے یا آج کا دن میں نے دو پراٹھے کھائے ہیں تو میں زیادہ چل لوں۔ لیکن بات یہ ہے کہ مستقبل کا تعین آپ نے کیا کیا ہے؟ کہ آخر کار آپ نے ہیومین برین کو مضبوط کرنا ہے یا آپ نے انیمل برین کے ہاتھوں میں کھیلتے رہنا ہے۔ کیونکہ ہمارا انیمل برین طاقتور ہے، کافی بڑا ہے اور وہ ہارمونز اور نیورو ٹرانسمٹرز سے لیس ہے اور ہمارا ہیومین برین سیانا ہے لیکن ذرا نازک ہے، اتنا مضبوط نہیں ہے۔ اب مجھے بتائیے کہ وزیر اعظم طاقتور ہوتا ہے کہ آرمی چیف؟ یہ ارتقا ء کی بات ہے۔ سو ہمارا بھی جو انیمل ہے وہ طاقتور ہوتا ہے۔ وہ رہے طاقتور۔ ہمیں طاقتور انیمل برین ہی چاہیئے۔ لیکن ہمارا جو سیانا دماغ ہے اس کو بہت زیادہ لیس ہونا چاہیئے کہ وہ اسے قابو میں رکھے۔ سیانے دماغ کو تگڑا بنانے کے لیے، سپورٹ دے کر اٹھا کر رکھنے کے لیے ہم اچھی اچھی عادتیں اپنا سکتے ہیں ۔خود رو عادتیں جو ہوتی ہیں وہ انیمل برین کو سپورٹ کرتی ہیں اور جو عادتیں ہم اپناتے ہیں جیسے ایکسرسائز، پانی پینا، شاپنگ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھنا کیونکہ آپ گھر سے ایک چیز لینے جاتے ہیں تو وہاں جا کر انیمل برین کہتا ہے وہ دیکھو چیز، وہ فلاں چیز کے ساتھ ایک چیز فری مل رہی ہے، یا فلاں چیز بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔ آپ نے نہیں کھانی تو آپ کہتے ہیں کہ اتنی خوبصورت چیز بیکری کی چھوڑ کے جائیں، چکوریاں کتنی خوبصورت ہوتی ہیں چلو کوئی اور کھا لے گا اور بعض اوقات گھر میں لوگ ملازموں کو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ تم کھا لو اور ملازم کہتا ہے کہ ہمیں بھوک ہی نہیں ہے۔

ایسے موقعوں پر ان کی بھوک ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ہم لوگ اگر چاہیں تو اپنی عادتوں کو نشوونما دے سکتے ہیں اور جو ہم عادتوں کو نشوونما دیتے ہیں تو اس سے ہمارے ہیومین برین کو سیدھا سپورٹ ملتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ کو سگریٹ نوشی چھوڑنی ہے تو اتنا زور سگریٹ نوشی چھوڑنے پر نہ لگائیں جتنا کہ اچھی عادتیں پیدا کرنے پر لگائیں۔ اگر کسی نے الکوحل چھوڑنی ہے یا کسی نے زیادہ کھانے کی عادت چھوڑنی ہے یا فضول خرچی چھوڑنی ہے تو براہ راست اس کے اوپر زور نہ لگائیں کہ میں یہ نہیں کروں گا۔ میں یہ نہیں کروں گا۔ میں یہ نہیں کروں گا۔ اس سے خواہ مخواہ کا حرج ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ اسی دوران کچھ نہ کچھ ہر ہفتے ایک اچھی عادت آپ اپنا لیتے ہیں تو اس سے بہت فائدہ ہو گا اور جو ڈسپلن ہونا ہوتا ہے یہ مصیبت نہیں ہوتی۔ وہ لوگ جو خود ڈسپلنڈ نہیں ہوتے وہ سمجھتے ہیں کہ ڈسپلنڈ لوگوں کوئی بہت مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہ کسی کی غلامی میں ہیں۔ لیکن یہ کسی قدرتی چشمے کی طرح بہنے کی طرح کی بات ہے۔ قدرتی چشمے کی طرح بہنے والی بات ہے جب آپ ڈسپلنڈ ہوتے ہیں اور ہر چیز کا تھوڑی دیر پہلے فیصلہ کر لیا کریں۔ یعنی اگر آپ نے کھانا کھانا ہے تو اگر آپ بہت بھی ڈس آرگنائزڈ ہو جائیں تو آپ پانچ منٹ پہلے تو فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اچانک کھانے نہ بیٹھ جائیں۔ آپ کہیں کہ میں پانچ منٹ بعد کھاؤں گا اور پھر پانچ منٹ بعد کھا لیں کیونکہ پانچ منٹ کے دوران کوئی ایسا سنگین واقعہ ہونے والا نہیں ہے کہ آپ پانچ منٹ کے بعد کھانا نہ کھا سکیں۔ پھر آپ دس منٹ پہلے کا سوچنے شروع کر دیں۔ سو وقت سے قبل پھر جتنا سوچیں مختصر اتنا کریں۔

لیکن زیادہ تر آپ دیکھیں کسی کا کوئی کھانے کا وقت نہیں، کوئی پینے کا وقت نہیں، کوئی سونے کا وقت نہیں اور رات کے دو بجے لاہور کی سڑکوں پر ہوم ڈیلیوریز کا دور دورہ ہو رہا ہوتا ہے۔ پھر ون پلس ون فری۔ اس طرح کی بہت ساری چیزیں چل رہی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر آپ فیصلہ کر لیں کہ آپ نے فلاں وقت سونا ہے چاہے وہ رات چار بجے کا ہو تو پھر بھی اچھا ہے۔ لیکن کبھی تین بجے سونا، کبھی پانچ بجے سونا، کبھی دو بجے سونے سے بہتر ہے کہ آپ فیصلہ کر لیں کہ آپ نے اتنے بجے سونا ہے یا کم از کم آج اتنے بجے سونا ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کر لیں کہ اتنے بجے اٹھنا ہے اور پھر یہ بھی فیصلہ کر لیں کھانے سے پہلے کہ آپ نے اتنا کھانا ہے اور آپ جو بھی فیصلہ کریں آپ اس پر ٹکے رہیں۔ جونہی آپ اپنے فیصلوں کے ساتھ مخلص ہو جائیں گے اور ان پر عمل کرنا شروع ہو جائیں گے تو آپ کا جو ہیومین برین ہے وہ مضبوط ہونا شروع ہو جائے گا۔ کسی ایک ایڈکشن کو براہ راست فائیٹ کرنا کیوں بار بار ناکامی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے کہ آپ ان آئسولیشن ایسا نہیں کر سکتے کہ زندگی کے بہت سارے ڈیپارٹمنٹ میں آپ گڑ بڑ کر رہے ہوں تو کسی ایک ڈیپارٹمنٹ کو آپ اچھا بنانا چاہ رہے ہوں۔ وقتی طور پر ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ دن میں دس غلط کام اور ایک اچھا کام کر لیں لیکن آگے چل کر وہ ایک اچھا کام بھی نہیں ہونے والا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ آگے چل کر آپ دس اچھے کام کرنا شروع کر دیں کیونکہ یا تو آپ آگے بڑھیں گے یا پیچھے ہٹیں گے۔ اگر ہم اس چیز کو سمجھ لیں جو کہ ہمارے اندر ایک آواز آتی رہتی ہے۔

کیسے آپ سمجھیں گے کہ کوئی آواز اندر سے آئی ہے۔ ابھار آیا ہے اور آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ جو ابھار آیا ہے یہ جو نادر خیال آیا ہے یہ کہاں سے آیا ہے؟ کیا آپ نے تسلیم کیا؟ یہ انیمل برین سے آیا ہے یا یہ ہیومین برین آیا ہے؟ آیا یہ خیال ہے، یا یہ پنگا ہے۔ دیکھیں آپ کے اندر بریکنگ نیوز بڑی آتی ہیں۔ یہ کر لو، وہ کر لو۔ ادھر چلے جائیں، ادھر چلے جائیں۔ گھر سے آپ کھانا کھانے نکلے ہیں۔ ریسٹورنٹ سے باہر آئے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ آئس کریم کھاتے ہیں فلاں جگہ سے۔ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو آئس کریم کھانے کے بعد کہتے ہیں کہ اب کافی ہونی چاہیئے۔ تو اس طریقے سے جب آگے سے آگے مزہ بہت مزہ بہت مزہ۔ تو یہ انیمل برین ہے۔ کیونکہ نوجوانوں کا جو ہیومین برین ہے وہ پچیس سال کی عمر میں آ کر نشوونما پاتا ہے۔ جبکہ ان کا جو انیمل برین ہے وہ بارہ تیرہ سال کی عمر میں مکمل نشوونما ہو جاتی ہے اور زیادہ ترانسانوں کی مرضی خود ان پر نہیں چلتی لیکن ایسے لوگ دوسروں کو بڑے مزے سے اپنی مرضی پر چلاتے ہیں جن کی مرضی اپنے آپ پر نہیں چلتی وہ دوسروں کو بڑا فرسٹ کلاس چلاتے ہیں۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ جن کی مرضی خود پر نہیں چلتی وہ دوسروں پر اپنی مرضی بہت اچھی چلا لیتے ہیں۔ یہ ایک نشانی ہوتی ہے نشئی روئیے کی کہ اپنے پر مرضی چلتی نہیں دوسروں پر مرضی بہت چلتی ہے۔ اگر آپ اپنے برین کو ٹیون کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی ہیومین برین کو ٹیون کرنا چاہتے ہیں تو آپ پلان کریں، ڈیزائن کریں، عمل کریں اور انعام و اکرام کریں تو آپ کا ہیومین برین ہے تو وہ جس چیز کو جتنا استعمال کریں گے وہ اتنا ہی آپ کے قابو میں آنا شروع ہو جاتا ہے اور اگر استعمال نہیں کریں گے تو disuse atrophy ہو جائے گی۔ انسان کے جذبات ہارمونز کے بھی تابع ہوتے ہیں، نیوروٹرانسمٹرز کے بھی تابع ہوتے ہیں، وہ ہمارے سافٹ وئیر کے بھی تابع ہوتے ہیں۔ ہماری لرننگ کے بھی تابع ہوتے ہیں۔ ہمیں کیا سکھایا گیا، کیا پڑھایا گیا، کیا بتایا گیا۔ فلاسفی، یقین اور وہ ہماری five senses کے بھی تابع ہوتے ہیں اور اس طریقے سے انسان ایک بڑی زبردست تخلیق ہے۔