فرح سعدیہ: خوش آمدید اور صبح بخیر۔ ناظرین آج ہم وزن کے حوالے سے بات کریں گے اور میرے ساتھ تشریف رکھتے ہیں ولنگ ویز کے سی۔اِی۔او جناب ڈاکٹر صداقت علی صاحب۔

فرح سعدیہ: اسلام و علیکم

ڈاکٹر صداقت علی: وعلیکم اسلام

فرح سعدیہ: آپ کیسے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: میں بالکل ٹھیک ٹھاک

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب آج کا ہمارا موضوع ہے ویٹ لوس تو آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

ڈاکٹر صداقت علی: اس کو ویٹ سلوشن بھی کہتے ہیں کیوں کہ لاس کا لفظ جو ہمارے دماغ میں اچھی طرح بیٹھا ہوا ہے کہ یہ کوئی ٹھیک کام نہیں ہے کیونکہ جب بھی کسی لاس کی بات ہوتی ہے تو ہم اس طرف نہیں بڑھتے اسی طرح جب بھی ہم ویٹ لاس کی بات کرتے ہیں تو ہمارا دماغ کہتا ہے کہ یہ کوئی نقصان کا سودا ہے۔ یہ کسی نقصان کا نہیں بلکہ فائدے کا سودا ہے اور ہم اس کیلئے نیا نام رکھتے ہیں ویٹ سلوشنز۔

فرح سعدیہ: صحیح یعنی ڈاکٹر صاحب ویٹ سلوشن کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔ اچھا ڈاکٹر صاحب ہم نے پچھلی مرتبہ جو باتیں کیں، بہت سارے لوگوں کیلئے بڑی زبردست بھی تھیں، آپ انہیں دہرا دیں کہ آج ہم کہاں سے دوبارہ شروع کریں گے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے ایک تو میں یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ تمام ڈائیٹس جو وزن کم کرنے کے لئے ہوتی ہیں وہ بہت بہتر ہیں اور دوسرا ایکسرسائز ہیں ان سے بھی وزن کم ہوتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ زیادہ دیر تک نہیں کرتے۔ ہم ان کو پختہ عادت کے طور پر نہیں اپناتے۔ کیونکہ ہمیں کچھ علتیں ہوتی ہیں ویسے ہی کھاتے رہنے کی۔ ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا اور ہم ایسے ہی سوچے سمجھے بنا کھاتے رہتے ہیں۔ کوئی ہمیں آفر کرتا ہے تو ہم کھا لیتے ہیں۔ راہ چلتے کوئی چیز کھانے والی نظر آئے تو ہم پکڑ لیتے ہیں۔ کوئی ٹی وی پر کھانا کھا رہا ہو تو ہم کھانا منگوا لیتے ہیں۔ اسی طرح بہت ساری ایسی چیزیں جو ہم کھا لیتے ہیں۔ اب ہوم ڈلیوری سروس نے کام اور بھی آسان کر دیا ہے۔ ایسی بہت ساری اور چیزیں بھی ہیں جنھیں ہم مائنڈ لیسلی کھاتے رہتے ہیں۔ جب ہم کانشی یس ہو جاتے ہیں کہ ہم نے سوچ سمجھ کے کھانا ہے کہ جو کچھ بھی کھائیں گے وہ ہمارے جسم کو لگے گا اور بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہم تو کچھ کھاتے ہی نہیں تو یہ خیال درست نہیں ہے بلکہ یہ بھی مائنڈ لیس نیس کی وجہ سے ہے۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح! نمبر ایک کہ اپنی عادت بنائیں کہ آپ نے کس ٹائم پہ کھانا ہے اور کیا کھانا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی ویٹ سلوشن کیلئے ہمیں کچھ علتوں کو چھوڑنا پڑے گا اورکچھ عادتوں کو پختہ بنانا پڑے گا۔ یعنی کچھ نئی چیزوں کے ساتھ نباہ کرنا پڑے گا۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب آپ نے بالکل بجا فرمایا۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور دیکھیئے اس کیلئے ہمیں بالکل بھی ضرورت نہیں کہ ہم بے مزہ سی خوراک یعنی اُبلی ہوئی سبزیاں کھانا شروع کر دیں۔ یا ڈبے کی خوراک کھانا شروع کر دیں۔ جو بازار سے ملتی ہے وزن کم کرنے کیلئے۔ ہمیں وہ ہی کھانا ہے جو نارملی ہمارے گھروں میں پکتا ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا ڈاکٹر صاحب اب ہمارے ناظرین کو بتایں کہ وژن کیسے کم ہو گا؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی ہمارے کھانے کی مقدار اسکی کیلریز کے مطابق ہونی چاہیئے۔ اس میں سے جو کیلریز ہمارے لیئے ضروری ہیں انکو لینا چاہیئے اور اس کیلئے ہمیں کھانے کو نو کہنا یعنی اپنی پلیٹ میں کچھ نہ کچھ یا جو کچھ بھی ہم کھا رہے ہوں، اس میں سے کچھ حصہ کوئی لاسٹ 20%، 10% اگر ہم چھوڑنا شروع کریں تو ہمارے ذہن میں ایک چھوٹا سا نقشہ بن جاتا ہے۔ جسے ہم کاز اینڈ افیکٹ کے چھوٹے چھوٹے مینٹل میپس بھی کہتے ہیں جن کے تحت ہم زندگی گذارتے ہیں۔ جب ہم کھانے پینے کی چیزوں کو نو کہنا سیکھتے ہیں یعنی جو ہماری پلیٹ میں پڑا ہے کھانا اور ہمارا دل چاہ رہا ہے کہ آخری نوالہ تک اس کا لے لیں اور پلیٹ کو صاف کر دیں۔ جو ہماری پروگرامنگ ہوئی ہے تاریخی اور روایتی طور پر کہ پلیٹ کو صاف کرنا ہی چاہیئے۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب میں آپکی بہت شکر گزار ہوں- آپ جانتے ہیں ویسے تو پلیٹ صاف کرنی ہی چاہیئے لیکن میری شروع سے ہی یہ عادت تھی کہ میں کھانا چھوڑ دیتی تھی اور مجھے ساری زندگی میری اماں نے اتنا سمجھایا کہ اس سے بے برکتی ہوتی ہے اور میں ہمیشہ نظر انداز کر دیتی بس یہ ایک میری شروع سے ہی بری عادت بن گی اور آخری جگہ پہ آ کر مجھے چھوڑنا ہوتا ہے کہ یہ نہیں کھانا بس۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے جب آپ نو کہتے ہیں کھانے کو تو آپ کے اندر یعنی ذہن میں ایک نقشہ بن جاتا ہے آپ جب چاہیں کھانے کو نو کہہ سکتے ہیں اور مسئلہ صرف وزن بڑھنے کا ہے جسکا تعلق ہمارے کھانا کھانے سے ہے اور خاص طور پر جب ہمیں کوئی کہے کہ کھا لو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ تو پھر ہم سے نو نہیں ہوتی۔ اس سے وزن بڑھتا ہے۔

فرح سعدیہ: سر آپ کے مطابق دو باتیں ہونی چاہئے جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان علتوں کو چھوڑیں جو ہر وقت منہ مارنے کی ہیں۔ منہ چلانے کی عادت علت ہو سکتی ہے اور اچھی عادتوں کو اپنائیں جو اچھی ایکسرسائز یا مناسبت وقت پہ مناسب کھانا ہے اور اس کے علاوہ کھانے کو نا کہنا سیکھیں۔