آخر لوگ نشہ کرتے ہی کیوں ہیں؟

آخر لوگ نشہ کرتے ہی کیوں ہیں؟

جب کسی کا پیارا نشہ استعمال کرتا ہے تو اس کے گھر والے سب سے پہلے اس بارے میں غور و فکر کرنے لگتے ہیں کہ آخر اس نے نشہ کیا ہی کیوں؟ آخر اسے نشہ کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ کیا اسے کوئی پریشانی یا ذہنی دباؤ کا سامنا ہے؟ گھر کے تمام افراد ان سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔

کسی شخص کے پہلی بار نشہ استعمال کرنے یا نشے کی جانب رجحان ہونے کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اس حوالے سے معاشرے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جنہیں دور کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ نشہ اس لئے کرتے ہیں کیونکہ انہیں کوئی پریشانی ہوتی ہے, وہ شدید زہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں, انہیں زندگی میں بہت دکھ ملے ہیں, ان کو بچپن میں پیار نہیں ملا, انہیں محبت میں ناکامی ہوتی ہے, وہ دین سے دور ہوتے ہیں, وہ بد کردار ہوتے ہیں, ان کے گھر کا ماحول ٹھیک نہیں ہوتا, ان کی تربیت میں لاپرواہی برتی گئی تھی یا پھر وہ بگڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ جبکہ تحقیق ان تمام مفروضوں کو درست نہیں مانتی۔

کسی بھی شخص کے نشہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ کردار کی خرابی نہیں بلکہ موڈ کی خرابی ہے جس سے مراد ہے کہ جب کسی سے اس کا موڈ اور مزاج نہ سنبھالا جائے۔ وہ یا تو بلا وجہ اداس رہتا ہے, یا بے جا پرجوش رہتا ہے, یا وہ بے چین رہتا ہے یا پھر اس کے موڈ میں ٹھہراؤ نہ پایا جائے بلکہ اس کے موڈ میں مسلسل اتار چڑھاؤ آتا ہو۔ ایسے افراد بچپن سے ہی موڈ کی خرابی کا شکار ہوتے ہیں لیکن نوجوانی میں ان کے موڈ کی خرابی سب سے زیادہ شدت سے نظر آنے لگتی ہے۔ ایسے افراد اپنے اداس موڈ کو خوشگوار بنانے کے لئے نشے کا استعمال کرتے ہیں, اپنے بے جا پر جوش موڈ کو مزید پر لطف بنانے کے لئے نشے کا استعمال کرتے ہیں یا پھر اپنی بے چینی کو دور کرنے کے لئے نشے سے پرسکون ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ موڈ کی خرابی میں مبتلا شخص ہر اس چیز کی طرف مائل ہوگا جو فوری طور پر اس کا موڈ ٹھیک کر دے۔ وہ نشے کو ایک “جگاڑ” کے طور پر استعمال کرتا ہے جو اس کا موڈ ٹھیک رکھنے میں اس کی مدد کرتا ہے۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ موڈ کو بہتر بنانے کے لئے نشے کا استعمال ایک عارضی حل ہے جس کے نقصان دہ نتائج سامنے آتے ہیں۔

عام طور پر یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ لوگ نشہ اس لئے کرتے ہیں کیونکہ وہ ذہنی دباؤ یا کسی ٹینشن کا شکار ہوتے ہیں اور وہ اپنی پریشانی دور کرنے کے لئے نشہ نہ کریں تو اور کیا کریں۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو دنیا کے تمام افراد کسی نہ کسی نشے کا استعمال کر رہے ہوتے کیونکہ ہر شخص اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی ذہنی الجھن اور پریشانی کا شکار رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے لوگ نشہ نہیں کرتے بلکہ جن لوگوں کے پاس ذہنی دباؤ پر قابو پانے کی مہارت نہیں ہوتی یا جن میں ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی وہی لوگ نشے کے زریعے اپنی پریشانیوں کو عارضی طور پر پسِ پشت ڈال کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نشہ سے جو مصنوعی سکون انہیں ملتا ہے اس سے وہ لاشعوری طور پر یہ سیکھ جاتے ہیں کہ نشہ ان کی پریشانی کو دور کرتا جبکہ در حقیقت نشہ انہیں عارضی طور پر تمام پریشانیوں سے بے خبر, غافل اور بے حس کر دیتا ہے۔ ایسے افراد کونشے جیسے مصنوعی کیمیکلز کی بجائے قدرتی طریقوں سے اپنے موڈ کو ٹھیک رکھنے کے طریقے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کو بچپن سے ہی کسی جائز پریشانی کا بھی سامنا نہ کرنے دیا گیا ہو, جن کی کسی بھی فرمائش کو رد نہ کیا گیا ہو, جنہیں اپنی ضروریات اور خواہشات کے حصول کے لئے کبھی کوئی جدوجہد نہ کرنی پڑی ہو اور جنہیں بغیر کسی محنت کے ہی سب کچھ فراہم کر دیا گیا ہو ان بچوں میں ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے کیونکہ انہیں زندگی کی جائز پریشانیوں کا سامنا کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔

یہاں اس بات کو سمجھنا بھی بہت اہم ہے کہ ایسا ضروری نہیں کہ ہر شخص اپنے ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہی نشے کا استعمال کرے۔ نشہ استعمال کرنے والوں کی بھاری اکثریت نشے کا آغاز کسی خوشی کے موقع پر, کسی تقریب میں یا دوست احباب کی محفل سے کرتی ہے۔ نشہ کرنے کے تجربے سے گزرنے کے بعد وہ نشے کو پھولوں کی طرح خوشی اور غم دونوں میں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ ایسے افراد کو ذہنی دباؤ کو تحمل سے برداشت کرنے اور قدرتی طریقوں سے اپنے ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے طریقے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

نشہ کرنے کی انتہائی مضبوط جڑیں معاشرے اور کلچر میں بھی موجود ہوتی ہیں۔ ایک بچہ صرف اپنے گھر کے ماحول سے ہی نہیں  سیکھتا بلکہ وہ میڈیا, محلے, دوستوں, تعلیمی ادارے کے ماحول, ثقافت, ہم عمر افراد اور اپنی صحبت سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ نوجوانی میں بالخصوص اپنے ہم عمر افراد اور اپنی صحبت سے اثر لینے کا رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ تیرہ سے انیس سال کی عمر میں نوجوانوں کا دماغ سب سے نازک مرحلے سے گزرتا ہے جس میں ان کا دماغ عقل اور دانشمندی کے اعتبار سے زیرِ تعمیر ہوتا ہے لہٰذا وہ اس عمر میں محض جذباتی بنیادوں پر فیصلے کرتے ہیں اور اپنے ماحول سے بے شمار چیزیں سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان اس عمر میں ایسی صحبت میں اٹھتا بیٹھتا ہے جہاں سگریٹ نوشی,شراب نوشی یا دیگر نشوں کا استعمال کیا جائے تو اس نوجوان کے نشہ کرنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا نوجوانوں کو چھوٹی عمر سے ہی اچھے اور سمجھ دار دوست چننے کے حوالے سے معلومات دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

نوجوان اپنی صحبت کے علاوہ اپنے ادر گرد کے ماحول سے بھی نشہ کرنا سیکھتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک بچے کو تیرہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے نشے کے موزی اثرات کے حوالے سے آگاہی ملنے کے مقابلے میں نشہ کرنے کے طریقے اور نشے کے حق میں چار سو گنا زیادہ معلومات مل جاتی ہیں۔ یہ معلومات اسے فلموں میں اداکاروں کے نشہ کرنے, گانوں میں شراب کے ذکر, شادی بیاہ کی تقاریب میں دوسروں کو شراب, سگار یا شیشہ پیتے دیکھنے, ہر گلی میں سگریٹ کی دکانوں یہاں تک کہ کسی گھر یا خاندان کے کسی بزرگ کو نشے کرتے دیکھنے کی صورت میں ملتی ہیں۔ چھوٹی عمر میں بڑوں کو نشہ کرتے ہوئے دیکھ کر بچہ یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ نشہ کوئی نقصان دہ چیز ہے بلکہ جب وہ اپنے بزرگوں کو یا فلموں میں کام کرنے والے اداکاروں کو نشہ کرتے دیکھتا ہے تو اس کے دماغ کو یہ پیغام ملتا ہے کہ نشہ کوئی بری چیز نہیں بلکہ یہ تو بڑے ہونے کی نشانی ہے, یہ تو فلموں کے ہیرو بھی کرتے ہیں اور یہ تو آج کل کا فیشن ہے۔ بچوں کو بچپن سے ہی نشے سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے بارہا آگاہی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر والدین اس خوف کی وجہ سے اپنے بچوں سے نشے کے موضوع پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں ان کے اندر نشہ کرنے کا تجسس نہ پیدا ہو جائے۔ جبکہ در حقیقت بچوں سے نشے کے موزی اثرات کے حوالے سے کھل کر بات چیت نہ کرنے سے ان کے ذہن میں تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ آخر وہ بھی نشہ کر کے دیکھیں کہ اس سے کیا ہوتا ہے۔ نوجوانوں میں نشے کے حوالے سے تجسس بعض اوقات بہت سے افراد کا پہلی بار نشہ کرنے کی وجہ بنتا ہے۔

کسی بھی شخص کے نشہ کرنے میں نفسیاتی یا دماغی امراض کا بھی بہت اہم کردار ہے۔ تحقیق کے مطابق ہر چار نشے کے مریضوں میں سے تین مریض نشے کی بیماری کے ساتھ ساتھ کسی نفسیاتی بیماری میں بھی مبتلا ہوتے ہیں جس میں بائی پولر ڈس آرڈر, ڈپریشن, شیزوفرینیا یابے چینی اور بےخوابی کے امراض شامل ہیں۔ نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد نشے کو دوائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس سے وہ عارضی طور پر اپنی نفسیاتی کیفیت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کسی بھی فرد کی شخصیت کا اس کے نشے کی طرف رجحان میں بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بغیر سوچے سمجھے خطرے مول لینا, اپنی ذہانت پر غرور کرنا کہ مجھے کچھ نہیں ہوگا میں سب سنبھال لوں گا, اپنے مستقبل کی پرواہ نہ کرنا, ہر وقت “مزے” کی تلاش میں رہنا, راتوں کو جاگنا اور دن میں سونا, زندگی کے بارے میں غیر سنجیدہ اور لاپرواہ ہونا, کسی کے مشورے اور تجربے سے نہ سیکھنے بلکہ خود اس تجربے سے گزر کر سیکھنے کی خواہش رکھنا, منفی سوچ رکھنا, خود کو بے چارہ اور مظلوم سمجھنا, غصیلہ مزاج, اپنے جذبات کا درست انداز سے اظہار نہ کرنا یہ وہ تمام پہلو ہیں جو کسی بھی انسان کے نشے کی طرف رجحان کو بڑھاتے ہیں۔

نوجوانوں میں نشہ کرنے کی ایک اہم وجہ عزتِ نفس کا فقدان بھی ہے۔ عزتِ نفس سے مراد کسی بھی شخص کا اپنے بارے میں یہ خیال ہونا کہ وہ قابلِ عزت اور قابلِ تکریم ہے۔  چونکہ کم عمری میں اکثر نوجوان ابھی اپنی شخصی شناخت کی تلاش میں ہوتے ہیں اور وہ اپنی شخصیت سے اکثر غیر مطمئن رہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ انہیں دوسروں کی پزیرائی حاصل کرنے کے لئے وہ سب کچھ کرنا پڑے گا جو اس کے ہم عمر نوجوان کرتے ہیں جیسے سگریٹ پینا, شراب نوشی, گالی دینا, چھپ کر سکول سے باہر نکل جانا وغیرہ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب لوگ انہیں پسند کریں گے تب ہی وہ خود بھی اپنی نظروں میں قابلِ عزت ہوں گے۔ لہٰذا اسی غلط فہمی کے نتیجے می  وہ اپنے ہم عصر افراد کی دیکھا دیکھی نشے کا استعمال کرنے لگتے ہیں۔ نشے سے نوجوان مصنوعی خود اعتمادی اور عزتِ نفس حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ان کی یہ تمام کوششیں بے سود ثابت ہوتی ہیں کیونکہ نشہ کرنے سے ان کی عزتِ نفس اور خود اعتمادی کو مزید ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایسے نوجوانوں کو اپنے کردار کو سنوار کر اور قابلیت کو بڑھا کر اپنی عزتِ نفس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

نشہ کرنے والوں میں چند افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا حادثاتی طور پر نشے سے تعارف ہوتا ہے مثلاً جب کوئی چوٹ لگنے کی صورت میں انہیں ڈاکٹر کی جانب سے درد ختم کرنے والا انجکشن لگایا جاتا ہے یا لمبے عرصے تک رات کو نیند نہ آنے کی صورت میں ڈاکٹر کی جانب سے یا میڈیکل سٹور سے نشہ آور ادوایات کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ وہ ناسمجھی میں ان ادویات یا انجکشن کو جاری رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر میڈیکل سٹور سے کوئی دوا خریدی گئی ہے تو وہ یقیناً محفوظ ہی ہوگی جبکہ وہ نشے ہی کی ایک شکل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افراد کو زاتی مفادات کی خاطر خفیہ طور پر یا انتہائی چھوٹی عمر میں نشے پر لگا دیا جاتا ہے جس کے بعد وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔

تمام افراد کے نشے کے آغاز کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن جس وجہ سے کوئی نشے کا آغاز کرتا ہے اس وجہ سے کوئی نشے کا مریض نہیں بنتا۔ نشہ کرنے والوں میں سے ہی کچھ افراد نشے کے مریض بن جاتے ہیں اور انہیں نشے کی لت لگ جاتی ہے جو ان سے چھوڑی نہیں جاتی۔ نشہ کرنے اور نشے کا مریض ہونے میں فرق ہے۔ نشے کا مریض اس شخص کو کہتے ہیں جسے نشہ موافق نہیں آتا لیکن پھر بھی وہ نشہ کرنےسے باز نہیں آ پاتا۔

نشے کی بیماری ایک موروثی بیماری ہے اور کسی بھی شخص کے نشے کے مریض بننے کی وجہ اسے وراثت میں ملا وہ جسمانی نظام ہے جس میں نشہ اس کے جسم میں محفوظ طریقے سے ہضم نہیں ہو پاتا بلکہ نشے کی وجہ سے اس کے جسم میں زہریلے مادے بننے لگتے ہیں جس سے اس کے جسم اور دماغ پر زہریلے اثرات رو نما ہوتے ہیں۔ ان تمام اثرات سے نکلنے کے لئے پھر اسے علاج درکار ہوتا ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کی نوجوان نسل کو نشے کے بغیر ایک خوشگوار اور پر لطف زندگی گزارنے کاہنر سکھایا جائے تاکہ انہیں مزہ اور خوشی حاصل کرنے کے لئے نشے کا سہارا نہ لینا پڑے۔