محسن نواز: ایف ایم 103 کے لاہور سٹوڈیو سے محسن نواز اور میڈم وصال آپ کے ساتھ ہیں اور آج ہم آپ کی اس ہر دل عزیز شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل کریں گے جن کے بارے میں صرف اتنا ہی کہہ پاؤں گا کہ انہیں میں اپنے استاد کا درجہ دیتا ہوں، جن کی شفقت اور محبت کا دریا ہر وقت میرے لئے تازگی اور شادابی کی نوید لئے بہتا ہے، اکثر اوقات اس محسن کی گفتگو میں اُس محسن انسانیت کا ذکر ہوتا رہتا ہے۔ میں ذکر کر رہا ہوں جناب ڈاکٹر صداقت علی جو کہ آج ہمارے درمیان موجود ہیں۔

محسن نواز: اسلام وعلیکم ڈاکٹر صاحب!

ڈاکٹرصداقت علی: وعلیکم اسلام! آپ نے تو ٹھنڈی صبح کو گرما دیا۔

محسن نواز: ہاہاہا اچھا جی! آپ خیریت سے ہیں؟

ڈاکٹرصداقت علی: الحمدواللہ۔ بالکل خیریت سے ہوں !

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب یہ فرما یے کہ بہت دفعہ ایسا ہو تا ہے کہ ہم لوگ مختلف قسم کے وہموں میں بلاوجہ مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ آپ سے ماہرانہ رائے لی جائے اور پوچھا جائے کہ کیا وہم کا کوئی علاج دریافت ہوا ہے؟ جیسے کئی لوگوں کو یہ وہم لاحق ہو گیا ہے کہ اگلا ہونے والا دھماکہ کہیں میرے کالج یا یونیورسٹی میں تو نہیں ہو گا؟ یہ جو میری کرسی ابھی ہلی ہے کہیں یہ زلزلہ کا پیش خیمہ تو نہیں؟ اسے ہی اور کئی بلاوجہ کے وہم دل میں خوف پیدا کر دیتے ہیں جیسے کہ جس جہاز میں میں محو سفر ہوں یا یہ خیریت سے اتر پائے گا یا کہ نہیں؟

ڈاکٹرصداقت علی: دراصل! وہم تو ازل سے انسان کے ساتھ چلا آ رہا ہے اور عرصہ دراز سے یہ کہا اور سنا جاتا رہا ہے کہ اس کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی موجود نہیں تھا۔ مگر آج کے نیم حکیموں کے پاس تو ہراس مرض کا علاج بھی موجود ہے جسمیں جدید میڈیکل سائنس بھی ارتقاع کے مراحل میں ہے۔ لیکن میں آپ کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ وہم کا علاج دریافت ہو چکا ہے۔ آپ اگر چاہیں تو یقیناً وہم سے بچ سکتے ہیں۔

آپ اگر چاہیں تو وہموں اور وسوسوں کو ہمیشہ کیلئے ختم بھی کر سکتے ہیں اور اس کیلئے ادویات کا سہارا بھی لے سکتے ہیں جو مکمل تو نہیں تاہم وقتی طور پر مددگار ضرور ثابت ہوتی ہیں لیکن اصل طریقہ کار یہ ہے وہم کو بطور وہم ہی پہچانا چاہئے یعنی اگر اس کی شناخت بطور وہم کر لیں تو اس کی اصل طاقت کھو جائے گی، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ ہمیں کہانی سننے کے دوران معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ صرف قصہ گوئی ہے اس میں کوئی صداقت نہیں۔ وہم پر قابو پانے کیلئے ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہے کہ وہموں کو کبھی خوش امید اور ان کی آؤ بھگت نہیں کرنی چاہیے۔ وہمی اکثر اپنے ذہن میں ایک مقدمہ دائر کر لیتے ہیں، جس میں وہ خود ہی مدعی، خود ہی مدعلیہ کے وکیل اور خود ہی جج کی نشست سنبھال لیتے ہیں!ایسی خود ساختہ عدالت جو ذہن میں لگا لیتے ہیں اس میں پہلے ایک وہم آتا ہے، اسے بسم اللہ کہا جاتا ہے!پھر دوسرے کی دلیلوں کو اہمیت دی جاتی ہے اور وہ وہم کو ختم کرنے کیلئے آتا ہے۔ پھر پہلا وہم مزید دلیلوں کے ساتھی پیش ہوتا ہے یوں یہ سلسلہ ذہن میں چلتا رہتا ہے۔ ہم بہانے بہانے سے اس وہم کو اپنے اوپر طاری کئے رکھتے ہیں اور ہو نہ ہو بار بار نہ چاہتے ہوئے بھی اسے خوش آمدید کہہ بیٹھتے ہیں۔ میرے مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ اکثر وہمی دوسروں پر انحصار اور توقع کرتے ہیں کہ کوئی انہیں ایسی حالت میں تسلی دے یا کچھ ایسا کہے کہ سوچوں میں خلل پیدا ہو جائے۔

