سحر: سمارٹ سلوشن میں ایک بار پھر خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں اور میرے ساتھ محسن نواز ہیں۔

محسن نواز: بہت شکریہ آپ کی اُس پسند کا جو ہم تک فیس بک کے ذریعے پہنچتی ہے۔ ہم اپنے پروگرام ایس۔بی۔این میں سمارٹ سلوشن کے پیج پر آپ کے سولات بھی شامل کرتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب وہ جو سوال آپ سے کیا تھا اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ہمارے معاشرے میں بہت سے شادیاں ارینج ہوتی ہیں اگرچہ آپ کو لڑکا لڑکی محبت کرتے بھی نظر آتے ہیں، لیکن شادی تک نوبت عام طور پر نہیں پہنچتی اور ہمارے معاشرے میں والدین یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی شادی اپنی مرضی سے کریں والدین کسی نہ کسی طریقے سے اپنے تجربے کی روشنی میں یہ مالی پہلو انہوں نے ہی دیکھنا ہوتا ہے شادی سے پہلے، شادی کے دوران اور شادی کے بعد اخراجات انہوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں۔

تو وہ امریکہ والا کردار نبھاتے ہیں یعنی اگر محبت کر بیٹھیں تو ان پر ڈرون اٹیک کرنا لازمی ہے۔ اگر تو ہماری روایات، ہمارا کلچر ٹھیک ہے اور ہمارے خاندان میں یہ چیز ممکن ہے تو والدین جو ہیں وہ رشتہ ڈھونڈھیں اور آپ نوجوان اپنے والدین کو اپنی پسند یا نا پسند سے آگاہ کریں اور دوسرا اس میں شامل رہیں۔ جوں جوں کسی رشتے کی جانب بڑھیں تو بچوں کو بیچ میں شامل رکھیں اُن سے پوچھ کر چلیں انہیں مجبور نہ کریں ان کے صلاح و مشورے سے چلیں اور یہی بہترین شادی ہوتی ہے۔ لو میریج کیلئے آپ کو طریقہ آنا چاہیئے اس کیلئے ضروری نہیں کہ آپ پیار میں مبتلا ہوں کیونکہ اگر آپ محبت میں گر گئے تو پھر آپ گِر ہی جائیں گے تو یہ تو محبت میں آگے بڑھنے والی بات ہے۔ جیسے کہ اپنی صلاحیتوں کو اوپر ابھارتے ہوئے آئے ہیں۔ اگر تو اس میں آپ کسی کو اپنی مرضی سے جیون ساتھی کے طور پر دیکھتے ہیں، بات کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ جان لیا جائے کیونکہ جب آپ کسی کو جانتے نہیں تو وہ آپ کو بہت میں تکلیف پہنچاتا ہے۔

سحر: میرے ذہن میں جو سوال ہے وہ یہ کہ ارینج میرج کے کیا فوائد ہیں؟

محسن نواز: جن والدین کی آپس میں لو میرج ہوتی ہے اور اُن کو گھر سے در بدر کر دیا جاتا ہے وہ تو اپنے بچوں کی ارینج میرج اس لئے کروانا چاہتے ہیں کہ وہ تلخیا ں نہ دیکھیں جو انہوں نے دیکھیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے بڑی ذمہ داری تو والدین پر آتی ہے اور والدین اپنی مرضی سے جب شادی کرواتے ہیں تو وہ زیادہ سپورٹیو ہوتی ہیں اور لو میرج میں ایسا نہیں ہوتا تو جب والدین ذمہ داری اُٹھاتے ہیں تو ان کا تجربہ بھی وسیع ہوتا ہے اور وہ پہلے ہی ذرا دیکھ بھال لیتے ہیں ان کے تجربے میں کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کا فائدہ اولاد کو پہنچ سکتا ہے۔ لیکن لو میرج کے اپنے فوائد ہیں آپ جانے پہچانے، دیکھے بھالے انسان کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے قدم اُٹھاتے ہیں تو یقیناً ایسا شخص آپ کے دائیں بائیں کہیں قریب ہی رہتا ہے۔ کالج، یونیورسٹی یا کام کی جگہ پر۔ تو آپ اس کے روئیوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب آپ نے بہت اہم نکتہ اُٹھایا اور مجھے آپ کے بتانے سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ چیز قدم بہ قدم آگے بڑھتی رہتی ہے تو ہم اسے کیسے جان سکتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اس کے علاوہ وہ شخص جسے آپ اپنی زندگی کاساتھی بنا رہے ہیں وہ دوسرے لوگوں سے کیسا رویہ رکھتا ہے یعنی کمزور لوگوں سے، ہوٹل میں موجود ویٹر سے، کسی ٹریفک کانسٹیبل سے۔ تو جو دوسرے لوگوں کے ساتھ خریداری کے دوران کسی سڑک پر یا ہوٹل میں مہذب رویہ رکھتا ہو تو آپ کو اس کے روئیوں سے کیا محسوس ہوتا ہے؟ کیا اس شخص میں تحمل و بردباری دیکھتے ہیں! تو یہ بہت ساری چیزیں جاننے کے مرحلے میں آتی ہیں اور اس کو آنکھیں بند کر کے نہیں چلنا چاہئے۔ اس میں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جسے آپ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کہیں کسی چھچھورے پن کا مظاہرہ تو نہیں کر رہا۔ احترام وادب نہ کرنا، تعلقات میں بہت تیز رفتاری سے چلنا اور ایک چھچھورے پن کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ موڈی ہونا، موڈ مزاج کا اُوپر نیچے ہونا، کبھی اچھا ہونا اور کبھی بلاوجہ ناراض ہو جانا اور جو یہ جاننے کا مرحلہ ہے یہ بنیادی ہے۔ ایسے جیسے کہ عمارت بنائی جائے تو سب سے پہلے زمین پر ہی کام کیا جاتا ہے اور یہ بنیادی کام بڑی تسلی سے کرنا چاہیے جب ہم کسی کو جان رہے ہوتے ہیں تو ایک ہتھیار بہت ضروری ہے جو کہ اس مرحلے پر چھونا نہیں۔ جس کا حق قطعی طور پر کسی بھی کلچر میں نہیں ہوتا تو یہ چھچھورا پن ہے۔ یعنی یہ صحیح نہیں تو آپ یہ بھی دیکھ لیں کہ اگر کوئی قانون کی پابندی نہیں کرتا تو کیا وہ خوش ہوتا ہے یا اس کی ایمانیات کیا ہیں کیا وہ شخص جائز اور ناجائز میں فرق سمجھتا ہے اور اس کی زندگی میں نظم و ضبط کتنا ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے کہ ہم اپنے سیل فون، چابیوں کو پیار سے رکھتے ہیں تاکہ چیزیں گم نہ ہوں لیکن جو ایسے لوگ ہوتے ہیں وہ خود بھی گم ہوئے ہوتے ہیں۔

محسن نواز: آپ نے کہا کہ جو لوگ بظاہر منظم نہیں ہوتے تو کیا اُن کی سوچیں بھی منظم نہیں ہوتیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: قدرتی طور پر جو لوگ منظم نہ ہوں وہ مزے میں بھی نہیں ہوتے۔ مزے اس دنیا میں صرف اُن لوگوں کے ہیں جو نظم وضبط میں ہوتے ہیں اگرچہ اس دنیا میں جو لوگ نظم و ضبط میں ہوتے ہیں دوسرے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑی مشکل میں ہیں۔ تو جب ہم جاننے کے مرحلے میں سے گزر جاتے ہیں تو دوسرا مرحلہ بھروسہ کرنے کا ہے یعنی اگر آپ نے ان کو تین بجے کا وقت دیا تھا اور وہ پانچ بجے منہ اُٹھا کر آ رہے ہیں یا اگر آپ نے کوئی پیغام بھیجا تھا تو وہ جواب دیر سے دے رہے ہوں۔ آپ نے ان کو کوئی کام کرنے کو کہا اور وہ کہتے ہیں میں کر دوں گا، تو قابل بھروسہ ہونا بڑی اہم بات ہے۔یہ وہ مرحلہ ہے جس میں آپ بھروسہ چیک کرتے ہیں کہ یہ بندہ بھروسے کے قابل بھی ہے کہ نہیں۔ جو کہتا ہے کہ میں آسمان سے تارے توڑ لاؤں گا اور آپ کہتے ہیں کہ ایک گلاس پانی دے دیں تو فوراً سے جواب آتا ہے کہ تھوڑا مشکل ہے تو اب اس بھروسہ کے مرحلے میں بھی آپ کا تعلق ہوتا ہے۔ اچھی طرح سے جانتے اور دیکھتے بھالتے ہیں تو یہ جو قابل بھروسہ ہونے کا پہلو ہے قربت میں ملنا جُلنا، سفر میں کھانا پینا یہ سب چلتا رہتا ہے اور اسی دوران آپ دیکھتے ہیں کہ یہ قابل بھروسہ کہ نہیں اور تیسرا مرحلہ جو ہے وہ یہ ہے کہ بطور شریک حیات اسے آپ طور انسان بھی دیکھ رہے تھے اس سے ایک اگلے مرحلے پر لے جاتے ہیں اسے باکل ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے آپ کپڑا دیکھتے ہیں اور پھر یہ دیکھتے ہیں کہ میں اسے پہنوں گا تو کیسا لگے گا۔ تو یہ مرحلہ دیکھتے ہیں کہ یہ قابل بھروسہ ہے کہ نہیں اگر آپ الیکٹرونکس کا سامان بھی خریدتے ہیں تو اس کی پائیداری لازمی دیکھی جاتی ہے تو یہ چیز دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کہیں مشکل وقت میں یہ مجھے چھوڑ تو نہیں جائے گا یا کیا یہ اس ساتھ کو نبھانے والا شخص ہے یا یہ آج کسی گارڈ، چپڑاسی، منیجر کو نکالتا ہے، ماں باپ اور دوستوں سے لڑتا ہے اور ہر وقت رشتے توڑنے میں ہی لگا رہتا ہے تو ایسا شخص قابل بھروسہ نہیں ہو سکتا ہے۔ پائیداری چیک کرتے رہنا چاہیئے، ملتے جلتے رہیں۔ تو پھر اس مرحلے کے بعد آپ بڑی خاموشی سے اگلے مرحلے پر چلے جاتے ہیں جو کے کمٹمنٹ کی ہے۔ اس مرحلے پر آپ بات کرتے ہیں کہ آپ کسی سے منسلک ہیں اور دوسرے سے بھی پوچھتے ہیں کہ کیا آپ بھی ہیں؟ تو کھل کے بات ہو جانا بہتر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسرا کوئی سمجھ رہا ہو کہ آپ محض ایک دوست ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جب کسی سے وابستہ ہوں، کسی سے پوچھتے ہیں کیا آپ مجھے محض ایک دوست کے طور پر دیکھ رہے ہیں یا آپ مجھے اپنی زندگی کا ساتھی دیکھ رہے ہیں اور آپ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ میرے ذہن میں یہ خیال آ رہا ہے کہ ہم اچھے میاں بیوی کے طور پر اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ جو وابستگی کا مرحلہ ہے اس کے بعد فیملی کو شامل کیا جاتا ہے اور اگر دونوں کے خاندان بھی وابستگی کا اظہار کریں اور رشتہ طے ہو رہا ہو تو یہ مرحلہ ختم ہو جاتا ہے لیکن جب رشتے بھی طے ہو جاتے ہیں وابستگی بھی ہو جاتی ہے۔ پھر کچھ وقت گزرتا ہے تو آپ شادی کی تیاریاں شروع کرتے ہیں اور شادی کے لئے ضروری نہیں کہ آپ پانچ یا دس لاکھ کے غرارے پر تل جائیں بلکہ آپ بات چیت کرنے کی مہارت سیکھ لیں کہ میاں بیوی کی زندگی کیسی ہوتی ہے، اس میں کوئی تربیت لے لیں اپنے ردعمل کو کیسے روکا جائے، کسی پیارے کے ساتھ جب معاملہ جب الجھ جائے تو اس کو ذرا دیکھ لیں، تو یہ شادی کی تیاری ہوتی ہے۔ شادی کی تیاری کرتے ہوئے آپ مستقبل میں پیش آنے والی مشکلات کو پیش بندی کے طور پر دیکھیں مثال کے طور پر لڑکا سوچے گا کہ کسی صورت بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھانا اور بیوی یہ سوچ سکتی ہے کہ میں کبھی بھی بدتمیزی نہیں کرونگی۔ لڑکا بھی ایسا ہی سوچے گا۔ دونوں ہی یہ سوچتے ہیں کچھ بھی ہو جائے قیامت آ جائے، آسمان پھٹ جائے مگر زبان درازی نہیں کرنی۔ تو اس کو ہم شادی سے پہلے کی تیاری کہتے ہیں اس کے لئے کچھ مہارتیں ہیں ان کو بھی ذرا دیکھ لیں کہ لڑکی کو اگر گھر داری کرنی ہے اور کھانے پکانے میں مشکلات ہیں تو ان مشکلات کو حل کریں اسی طرح اگر لڑکوں کو مالی مشکلات درپیش ہیں تو وہ اس کا حل نکالیں۔ یہ سب کرنے کے بعد وہ شادی میں چلے جاتے ہیں تو وہ سادگی سے شادی کرتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments