فرح سعدیہ: اچھا ڈاکٹر صاحب اب ہم اپنی بات کو آگے لے کر چلتے ہیں۔ ہم نے بتا دیا کہ جناب ایک تو آپ نے اپنی علتیں کم کرنی ہیں۔ جو ہر وقت منہ مارنے کی کوئی بھی چیز بسکٹ چکھ لیتے ہیں۔ اس کو کھا لیتے ہیں۔ اسے چائے پلا دی۔ اس نے بسکٹ کھلا دیا۔ اس نے کھانا کھلا دیا۔ ہم نے کھا لیا۔ مونگ پھلی کھا لی۔ چھلی کھا لی۔ یہ سب کم کرنا ہے اور اپنی عادت بنانی ہے کھانے کی۔ بھوک لگنے کا انتظار نہیں کرنا۔ بھوک کے بغیر ہم نے 5 مرتبہ کھانہ کھانا ہے۔ ناشتہ ضرور کرنا ہے۔ کھانے کو نہیں کہنا بھی سیکھنا ہے۔ تھوڑا سے چھوڑ دیں۔ کوئی بات نہیں بچتا ہے بچ جائے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ٹیون کریں۔

ڈاکٹر صداقت علی: میں یہاں تھوڑا زور دینا چاہوں گا کہ بھوک لگنے کا انتظار کیوں نہ کریں۔ کیونکہ جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہمارے جسم میں زہریلے مادے یعنی کچھ مضر صحت کیمیکلز پیدا ہو چکے ہوتے ہیں اور بھوک لگنے کے بعد ہمارا دماغ اتنا صحیح طرح کام نہیں کرتا۔ یہ ہمارے قابو میں نہیں ہوتا جتنا بھوک لگنے سے پہلے ہوتا ہے۔ تو بھوک لگنے سے پہلے کھانہ کھانا۔ پیاس لگنے سے پہلے پانی پینا۔ تھکنے سے پہلے آرام کرنا اور نیند آنے سے پہلے سونے کی تیاری کرنا۔ یہ چند ایسی چیزیں ہیں جو کہ دماغ کو تروتازہ رکھتی ہیں اور ہمارے قابو میں رکھتے ہیں پھر دماغ ہمارا کہا مانتا ہے۔ اب میں آپ کو بتاؤں کہ ہمیں کچھ بھی کرنا ہو۔ ہمارا دماغ اس میں ہیلپ کرتا ہے۔ یہ جو ایٹنگ ڈس آرڈر ہے۔ یہ بیسکلی برین ڈس آرڈر ہوتا ہے۔ تو اس کیلئے یہ جو سرجریز کرانا یا یہ وہ کرانا یہ بھی درست نہیں مانا جاتا۔ جہاں مسئلہ ہے وہاں ٹھیک کریں اور یہ دماغ میں جو علتیں بن جاتیں ہیں، ان کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب یہ علتیں کیسے ٹھیک ہوں گی؟ مطلب اگر کسی بندے یا خاتون کو بہت طلب ہوتی کھانے کی یعنی اس کا نشہ ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ فرج کھولیں اور سارا کھانا کھا لیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: 5-6 مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ وزن بڑھنے کی۔ کسی میں ایک، کسی میں دو، کسی میں چار، کسی میں 6۔ ایسا کئی دفعہ تو امپلسو ہوتے ہیں کہ ایک رات کو 2 بجے آئس کریم کھانے کا خیال آ گیا کہ تو اب کہیں نہ کہیں سے آئس کریم پیدا کرنی ہے اور کھا کے چھوڑنی ہے۔ تو یہ جو امپلس ہے اس کے اوپر بھی کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس امپلس کو کیسے نمٹائیں۔ یعنی دن میں کسی بھی وقت خیال آ جائے ذہن میں کہ ہمیں یہ کھانا ہے تو ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ اچھا میں کھا لوں گا لیکن 5 منٹ بعد۔ میں کھا لوں گا۔ پھر اس کے بعد 10 منٹ کے بعد۔ میں کھا لوں گا۔ 15 منٹ بعد۔ تو ایک وقت آئے گا کہ جب آپ 20، 25 منٹ کے بعد چیزوں کو کھانا شروع کریں گے تو آپ کو ایک نیا خیال سوجھے گا کہ اب کیا کھانا۔ یعنی 20، 25 منٹ کے اندر اندر وہ جو امپلس ہے یا جو اچانک کھانے کی خواہش ہے۔ وہ ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تو آپ کو صرف 1 منٹ سے لے کے 20 منٹ کا وقفہ آہستہ آہستہ اپنے امپلس اور کھانے کے درمیان پیدا کرنا ہے یعنی اسے فوراً تو نا مانیں۔ فوراً تو ہتھیار نہ ڈالیں۔ شروع میں جب امپلس آتا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر 5 منٹ کے بعد بھی مجھے طلب ہوئی کھانے کی تو میں کھا لوں گا۔ پھر جب اس پے قابو پا لیا تو پھر 5 منٹ کو 10 منٹ اور اسے آگے بڑھائیں۔

فرح سعدیہ: اور اس کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس طرح کی چیز کو اپنی رسائی سے تھوڑا سا باہر کر دیں۔ جہاں تھوڑی سی تگ و دوڑ کرنی پڑی۔
ڈاکٹر صداقت علی: ہم کہتے ہیں کہ بہت سے ذرائع ہیں جن سے ہم مدد لیتے ہیں۔ یعنی ایک تو یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اس چیز سے محبت کرنا سیکھنا ہے جسے سے محبت نہیں ہے۔ یعنی کھانے پینی کہ وہ چیزیں جن سے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم کھائیں۔ ان سے محبت پیدا کریں اور جن چیزوں سے ہمیں پہلے سے محبتیں ہیں ان سے تھوڑی دوری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر ہم جب کر نہیں سکتے اس کو آہستہ آہستہ کرنے کی عادت ڈالیں۔ پہلے تھوڑا پھر زیادہ۔ پھر ہمیں ایسے لوگوں کا بھی ساتھ چاہیئے کچھ لوگ ہمیں ہمیشہ مشورے دیتے رہتے ہیں یہ کھا لیں۔ چلیں وہ کھاتے ہیں۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب کچھ لوگ ہمیں مشورے بھی دیتے ہیں جیسے کہ آپ کمزور ہو گئی ہو۔ آپکا رنگ پیلا ہو گیا ہے اور مجھے کہتے ہیں کہ آپ کو وزن کم کرنے کی کیا پڑی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ان لوگوں کو ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں حواری یعنی جو ہمیں ہر بری عادت میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک ہوتے ہیں ہمارے فرینڈز جو کہ ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ جن کو ہم سمجھا دیتے ہیں۔ تو ہمیں اپنے حواریوں کو فرینڈز میں بھی بدلنا چاہیئے۔ یعنی ان سے بات کرنی چاہیئے۔ اپنی بیوی یا خاوند کو جس کے کھانے پینے کے رجحانات ہیں۔ تو ہم اسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ مجھے اس میں شامل نہ کریں۔ بہتر ہے کہ آپ بھی ان عادتوں کو بدلیں اور اگر آپ مجھے شامل نہ کریں تو بہت بہتر ہو گا۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments