سحر: السلام علیکم! ایس۔بی۔این پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں ہوں سحر اور میرے ساتھ ہیں محسن نواز۔

محسن نواز: السلام علیکم! امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے خوش ہوں گے، خوش اور مطمئن ہوں گے اور اپنی اپنی زندگی میں خوب مزہ میں ہوں گے۔

سحر: بالکل آج کے شو سے آپ کی امیدیں بھی وابسطہ ہوں گی۔ تو محسن صاحب بتائیے آج ہم کیا کرنے والے ہیں؟ آج ہم کیا مختلف موضوع لے کر آئے ہیں؟

محسن نواز: آج ہم اس مسئلہ پر بات کرنے جا رہے ہیں جو کہ گھر گھر کا مسئلہ ہے یعنی کون ہے جس گھر میں دو زندگی کے ساتھی نہیں۔ لیکن اس کا انتخاب ہمارے ہاں زیادہ تر اتفاقا ہوتا ہے لیکن کیسے زیادہ اچھے طریقے سے لائف پارٹنر کو چنا جا سکتا ہے۔ کئی دفعہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ better half ،مڈل ہاف بن جاتا ہے اور زندگی دشواریوں کا شکار ہو جاتی ہے تو better half کو بہترین ہونا چاہے آج ہم اس بارے میں بات کریں گے ہمارے ساتھ اس شو پر ولنگ ویز کے سی۔ای۔او اور معروف ایڈکشن سائیکاٹرسٹ جو کہ سوچ اور موڈ کے ماہر ہیں تشریف رکھتے ہیں۔السلام علیکم ڈاکٹر صاحب!

سحر: ڈاکٹر صاحب کیا حال ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: واعلیکم السلام! الحمد اللہ میں ٹھیک ہوں۔

سحر: اچھا ڈاکٹر صاحب آج کا جو موضوع ہے وہ بہت دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ باعث تفریخ اور اس کے علاوہ معلوماتی بھی ہے اور معلوماتی ہونے کے علاوہ ضروری بھی بہت ہے۔ محسن صاحب آپ کیا کہتے ہیں ضروری ہے کہ نہیں؟

محسن نواز: ضروری تو ہے مجھے امید ہے کہ آج ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی ملے گی تو بہت سارے لوگ جو اپنے بچوں کے لئے رشتے دیکھ رہے ہیں، بہت سارے لوگ یونیورسٹی کالجز میں سوچ رہے ہیں لائف پارٹنر کا۔ اس بارے میں ان کو جواب ملے گا۔

سحر: ان تمام طالبات کے علاوہ تمام والدین جو پریشان رہتے ہیں کہ کیا کیا جائے کیا رشتے والی مائی کو بلایا جائے یا خود رشتہ ڈھونڈ لیا جائے تو یہ بہت سارے مسائل ہیں جن کا حل تلاش کرنے کے لئے آپکی مدد سے آج ہم نے یہ پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ تو پہلا سوال جو میرے ذہن میں آ رہا ہے وہ سب کے ذہن میں آتا ہے لیکن کچھ لوگ ہیں جو اس چیز کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ میں اس کو بہت اہمیت دے رہی ہوں کیونکہ یہ میرے لئے بہت ضروری ہے۔ محسن صاحب میری شادی نہیں ہوئی ابھی تک! تو ڈاکٹر صاحب سوال یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے شادی کی صحیح عمر کیا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: آپ نے پہلا ہی سوال بڑا دلچسپ کیا ہے کہ شادی کی صحیح عمر وہی ہے جس میں انسان شادی کرنے کے قابل ہو جاتا ہے یعنی اس میں صلاحیت ہو کہ وہ اس مشکل اور اہم رشتے میں جانے کے لئے مہارتیں رکھتا ہو، اور یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جس میں آپ لائف پارٹنر بننے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی، کمرہ، باتھ روم شئیر کرتے ہیں۔ آپ جہاں بھی جائیں گے اکٹھے جائیں اور اکیلے اکیلے زندگی نہیں گزاریں گے یا ہر وقت جڑواں نظر آئیں گے۔

سحر: اگر اکیلے نظر آ جائیں تو لوگ کہتے ہیں ہائیں۔۔۔۔۔۔! ایسا کیا ہو گیا کہ تم اکیلی آئی ہو، تمہارا شوہر کہاں ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے وہ ناراض ہو کر آ گئی ہے یا کوئی مسئلہ چل رہا ہے جو یہ اکیلی آئی ہے۔

محسن نواز: ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ جوڑے بنتے ہیں آسمانوں پہ لیکن سفر زمین پر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: آج کل کے حساب سے اگر ہم سبھی معاشرے کو دیکھیں تو لڑکے کی شادی عموما پچیس سے تیس کے درمیان مناسب سمجھی جاتی ہے۔ یہ میں عموما کلچرل بات کر رہا ہوں اور لڑکی کی شادی بیس سے پچیس کی عمر میں ہو جاتی ہے لیکن کچھ ایسے خاندان بھی ہیں جہاں 18,19 سال کی عمر میں لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے اور لڑکا بھی بیس، اکیس سال کا ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے خاندان تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے، کاروباری ہوتے ہیں، ان کے بچے ان کے ساتھ تھوڑی سی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں پھر اس کے بعد وہ ان کی دکان پر یا کاروبار میں چلے جاتے ہیں لیکن جو لوگ تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں تو تعلیم تو کسی کی بھی 25,26,27 سال کی عمر میں مکمل ہوتی ہے۔ بلکہ کچھ ایسے بھی شعبے ہیں جیسے کہ میڈیکل کا شعبہ، جس میں سپیشلسٹ بنتے بنتے 32,33 سال کی عمر ہو جاتی ہے۔ اس لئے شادی کا جو یہ تصور ہے جسے ہم فل ٹائم شادی کہتے ہیں اور ہمارے ملک میں یہی تصور پایا جاتا ہے جبکہ امریکہ اور دوسرے ممالک میں پہلے پارٹ ٹائم شادی ہوتی ہے، پھر نکاح ہوتا ہے وہ لوگ اکٹھے نہیں رہتے، یعنی ہمارے ہاں بھی نکاح ہوتا ہے تو دو، چار سال کے بعد رخصتی کرتے ہیں لیکن جب وہاں نکاح ہوتا ہے تو لڑکے دو، چار گھنٹے کے لئے ملتے ہیں، کبھی ہفتے میں چار دن، پانچ دن، اسطرح ملتے ملتے وہ اپنے کیرئیر کو بناتے بناتے کبھی چھٹیوں پر چلے جاتے ہیں پھر کبھی ایک ٹائم آتا ہے کہ وہ فل ٹائم شادی پر جاتے ہیں۔

