!جب خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں

جذبات کو ذرا الگ کردیں
اکثر لوگ نشے کے مریض سے لاتعلقی کا مشورہ دیتے ہیں۔ لوگ نشے کی بیماری کو نہیں مانتے، وہ اسے اخلاقی گراوٹ سمجھتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ نشئی اپنی بربادی کا خود ہی ذمہ دار ہے اور اس بیماری سے وہ محض ارادے کی قوت سے نکل سکتا ہے، کسی کو اس کی مدد کرنے کی ضرورت نہیں یا پھر اگر وہ مرتا ہے تو بیشک مرے، لوگوں کا خیال ہے کہ ہم ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے جس سے نشئی کوصحت یابی میں مدد ملے۔

upper
Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹر صداقت علی، ٹرننگ پوائنٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ ملک کے ممتاز ماہرِ منشیات ہیں۔ پاکستان میں نشے کے علاج کے حوالے سے ان کا نام سب سے نمایاں ہے۔ انہوں نے ڈو میڈیکل کالج ، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے نشے کے علاج میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ اب تک ہزاروں نشے کے مریض ان کے ہاتھوں شفایاب ہو چکے ہیں۔ (مزید پڑھیے)

lower

پہلے پہل مصنوعی تنفس فراہم کرنے پر بھی بہت شوروغوغا ہوا۔ سوال یہ اُٹھا: کیا انسان کو خدا کے ہا تھوں سے واپس لانے کی کوشش ہمیں زیب دیتی ہے؟ کوئی ڈوب کر جان دے دے تو اس کے دل کو جھنجھوڑ کر چلانا خدا کے کاموں میں دخل اندازی ہو گی؟ باتیں بنانے کا کوئی بل نہیں آتا اس لئے لوگ بے حساب بناتے ہیں، تاہم دریا میں ڈوبنے والا کوئی اپنا ہو تو لوگ دریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں چاہے تیرنا نہ بھی آتا ہو! کسی اجنبی کی جان اتنی قیمتی نظر نہیں آتی! نشے کے مریض سے لاتعلقی کا مشورہ بھی ایسا ہی ہے۔ دوسروں کو مشورے دینا آسان ہے تاہم ہیروئن اور کوکین کے چنگل میں پھنسنے والا کوئی اپنا لخت جگر ہو تو؟ شراب میں غرق ہونے والا اپنے سر کا تاج ہو تو؟ ایسے میں لاتعلقی کا سبق یاد نہیں آتا۔

آپ کو بار بار لاتعلقی کا مشورہ دیا جاتا ہے تاہم، آپ ایسا کر نہیں پاتے۔ بار بار واپس پلٹتے ہیں، لاتعلقی کا نظریہ زیادہ دیر تک آپ کے دل میں جگہ نہیں بناتا۔ ماہرین کبھی اہل خانہ کو لاتعلقی کا مشورہ نہیں دیتے بلکہ وہ ’’جسمانی دوری‘‘ یا ’’جذباتی دوری‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ جب مریض آپ پر جذباتی اور جسمانی حملے کرتا ہے تو آپ اپنا بہترین دفاع کرنا چاہیئے۔ آپ جوابی حملے نہیں کرتے تاہم آپ اپنے آپ کو حتیٰ امکان بچاتے ہیں اور دفاع پر ندامت محسوس نہیں کرتے۔ آپ مار کر یا گالیاں برداشت کر کے فخر محسوس نہیں کرتے اور اپنے آپ کو شہید وفا نہیں بناتے۔ جسمانی دوری کی ضرورت تب پڑتی ہے جب مریض آپ کو زخمی کرنے پر اتر آتا ہے۔ جسمانی دوری پر ہم پھر کبھی بات کریں گے۔ زیادہ تر ماہرین جذباتی دوری کی بات کرتے ہیں۔ لاتعلقی اور جذباتی دوری میں بہت فرق ہے۔

’’ لاتعلقی‘‘ کے الفاظ استعمال کر کے جذباتی دوری کے نظرئیے کو سمجھنا بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ایک انتہائی کار آمد ہدایت بے معنی ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ یہ ہماری فطرت کےجذباتی تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، یہ بچاؤ کی کوششوں کے برعکس نظر آتی ہے۔ اس سے خاموشی کے ساتھ دور کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے کا تاثر جنم لیتا ہے۔ دراصل کسی پیارے کے ساتھ لاتعلقی اور جذباتی دوری کے فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین جب جذباتی دوری کا مشورہ دیتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ آپ نشئی سے جذباتی طور پر الجھنے سے گریز کریں تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس سے سختی یا لاپرواہی برتیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اسے بیچ منج دھار میں ڈوبنے کیلئے چھوڑ دیں۔ زیادہ تر اہل خانہ جذباتی دوری کا مشورہ قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایک خاص غلط فہمی کی وجہ سے خاندانی نظام جذباتی دوری کے خلاف نظر آتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ آپ کا نہیں، نشئی کا مسئلہ ہے، چونکہ وہ آپ کا بیٹا ہے تو یہ آپ کا بھی مسئلہ ہے۔ جذباتی دوری یہ نہیں کہ آپ اس سے رشتہ ختم کر دیں، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے موڈ اور مزاج کا ہمسفر بننے کی بجائے پرسکون رہیں تاہم اس مسئلے کا موثر حل سوچتے رہیں، کیونکہ اس کا اور آپ کا نفع ونقصان سانجھا ہے، اس کے بچاؤ میں آپ کا بچاؤ بھی ہے۔ تاہم آپ کیلئے ضروری نہیں کہ وہ پریشان ہو تو آپ پریشان ہوں۔ وہ خوش ہو تو آپ خوش ہوں۔ آپ اپنے موڈ اور مزاج کو اپنی پوری زندگی اور روز مرہ معمولات کے تناظر میں رکھ سکتے ہیں تاہم جذباتی طور پر کچھ فاصلے پر رہتے ہوئے آپ اس کی بھر پور مدد بھی کر سکتے ہیں۔ اب جبکہ دماغ میں پیدا ہونے والے جذباتی طوفانوں کی تصویر کشی کی جا سکتی ہے تو ہم ایسا بہت کچھ جان چکے ہیں جو اس سے پہلے ممکن نہ تھا۔ جب بادی النظر میں کوئی صورت حال خطرناک دکھا دیتی ہے تو فوراً خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں تاکہ ہم اس چیز سے بچنے یا پھر لڑنے کی تیاری کریں۔ دل دھڑکنا شروع کر دیتا ہے، سانس تیز چلنے لگتی ہے، چہرہ بھینچ جاتا ہے، بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور ایڈرنالین رگوں میں دوڑنے لگتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے شعور نے ابھی خطرے کو صحیح طرح سے پہچانا بھی نہیں ہوتا اور ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہماری شعوری سوچ بچار سے پہلے ہو جاتا ہے۔ یہ اعلا ن جنگ ہمارے دماغ کا سوچا سمجھا فیصلہ نہیں ہوتا۔ عجیب بات ہے نا؟ دماغ کا ایک چھوٹا سا بادام جیسا حصہ امگڈلہ آناً فاناً گردونواح سے خطرے کی بو سونگھ کر ایمرجنسی کا اعلان کر دیتا ہے اور پورے وجود میں سراسیمگی پھیل جاتی ہے۔ یوں سمجھیئے کہ بچاؤ کی کنجی دراصل امگڈلہ میں ہی رہتی ہے۔ چائے کی پیالی میں یہ طوفان کوئی سوچا سمجھا ردعمل نہیں ہوتا، امگڈلہ شعور سے صلاح مشورے کا انتظار نہیں کرتا، حواس خمسہ سے ملنے والی کچی پکی معلومات کے بل بوتے پر ہی ’’ہٹو بچو‘‘ کا شور مچا دیتا ہے۔ امگڈلہ بہت تیزی سے متحرک ہوتا ہے اور حفظ ماتقدم کے طور پر بھاگ دوڑ اور دھنیگامشتی کا آغاز کر دیتا ہے۔ سائنسدانو ں نے تجربات کی روشنی میں بتایا ہے کہ غصے والا چہرہ دیکھتے ہی سیکنڈ کے پچیسویں حصے میں ہمارا امگڈلہ آپے سے باہر ہونے لگتا ہے۔ انتہائی کم وقت میں سوچ بچار ممکن ہی نہیں، یہ سب کچھ بنا سوچے سمجھے ہی ہوتا ہے۔ اتنے مختصر وقت میں امگڈلہ یہ بندوبست کر لیتا ہے کہ ارد گرد کوئی ممکنہ خطرہ ہو تو بس پھر اس کی ایسی تیسی۔ امگڈلہ پھر آؤ دیکھتا ہے نہ تاؤ، گردے کے اوپر وا قع ایک غدود کو سگنل بھیجتا ہے کہ جنگ کی تیاری کی جائے، یلغار ہو! دوسرے لفظوں میں امگڈلہ اپنی مرضی پر چلتا ہے کسی ’’بڑے چھوٹے‘‘ کے حکم کا انتظار نہیں کرتا اور اعلان جنگ کر دیتا ہے۔

امگڈلہ پھرتی سے کام کرتا ہے لیکن شعوری سوچ و بچار اس کے فرائض منصبی میں شامل نہیں ہوتی۔ امگڈلہ نے یہ سبق خوب یاد کیا ہوتا ہے کہ فوری ایکشن لینا ہے، اسے اجازت درکار نہیں ہوتی۔ ہمارے بچاؤ کیلئے امگڈلہ فوری دوڑ دھوپ کرتا ہے جبکہ ہمارا شعور عقل ودانش اور سمجھ داری کا استعمال کرتا ہے اور صورت حال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد احکامات صادر کرتا ہے۔ امگڈلہ انتظار کا قائل نہیں ہوتا، امگڈلہ خطرناک صورت حال میں انتظار پر تیار ہی نہیں ہوتا، اس کا فرض منصبی یہی ہے۔ جب بھی وہ خطرے کی بو سونگھتا ہے یا کوئی تشویش کی بات نظر آتی ہے وہ حرکت میں آ جاتا ہے۔ آپ اسے ’’ہاٹ بٹن‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں، جب کوئی بلا نوش دھت ہو کر گھر لوٹتا ہے اور وہ اس وقت تلخ موڈ میں ہے، آپ کا امگڈلہ الارم بجا دیتا ہے اور آپ احتیاط کی بجائے جھگڑنے کیلئے فی الفور لنگوٹ کس لیتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے گفت و شنید فساد میں بدل جاتی ہے اور پھر آپ کو اپنے روئیے پر پچھتاوا ہوتا ہے اور ایسے میں آپ اسے وہی کچھ دے دیتے ہیں جس سے پہلے منع کر رہے تھے۔ اشتعال دلانا اور پھر معاونت کرنا لازم و ملزوم ہیں۔ اصل میں آپ کو نشئی کی زندگی میں مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک نشئی سے مذاکرات کیلئے بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، بھر پور تیاری اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں کسی لمحے کی وقتی گرمی میں تو بات صرف بگڑ ہی سکتی ہے۔ لمبی منصوبہ بندی مسلسل راہنمائی اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ہی صورت حال کو بہتری کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔

تسلی کی بات یہ ہے کہ ہم صرف امگڈلہ کے رحم کرم پر نہیں ہیں، ہمارے دماغ کے عین سامنے ماتھے کے پیچھے شعور کی آماجگاہ ہے، اسے آپ ماسٹر مائنڈ بھی کہہ سکتے ہیں۔ دماغ کا یہ حصہ “پہلے تولو پھر بولو” اور “پھونک پھونک کر قدم اٹھاؤ جیسے” نظریات “پر چلتا ہے، تاہم ماسڑ مائنڈ کے شائستہ اور ٹھوس اقدامات سے پہلے ہی امگڈلہ ہڑبونگ مچا دیتا ہے۔ حتمی پا لیسی بناتے ہوئے ماسڑ مائنڈ کو وقت لگتا ہے اور یہ حتمی پالیسی بھگدڑ کی جگہ کتنی تیزی سے لیتی ہے اسی پر ہماری خوشحالی کا دارومدار ہے۔ امگڈلہ کی ذمہ داری فوری بچاؤ تک محدود ہے، مثال کے طور پر ہم کہیں گھوم پھر رہے ہیں اور امگڈلہ کو لگتا ہے کہ ہماری راہ میں کوئی سانپ ہے تووہ فوری طور پر رک جانے، بھاگ جانے یا مرنے مارنے پر آمادہ کرے گا تاہم جب ہما را ماسڑ مائنڈ جلد یہ جان لے گا کہ یہ سانپ نہیں بلکہ محض ایک رسی ہے تو وہ ہمیں مسکرا کر آگے بڑھ جانے کی اجازت دے دے گا۔ امگڈلہ بنا کوئی وقت ضائع کئے عارضی اقدامات کیلئے تیار کرتا ہے، جبکہ ماسڑ مائنڈ سوچ بچار اور فیصلہ کن اقدام کیلئے کچھ وقت لیتا ہے۔

امگڈلہ بھی بہت کا م کی “چیز” ہے۔ اگر ہمیں صرف اپنے ماسڑ ما ئنڈ پر تکیہ کرنا پڑتا تو شاید ہم زندگی میں چلتے چلتے کئی سانپوں اوربچھوؤں کے سامنے سوچ بچار میں غرق ہو جانے کی غلطی کر گزرتے، انتظار کی گھڑیاں گنتے، موجود آپشنز میں سے کوئی چننے کا فیصلہ کرتے اور اسی دوران سانپ اور بچھو موقع پا کر ڈس لیتے اور ہم جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے !

جب بلانوش گاڑی لے کر گیراج میں داخل ہوتا ہے تو جہاں ہمیں امگڈلہ فوری طور پر لڑنے بھڑنے کیلئے تیار کرتا ہے وہیں ماسٹر مائنڈ اس کی چال ڈھال اور انداز و اطوار کا جائزہ لینا چاہتا ہے۔ آیا وہ واقعی پیتا رہا ہے یا نہیں؟ وہ مہ نوشی کے کس مرحلے میں ہے؟ کیا وہ ابھی ابھی شراب پی کر آیا ہے اور ترنگ میں ہے؟ یا اسے شراب پیئے چند گھنٹے گزر گئے ہیں اور اب شراب سے بننے والے زہریلے مادوں کے زیر اثر تلخی کے مرحلے میں ہے یا پھر وہ دھت ہے اور اُس سے چلا جا رہا ہے اور نہ ہی بات کر پا رہا ہے؟ یہ فیصلہ کرنے کیلئے ماسٹر مائنڈ اسے اپنے سامنے سے گزر کر گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ کیا اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہے؟ اس کا موڈ کیسا نظر آر ہا ہے؟ ہمیں کیا حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے؟ بلا نوش کے گھر میں داخل ہوتے ہی بچوں کا تتر بتر ہو جانا بڑی عام سی بات ہے۔ وہ اپنے کمرے میں جا چھپتے ہیں یا پھر دوستوں سے ملنے کیلئے گھر سے نکل جاتے ہیں۔ وہ ماسٹر مائنڈ کے حتمی فیصلے کا انتظار نہیں کرتے کہ بلانوش دھت ہے بھی یا نہیں؟ وہ امگڈلہ کی سنتے ہیں جو کہتا ہے ’’اٹھو بھاگو دوڑو، ہٹو بچو‘‘۔ وہ کسی پھڈے سے بچنے کیلئے محفوظ پناہ گاہ کی طرف لپکتے ہیں۔ نتیجے میں نشئی شیم محسوس کرتا ہے وہ سمجھتا ہے نشے میں نہ ہو تب بھی لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں۔ ایسے میں وہ بے بسی کے عالم میں دھونس دھمکی کے ذریعے سب کو ’’لائن حاضر‘‘ رہنے کا حکم دیتا ہے۔

خطرے کا یہ الارم اس وقت بھی حرکت میں آ جاتا ہے جب نشہ بازی کے منفی نتائج آتے ہیں۔ مثلاً کسی نشہ باز کو روزگار سے نکالا جاتا ہے تو اہل خانہ بے چین ہو جاتے ہیں اور فوری ردعمل دیتے ہوئے اسے فکر مندی سے نکالتے ہیں حالانکہ اسے فکر مند ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب بلانوش ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ہے تب بھی اہل خانہ کی بے چینی آسمان کو چھونے لگتی ہے اہل خانہ کو بےچین دیکھ کر نشئی بھی بےچین ہو جاتا ہے اور بھڑک اُٹھتا ہے۔ نتیجہ:وہ سب جہاں بھی جا رہے ہوتے ہیں ان کی منزل جھگڑا بن جاتی ہے۔ جب وہ اپنی اماں کے پرس سے روپے چوری کر کے ہیروئن پیتا ہے تو ڈر اور خوف عروج پر ہوتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں یہ آخر اور کتنا گرے گا؟ جب کوئی ماں بچوں کو تنہا چھو ڑ کر زینکس کی گولیاں پھانک لیتی ہے تو بچے ڈر جاتے ہیں۔ ایسے میں وہ فوری طور پر کیا کر سکتے ہیں؟ آپس میں لڑائی جھگڑا یا پھر قبرستان جیسی خاموشی۔ اگر ماسڑ مائنڈ میدان میں اترے تو کیا بولے گا؟ ’’ہاں! یہ بہت سنجیدہ صورت حال ہے اور اچھا ہو گا کہ ہم فوری طور پر مناسب اقدام کریں ورنہ ہما ری زندگی بھی پسماندگی کی طرف چلی جائے گی۔ دراصل قدم اٹھا کر ہم صرف اسے نہیں اپنے آپ کو بھی بچائیں گے‘‘۔ امگڈلہ کہتا ہے کچھ نہ کچھ کر گزرو۔ ماسڑ مائنڈ کہتا ہے بہترین قدم اٹھاؤ جس سے مثبت نتائج نکلیں۔ ایسے میں بہترین قدم کیا ہو گا؟ کسی ماہر سے رابطہ؟ صلاح مشورہ؟ یا فی الحال گوگل پر اپنے مسئلہ لکھ کر بنیادی معلومات حاصل کرنا؟ یا پسِ پردہ رہتے ہوئے ہماری ویب سائیٹ پر موجود ماہر سے گفت و شنید؟

ازل سے زیادہ تر امگڈلہ متحرک رہا ہے کیونکہ اس زمانے میں انسانوں کا واسطہ ایسے مسائل سے تھا جن کیلئے سوچ وبچار ضروری نہ تھی بلکہ بھاگ دوڑ زیادہ کارآمد تھی۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ سوچ و بچار کا کردار بھی ابھر کا سامنے آنے لگا آج سوچ و بچار اور بات چیت کے ذریعے ہی زیادہ تر مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور تماشا یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان دوران خون کیلئے لوڈشیڈنگ کا رشتہ ہے۔ امگڈلہ متحرک ہو گا تو زیادہ خون اپنی جانب کھینچ لے گا، ایسے میں ماسٹر مائنڈ کو کم خون ملے گا اور وہ اعلیٰ درجے کی سوچ وبچار نہیں کر سکے گا۔ دونوں ایک ساتھ خون کی بھرپور مقدار نہیں لے سکتے، اسی لئے دونوں ایک ساتھ عمدہ کارکردگی بھی نہیں دکھا سکتے۔ ان دونوں کے درمیان تال میل کیلئے آپ کو ان کے آن آف سوئچ بنانے پڑیں گے جو آپ کے ہاتھ میں رہیں، شتر بے مہارنہ بنیں۔ یہ سیکھنے کا کام ہے۔

بلانوشوں کے قریبی عزیز اور دوست بہت بے چین رہتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے جب ہمیں بار بار ذہنی دباؤ اور حادثوں کا سامنا ہوتا ہے تو امگڈلہ ’’چالو‘‘ ہو جاتا ہے۔ دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ کم اور چھیڑچھاڑ بڑھ جاتی ہے۔ خلیے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں ایک غدر برپا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دفعہ فون کی گھنٹی بجنے پر ایک بلانوش کی بیوی اچھل پڑتی ہے۔ دروازے پر دستک ہو تب بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ امگڈلہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے اور وہاں بھی خطرے کی بو سونگھ لیتا ہے جہاں ہر گز خطرہ نہیں ہوتا، چنانچہ وہ بلانوش کے مسائل حل کرنے میں جُتا رہتا ہے تاکہ راوی چین لکھے اور اسے قرار آ جائے۔

جذباتی دوری ایک روحانی قدم ہے۔ اس سے دماغ مستحکم ہو جاتا ہے وہم اور کمزور عقیدے سر نہیں اٹھاتے۔ جذباتی دوری در حقیقت تحمل اور بردباری پر مبنی مثبت سوچ کا نام ہے تاہم اس دوران عملی اقدامات جاری رہتے ہیں۔ اہل خانہ مریض اور اس کے مرض کو بھولتے ہرگز نہیں۔ وہ اپنی معلومات، ہنرمندی اور تربیت جاری رکھتے ہیں لیکن بے مقصد دخل اندازی اور ہلے گلے سے دور رہتے ہیں۔ جذباتی دوری، نتیجہ خیز اقدامات کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ پرسکون رہنے اور ٹھوس قدم اُٹھانے کا ملاپ ہے۔ جذباتی دوری ناصرف اپنی عزت نفس کو بچانے بلکہ اپنے پیارے کی حقیقی مدد کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اپنے جذبات کی تنظیم نو کرنے کے بعد ہم دوسروں کے دکھ درد کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ بہت سے اجزاء مل کر لائحہ عمل بنانے اور کچھ کر گزرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جذباتی دوری ہمیں مفروضوں اور مفلوج کر دینے والے خوفوں سے بھی نجات دیتی ہے۔ اپنی فطری جبلت کو تعمیری طور پربروئے کار لاتے ہوئے ہم اپنے پیارے کی مدد کیلئے امید افزاء راستے کھولتے ہیں۔ جذباتی دوری کا مطلب اپنے اور پیارے کے درمیان دیوار کھڑی کرنا ہر گز نہیں بلکہ سنہری پل تعمیر کرنا ہے تاکہ مدد کیلئے وہ ہماری طرف اور ہم اسکی طرف جا سکیں، تاہم تھک کر چور ہو جائیں تو کچھ دیر اپنی اپنی جانب رہنے میں کوئی حرج نہیں۔

جب کوئی پیارا اپنی زندگی برباد کرنے پر تُلا ہوتا ہے تو حقیقی دوست ہمیشہ اصلاح کیلئے آگے بڑھتے ہیں۔ ہزاروں سال سے لوگ یہی کرتے آئے ہیں حالانکہ تب دوسروں کی زندگی میں دخل کے جدید طریقے ابھی دریافت نہیں ہوئے تھے۔ بعض اوقات تو وہ کافی زور زبردستی بھی کرتے تھے۔ ایسے میں جب کبھی انہیں کوششوں کے باوجود کامیابی نہ ملتی تو وہ تھک ہار کر بیٹھ جاتے تھے۔ پھر کچھ دوسرے لوگ مدد کیلئے آگے بڑھتے تھے اکثر نشے کے مریض مدد قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ کسی ایسے بندے کی مدد کرنا مشکل کام ہے جو مدد نہیں چاہتا۔ جہاں واسطہ علتوں سے ہو وہاں خود اپنی مدد کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے اگر کوئی دل و جان سے مدد قبول کرنے پر آمادہ ہو، تب بھی مدد کرنا آسان نہیں، تاہم مل جل کر سائنسی طریقے برؤے کار لائے جائیں تو کامیابی نسبتاً آ سان ہو جاتی ہے۔ آج دوسروں کی زندگی میں مداخلت کے نفیس طریقے موجود ہیں، ان کی موجودگی میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا کفران نعمت ہے۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ کسی کی زندگی میں دخل دینا نیکی برباد اور گناہ لازم والا معاملہ بن سکتا ہے، پھر بھی مدد کرنا کار خیر سمجھا جاتا ہے۔ کسی پیارے کی مدد کرنا کافی صبر آزما کام ہے، یہ تقدس سے بھر پور مہم جوئی ہے جو محبت بھری خوبصورت زندگی کا دوسرا نام ہے۔

منشیات، شراب اور دیگر علتیں گھروں کا امن و سکون تباہ کر دیتی ہیں۔ علتوں میں مبتلا انسان اصلاح کی طرف پہلا قدم خود نہیں بڑھاتے، یہ بیڑہ ان سے پیار کرنے والے اٹھاتے ہیں۔ علاج کا فیصلہ مریض کے ارد گرد صحت مند دماغوں سے ابھرتا ہے۔

منشیات کا استعمال بیمار اور لاچار کر دیتا ہے۔ یہ بیماری تباہ کن ہے۔ تاہم تسلی رکھیں یہ قابل علاج ہے۔ منشیات، شراب اور دیگر علتوں سے نجات کے کئی راستے ہیں۔

سب کو داخلے کی ضرورت نہیں ہوتی ایڈکشن کی ابتداء ہو تو مریض کا علاج میں آنا ضروری نہیں، اہل خانہ ٹریننگ کے ذریعے اپنے پیارے کو علت سے نجات دلا سکتے ہیں ایڈکشن قدم جما چکی ہو تو مریض کو آؤٹ ڈور میں آنا پڑتا ہے۔ بیماری بہت پرانی ہو تو داخلہ ضروری ہو تا ہے، مریض میں علاج کی خواہش اور جذبہ کیسے پیدا کریں، آپ کو یہ سمجھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ولنگ ویزایڈکشن کی بے مثال علاج گاہ ہے، جہاں کلائنٹس کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور وہ اپنی زندگی کی تعمیر نو کر لیتے ہیں۔ آپ نے جس معجزے کا انتظار کیا، وہ اب آپ کا انتظار کر رہا ہے۔