وصال: جیسے میں فلاں کام کرنے لگوں تو تم نے میرا ساتھ دینا ہے کہ کہیں میں ڈر نہ جاؤں۔

ڈاکٹر صداقت علی: ہاں! ساتھ دینے میں تو کوئی حرج نہیں، اس میں تو فائدہ ہی ہے جیسے پہلے پہل آپ اکیلے سفر سے گھبرائیں تو کسی کو ساتھ لے لیں اور بعد میں جب چاہیں تو اکیلے سفر شروع کر دیں۔ وہموں کا سادہ سا حل یہی ہے کہ جس چیز سے آپ کو ڈر لگتا ہے وہی چیز آپ بڑھ کریں، اگرچہ یہ کام مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ جس چیز سے آپ کو ڈر لگے وہ دوسروں کو ضرور کرتا دیکھیں، آپ کو یہ مشاہدہ حوصلہ دے گا اور آپ خیال کریں گے کہ میں تو اس سے کہیں بہتر کرنے کی پوزیشن میں ہوں اور آپ کا ایسا سوچنا یقیناً مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے! موجودہ ترقی یافتہ سائنس کہتی ہے کہ علاج وہم کیلئے کچھ خاص کرنے کی ضرورت نہیں بس اسے ’’لارالپا‘‘ لگائے رکھیں یعنی اس کی آمد پر اسے طفل تسلیاں دیتے رہیں اسے بس بہانے بہانے سے ٹالتے رہیں۔

اصل مقصد وہم کو ٹالنا مقصود ہے کیونکہ جب اسے خیر نہیں ملے گی وہ وہاں کیونکر بن بلائے مہمان کی طرح وارد ہوگا ۔

وصال: ڈاکٹر صاحب آج کل ڈاکٹروں کے پاس تو نہیں بلکہ عامل بابوں کے پاس وہم کا علاج موجود ہے۔

ڈاکٹرصداقت علی: عامل بابے تعویز، وظیفوں یا صدقہ سے اس کا علاج بتاتے اور کہتے ہیں کہ فلاں دعا یا لفظ کا اتنی تعداد میں ورد کروں، وہم ہمیشہ کیلئے جاتا رہے گا، مگر یہ تو وہم کو مزید لطف اندوز کرنے کے بہانے ہیں۔