محسن نواز: یعنی ایک چھت کے نیچے رہنا ضروری ہے،

ڈاکٹر صداقت علی: ایک چھت کے نیچے رہنا ضروری نہیں اور ان تمام تصورات کو ہم پاکستان میں بھی بہت اچھے طریقے سے آزما سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں اور وہ ایک دوسرے سے ملتے ملاتے ہیں، آج کل تو منگنی کے بعد بھی لوگ کافی موقع نکال لیتے ہیں، ایس۔ایم۔ایس، فون اور سکائپ پر بات کر لیتے ہیں تو اب تو پابندیاں بہت مشکل ہو گئی ہیں لیکن اگر ہم اس چیز کو منظم کر لیں، ڈھانچہ بنا لیں کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں، ان کا نکاح ہو جائے اور ایک دوسرے کے ساتھ پارٹ ٹائم شادی پر جانے کا موقع ملنا چاہئے اور ایک دوسرے کے ساتھ کبھی وقت گزارنا چاہیں تو وہ چھٹیوں پر جا سکتے ہیں اور چند گھنٹے اکٹھے رہ سکتے ہیں یعنی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لیں کیونکہ شادی میں جو ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے یہ بہت سیکھنے کا کام ہے اس کی تربیت شادی سے پہلے بھی ہونی چاہئے لہذٰا شادی کا جو یہ تصور ہے۔ اگر آپ ترقی یافتہ ملکوں میں دیکھں تو وہاں ذرا بڑی عمر میں شادی ہوتی ہے، اگر آپ دیہاتوں اور ترقی پزیر ممالک میں دیکھیں تو وہاں بہت چھوٹی سی عمر میں شادی ہو جاتی ہے 12,13,15 سال کی عمر تک۔ بہت سے دیہاتوں میں ایسے قبائل ہیں جہاں 15,16 سال کے لڑکے کی شادی کر دی جاتی ہے اور تعلیم کا وہاں کوئی رجحان نہیں ہوتا اور وہ کھیتوں میں کام کرتا ہے۔ بیوی آتی ہے تو وہ بول نہیں پاتی بلکہ کام کرتی ہے۔ اس طرح کا سلسلہ چلتا ہے یہ بھی ان لوگوں کے ثقافتی طور طریقے ہیں، لیکن ہم جب یہ پروگرام کرتے ہیں تو ان کو عموما شہروں میں رہنے والے پڑھے لکھے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بات چیت کرتے ہیں۔ لوگ ترقی یافتہ اور روشن خیال زندگی گزارنا چاہتے ہیں ان کے لئے شادی کی چوائسز کیا ہیں اور وہ کیسے ایسے انتحاب پر پہنچیں کہ انہیں پچھتاوا نہ ہو۔ آج کل آپ نے دیکھا ہو گا کہ جنوری میں شادی ہوتی ہے تو مارچ میں پچھتاوے شروع ہو جاتے ہیں تو پھر رولا ہنگامہ شروع ہو جاتا ہے۔

محسن نواز: تو ڈاکٹر صاحب یہ بتائیے گا کہ آپ نے کہا کہ یہ چیز سیکھی جا سکتی ہے تو کیسے اندازہ ہو کہ کن کن خاصیتوں کی بنا پر لائف پارٹنر کو پرکھا جائے اور مطابقت کو کیسے جانچا جائے؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلے تو ہمیں اس ٹریک سے نکلنا پڑے گا کہ نیلی آنکھیں یا گورا رنگ ہو، نین نقش ایسے ہوں۔ اگر یہ سب ہو تو کوئی حرج نہیں، پہلا درجہ یہ نہیں۔ بلکہ یہ ایسا حسن ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ نہیں رہنے والا، تو اصل وہ خوبیاں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ پائیداری کے ساتھ چلیں۔ حسن کی خوبیاں دیکھنے کی بجائے ایسی خوبیاں دیکھنا، جیسے کہ ہنس مکھ ہونا، حس مزاح ہونا۔ یہی چیزیں دیکھنے کی ہیں جو آپ اپنے لائف پارٹنر میں دیکھیں۔ جو ملازمین ہیں، جو چھوٹا طبقہ ہے اس کے ساتھ رحم دل ہو، اپنے گھر کی ملازمہ یا ڈرائیورکے ساتھ یا گارڈ کے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھتا اور وہ موقع ملتے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی اپنے لائف پارٹنر کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں تو یہ ایک امتحان ہے کہ جب مل ملاپ ہو رہا ہوتا ہے تو ہر کوئی بہت اعلی اخلاق کا مالک نظر آتا ہے لیکن اگر ہم پس پردہ دیکھیں تو کہیں نہ کہیں تو موقع مل جاتا ہے جیسے کہ اپنے سے نچلے طبقے میں گھریلو ملازمین ہیں ان کو ڈانٹ ڈبٹ کرنے سے ہمیں کوئی خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا، جن سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ تو ایسے موقعوں پر ہی ہمارا اصل اخلاق سامنے آتا ہے تو اصل اخلاق دیکھ لینا چاہئے اس بندے کا جس کے ساتھ آپ نے زندگی گزارنی ہے۔

محسن نواز: بہت مشکل کام ہے کہ قریب سے مشاہدہ کیا جائے کہ کسی کا اپنے ملازمین کے ساتھ برتاؤ کیسا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: کوئی مشکل نہیں ہے! میں آپ کو بتاؤں کہ جب ہم رشتہ ناطہ بنانے کے لئے ملتے ہیں تو ہمارا ملازمین سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔ اور ملازمین آپ کو کسی نہ کسی طریقے سے اشارے دے رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی کے گھر پہلے ہی بہو یا داماد ہے تو اسی سے بات چیت کر کے دیکھیں تو یہ نہیں کہ وہ فورا پھٹ پڑیں گے لیکن ان کی بات چیت سے آپ کو فورا پتہ چل جائے گاکہ آپ کس فیملی کے رکن بننے والے ہیں۔اس فیملی کے اندرونی تعلقات کے ناطے سے کہ کس مزاج کے حامل ہیں۔

سحر: اچھا اس دلچسپ گفتگو کے ساتھ ساتھ میرے پاس ایک دلچسپ کلپ بھی ہے۔ جس میں ایک باپ اپنے بیٹے سے اسکی شادی کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے جیسے کہ خصوصیات پر گفتگو ہوئی ہے ویسی ہی کچھ خصوصیات کی حامل یہ ویڈیو ہے۔ تو دیکھتے ہیں یہ ویڈیو کلپ اور واپس آ کر ڈاکٹر صاحب کی رائے جانتے ہیں۔

(ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد ڈاکٹر صداقت علی کا تبصرہ)

ڈاکٹر صداقت علی: جب والدین اس چیز پر تلے ہوئے ہوں تو پھر وہ کہتے ہیں کہ تم فکر نہ کرو بیوی آئے گی تو تمہاری قسمت بدل جائے گی وہ تمہیں سپورٹ کرے گی۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ بیوی آئے گی تو نئے جھگڑے ہوں گے۔ ساس بہو کا جھگڑا بھی بیٹے کو نپٹانا ہو گا اور بیٹے کو اس کے ساتھ دیگر ذمہ داریاں بھی پوری کرنی ہوں گی بیٹے کو شادی کے لئے منانے کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔

سحر: ایک اور چیز جو ہم نے اس ویڈیو کلپ میں دیکھی وہ عادات کے بارے میں تھی کہ کوئی بات نہیں تم جتنے موڈ سکوڈ ہو تمہاری بیوی جتنی سادہ ہو، شریف ہو اتنا بہتر ہے تو یہ جو مختلف عادات ہیں تو کیا اس طرح سے لائف پارٹنرز چل سکتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ بہت خطرناک ہے، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خود تو بڑے ماڈرن ہوں، لیکن ان کی بیوی بہت سادہ ہو گھر میں رہنے والی اور شریف۔ اب بات یہ ہے کہ اگر میاں بیوی کی عادات نہ ملتی ہوں تو اس سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ حتٰی کہ چھوٹی چھوٹی عادتیں جیسے کہ بیوی زور زور سے برش کرتی ہے۔ میاں جو ہے وہ آہستہ آہستہ سے صحیح طریقے سے برش کرتا ہے تو اس سے بھی ٹینشن پیدا ہوتی ہے یا فرض کریں کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک کو ناخن کاٹنے کی عادت ہو یا اپنی انگلی کو ایسے کھجلاتے رہنا، تو اس طرح کی یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں وہ بھی شادی کو بہت بد مزہ بنا دیتی ہیں تو جو لائف پارٹنر ہم چن رہے ہیں اس کی اور ہماری عادات ملتی جلتی ہونی چاہئیں۔ عادات میں behavioral habitsبھی ہیں سبسٹنس ابیوز بھی بیچ میں ہی آتا ہے اگر ہمیں سگریٹ پینے والا پسند نہیں تو لائف پارٹنر چنتے ہوئے اس پہلو کو بہت اہمیت دینی ہو گی پھر ایسی عادتیں جس میں جوا شامل ہے، تو بعد میں وہ جھوٹ بولنے کی عادت مسئلہ خراب کر دیتی ہے۔ بعض لوگوں کو ذہن میں بار بار کچھ سوچنے کی عادت ہوتی ہے کچھ نہ کچھ پڑھنے اور پڑھانے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ دل ہی دل میں سوچ وبچار کر رہے ہوتے ہیں اپنی ہی عدالت لگائے ہوتے ہیں جس سے دوسرے کے لئے چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے اسے OCD کہتے ہیں یا کسی صفائی کا حفت ہو، مثال کے طور پر ایک بیوی کو صفائی کا حفت ہے اور وہ میاں کو بالکل کھینچ کے رکھتی ہے کہ گھر کے اس حصے میں میں نے صفائی کر دی ہے اور تم نے یہاں نہیں چلنا اور یہ کیا پاؤں کا نشان لگا دیا تم نے، یہ کیا کر دیا؟

محسن نواز: ڈاکٹر صداقت ایک خاتون مجھے بتا رہی تھیں کہ ان کے میاں کے ساتھ ان کا جو اختلاف ہے، بات طلاق تک جا پہنچی ہے، وہ اس وجہ سے کہ وہ صبح صبح جس ٹائم پر ویکیوم کلینر چلاتی ہیں اس کی وجہ سے میاں اور بیوی کا جھگڑا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ایسی بہت سی چیزیں اور بھی ہیں جیسے کہ میاں کو کسی اور طرح کا چینل پسند ہے اور بیوی کو کوئی اور چینل پسند ہے۔

سحر: ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ کیا چینل کا ایک ہی ہونا ضروری ہے، مطلب کہ مجھے ایک ٹاک شو پسند ہے اور میاں کو وہ پسند نہیں تو کیا ہم دونوں کے لئے ایک ہی چینل دیکھنا ضروری ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دونوں اپنی مرضی کا چینل دیکھ سکتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر آپ کے چوائس ہے یعنی جتنی عادتیں ملتی جلتی ہوں یعنی کہ دونوں کو اگر فٹبال میچ دیکھنا پسند ہے تو اس سے اچھی بات تو پھر نہیں لیکن اگر ایک کو تھوڑی مختلف چیزیں پسند ہیں تو دوسرے کو پھر سمجھوتہ کرنا ہے اور کتنا سمجھوتہ کرنا ہے عادتوں میں جو ہمارا ایمان بھی ہوتا ہے یہ بھی ایک عادت ہوتی ہے۔ ہمارا جو فرقہ ہوتا ہے، جو عادات ہوتی ہیں وہ ہمارے ذہن میں کھدی ہوئی، دفن ہوئی ہوئی عادات ہوتی ہیں اور شروع شروع میں تو ہم کہتے ہیں کہ چلیں کوئی بات نہیں ہمارے فرقے، ذات برادری یا ثقافت میں فرق ہے تو اس مسئلہ کو حل کر لیں گے، کھلا ذہن رکھتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی سچ مچ سیکولر ہے، روشن دل و دماغ رکھتا ہے تو کوئی حرج نہیں اس شادی میں بھی۔ اگر ہم اپنی عادتوں کے پابند ہیں اور اپنی عادتوں کو بالکل ٹھیک سمجھتے ہیں تو پھر ہمیں پہلے ہی دوسرے میں ملتی جلتی عادتیں ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

محسن نواز: اچھا بہت ہی دلچسپ سوال میرے ذہن میں آ رہا ہے جو یہ سوال اٹھتا ہے کہ لو میرج یا ارینج میرج؟ اور لوگوں کے نتائج بھی الگ الگ ہوتے ہیں کسی کا لو میرج کا تجربہ بہت اچھا ہوتا ہے۔

سحر: خیالات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ بچے کہتے کہ لو میرج ہونی چاہئے کچھ کہتے ہیں ارینج اور کچھ کہتے ہیں کہ لو+ارینج ہونی چاہئے۔ تو یہ بہت مشکل صورتحال ہوتی ہے۔