آج 31 مئی دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے حوالے سے انسداد تمباکو نوشی دن منایا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے تمباکو نوشی کے نقصانات اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال کا سامنا لوگوں کو کس صورت میں کرنا پڑتا ہے اور کسی طرح کے اقدامات کرنے چاہیئے۔ چوہدری عبدالرحمان کی آج کے دن کے حوالے سے خصوصی رپورٹ دیکھتے ہیں۔

چوہدری عبدالرحمان: 31 مئی کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تحت پاکستان سمیت دنیا بھر میں No Tobacco Day منایا جاتا ہے۔ یہ دن تمباکو کے نقصانات کی آگاہی کے لیے منایا جاتا ہے اور 1987ء سے منایا جا رہا ہے۔ تمباکو کے استعمال سے ہارٹ اٹیک، ہائپرٹینشن، اسٹروک اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دنیا میں ہر سال 60 لاکھ لوگ تمباکو کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں ان کی تعداد ایک لاکھ ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ہر سال 31 مئی کو سگریٹ نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس میں خالی سگریٹ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ تمباکو کے خلاف ہے۔ یہ چیونگ تمباکو کے بھی خلاف ہے۔ یہ تمباکو کی ہر قسم کے خلاف یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد آگاہی پھیلانا ہی ہوتا ہے۔

چوہدری عبدالرحمان: پاکستان میں 2015ء میں 260 ملین روپے تمباکو نوشی پر استعمال کیے گئے۔ جس سے ملک کی اکانومی پر بھی گہرے اثرات پڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں کالجز اور یونیورسٹیز میں سموکنگ کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ سٹوڈنٹس ایک دوسرے کو دیکھ کر سموکنگ شروع کرتے ہیں اور پھر یہ ان کی عادت بن جاتی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: بچپن میں تجسُس کی وجہ سے بہت سے لوگ سموکنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں کالجز اور یونیورسٹیز میں۔ جب وہ دوسرے سٹوڈنٹس کو سگریٹ پیتا دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کوئی بھی بندہ سگریٹ اس لیے نہیں پیتا کہ وہ بعد میں عادی سموکر ہو گا اور وہ کچھ امراض حاصل کرے گا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بری عادت ابھی ابھی کروں گا آگے چل کر نہیں کروں گا۔ لیکن بعد میں کوئی پتہ نہیں ہوتا کیونکہ انسانی دماغ بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ عادتیں سیکھ لیتا ہے۔

چوہدری عبدالرحمان: مغربی معاشرہ میں سموکرز کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ وہاں شراب خانوں میں بھی سگریٹ پینے پر پابندی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دنیا میں شراب خانوں میں بھی سگریٹ پینے کی پابندی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شراب کوئی زہریلا نشہ نہیں ہے یا وہ لوگوں کو نقصان دینے والا نہیں ہے وہ بھی بہت نقصان دینے والا نشہ ہے لیکن اگر شراب خانے میں بھی سگریٹ پینے پر پابندی ہے تو پھر آپ سگریٹ کے بارے میں تصور کر سکتے ہیں۔

چوہدری عبدالرحمان: لیکن یہ ایک ایسا مرض نہیں ہے کہ اس پر قابو نہ پایا جا سکے۔ کوشش کی جائے تو اس عادت کو چھوڑا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: سگریٹ نوشی چھوڑنا بہت سے دیگر نشوں کے چھوڑنے کی طرح ہی ہے بلکہ جو لوگ وزن کم کرنے کے لیے کھانا پینا کم کرتے ہیں تو یہ بھی اس لحاظ سے اسی طرح ملتا جلتا کام ہے تو جب سگریٹ چھوڑتے ہیں تو ظاہر ہے طلب ہوتی ہے۔ اس طلب کے لیے نکوٹین پیچ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نکوٹین ببل بھی ہوتی ہے۔ جس کے نقصانات سگریٹ کی نسبت کم ہوتے ہیں اور بہت سارے زہریلے مادے جو سگریٹ اور تمباکو کے ذریعے جسم کے اندر جاتے ہیں وہ نکوٹین پیچ یا نکوٹین کی چیونگم کے ذریعے جسم میں نہیں جاتے۔