study-willingways

جناب ڈاکٹر صداقت ،میرا بیٹا لڑکپن میں ہے یعنی ابھی اپنے سولہویں برس میں ہے اور حال ہی میں میٹرک کرنے کے بعد اُس نے ایف-سی کالج میں داخلہ حاصل کیا ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ نئے اور بڑے کالج، آزادی کے ماحول اور ایف-ایس-سی پری میڈیکل کی پڑھائی سب اُس کے لئے نئے محاذ ہیں۔ اِن چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اُن میں ڈھلنا اُس کو مشکل میں ڈال رہا ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ سِرے سے ہی مطالعہ کی ذاتی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تلملا رہا ہے اور اپنے وقت کو منظم طور پر تعلیم کیلئے صَرف کرنے سے بھاگ رہا ہے۔ میں نے اُس کے نفسیاتی ٹیسٹ بھی کروائے ہیں کہ کہیں اُسے سیکھنے میں معذوری یا جذباتی مسائل تو نہیں ہیں مگر انہوں نے اُس کو ذہین اور صحت مند نوجوان قرار دیا ہے۔ جذباتی ہمواری بھی ہے اور جسمانی صحت بھی۔ ہم نے اُس پر کئی طریقے آزمائے، یعنی دونوں سزا بھی اور جزا بھی، انعام کا طریقہ بھی اور سخت رویہ بھی، مگر تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ وہ تو ٹَس سے مَس نہیں ہو رہا۔ نہ کالج میں نہ گھر میں اور صرف تب ہی وہ اپنی تعلیم اور کالج کے نتائج مجھ سے شئیر کرتا ہے جب میں اُس کی ٹھیک ٹھاک کھنچائی کر دیتا ہوں۔ مگر یہ طریقہ مدد گار ثابت نہیں ہو رہا۔

پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ اُس کے اِس رویے کی وجہ سے کالج میں اُس کے دوست بھی کوئی نہیں بن رہے اور یوں دوستوں سے میل جول بڑھانے کی صلاحیت کو بھی زنگ لگ گیا ہے۔ اُس کے کالج ٹیسٹ میں نتائج اتنے برے ہیں کہ کالج کے طلباء کے کلبز اور سرگرمیوں میں بھی اُس کو شامل نہیں کیا جا رہا۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اس کی کیسے مدد کروں کہ وہ اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکے۔ آپ کیا رائے دیں گے؟
تنگ احمد بجنگ احمد


جناب تنگ احمد بجنگ احمد،

Dr Sadaqat Aliمیری سرشت اورتجربے میں آپ کے تنگ احمد بجنگ احمد بننے میں سب سے بڑا حصہ اِس بات کا ہے کہ آپ کو یہی معلوم نہیں ہے کہ آپ کا لختِ جگر اِس دلدل سے نکلے کیسے؟ اور آپ یہ نہیں جانتے کہ آخر کار وہ اِس دلدل سے نکل بھی پائے گا یا نہیں یا اِس کو کتنا عرصہ درکار ہو گا۔ میرے خیال میں آپ بہت برے پھنسے ہیں۔ اِس طرح تو بہت کوفت ہوتی ہے اور جھنجھلاہٹ بڑھتی ہے کہ چاہے آپ کوئی بھی کوشش کریں نتیجہ صفر، کوئی پیش رفت نہیں، کوئی بدلاؤ نہیں۔ اِس احساس میں مزید تکلیف یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ اگر اِس کا کوئی زور اثر کوئی فوری حل نہ نکلا تو اُس کی تعلیمی پیش رفت پر اس کے منفی نتائج مرتب ہوں گے اور اُس کا آنے والا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔ سب سے پہلے جب آپ اپنے آپ کو اِس طرح کی گوں مگوں میں پاتے ہیں تو مسئلے کے حل کی تلاش کیلئے آپ پہ در پہ ایک سے دوسرے حل کیلئے سرگرداں نظر آتے ہیں اور کبھی اُس شاخ پر چھلانگ لگاتے ہیں کبھی اُس شاخ پر مگر سعی لا حاصل۔ آپ کی کوششیں بے ثمر و بے ثود رہتی ہیں اور پھر ایک نیا خیال اور نئی تجویز اور پھر بالآخر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پاس واحد ہتھیار یہ ہے کہ آپ اُس کو نظر بند کر دیں اور اُس پر پابندیاں عائد کر دیں اور وہ بھی سخت سے سخت۔ مگر اس طرح آپ ایک آگ کی طرح پھیلتی ہوئی جنگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں وہ بھی اپنے ہی نوجوان برخوردار سے۔