وہم در حقیقت خود کار منفی خیالات ہوتے ہیں انہیں ہم ’’چیونٹیاں‘‘ کہتے ہیں یہ چیونٹیاں جب ایک جانب رواں دواں ہو جاتی ہیں تو وہ راستہ بدل بدل وہاں چلی آتی ہیں، چونٹیوں کی طرح وہم کا بھی قلع قمع کیا جا سکتا ہے اسے یہ کہہ کر تم ثابت کرو آیا کہ تم بہروپے ہو یاکہ حقیقت ؟ اسے دما غ میں چیلنج کریں کیونکہ دماغ چیلنج کو قبول کرتا ہے۔ کیونکہ جب ہم کسی چیز سے منع کرتے ہیں تو دماغ کے اوپر زیادہ اثر نہیں ہوتا مثلا کسی کواگر کہیں کہ تم نیلے رنگ کے بارے میں نہ سوچو تو وہ نیلے رنگ کے بارے میں ہی سوچے گا اسی طرح کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تم سرخ رنگ کے بارے میں سوچو تو وہ نیلے رنگ کے بارے میں نہیں سوچ سکتا۔ وہم انسان کی بہت بڑی تکلیف ہے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غور و فکر جبکہ بڑی باتوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں یہ ان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کا موجب بنتا ہے، اس کی مہمان نوازی مت کریں۔ خوابوں سے وہم کی کوئی حقیقت نہیں۔ سائنس نے اسے بہت اچھی طرح سے ثابت کر دیا ہے۔ یہ سب وہم ماضی بعید کی قباحتیں ہیں جو دور حاضر میں بھی چلی آ رہی ہیں اور انسان کواس نے مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

وصال: ڈاکٹر صاحب جیسے کچھ لوگ ستاروں کا حال پڑھ لیتے ہیں اور پھر پورا ہفتہ وہم میں مبتلا رہتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: ستاروں کا کام صرف چمکنا ہے اگروہ جہالت کے اندھیرے پیدا کرتے ہیں تو پھر ان سے بری توقعات رکھنا کسی صورت بھی مناسب نہیں اسی طرح آج کل الیکٹرانک میڈیا اپنا دھندا چلانے کیلئے لوگوں کو نت نئے وہموں میں مبتلا کئے رکھتا ہے کہ آپ یہ دعااتنی تعداد میں دہرائیں ۔۔۔ اللہ تو ایک بار دل سے نکلی ہوئی دعا کو سن لیتا ہے تو پھر کسی خاص تعداد میں باربار دہرانے کی کیا ضرورت ہے؟

وصال : ڈاکٹر صاحب اس کا مطلب یہ ہے کہ محسن صاحب کے ستارے گردش میں ہیں لہذا ہم انہیں آج حلوہ پوری کھلائیں یا نہ کھلائیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: ہاہاہا! محسن صاحب کے ستارے اگر حلوہ پوری کی ضد کر رہے ہیں تو پہلے ان کا کولیسٹرول چیک کروائیں۔

محسن نواز: ہاہاہا!بالکل صحیح! ڈاکٹر صاحب وصال صاحبہ نے ایسے ہی شوشا چھوڑا ہے میرا آج ایسا کوئی دل نہیں چاہ رہا۔

ڈاکٹر صداقت علی: ویسے کبھی کبھی حلوہ پوری کھا لینی چاہیے اس میں ایسا کوئی ہرج نہیں!

وصال: ڈاکٹر صاحب میں توانہیں مائل کر رہی ہوں کہ میں نہیں بلکہ آج آپ کے ستارے ایسا کہہ رہے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اسے تھوڑی مقدار میں کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔

وصال: ڈاکٹر صاحب بس ایک نوالہ یہ تناول فرما لیں، باقی میں کھا لو گی میرے تو ستارے مجھے کچھ نہیں کہہ رہے۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب یہ وصال صاحبہ کے ستارے انہیں یوں کہہ رہے ہیں۔ بہت بہت شکریہ….. میں اتنی خوبصورت گفتگو پرآپ کو داد دینا چاہوں گا کہ آپ اتنی خوبصورت مثالوں سے نظریہ پیش کرتے ہیں جیسے وہم کو مہمان اور مہمان نوازی سے تشبیہ دینا آپ کےایسےالفاظ کااستعمال یقیناً لاجواب ہے ۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ تو آپکا حسن نظر ہے ویسے آپ خود لفظوں کے بادشاہ ہیں اور آپ کی اردو تو ماشااللہ سے اردو معلی ہے میں تو خود آپکا مدعا ہوں!

محسن نواز: اللہ آپکو خوش رکھے اور آپ کی شرکت سے ہمیشہ ہی میں اور میرے سننے والے بہت کچھ سیکھتے رہیں ہیں یہ آج اسی سلسلہ گفتگو کی ایک کڑی تھی۔
آپ کا بہت بہت شکریہ!