چند عجیب و غریب رویے آپ ان کو کیا نام دینگے؟
بے وقوفیاں، ہونق پن، غیر حاضر دماغی، بدحواسیاں، مخبوط الحواسیاں، مجہول پن۔ آپ کو زیادہ قابل بھروسہ اور کم خوفناک بنا سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے اوپر آئس کریم گرا لیتے ہیں یا غلطی سے کافی انڈیل لیتے ہیں۔ اس طرح آپ عام انسانوں جیسے لگنے لگتے ہیں۔ غیر پسندیدہ ہونے کی بجائے آپ اپنے اپنے لگنے لگتے ہیں۔ ایسے اشخاص سے جذباتی ہم آہنگی اور ذہنی موافقت بنانا آسان لگنے لگتا ہے۔ دوستی کرنا آسان لگتا ہے۔

اِس کے علاوہ کچھ لوگ دوران گفتگو قسمیں بہت کھاتے ہیں۔ مثلاََ’’بھائی جان قسم ’اٹھوالیں‘‘۔ ’’رب دی قسمیں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری قسم ’ان لوگوں کی ہوتی ہے جو گفتگو کے دوران ہلکی پھلکی گالیوں کو اپنا تکیہ کلام بناتے ہیں اور مغلظات کا استعمال ’’پنکچوئیشن ‘‘ کی طرح کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کے اِن لوگوں کی تصیح کی جائے اور ’ان کے بے جا پھکڑ پن کی میخ کنی کی جائے مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ ایک خاص حلقے میں ’ان کے اِس رویے کو سراہا جاتا ہے۔ اسے عوامی رنگ سمجھا جاتا ہے۔ یہ قابل تقلید نہیں ہے مگر حیرت انگیز طور پر پسماندہ یا اندرونی حلقوں میں اس قسم کی گفتگو کے سٹائل کو عوام دوست سمجھا جاتا ہے۔