فرح سعدیہ: جناب میرے ساتھ ہیں ڈاکٹر صداقت علی۔ کرن نے ہمیں کال کیا تھا اور ہم ویٹ سلوشن پہ بات کر رہے ہیں۔ اچھا ڈاکٹر صاحب آپ نے سنا، کرن کہہ رہی تھیں کہ میں کھانے کو دیکھوں تو رہ نہیں سکتی۔ میرا بس نہیں چلتا کہ کیا کروں اور بہت سارے لوگوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ان کی باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کا اپنے دماغ پے قابو نہیں ہے۔ یعنی ان کے دماغ من مانیا ہے۔ وہ ان کے حکم پے نہیں چلتا۔ تو اگر وہ خود ہی اپنی سائنسدان بن جائیں اور خود ہی اپنی سبجیکٹ بن جائیں۔ تو جب ان کا دماغ ان کے اوپر قابو پا لے گا۔ یعنی ان کے جو کام کاج ہیں۔ جس طریقے سے وہ کھاتی پیتی ہیں اور اگر کسی وقت وہ نہ کھا سکے۔ تو اپنے آپ کو برا بھلا یا کنڈم نہ کریں۔ کیونکہ سائنسدان جب اپنے سبجیکٹ کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جب انہیں کامیابی نہیں ملتی اور کسی موقعے پے کچھ کام نہیں کر پاتے۔ تو وہ اپنا دل خراب نہیں کرتے۔ وہ پھر نئے سرے سے اٹھ کہ اپنے آپ کو کامیابی کے طرف لے جاتے ہیں۔ تو آپ جب وزن کم کر رہے ہوتے ہیں یا ویٹ سلوشن ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ تو آپ ایک سائنسدان ہوتے ہیں اور آپ اپنے آپ کو اپنا سبجیکٹ بھی بنا لیتے ہیں اور آپ اپنے آپ کے ساتھ سختی بھی نہیں کرتے۔ ہارشنیس بھی نہیں کرتے اور آپ اگر کبھی رہ جاتے ہیں کسی دن کچھ نہیں کر پاتے۔ تو پھر آپ نئے سرے سے کمر کس لیتے ہیں۔ پھر یہ بھی ایک ہفتہ خوب ڈٹ کے کھا لیتے ہیں۔ تو ان کو یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے دماغ کی نگہداشت کرنا شروع کریں۔ جو دماغ کی نگہداشت ہے جیسے میں نے ابھی بتایا کہ تھکنے سے پہلے آرام کریں۔ نیند سے پہلے سو جائیں۔ پیاس لگنے سے پہلے پانی پئیں اور بھوک لگنے سے پہلے کھائیں۔ اگر یہ ان ایڈوانس یہ کام کرنے لگ گئیں۔ تو ان کا دماغ ترو تازہ رہنے لگے گا۔ میں آپ کو بتاؤں کہ ہمارا دماغ بہترین آرگنائیزڈ ہے۔ اس کی ریسپیکٹ کرنا سیکھیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments