ڈاکٹر صداقت علی: اچھا دیکھیئے، میں ایک بات کہنا چاہوں گا۔ میں میڈیا کے سامنے بیٹھا ہوں اور بات یہ کہنا چاہوں گا کہ 2 سال پہلے تو میں ناشتا کرتا ہی نہیں تھا۔ 2 سال سے میں نے ناشتہ کرنا شروع کیا کیونکہ ناشتہ نہ کرنا جو ہے بہت نقصاندہ کام ہوتا ہے۔ تو 2 سال سے میں ناشتہ خود تیار کر رہا ہوں۔ کیونکہ میں صبح جلدی اٹھتا ہوں اور میری بیگم صبح تھوڑی دیر سے اُٹھتی ہیں۔ تو میں نے کبھی ان کو نہیں جگایا کہ اُٹھ کہ میرا ناشتا تیار کریں۔ میں خود تیار کرتا ہوں اور اس وقت ملازم بھی سب سوئے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ وہ دن کا کام کاج جو ہے 10، 11 بجے گھروں میں شروع ہوتا ہے۔ تو ایک تھوڑا سا ناشتہ تیار کرنا اور مجھے پتہ ہے کہ مجھے ناشتہ کرنے میں اتنا مزا نہیں آتا جتنا ناشتہ بنانے میں مزا آتا ہے۔

فرح سعدیہ: میں آپ کو ایک بات بتائوں ابھی میری اور اقبال کی شادی نہیں تھی ہوئی۔ ہماری ایک دو مہینے ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ رہی۔ انکی سب سے مزے کی بات یہ تھی کہ میں اپنا ناشتہ خود بناتا ہوں۔ میں نے کہا یار یہ بندہ ٹھیک ہے۔ لیکن شادی کے بعد اب ہماری اکثر ناشتے پہ جنگ ہو رہی ہوتی ہے ڈاکٹر صاحب، ناشتہ میں کیا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: اتنی چھوٹی چوٹی باتوں پہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے کے بہانے ڈھونڈنے کے بجائے ایسا کوشش کرنی چاہیئے کہ ان چھوٹی موٹی باتوں سے ایک دوسرے سے قربت بڑھے۔

فرح سعدیہ:بالکل صحیح! لیکن ڈاکٹر صاحب اب آپ ناشتے کو بھی ویٹ سلوشنز پروگرام میں لے آئے ہیں اور ناشتہ کے بارے میں آپ کا کہنا ہے کہ کرنا بھی ضرور چاہیئے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ناشتہ کو تو کبھی چھوڑنا ہی نہیں۔ آپ ناشتہ کو چھوڑتے ہیں۔ کیونکہ صبح کھانے کو اتنا دل نہیں چاہ رہا ہوتا۔ کیونکہ رات بھر نہیں کھایا ہوتا۔ تو دیکھیں کتنی الٹی بات ہے کہ صبح کوئی بھوک بھی نہیں محسوس ہو رہی ہوتی۔ تو جب ہم ناشتہ نہیں کرتے اور پھر دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھاتے اور ہم سمجھتے ہیں کہ آج ہمارا ویٹ سلوشن پروگرام بہت اچھا جا رہا ہے۔ تو وہ نہیں اچھا جا رہا ہوتا۔ کیونکہ شام کو پھر ہم کثریں نکال دیتے ہیں۔ تو بہتر یہ ہے کہ سب سے پہلے تو یہ ہے کہ ہم بھوک جب نہ لگی ہو تو کھانے کی عادت ڈالیں۔ پہلا یہ اصول ہے ویٹ سلوشنز کا جب آپ اپنا وزن درست کرنا چاہتے ہیں تو پہلا اس کا سلوشن یہ ہے کہ بھوک لگنے سے پہلے کھائیں۔ کیونکہ ایک دفعہ بھوک لگ گئی تو معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ لہٰذا دن میں پانچ 6 دفعہ کھائیں اور سب سے پہلے بات ہے کہ ناشتے کو مس نہ کریں اور ناشتے میں پروٹین دوپہر کے کھانے میں کچھ پروٹین اور رات میں پروٹین ضرور ہونی چاہیئے۔ پروٹین سے مراد یہ ہے کہ جیسے ناشتے میں انڈہ دوپہر کے کھانے میں دال، اور رات کو تھوڑا سا دودھ یا چکن یا کوئی ایسی چیز۔

فرح سعدیہ: آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا۔ آپ نے ایک فارمولے میں کچھ لکھوایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس پر روشنی ڈالیں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: وہ یہ ہے کہ آپ کا وزن کتنا ہے اور کتنا ہونا چاہیئے تو اس کا بڑا سادہ سا طریقہ ہے کہ 22 کو ضرب دیں اپنے قد سے 2 دفعہ اور قد انچوں میں لکھنا ہے۔ جیسے 5 فٹ 10 انچ میرا قد ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ 70 X 70 X 22 اور اس کو تقسیم کریں 703 کے ساتھ تو جو بھی جواب نکلے گا آپ کا وزن اتنے پاؤنڈ ہونا چاہیئے اور جتنا وزن آپ کا ہے، وہ آپ کو معلوم ہی ہو گا۔ آپ کا کتنا ہونا چاہیئے؟ تو وہ اس فارمولے سے نکالیں گے اور قد کو انچوں میں دو دفعہ آپ نے لکھنا ہے اور 22 سے آپ نے اس کو ضرب دینی ہے اور 703 سے آپ نے اسے ڈِوائیڈ کرنا ہے۔ یہ بین الاقوامی معیار ہے جو سائنس میں بالکل فائنلائیز کر دیا گیا ہے۔ تو یہ جو معیار ہے۔ اس معیار کے مطابق سب سے پہلے آپ کو وہ جو گیپ ہے آپ کے سلوشن میں ویٹ گیپ جس کو ہم کہتے ہیں۔ جو گیپ ہے۔ جب آپ اس کو نکال لیتے ہیں تو پھر آپ کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ اگر آپ کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ تو آپ 1 پائونڈ ہر ہفتے کم کر سکتے ہیں۔

فرح سعدیہ: جی بالکل ٹھیک! ڈاکٹر صاحب میں 20 سال کی ہوں۔ ایکسرسائز نہیں کرتی، بہت موٹی ہوں، پہلے والے عدنان سمیع کی بہن لگتی ہوں۔ اس لئے کوئی سلوشن بتائیں اور پریگننسی میں وزن کیسے کم کریں۔

ڈاکٹر صداقت علی: پہلے بات تو یہ کہ پریگننسی ایک بڑا خطرناک وقت ہے جس میں وزن بڑھایا جاتا ہے اور سب ہی لوگ کہتے ہیں کہ اب بالکل اپنے آپ کو چھوڑ دو حالات کے رحم و کرم پے۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ بالکل ایسی بات نہیں۔ پریگننسی میں بھی اسی طرح کھانا پینا چاہیئے جس طرح آپ نارملی کھاتے ہیں۔ اس میں کچھ ایکسٹرا الاؤنسز جو ہیں وہ آپ کو کھانے میں ضرور مل جاتے ہیں۔ پھر آپ واک، ورزش یہ سب چیزیں جو ہیں اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر واک تو کسی بھی اسٹیج پے پریگننسی میں ممنوع نہیں ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments