بے آواز چیخیں

HALT ریلیپس کیا بلا ہے؟

کچھ مریض نشہ چھوڑنے کے بعد اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اُن کے اندر خالی پن اور مایوسی بھر جاتی ہے۔ انہیں سلگن بہت تنگ کرتی ہے۔ بظاہر وہ بھلے چنگے نظر آتے ہیں پر اندر سے اُن کا برا حال ہوتا ہے۔ ان کی چیخیں نکل رہی ہوتی ہیں لیکن کوئی سن نہیں پاتا کیونکہ یہ چیخیں بے آواز ہوتی ہیں۔ وہ زخموں سے چور ہوتے ہیں تاہم کوئی بھی یہ زخم دیکھ نہیں سکتا کیونکہ ان زخموں کے منہ باہر نہیں، اندر کی طرف ہوتے ہیں۔
ہم سب نشے کی بربادی سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اپنی فطرت کے لحاظ سے یہ جان لیوا بیماری ہے، تاہم نشہ چھوڑ کر اس بیماری کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے اور ساتھ ساتھ اُن تکلیفوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے جو نشہ چھوڑنے کے بعد ہوتی ہیں۔ تین سو سال سے دنیا میں نشے کی بیماری کا علاج ہو رہا ہے تاہم پچھلے 75 سال میں لاکھوں نشے کے مریضوں نے نشے سے نجات کا معجزہ عام کردیا ہے، خصوصاً پچھلے 35 سال میں امراض قلب اور ذیابیطس کی طرح ایڈکشن کے علاج میں بھی انقلاب آ گیا ہے۔ یہ سب کچھ کہنا اچھا لگتا ہے لیکن اپنی جگہ ایک بہت تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ مریض دوبارہ نشہ شروع کردیتے ہیں۔ بار بار نشہ چھوڑنے اور پھر سے نشہ کرنے کا چکر چلتا رہتا ہے۔اُن کے حالات خراب ہوتے چلے جاتے ہیں، ان میں سے کچھ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اُن کے اہل خانہ تلخ یادوں کے ساتھ دکھ سہتے ہیں۔

نشہ کرتے ہوئے سبھی مریض دکھ اٹھاتے ہیں لیکن کچھ مریض نشہ چھوڑنے کے بعد بھی سکھی نہیں ہوتے، سچ پوچھیں تو وہ اور بھی دکھی ہوجاتے ہیں۔ ان کی بیماری ایک نئی شکل اختیار کرلیتی ہے، وہ دوسری قسم کی تکالیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

وہ تکالیف جو کسی شخص میں منشیات کا استعمال ترک کرنے سے پیدا ہوتی ہیں انہیں علامات پسپائی کہتے ہیں۔ یہ تکلیفیں نشے کے گرد گھومنے والے طرز زندگی سے الگ ہونے پر پیدا ہوتی ہیں۔

وہ تکالیف جو کسی شخص میں منشیات کا استعمال ترک کرنے سے پیدا ہوتی ہیں انہیں علامات پسپائی کہتے ہیں۔ یہ تکلیفیں نشے کے گرد گھومنے والے طرز زندگی سے الگ ہونے پر پیدا ہوتی ہیں۔ علامات پسپائی تین ہفتے تک چلتی ہیں اور پھر مدہم ہوتی ہوئی مٹ جاتی ہیں اور راوی چین لکھنے لگتا ہے، زیادہ تر مریض تیزی سے زندگی کی مانگ میں سیندور بھرنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے چند مریضوں کیلئے نشے سے بغیر زندگی پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہوتی، اُن میں پھر خالی پن، مایوسی اور ذہنی اذیت ابھر آتی ہے ۔ یہ کیفیت کہلاتی ہے۔ جن مریضوں کو سلگن تنگ کرتی ہے بظاہر وہ بھلے چنگے نظر آتے ہیں پر اندر سے اُن کا برا حال ہوتا ہے۔ان کی چیخیں نکل رہی ہوتی ہیں لیکن کوئی سن نہیں پاتا کیونکہ ہوتی ہیں۔ وہ زخموں سے چور ہوتے ہیں تاہم کوئی بھی یہ زخم دیکھ نہیں سکتا کیونکہ ان زخموں کے منہ باہر نہیں، اندر کی طرف ہوتے ہیں۔ ایسے مریض جلد یا بدیر واپس نشہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ ریلیپس کہلاتا ہے۔ ایڈکشن کی دنیا کا ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ریلیپس کو اردو میں ارتداد کہتے ہیں۔ ارتداد کا لفظ مرتد سے نکلا ہے۔ مرتد ایمان لا کر واپس مُکر جانے کو کہتے ہیں۔ یہ بہت تلخ فیصلہ ہوتا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ کوئی چین سے نہیں رہ سکتا۔اس اذیت ناک حالت میں مریض بہت سی کرتا ہے، خود فریبی اپنا جال بننے لگتی ہے۔ ایسے بے چین شخص کو نشے سے نجات دلانا بہت صبرآزما کام ہوتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے 37 سال (اور میں اب بھی یہ کام کررہا ہوں) اس طرح کے ہزاروں حیرت زدہ اور اذیت میں مبتلا افراد کے حالات زندگی کا مطالعہ کرتے کرتے گزار دیے جو بار بار ریلیپس سے نبردآزما ہوجاتے ہیں۔ ان مریضوں میں ہونے سے کچھ پہلے علامتیں نظر آتی ہیں جنہیں کہا جاتا ہے۔ نتیجے میں …….. کا یہ پروگرام معرض وجود میں آیا۔ ریلیپس سے بچاؤ کے کچھ طریقے بہت مؤثر ہیں اور ان پر میراایمان بہت مضبوط ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ انمول معلومات آپ کی زندگی بچا سکتی ہیں۔ اگر آپ اس تحریر کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں مشکلات محسوس کریں تو ہر گز ناامید نہ ہوں، ریلیپس سے بچاؤ کی اس حکمت عملی کو بار بار پڑھتے رہیں، آہستہ آہستہ آپ کو سب باتیں سمجھ آنے لگیں گی۔ نشے کی بیماری ایک لاعلاج بیماری ہے لہذا اس میں نشہ چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ حوصلہ نہ ہارئے یہ ذرا سمجھنے کی بات ہے!

نشے کی بیماری
تیلی بجھ بھی جائے تو چولھا جلتا رہتاہے
نشے کی بیماری سے جان کھو دینا عام ہے۔ آپ ریلیپس کی پیش بندی کے علاج کو اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ آپ کا پیارا محض اس کوتاہی سے ریلیپس نہ ہوجائے۔ ایک نیا اور بہت مؤثر طریقہ علاج ہے۔ یہ بہت اہم ہے ہم بار بار ریلیپس ہونے والے مریضوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ابھی بھی امید کی کرنیں موجود ہیں۔ میرا یقین ہے کہ یہ علم ان مریضوں کو مدد دینے کا ایک بہترین راستہ دکھاتا ہے جنہیں ماضی میں لاعلاج سمجھا جاتا تھا۔

1980 ء میں جب کے دروازے نشے کے مریضوں پر کھلے، چند ہی لوگ جانتے تھے کہ اس سے بھی کم لوگ جانتے تھے کہ نشہ چھوڑنے کے بعد سب کچھ ہرا ہرا نہیں ہوتا، یہاں سے ایک آسان لیکن طویل جدوجہد کا آغاز ہوتاہے۔ جسے  کا حسین سفر کہا جاسکتا ہے۔ صداقت کلینک کے جامع علاج سے ان گنت تباہ حال زندگیاں سنبھل گئیں اور سینکڑوں گھر ٹوٹنے سے بچ گئے، زخم مندمل ہوگئے، بے شمار لوگوں کا وقار بحال ہوا۔ یہ سب کچھ تو میرے لئے بہت خوش کن تھا تاہم کچھ مریض جلد ہی ریلیپس ہو جاتے اور لوٹ کر علاج گاہ میں آجاتے۔ کیونکہ وہ نشے سے بحالی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے۔ وہ اور ان کے اہل خانہ اس بات سے واقف نہ تھے کہ نشے سے نجات کا سفر آدھے اور ادھورے دل سے کیا جائے تو نتیجہ ریلیپس کی صورت میں نکلتا ہے اور یہ ڈانواڈول بحالی کا شاخسانہ ہوتا ہے۔

1980 ء میں پاکستان میں اس وقت زیادہ تر ماہرین مجھ سے سینئر تھے اُن کی عمومی سوچ یہی تھی کہ ریلیپس کا رجحان رکھنے والے ان مریضوں سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں، لہذا ایسے مریضوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اُن مریضوں پر توجہ دی جانی چاہیے جو آسانی سے نشہ چھوڑ دیتے ہیں۔ میری طبیعت مریضوں میں ایسے تعصب پر مائل نہ تھی اور ریلیپس کے عادی مریضوں سے بھی امیدیں وابستہ کر لیتا تھا۔ ان کا علاج تکلیف دہ حد تک مشکل ہوتا ہے تاہم میں فوراً ہی سیکھنے لگا۔

پہلی چیز میں نے یہ جانی کہ ریلیپس کا رجحان رکھنے والے مریضوں پر روایتی نفسیاتی طریقے کام نہیں کرتے۔ میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مریضوں میں  کا علاج کافی نہیں ان کی  کا علاج بھی ضروری ہے۔ یوں سمجھیں کہ سیلاب کی طرح آگے بڑھتے  ایک مقدس جہاد ہے۔

اس زمانے میں علاج کے بعد کچھ مریض تو بہت سنجیدگی اور باقاعدگی سے ریلیپس ہو جاتے تھے۔ سچ پوچھیں تو ان میں سے اکثر ریلیپس نہیں ہوتے تھے بلکہ پورے جوش و جذبے سے ارادتاً دوبارہ نشہ کرلیتے تھے۔

اس وقت صداقت کلینک میں مریضوں کو کھری کھری سنانے کا رواج تھا۔ میں نے جلد ہی سیکھ لیا کہ ریلیپس کا رجحان رکھنے والے مریضوں پرایسا ساس بہو والا انداز کام نہیں کرتا۔ ایسے مریض تو کھری کھری سنانے میں خود چمپئین ہوتے ہیں۔ یہ تجربات بہت تلخ تھے۔ میں نے جلد ہی یہ بھی جان لیا کہ ان کے ساتھ سختی بے فائدہ ہے، یہ تو خود ہی اپنے ساتھ بہت زیادہ تندوترش ہوتے ہیں۔ ان میں خود کو سزا دینے اور ملامت کرنے کا بہت رجحان ہوتا ہے۔ وقت گزرتا رہا اور منظر بدلتا رہا، صداقت کلینک کا پروگرام ایک خوبصورت چشمے کی طرح نکھرتا رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ کامیابی قدم چومتی رہی۔ دو جذبے علاج میں ابھرتے رہے، ایک صبر جو مریضوں نے مجھے سکھایا اور دوسرا اپنے آپ سے پیار جو میں نے انہیں سکھایا۔

ریلیپس کا میلان زہریلی کھمبیوں اور پھپھوندی کی طرح اندھیرے میں پروان چڑھتا ہے۔ واضح اور روشن سوچ ریلیپس کے میلان کا قلع قمع کر دیتی ہے۔ ریلیپس اور بحالی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ریلیپس کے درد کو سہے بغیر آپ بحالی کا مزہ نہیں چکھ سکتے ۔ریلیپس کا میلان کوئی شرم کی بات نہیں، یہ بحالی کے عمل کا نارمل حصہ ہے۔ ریلیپس کی فکر چھپانے سے یہ میلان پروان چڑھتا ہے۔ ریلیپس سے کھل کر اور ایمانداری سے نپٹنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہت سے مریض غلط عقائد یا احتیاطی تدابیر سے لاعلمی کی وجہ سے ریلیپس ہوتے ہیں۔ وہ خود کو ملامت کرتے ہیں، اہل خانہ کو ملامت کرتے ہیں اور معالج کو ملامت کرتے ہیں واپسی میں انہیں بھی ملامت ہی ملتی ہے۔ ملامت کا یہ گورکھ دھندہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ میں ریلیپس سے بچاؤ پر بہت درد دل سے کام کرتا ہوں تاکہ متاثرہ شخص کے دل میں امید کی شمع جلتی رہے! کالے بادلوں کے کناروں پر بھی چاندی کے تار چمکتے رہیں، سرنگ کے اُس پار دوسر ی جانب روشنی نظر آتی رہے۔ میں نے ریلیپس کی عِلت میں متبلا ان مریضوں کا وفاشعار دوست بننے کا ہنر سیکھا اور  نبھایا۔ میں نے مریضوں کے اہل خانہ کے درد کو بھی سمجھا اور ان کے ساتھ معلومات اور تجاویز کے علاوہ آنسوؤں اور آہوں کو بھی شئیر کیا۔ آخر کار میں انہیں یہ سکھانے میں کامیاب ہوا کہ 

ابتدائی سالوں میں مریضوں کے ساتھ مجھے زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ مایوس ہونے کی بجائے میں نے روایتی طریقے ترک کر کے اصل ماہرین سے دوبارہ سیکھنا شروع کر دیا، اصل ماہرین میری نظر میں یہ مریض ہی تھے۔ علاج کا اہم حصہ مریض اور اہل خانہ سے انفرادی نشست پر مبنی ہے جو کہ تمام کا تمام ریلیپس کی وجوہات تلاش کرنے اور اس سے بچاؤ کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

مریضوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ بتائیں وہ آخری بار کب اور کتنا عرصہ نشے کے بغیر رہے؟ مجھے حیرت ہوئی کہ زیادہ تر مریض اپنے حالیہ ریلیپس سے پہلے اپنے مریض ہونے کے قائل نہ تھے اورانہیں کسی باقاعدہ علاج کی ضرورت کا احساس بھی نہ تھا۔ مجھے یہ جان کر بھی تعجب ہوا کہ ان میں سے زیادہ تر نشے سے پاک رہنے کی کوئی شدید خواہش نہیں رکھتے تھے اور وہ کچھ نہ کچھ نشہ کرنے کا حق محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ ان مریضوں کے ساتھ ماضی میں ہر قسم کی کھینچ تان ہو چکی تھی۔ ان میں سے کچھ کے ساتھ بجلی کے جھٹکوں اور تکلیف دہ علاجوں کا تجربہ بھی کیا گیا تھا۔ کچھ کو کئی مہینوں تک تالوں میں بند رکھا گیا تھا۔ ان میں سے کئی کو بہانے سے جیل بھجوایا گیا اور بعض کو پردیس بھی بھیجا گیا، پھر بھی انہوں نے دوبارہ نشہ شروع کر دیا۔

کچھ مریض ایسے بھی تھے جو نشہ چھوڑنے میں مخلص تھے اور قوت ارادی کے بل پر نشہ چھوڑنے کی جان دار کوششیں بھی کرتے رہتے تھے لیکن پھر بھی وہ ریلیپس ہو جاتے تھے۔ ان مریضوں کے ماضی پر گہری نظر ڈالنے کا مقصد یہ تھا کہ میں مرحلہ وار ان باتوں کو ترتیب دے سکوں کہ آخر جو شخص نشہ چھوڑنا چاہتا ہے اور اس بیماری کے بارے میں خاصا علم اور قوت ارادی بھی رکھتا ہے، آخر وہ کیسے دوبارہ نشہ شروع کر دیتا ہے؟ آخر ہیروئن کے مریض خود کو ایک سگریٹ پینے پر کیسے قائل کر لیتے ہیں جبکہ وہ جانتے بھی ہیں کہ یہ ایک سگریٹ انہیں دوبارہ نشے کی دلدل میں دھکیل دے گا۔ ہم نے ان تمام مریضوں کو ایک مضبوط …….. میں ڈالنا شروع کردیا اور فالو اپ پروگرام سے الگ کر دیا کیونکہ فالو اپ پروگرام اتنی شدت سے بحالی کے پروگرام کا تصور ہرگز نہیں دیتا تھا جتنی اشد ضرورت ان مریضوں کو تھی۔ …….. ان مریضوں کیلئے مخصوص کردیا گیا جو ایک ہی چھلانگ میں دلدل کے اُس پار چلے جاتے تھے۔ آؤٹ ٹریٹمینٹ پروگرام ایک طرح ہمارا آئی سی یو قرار پایا جہاں ٹریٹمینٹ کا مطلب ٹریٹمینٹ ہی تھا۔

ریلیپس کی علت میں مبتلا مریضوں میں بہت سی باتیں مشترکہ ہیں۔ یہ بات میں نے مریضوں سے تبادلہ خیالات کے بعد جانی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اکثر لوگ ایک طرح کی گدلی اور میلی سوچیں، جذباتی رد عمل، خاص حرکات و سکنات اور حالات سے گزرتے ہوئے ریلیپس ہوتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا، سیکھنے کا عمل تیز ہوتا گیا۔ یوں ایک مختصر اور مؤثر پروگرام سامنے آیا جسے کا نام دیا گیا۔ یہ پروگرام آغاز سے ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کرتا ہے اور مریض کو ارتداد کی گہری کھائی میں اترنے سے بچا لیتا ہے۔

کچھ ہی سالوں میں نشے کے علاج کے حوالے سے سینئر ماہرین نفسیات کا شوق ماند پڑ گیا اور انہوں نے نشے کے مریضوں سے نہ صرف ہاتھ کھینچ لیا بلکہ فتویٰ دے دیا کہ ’’نشے کے مریض سدھر نہیں سکتے۔‘‘ اپنی شکست ماننا ماہرین کیلئے بھی مشکل ہوتا ہے تاہم صداقت کلینک سے منسلک ہر شخص میں احساس ذمہ داری بڑھ گیا۔ صداقت کلینک نے آغاز سے ہی ریلیپس کو علاج کی کمزوری گردانا اور کسی ایسے ’’پروگرام‘‘ کی تلاش شروع کر دی جس سے ہم اور ہمارے مریض سرخرو ہو سکیں۔ ہم نے منشیات کے مریضوں کی بحالی کیلئے ایک روایتی مرکز کا آغاز کیا تھا لیکن جلد ہی ہماری توجہ صرف ریلیپس پر مرکوز ہو کر رہ گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ ریلیپس ہماری چھیڑ بن گیا۔ ہمیں مریضوں کے نشہ نہ چھوڑنے پر طعنے دئیے جاتے! 1980 میں طبی حلقوں میں علاج منشیات کو زیادہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ تاہم ہماری تمنا تھی کہ ماہرین امراض قلب اور سرجنوں کی طرح ہمیں بھی ممتاز ڈاکٹر سمجھا جائے۔ ہمارے مریضوں کے گھروں میں بھی ہماری عزت اور وقار زیادہ نہ تھا۔ دراصل خود ہمارے مریضوں کا اپنے گھروں میں کوئی وقار نہ تھا تو ہمارا کیسے ہوتا؟ یہ بات ہمارے لئے کافی تحریک کا باعث تھی کہ کچھ کر گزریں!

ہم نے اپنے علاج کا مرکزی نکتہ ریلیپس سے بچاؤ کو بنایا۔ ہم نے ان غلط عقیدوں اور نقصان دہ رویوں کو بھی پہچاننا شروع کر دیا جو ریلیپس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ ہم انتہائی نرم انداز میں مریضوں پر اثر انداز ہونا سیکھ رہے تھے۔ ہم نے مریضوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ ایک طرف وہ تھے جو علاج میں سے گزرنے کے بعد تیزی سے آگے بڑھتے تھے اور دوسرے وہ جو نشہ چھوڑتے ہی گلی سڑی سوچوں میں ڈوب جاتے تھے اور واپس نشے میں لے جانے والی اذیت کی گھاٹیوں پر پھسلنا شروع کر دیتے۔

پہلی قسم وہ تھی جنہیں بحالی ایک انمول تحفے کی طرح پلیٹ میں پڑی مل جاتی تھی اور دوسری قسم وہ جنہیں نشے سے آزادی کیلئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ تھے جنہیں ریلیپس سے بچنے کیلئے جہاد کرنے کی ضرورت تھی لیکن وہ اس کیلئے تیار نہ تھے۔ وہ اس قیمت پر نشہ چھوڑنے کا ذوق و شوق نہ رکھتے تھے اور دوسری طرف وہ تھے جنہیں خدا چھپڑ پھاڑ کر دے رہا تھااور وہ نشہ چھوڑ کر بھر پور زندگی گزار رہے تھے۔

جن مریضوں میں ایک بڑی جدوجہد کا عنصر کم نظر آیا، انہیں دوبارہ نشہ کرنے سے پہلے ہی ہم نے …….. کا مشورہ دینا شروع کر دیا۔ نشہ کئے بغیر پھر سے ان ڈور ٹریٹمینٹ میں آنا انہیں عجیب لگتا تھا جیسے کہ ’’جرم‘‘ کا ارتکاب کیے بغیر ’’سزا‘‘ کا تصور ۔ جلد ہی اس کے فوائد سامنے آنے لگے۔ جو مریض ان ڈور ٹریٹمینٹ برائے ریلیپس پری وینشن کیلئے راضی نہ ہوتے انہیں این اے کے ڈھانچے میں زیادہ شدت سے ایڈجسٹ ہونے کی تجویز دی جاتی۔…….. پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن این اے پروگرام میں مریض کا گھیراؤ ’’اس درجے کا نہیں ہوتا جتنا کہ کسی ریلیپس کی گھاٹی پر لڑھکتے ہوئے مریض کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ جدوجہد جاری رہی جلد ہی ہم نے یہ جانا کہ ریلیپس سے بچاؤ کا طریقہ علاج اختیار کرنے کے بعد ان مریضوں کو افاقہ ہوتا ہے اور نشے کے بغیر وقفے زیادہ لمبے ہوکر سامنے آنے لگتے ہیں۔ اگروہ منشیات کا استعمال دوبارہ شروع کر بھی دیتے توان کے ریلیپس کا عرصہ مختصر ہوتا اور ریلیپس کے برے نتائج نسبتاً کم ہوتے اور وہ دوبارہ علاج میں آنے کے خواہش مند نظر آتے۔ ہم امید اور گرم جوشی محسوس کرنے لگے۔

1991 ء میں امریکہ کے سفیر مسٹر نکولس پلاٹ کی خصوصی دعوت پر مجھے امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے کا موقع ملا جس میں میرا نشے کی بیماری کی بہترین علاج گاہوں میں ٹریننگ اور قیام بھی شامل تھا۔ بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا۔ امریکہ میں گلی گلی روزانہ این اے میٹنگ کے نام پر ان مریضوں کے اجتماع ہوتے ہیں جو نشے سے بحالی پا چکے ہوتے ہیں۔ این اے میٹنگ اوراین اے پروگرام نشے سے بحالی کے خاص اجزا ہیں۔ اس دورے نے میری پیشہ ورانہ زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ جہاں ملکی ماہرین نفسیات مجھے گھاس نہیں ڈال رہے تھے وہاں اس طرح کی بین الاقوامی پذیرائی سے صداقت کلینک کے معیاری علاج گاہ بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔ اسی سال مجھے امریکہ کی بین الاقوامی شہرت کی حامل علاج گاہ ’’ہیزلڈن‘‘ میں ٹریننگ کا موقع ملا۔ اس ٹریننگ نے مجھے صحیح معنوں میں نشے کے مریضوں کی خدمت کے قابل بنایا۔

مجھے اور میری وننگ ٹیم کو امید ہے کہ یہاں دی گئی معلومات آپ کو ان ہزاروں مریضوں کے تجربات سے روشناس کرائیں گی جنہوں نے براہ راست یا بلاواسطہ اس طریقہ علاج کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔ یہ آپ تک اپنا تجربہ اور امید پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ ہم آپ کے ہمراہ ایک مہم جوئی کا آغاز کررہے ہیں، ایک ایسی مہم جوئی جو آپ کو ریلیپس سے بچاؤ کے علم سے متعارف کرائے گا۔ اس علم کو جاننے اور جمع کرنے میں ہمیں 37 برس لگے۔ یہاں ایسی اہم معلومات ہیں جو زندگی اور موت کے درمیان فرق کا باعث بنتی ہیں اور ایک واضح لکیر کھینچ دیتی ہیں۔