conversation-willingways

محترم ڈاکٹر صداقت علی،ازدواجی زندگی کے اصولوں کے حوالے سے بات کی جائے تو ہم میاں بیوی کو جو آپ نے بول چال کی مہارت سکھائی، اُس نے اپنا کام کر دکھایا لیکن جب دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ تکرار میں ہوں تو پھر مشکل مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

میری بیوی فضول خرچ ہے اور میں ایک کفایت شعار انسان ہوں کیونکہ میں ایک خاطر خواہ رقم اپنی ریٹائرمنٹ کے دنوں کے لئے بچا کر رکھنا چاہتا ہوں لیکن وہ فوری خرچہ کر کے تسکین حاصل کرنا چاہتی ہے۔ میں تو اس کو مستقبل کی منظر کشی کر کے دکھاتا ہوں مگر وہ اس بات پر ڈٹی ہوئی ہے کہ اس طرح کرنے سے اس کو باقی سب کچھ تو مل جائے گا مگر وہ اُس کے لئے ایک بھرپور زندگی نہیں ہو گی۔ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میں نہیں چاہتا کہ میری عمر 80 کی ہو اور میں ایک صبح جاگوں اور میری جیب میں کچھ بھی نہ ہو اور بینک اکاؤنٹ خالی ہو۔ جب میں 80 سال کی عمر میں کام کرنے کا تصور کرتا ہوں تو میں لرز جاتا ہوں۔ یہ تنازعہ ہمارے تعلقات پر بہت بُرا اثر ڈال رہا ہے اور ہم اسے خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے سے قاصر ہیں۔ جب بھی یہ مسائل ہماری روزمرہ زندگی میں اُبھر کر سامنے آتے ہیں تو ہمارے دلائل اور جذبات ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ اس صورت حال سے میں مایوس کن سوچ کا شکار ہو گیا ہوں اور میرے ذہن میں یہ سوال اُبھرنے لگا ہے کہ کیا یہ بول چال کی مہارت صرف چند ایک کے لئے ہی کام کر پاتی ہے؟
دل برداشتہ


محترم دل برداشتہ!

Dr Sadaqat Aliجب میاں بیوی میں روزانہ اختلافِ رائے ہونے لگے تو پھر وہ سنگین مسئلے کو حل نہیں کر پاتے۔ آپ نے جو سوال کیا کہ “کیا بول چال کی مہارت صرف چند ایک کے لئے ہی کام کرتی ہے؟ یہ انتہائی موضوع اور درد مندانہ سوال ہے۔ آپ کا خط پڑھتے وقت میرا ذہن تمام ممکنہ جذبات اور بحران جن میں سے آپ دونوں گزر رہے ہیں، اُن پر ہی توجہ مرکوز کئے ہوئے تھا۔

یقیناََ یہ صورتحال اسے متاثر کر رہی ہے۔ مجھ پر ایسا وقت بھی گزرا ہے جب میں انہی سے لڑ رہا تھا جن سے میں پیار کرتا تھا اسی وجہ سے آپ کی یہ مشکل صورتحال میں بخوبی سمجھ پایا ہوں اور اس وقت آپ بھی اپنے سب سے اہم رشتے سے لڑائی کی کیفیت میں ہیں۔ میں نے آپ کا درد بھی محسوس کر لیا کیونکہ جب ہم سے مسئلے حل نہیں ہو پاتے تو اُن میں جنجھلاہٹ چھپی ہوتی ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ گفتگو کی مہارت کے ذریعے معاملات کو سمجھانے کی ہماری کوشش ہمیں کتنا فائدہ دے سکتی ہے، مذاکرات کی مہارت کس حد تک ہمیں مدد فراہم کر سکتی ہے؟ کیا یہ واقعی ہمارے خراب تعلقات کو بہتر بنا سکتی ہے؟ اگر میں اپنی ایماندرانہ رائے دوں تویہ اتنا ہی کام کر سکتی ہے جتنا ہم اُسے اجازت دیں گے۔ جتنے مذاکرات ہوں گے تواتنی ہی بول چال کی مہارت ہمارے تعلقات کی اصلاح کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ باہمی بات چیت کی مہارت اور گفتگو سیکھ لینے سے ہم اپنے باہمی تعلقات کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو محدود کر لیتے ہیں نہ کہ ہماری مہارت ہمیں محدود کرتی ہے۔

میں آپ کو یہ احساس نہیں دینا چاہتا کہ میں آپ کی بات سمجھ نہیں رہا۔ اب میں بے تصنع انداز میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ہماری زندگی میں بول چال کی مہارت تمام اختلافات، اداسی اور تباہی کا حل ہے۔ جب ہم کسی مشکل میں ہوتے ہیں تو ان مہارتوں کے علاوہ اور بھی بہت سے ذرائع ہیں جیسے کہ قوتِ ارادی، ہمارے معاشرتی تعلقات کا سرمایہ، کوئی ایسی مثالی شخصیت جس کے ہم تابع ہوں، مستقبل میں جھانکنے کی سکت اور اپنے گرد وپیش سے فائدہ اٹھانے کی سَکت۔ مقاصد اور اچھے نتائج نہ نکلنے کی بنیاد مہارت کی کمی نہیں بلکہ دوسروں کی بات کو صحیح سے نہ سُننا اور سمجھنا ہے۔ یہ بات سمجھانے کے لئے میں ایک مثال دینا چاہتا ہوں، اس کے بعد میں آپ کی مخصوص صورتحال پر بھی بات کروں گا۔