سحر: ایک دفعہ پھر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ بات چیت بہت دلچسپ ہو رہی ہے۔

محسن نواز: میں اور سحر آپ کے ساتھ موجود ہیں۔ اس بڑی دلچسپ سی گفتگو کے دوران میرے ذہن میں ایک صاحب کا واقعہ یاد آیا، ایک خاتون پچیس سال کی تھیں، انہوں نے 75 سال کی عمر کے بندے کے ساتھ شادی کی۔ جب اخباری نمائندے کو یہ خبر پہنچی تو اس نے خاتون سے یہ سوال پوچھا کہ آپ نے 75 سالہ صاحب کے ساتھ شادی کا فیصلہ کیوں کیا۔ تو انہوں نے بتایا کہ دو عوامل ایسے تھے جنہوں نے مجھے مجبور کر دیا ایک تو ان کی آمدنی اور دوسرا ان کے دن۔ تو ان صاحب سے پوچھا، کیا ان خاتون کی بات تو سمجھ آ گئی پر آپ نے ان س

ے کیوں شادی کی تو کہنے لگے کہ 75 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے جتنی شادیاں کی ہیں تو ہر دفعہ نکاح خواں جب نکاح پڑھانے لگتا تو وہ پوچھتا تھا کہ لڑکا کہاں ہے اس کو بلاؤ۔

سحر: ڈاکٹر صاحب بریک پر جانے سے پہلے ناظرین کو ایک گانا سنایا تھا، تو اس حوالے سے اتنی زیادہ خصوصیات ایک لڑکے یا لڑکی میں کیسے آ سکتی ہیں کہ خوبصورت بھی ہو، حسین بھی ہو، ایم۔اے پاس بھی ہو اور سٹینڈرڈ بھی زیادہ ہو، آمدنی بھی اچھی ہو، تو یہ ساری چیزیں ایک میں کیسے ممکن ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اب میں آپ کو بتاؤں تو یہ بالکل ممکن ہوتا ہے، جیسے لڑکی کسی لڑکے کے لئے مناسب ہے۔ تو یہ چیز معاشرے میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ آپ سمجھ لیں کہ جہاں بھی کوئی لڑکا یا لڑکی رہتی ہے تو ہر پندرہ میل کے فاصلے پر کوئی نہ کوئی لڑکا یا لڑکی موجود ہو گی، یہ بات تحقیق نے ثابت کی ہے۔ اچھا جب آپ کسی چیز کی تلاش میں نکلتے ہیں تو آپ ہر جگہ ہی تلاش میں نکلتے ہیں تو اگر آپ کے پاس پہلے سے کوئی واضح منصوبہ ہو کہ آپ کو کیسی لڑکی یا لڑکا چاہئے تو وہ جب سامنے آئے گا تو پھر آپ کو خود ہی اشارے ملنا شروع ہو جائیں گے اور آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کی مجھے تلاش ہے۔ زیادہ تر لوگ جلد بازی میں یہ کام کرنا شروع کرتے ہیں وہ یہ کرنا چاہتے ہیں کہ بس جلدی سے ہو جائے کوئی تردد نہ کرنا پڑے۔ زیادہ تر لڑکیوں کا خیال یہ ہوتا ہے کہ انہیں کوئی اچھا مرد نہیں ملے گا اور زیادہ تر لڑکوں کا بھی یہی خیال ہوتا ہے تو جب بھی کوئی ملتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ آخری لڑکا اور لڑکی ہے اور ان کے اعتماد میں کمی کی وجہ سے پھر وہ یہ بھی سوچ لیتے ہیں کہ چلو جیسا بھی مل جائے میں اسے تبدیل کر دونگا تو لڑکوں اور لڑکیوں کو اتنا اعتماد ہوتا ہے۔ اتنا اعتماد ہوتا ہے کہ ہم اگلے شخص کو بدل لیں گے تو میں کہتا ہوں کہ بدلنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ آپ وہ چنیں جسے زیادہ بدلنا نہ پڑے۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ میری محبت میں بڑی طاقت ہے کہ اگلے بندے کو بدل دیں گے حالانکہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔

سحر: یہ جو خیال ہے ہمارے معاشرے میں کہ جھٹ منگنی پٹ بیاہ۔ جیسے کہ لڑکے لڑکی کو لگتا ہے کہ اس سے بہتر مجھے کوئی نہیں ملنا اسی طرح سے خاندان والوں کو بھی لگتا ہے کہ اس سے اچھا رشتہ نہیں ملے گا اور یہی بہترین ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں پہلے لوگ ہر معاملے میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں جیسے بجلی کا بل آخری تاریح پر جمع کرواتے ہیں اس لئے لڑکے اور لڑکی کی شادی کے معاملے میں بھی شروع میں بہت آسان لیا جاتا ہے۔ جیسے کہ لڑکیوں کی شادی میں کہ ابھی تو یہ چھوٹی ہے وغیرہ وغیرہ تو شروع میں بڑی شٹ اپ کال دیتے ہیں لڑکی والے، لیکن ایک دم انہیں پتہ چلتا ہے کہ لڑکی کی عمر 27,28 سال ہو گئی ہے تو پھر ان کو ہوتا ہے کہ اب جو بھی رشتہ آئے تو اس کی شادی کر دی جائے۔ اور یہ سب سے غیر مناسب طریقہ ہے کیونکہ ایسے ہی جھٹ منگنی پٹ بیاہ ہوا کرتے ہیں یہ جوا ہے اور بہت برا جوا ہے جس میں ہارنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں تو یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے۔

محسن نواز: پھر اس کو مقدر کے فیصلے سے بھی منسلک کرتے ہیں یعنی اپنی غلطی کو مقدر کے ذمہ ڈال دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ تو ہمیشہ سے بلیم گیم چلی آ رہی ہے۔ سب سے آسان حل ہم تلاش کرتے ہیں وہ یہ کہ ہم ہر کام قسمت پر ڈال دیتے ہیں۔

سحر: ڈاکٹر صاحب اکثر اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ بچپن میں منگنی ہو جاتی ہے یا کسی ایسی سٹیج پر آ کر نکاح ہو جاتا ہے۔ جس میں لڑکی کا مائنڈ سٹیبل نہیں ہوتا، 17,18,19 سال کی عمر تک، جس میں جذبات بہت زیادہ ہوتے ہیں منگنی ہو گئی یا نکاح ہو گیا اس کے بعد 25 سال کی عمر میں اس کو خیال آتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: کیا جو رشتے ناطے غلط طریقے سے بنائے جاتے ہیں وہ زیادہ پائیدار نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ساتھ ملنا ملانا بدل جاتا ہے۔ ملنے ملانے سے مراد وہ خوبیاں ہیں جن کی بنیاد پر اچھا رشتہ ملتا ہے۔ کئی دفعہ خامیاں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں تو یہ جو دو پہلو ہیں کہ خوبیوں کا آہستہ آہستہ کم اور خامیوں کا کسی کی زندگی میں بہت زیادہ نمایاں ہوجانا، یہ خیالات آنے لگتے ہیں۔ تو جب لڑکے یا لڑکی کے ذہن میں ایسے خیالات آنا شروع ہوتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ میرے قابل نہیں میں تو بہت لائق فائق ہو گیا ہوں تو اب ماں باپ نے بھی سارے زمانے کو بتایا ہوا ہے۔

سحر: چلیں محسن صاحب اب آپ بتائیں کہ ہم کونسا سیگمنٹ شروع کرنے والے تھے؟

محسن نواز: یہ ہمارا مشہور سیگمنٹ ہے۔ you asked for it جس میں ہمارے ناظرین ہم سے سوال پوچھتے ہیں۔

سحر: جی بالکل! فیس بک پر ہمارے پاس ایس۔بی۔این کا ایک صفحہ موجود ہے۔

محسن نواز: اس پر ہم آپ کے چھوٹے چھوٹے مسائل اور حل دینا سکھاتے ہیں اور اس میں ڈاکٹر صداقت علی ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ سوالات کی جانب چلتے ہیں۔

سحر: جی بالکل! تو پہلا جو ہمارے پاس سوال ہے وہ مسز تصدق کی جانب سے ہے وہ پوچھنا چاہ رہی ہیں کیا کوئی ایسی ٹریننگ ہے جو بچوں کو شریک حیات منتحب کرنے کے لئے دی جائے اور کس عمر سے دینا شروع کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: میرا خیال ہے لڑکیوں کو خاص طور پر ذرا جلدی ٹریننگ دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ دھوکے سے بچیں جس سے کہ ان کی آگے جا کر زندگی خراب ہو سکتی ہے تو لڑکیوں کے نوجوانی میں داخل ہوتے ساتھ ہی ان کے لئے ایک ہلکی سی ٹریننگ شروع ہو جانی چاہیئے جو کہ مہینے میں ایک دفعہ ہو جس میں انہیں آگاہی دی جائے کہ مستقبل میں انہیں ایک شادی شدہ زندگی کے لئے جانا ہے تو کن چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے اور آگے قدم کیسے بڑھانے ہیں، ایسے معاملات پہ والدین کے ساتھ کیسے بات چیت کرنی ہے اور یہ تو کوئی تیرہ سال کی عمر میں شروع ہو جانی چاہیئے اور لڑکوں کو تقریبا پندرہ سال کی عمر میں اس طرح کی ٹریننگ سے گزارنا چاہیئے تاکہ وہ اپنی توجہ صحیح ٹریک پر رکھ سکیں اور کچھ بن سکیں بالاخر لڑکپن میں رشتے ناطے چننے کا کام لڑکا یا لڑکی کرے تو یہ بہت نا پسندیدہ ہے اور لڑکپن میں جو کام بالکل بھی نہیں کرنے چاہئیں وہ I love u, i miss u والے کام ہیں جو کہ اس عمر میں بالکل بھی نہیں سجتے ہیں۔

سحر: اگلے سوال کی جانب بڑھتے ہیں جو کہ ملک عبدالغفور کی جانب سے ہے وہ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ شریک حیات کا انتخاب کرتے وقت جسمانی اور ذہنی معلومات حاصل کرنے کے مناسب طریقے کیا ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: بہت ہی اہم سوال ہے! ذہنی رجحانات دیکھنے کے لئے یہ دیکھا جائے کہ ان کا رویہ دوسرے لوگوں کے ساتھ کیسا ہے؟ جہاں وہ عام زندگی میں لوگوں سے تبادلہ خیال بہت قدرتی انداز میں کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ذہنی رجحانات صحت مند ہیں کہ نہیں ، غصہ کرتے ہیں کہ نہیں، بے چین ہو جاتے ہیں یا پینک رہتے ہیں یا تحمل اور بردباری سے چیزوں کو حل کرتے ہیں اور ان کی عادات کیسی ہیں تو یہ ذہنی رجحانات والی بات ہے۔ جسمانی طور پر دیکھنے کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی لڑکے یا لڑکی کی والدین کی صحت دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارا شریک حیات مستقبل میں کس قسم کی صحت کا حامل ہو گا کیونکہ اولاد والدین کے کافی قریب ہوتی ہے لیکن پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ ہمارے والدین کی صحت مندانہ عادات ہیں یا والدین کو شوگر، بلڈ پریشر یا ایسی کسی بیماری کا سامنا تو نہیں تو شریک حیات چنتے ہوئے آپ کے پاس پورا اختیار ہے کہ آپ بہترین شریک حیاک کو چنیں اس میں کوئی شرمندگی کا پہلو نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کسی کے بلڈپریشر یا شوگر کو دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ کسی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو بھی پورا حق پہنچتا ہے کہ آپ ان کی صحت اور جسمانی معاملات دیکھیں اور یہ بھی دیکھیں کہ ان کے خاندان میں کوئی ذہنی بیماریاں یا اس طرح کے کوئی پہلو تو نہیں!

محسن نواز: اس کا مطلب قربانی کے جانور میں ہی نہیں رشتوں میں بھی یہ سب چیزیں دیکھنی چاہئیں۔

سحر: عثمان نے بھی ہمیں پیغام بھیجا ہے وہ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ شریک حیات کا انتخاب کرتے وقت اس کے ماضی کے بارے میں جاننا ضروری ہے یعنی اگر اس کے ماضی میں اس کا کسی کے ساتھ تعلق رہا تو کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں آج کی زندگی بڑی کھلی کتاب کی طرح ہے جیسے اگر آپ فیس بک پر جا کر کسی کے پچھلے تین سال کا ریکارڈ دیکھیں اور آپ کو بہت سارے رجحانات کا پتہ چل جائے گا یہ آپ کی روشن خیالی پر منخصر ہے کہ آپ کسی کے پرانے تعلقات کو دیکھتے ہوئے اسی کے ساتھ آگے کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں کہ نہیں!لوگوں کے ذہن میں جو ازلی طور پر خیال ہے کہ ہمارا جو شریک حیات ہو اس کی پہلی اور آخری محبت ہم ہی ہوں تو حقیقی زندگی میں ضروری نہیں کہ جیسا فلموں میں نظر آتا ہے ویسا ہی ہو۔ جو یہ کہتے ہیں کہ پہلے اس کے کسی کے ساتھ تعلق رہا اور وہ ختم ہو گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نیا تعلق نہیں بنا سکتے۔ میں سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر محبت کرنے کا قائل ہوں مگر اس محبت کا نہیں جس میں کہا جاتا ہے کہ مجھے محبت ہو گئی تو ایسی محبت گڑھے میں گر جانے کے برابر ہے تو جو محبت آنکھیں کھول کر کی جاتی ہے جس میں آپ ہر پہلو سے کسی کو جانچ رہے ہوتے ہیں۔ پرکھ رہے ہوتے ہیں اور وجہ بھی ہوتی ہے تو وجہ کے بغیر تو کوئی محبت، محبت ہی نہیں۔ وجہ کے ساتھ محبت کے تین پہلو ہیں، پہلا پہلو یہ ہے کہ جسمانی لحاظ سے صحت مند ہوں، اگر آپ خوبصورت ہیں اور آپ کو خوبصور ت لوگ پسند ہیں تو آپ اس چیز کو بھی اہمیت دے سکتے ہیں اس کے بعد تعلیم کو دیکھیں پھر شرافت خاندان اورحسب نسب کو دیکھیں اور پھر عمارت کو بھی دیکھیں جیسے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عمارت کو بالکل نہ دیکھیں جبکہ عمارت ایک مثبت چیز ہے ۔ لڑکی یا لڑکے کی زندگی میں یہ ایک مثبت چیز ہے اور یہ جو ہمارے ذہن میں خیال آتا ہے کہ جو امیر ہے وہ برا ہو گا اور جو غریب ہے بہت مقدس ہو گا تو ایسا کچھ نہیں ہے۔

سحر: ہمارے پاس اور بھی سوالات تھے جنہیں ہم شامل نہیں کر پا رہے کیونکہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔

محسن نواز: ڈاکٹر صداقت سے ہمارے گفتگو ہمہ پہلو ہوتی ہے کہ بیچ میں کوئی نہ کوئی سوال ہوتا ہی رہے گا اچھا وہ جو بات ڈاکٹر صاحب کہ رہے تھے کہ بغیر دیکھے، سمجھے، جانے کسی کو دل دے دینا اس کے بارے میں ایک بڑا خوبصورت سا گیت بھی ہے۔

سحر: بالکل جناب! پروگرام کے اختتام کا وقت بھی آ چکا ہے

ڈاکٹر صداقت علی: ہم نے تجھ کو دل یہ دے دیا پوچھا بھی نہیں کہ کون ہو تم!

محسن نواز: ڈاکٹر صاحب آپ کو اس گیت کا کیسے پتہ چلا؟

سحر: ہاہاہاہا!
ڈاکٹر صاحب یہی گیت ہم پروگرام کے آخر میں چلانے والے ہیں اختتام کی گھڑیاں قریب آ چکی ہیں۔

محسن نواز: ڈاکٹر صداقت علی آپ کا بہت بہت شکریہ! اپنے قیمتی وقت اور مصروفیات میں سے آپ تشریف لائے اور امید ہے کہ آپکو کم انتظار کرنا پڑا ہو گا۔ ہماری سیٹنگ ٹھیک تھی۔

ڈاکٹر صداقت علی: انشاء اللہ آہستہ آہستہ بہتری آئے گی۔

محسن نواز: بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صداقت! ہماری گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس میں اور سحر آپ کا ساتھ دیا کرتے ہیں اور آپ سب کے لئے بہت ساری دعا، جن لوگوں کے ہاں کوئی بات چیت چل رہی ہے تو اللہ کرے کہ آپ لوگوں کی بات کامیاب رہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: جوڑیاں سلامت رہیں!

محسن نواز: ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں ۔

سحر: اللہ حافظ!

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments