ہماری عادات اور زندگی پر ان کے اثرات

آج صبح اٹھنے کے فوراً بعد آپ نے کیا کیا؟
کیا باتھ روم گئے؟
برش کیا؟
نہا کر تیار ہوئے؟
گھر واپسی پر پائجاما پہنا اور ٹی وی کے سامنے بستر پر بیٹھ کر ڈنر کیا؟

ہمیں یوں لگتا ہے کہ جیسے شب و روز بہت سوچ سمجھ کر گزارتے ہیں، ہم پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں، سقراط بقراط کی طرح فیصلے کرتے ہیں، پر نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے، جو کچھ بھی دن بھر ہم کرتے ہیں زیادہ تر وہ ہماری عادتیں ہیں، سوچے سمجھے فیصلے ہر گز نہیں!

یہاں ہم عادتوں کے بارے میں بہت سی باتیں کریں گے، آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ کس طرح پرانی عادتیں ذیابیطس، امراض قلب اور ایڈکشن جیسی بیماریوں کے علاج میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں؟ ہم یہ بھی بتائیں گے کہ عادتیں بدلنے کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں ؟

عادتیں ہمیں روبوٹ کی طرح چلاتی ہیں۔ عادتوں کی کوئی وجہ بھی ہو سکتی ہے، جو کہ اندر کا کوئی خیال یا جذبہ ہو سکتا ہے یا پھر باہر کی کوئی چیز، وقت یا کچھ لوگ۔ اس شوق کے نتیجے میں کوئی روٹین شروع ہوتی ہے تاکہ وہ فائدہ یا مزہ یا احساس حاصل کیا جا سکے جو کہ دل میں انگڑائیاں لیتا ہے ۔ پھر سے وہی دوبارہ کرنے کا شوق اصل میں اسی مزے کی یاد دہانی ہوتی ہے۔

ویسے تو ہم اپنی مرضی کا بہت چرچا کرتے ہیں اور دوسروں پر نکتہ چینی کا کوئی بھی موقع جانے نہیں دیتے، لیکن دن کا آدھا حصہ ہم لاشعوری طور پر اپنی عادتوں کے تحت حرکات و سکنات کرتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر عادتیں ہم خود نہیں بلکہ حالات یا لوگوں کی وجہ سے سیکھتے ہیں۔ ہم اپنے باس سے بات کرتے ہوئے بھی چوری چوری سیل فون پر ایس ایم ایس دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، ہم اچانک پیزا ڈلیوری کروا لیتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے۔ آپ خود ہی سوچ لیجئے کہ منشیات، شراب، جواء اور سگریٹ نوشی کرنا کیوں وبال جان بن جاتا ہے؟ جب عادتیں اورعلتیں پختہ ہو جاتی ہیں تو پھروِل پاور ایک کمزورسی آواز بن جاتی ہے جو دور سے آتی ہے اور سنائی تک نہیں دیتی۔ یوں لگتا ہے کہ عادتیں ہمارے دماغ کے چھپے ہوئے خانوں میں قوت ارادی سے دور اپنا کھیل کھیلتی رہتی ہیں اور ہم ان کے سامنے بس بے بس ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ ہماری صحت، عزت اور مستقبل بھی داؤ پر لگا ہو تو بھی علتوں کا جادو سر چڑھ کر ہی بولتا ہے۔

خوشخبری یہ ہے کہ سائنسدانوں نے انسانی دماغ کی ان خفیہ جگہوں پر جھانکنا شروع کر دیا ہے اور اب کسی عِلت کو بدلنا اتنا مشکل نہیں رہا جتنا کبھی پہلے ہوتا تھا۔ عادتیں ہمارے ماتھے کے عین سامنے ہڈی کے پیچھے پکتی ہیں اور ایک دفعہ یہ پک جائیں تو یہ 3 انچ پیچھے اور 3 انچ نیچے ایک خفیہ مقام میں منتقل ہو جاتی ہیں، جیسے کچن میں کھانا پکتا ہے اور ڈائننگ روم میں منتقل ہو جاتا ہے اور کھانا پکانے والے کے اختیار سے کچھ نہ کچھ باہر ہو جاتا ہے۔

اگرچہ عادتوں کے سامنے بے بسی زچ کرتی ہے لیکن ان کے بغیر چارہ بھی نہیں، عادتیں نہ ہوتیں تو زندگی اجیرن ہو سکتی تھی۔ ہمیں روٹین کے کام حتی کہ ٹوتھ پیسٹ، شیو، کھانا پکاتے ہوئے اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے بھی % 100 توجہ دینی پڑتی، سینکڑوں ایکشنز کا خیال رکھنا پڑتا اور ٹائپنگ کرتے ہوئے تو ہم نڈھال ہی ہو جاتے۔ عادتیں دماغ کو بوجھل نہیں ہونے دیتیں اور اسے ہلکا پھلکا رکھنے میں مدد کرتی ہیں، تاہم جب ہم بری عادتوں یعنی علتوں میں پھنس جائیں تو انہیں بدلنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ وہ ہماری زندگی کو دوبھر کر دیتی ہیں ۔عادتیں طاقتور ہوتی ہیں، کیونکہ انہیں دو انجن رواں دواں رکھتے ہیں، عادت کے پیچھے خواہش اسے دھکیلتی ہے اور آگے مزہ اسے کھینچتا ہے ۔ عادت کو بدلنے کے لیے وِل پاور کا بے حساب اور اندھا دھند استعمال فائدہ مند نہیں ہوتا۔بلکہ خواہش اور مزے کو برقرار رکھتے ہوئے عادت کو آسانی سے بدلا جا سکتا ہے۔یعنی پچھلے اور اگلے انجن کو برقرار رکھتے ہوئے ریل گاڑی کے ڈبے نہایت عقل مندی سے بدلے جا سکتے ہیں۔ عِلتوں کو قسطوں میں بدلتے ہوئے چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے بڑی کامیابیوں کی راہ ہموارکی جانی چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں آخر کار بڑی کامیابی کیلئے حالات سازگار بناتی ہیں۔ صرف وِل پاور سے کام لینا غلطی ہو گی کیونکہ وِل پاور گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اورجواب دے جاتی ہے ۔ بعض اوقات ایک عادت کئی عادتوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے ورزش ایک ایسی عادت ہے جو کہ بہت سی عادتوں کو بدلنے میں مددگارثابت ہوتی ہے۔ افراد کی طرح ادارے اور معاشرے بھی عادتوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ عادتیں بہت نتیجہ خیز ہوتی ہیں۔انہیں بھی بدلا جا سکتا ہے ۔

جواء، ورزش اور دانتوں میں برش کرنا اگرچہ کافی مختلف عادتیں ہیں تاہم یہ دماغ میں اعصابی تاروں کے نظام کو ایک ہی طرح استعمال کرتی ہیں۔ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، وہ کیوں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے ایک باقاعدہ طے بے شدہ رویوں کا نظام موجود ہے جسے بروئے کار لاتے ہوئے کمپنیاں بزنس کرتی ہیں، اپنی مصنوعات کو مقبول عام بناتی ہیں اور کروڑوں کماتی ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ کہ اگر چھٹیوں پر چلے جائیں تو عادتیں کچھ کمزور پڑ جاتی ہیں، کیونکہ یاد دہانی اور خواہش جگانے والی چیزیں، جگہیں اور لوگ وہاں نہیں ہوتے۔ مصیبت یابحران میں بھی عادتیں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں اور آپ مخصوص حالات میں بدلنے پر آسانی سے آمادہ ہو جاتے ہیں۔سائنس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ زندگی میں کبھی بھی عادتوں کو بدلا جا سکتا ہے، عادتوں کو بدلنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ عادتیں پکتی کیسے ہیں؟ آج ملٹی سٹوری بلڈنگز کو کھڑے کھڑے آسانی سے گرایا جا سکتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ملٹی سٹوری بلڈنگز بنتی کیسے ہیں؟ ہم جب چاہیں وہ اپنے قدموں پر ڈھیر ہو جاتی ہیں ۔

سب سے پہلے عادتوں کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں کچھ جانئیے۔عادتوں کے تین بنیادی اجزاء یعنی خواہش ،روٹین اورمزہ ان کی تعمیر کرتے ہیں اوراگر عادت بدلنا مقصود ہو تو ہمیں خواہش اورمزے کو برقرار رکھتے ہوئے عادت کو بدلنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں شراب کی بیماری میں مبتلا لوگ ان میٹنگز میں شرکت کرتے ہیں جہاں شراب چھوڑنے والوں کی ایک کثیر تعداد اپنے تجربات اور کامیابیوں کو شئیر کرتے ہیں ۔ دکھ درد بانٹتے ہیں اور راہنما بنتے ہیں۔ان میٹنگز میں شرکت کرنے والے وہاں کوئی نہ کوئی ایسا بندہ ضرور ڈھونڈ لیتے ہیں جواپنی موجودگی سے ان میں خواہش اور عقیدہ پیدا کرتا ہے کہ’’ اگر یہ شراب چھوڑسکتاہے تو میں بھی ایسا ضرور کر سکتا ہوں ‘‘۔ اور عقیدہ بدلنے سے بہت کچھ بدلتا ہے ۔اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو آپ ٹھیک کہتے ہیں اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ کوئی کام نہیں کر سکتے ہیں تو بھی آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔ ہم سب بہت لائق فائق ہو سکتے ہیں لیکن ہماری زندگی کا کیا بنے گا؟ یہ سب اس پر منحصر ہے کہ ہماری عادتیں کیسی ہیں ؟ہم عادتوں سے ہی بنتے اور بگڑتے ہیں ، اکا دکا اچھی بری حکمت عملیوں سے واضح نتائج نہیں نکلتے ۔ جو لوگ بھی نامور ہوتے ہیں انہوں نے اتفاقاً یا ارادتاً اپنی عادتوں کو سنوارا ہو تا ہے۔عادتوں سے مراد وہ ذہنی نقشے ہیں جو کسی عقیدے کی پختہ گزر گاہ بن جاتے ہیں۔

کمپنیاں بھی وہی کامیاب ہوتی ہیں جن کی مصنوعات لوگوں کی عادتیں بن کر ان کی ہڈیوں میں اترجاتی ہیں۔ 100 سال پہلے دنیا میں کسی نے دانتوں کو برش نہیں کیا تھا، آج میں اور آپ برش کئے بغیر سو جانے کا تصور بھی نہیں کرتے۔  محض اس لئے کہ ایک شخص نے اسے ہماری زندگی کا حصہ بنا دیا کیونکہ برش کرتے ہی منہ میں صفائی کا احساس مزے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اس مقصد کیلئے ٹوتھ پیسٹ میں خاص اجزا ء ڈالے جاتے ہیں۔ صفائی کے اسی احساس کی وجہ سے خواہش پیدا ہوتی ہے اور رات سوتے وقت خود بخودبرش کرنے کے کئی اسباب کام کرنے لگتے ہیں، جیسے خاص وقت، باتھ روم، ٹوتھ پیسٹ، کسی کا یاد دلانا وغیرہ وغیرہ۔

عادتوں کی مدد سے افراد کے علاوہ کمپنیاں بھی اپنا ماحول اور کام کاج  بہتر بنا سکتی ہیں ۔ اس کیلئے کمپنیوں کو کسی خاص عادت کو رواج دینا پڑے گا جو کہ مزید اچھی عادتوں کی راہ  ہموار کر سکتی ہو۔ یہ سنہری عادت زنگ آلودہ تالے کھول دیتی ہے اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا سیلاب آ جا تا ہے۔

یہ بڑی خاص کہانی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی طرح میں نے بھی لا شعوری طور پر بہت سی بری عادتوں کو جمع کر لیا تھا۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ ایسا ماحول اور روایات کی وجہ سے ہوتا ہے اس میں ہمارا قصور نہیں ہوتا۔ میری یہ عادتیں ورائٹی سے بھرپور تھیں ۔کچھ کا تعلق خیالات سے تھا اور کچھ کا جذبات سے، کچھ کا طرز زندگی سے اور کچھ کا تعلق اخلاقیات اور اصولوں سے۔ لیکن 37 سال پہلے قسمت کی دیوی مجھ پر مہربان ہو گئی۔ ایسا اتفاقاً ہو ا، یقین مانئیے میرے ارادے کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ میرا ایک دوست ہیروئن کا عادی ہو گیا اور مجھے بطور ڈاکٹر اس کی مدد کرنا پڑی۔  تب پاکستان میں منشیات سے بحالی کا کوئی بھی ماہر یا ادارہ موجود نہ تھا۔ یہ تھا میری زندگی میں ایک ٹرننگ پوائنٹ اور پھر کئی سال بعد امریکہ میں ٹریننگ سے بہت سی کامیابیوں کی راہ ہموار ہوئی، اب بھی میں ہر سال ٹریننگ کیلئے امریکہ جاتا ہوں۔

اس کیرئیر کے آغاز سے ہی میں نے محسوس کیا کہ منشیات سے بحالی کا کام بہت صبر آزما ہے۔ اس پیشے میں آنے کے بعد جلد ہی مجھے پتہ چل گیا کہ اس بیماری میں مبتلا مریضوں کیلئے کوئی عزت تھی نہ معالج  کیلئے کوئی آبرو۔ لہذا میں نے دو ٹارگٹ مقرر کئے۔ پہلا یہ کہ میں نے عادتوں کے پس پردہ رازوں سے پردہ اٹھانا ہے تاکہ نشے کے مریضوں کی بے بسی کو سمجھا جا سکے اور انہیں اس بیماری سے نجات دلائی جا سکے۔ دوئم یہ ہے کہ ایسی حکمت عملی وضع کی جائے جو بطور معالج مجھے بھی ایسی عزت دلائے جو دیگر معالجوں کے حصے میں آتی ہے۔ الحمدللہ میں نے دونوں اہداف حاصل کئے۔ اس کا اضافی انعام مجھے یہ ملا کہ میں نے اپنی ان گنت بری عادتوں کو سنوارا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عادتیں بہت لچکدار ہوتی ہیں۔ عادتوں کے بارے میں زیادہ تر پیش رفت پچھلے 25 سال میں ہوئی اور اب عادتوں کو دماغ کی تہوں میں بنتے بگڑتے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ہم خواہش کے اجزاء اور مزے کو برقرار رکھتے ہوئے ناقابل قبول روئیے کو قابل قبول رویئے سے بدلنے کا اہتمام کر لیں تو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ایسا ہم زندگی میں کسی بھی مرحلے پر کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بڑھاپے میں ہم بدلنا ہی نہیں چاہتے ویسے بدلنے میں کوئی زیادہ مشکل پیش پھر نہیں آتی۔ دراصل عادتیں ہمارے ان فیصلوں پر مبنی ہوتی ہیں جو ہم کر کے بھول جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پر دھول سی جم جاتی ہے۔ بعض اوقات نظر ثانی کی ضرورت بھی پڑتی ہے اور پھر ہم لٹھ لے کر اپنی عادتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں حالانکہ یہ زور آزمائی کا نہیں بلکہ سوچ بچار کا کام ہے۔ یہاں ایک لوہار کی نہیں 100 سنار کی ترکیب کام کرتی ہے۔

بدقسمتی سے زیادہ تر لوگوں کیلئے عادتوں کو بدلنا وبال جان بن جاتا ہے؟ کیونکہ جب لوگ عادت بدلنے پر آتے ہیں تو صرف عادت کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے سیاق و سباق کو بھول جاتے ہیں اور ’’خواہش‘‘ اور ’’مزے‘‘ کے پہلو نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ لیکن ہم نے یہ سیکھا ہے کہ یہ دراصل خواہش کی یا د دہانی اور مزے کا چسکہ ہی ہیں جن کی ملی بھگت سے پرانا رویہ بار بار لڑھکتا ہوا سامنے آ جاتا ہے۔ عادتیں پکنے کے بعد دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر چھپ جاتی ہیں اور جس وقت وہ اپنا رنگ دکھاتی ہیں ہمیں یا تو پتا ہی نہیں چلتا یا پھر خفیف سا احساس ہوتا ہے۔ ایک مختصر وقفے کیلئے جیسے ہماری آنکھ لگ جاتی ہے یا پھر ہم سکتے میں آ جاتے ہیں اور ہم وہی کچھ کر بیٹھتے ہیں جو ہم نے نہ کرنے کا تہیہ کیا تھا تو باقی پھر احساس ندامت ہی رہ جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے پتا چلایا ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ اس چھان بین کا زیادہ تر سبب ان لوگوں کامشاہدہ تھا جو کہ دماغی بیماری یا چوٹ کی وجہ سے اپنی  یادداشت کھو بیٹھے تھے اور ہماری طرح سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور پھر بھی عادتیں سیکھنے پر قادر تھے۔  وہ نئے رویئے سیکھ  سکتے تھے۔ اس طرح پتا چلا کہ دماغ کا یہ حصہ جہاں عادتوں  کا ’’کاروبار‘‘ ہوتا ہے وہاں سوچ بچار کا کوئی خاص عمل دخل نہیں ہوتا، وہاں زیادہ تر کام کاج ایک سافٹ وئیر ہاؤس کے انداز میں ہوتا ہے۔

شاید عادتوں کو بدلنے میں مشکلات اس لیے ہوتی ہیں کہ ان کے مسکن تک رسائی ذرا مشکل سے ہوتی ہے۔ کسی روٹین یا خیال کے بارے میں ایک شعوری فیصلہ ہمارے دماغ کے ا س حصے میں ہوتا ہے جو کہ ذہانت کا مرکز ہے۔ بار بار یہی فیصلے کریں تو ہمارا دماغ اسے اپنے آئین کا حصہ بنا لیتا ہے۔ اگر کوئی فیصلہ ایک دفعہ آئینی ہو جائے تو تبدیلی کیلئے ’’دو تہائی‘‘ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اور یوں ایوان بالا اور ایوان زیریں کا آپس میں تال میل بھی ضروری ہے۔ اردگرد کے ماحول پر نظررکھنا لازم ہے کیونکہ خواہش کا بٹن یہیں سے آن ہو تا ہے۔ ہماری زندگی میں انواع و اقسام کے مزے موجود ہوں تو کوئی عادت بدلنا آسان ہو جا تا ہے۔ بدمزگی سے وِل پاور کمزور پڑ جاتی ہے۔  لوگ دھونس دھاندلی اور زور زبردستی پر اتر آتے ہیں سزا دینے پر تل جاتے ہیں۔ عادتیں مزے سے بدلی جاتی ہیں بدمزگی سے نہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہم تو اپنی بری عادتوں پر خود بھی کافی لعنت ملامت کرتے ہیں۔ کسی صدارتی حکم نامے سے عادت کو براہ راست بدلنے کی بجائے ہمیں خواہش کے پس پردہ عوامل اور علت پوری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مزے پر فوکس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رہ گئی بات روئیے کی تو اسے کسی دوسرے روئیے سے بدلا جا سکتا ہے کسی رویئے یا روٹین کو صفحہ ہستی سے نہیں مٹایا جا سکتا۔ کسی ناپسندیدہ رویئے کو کمزور اور نحیف و نزار بنایا جا سکتا ہے۔ جیسے نئی ریکارڈنگ سابقہ ریکارڈنگ کو چھپا دیتی ہے لیکن کسی ریکارڈنگ کو براہ راست نہیں مٹایا جا سکتا۔ حتیٰ کہ کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر کوئی بھی یادداشت کمزور کی جا سکتی ہے صفحہ ہستی سے مٹائی نہیں جا سکتی۔ اور اگر کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک میں پس پردہ یادداشت کو بحال کرنا مقصود ہو تو ایسا آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ عادتوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ عادت مدھم بھی ہو جائے تو موقع ملتے ہی سر اٹھا لیتی ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کتنی بری ہوتی ہیں یہ عادتیں؟ نہیں! ہر گز نہیں! عادتیں بری نہیں فائدہ مند ہوتی ہیں۔ علتیں بری ہوتی ہیں۔ عادت اور علت میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ عادت نتیجے کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے اور علت بری۔ عادتیں نہ ہوتیں تو ہم کھپ جاتے، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر روزانہ مغز ماری کرتے۔  تاہم سوچے سمجھے بغیر سیکھی ہوئی عادتیں بعض اوقات اندرونی یا بیرونی حالات بدلے جانے سے وبال جان بھی بن جاتی ہیں اور پھر ہم انہیں علتیں کہتے ہیں۔ جب عادتیں بیمار پڑ جاتی ہیں اور پھر ہم مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔

اچھی عادتیں ہمارے ماسٹر مائینڈ کو آرام کا موقع دیتی ہیں اور کام کو بوجھل نہیں بننے دیتیں کیونکہ ہمارے دماغ کا ماتحت حصہ روبوٹ کی طرح معاملات چلاتا رہتا ہے۔  جیسا کہ میں نے پہلے کہا عادتیں لچکدار ہوتی ہیں اور اگر ہم ان پر کا م کریں تو ہمیں نتائج ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ علتوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے اسے کسی عادت سے بدلا جاسکتا ہے،  مثال کے طور پر ہم وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور ہاتھ نہیں رکتا، کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں تو ہمیں اس مزے کو جو کھانے سے ملتا ہے کسی اور مزے سے بدلنا پڑے گا اور کئی دفعہ تو کھانا بنیادی مقصد ہوتا ہی نہیں بلکہ بنیادی مقصد کچھ اورہی ہوتا ہے ۔

کیا لوگ ہوٹلوں میں صرف کھانے کیلئے جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں، بلکہ آپس میں میل ملاپ اور ماحول بدلنے کیلئے جاتے ہیں اور کھانا بھی اس کا حصہ ہوتا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف کھانے کیلئے جاتے ہیں۔ شام ہوتی ہے اور دوستوں کے ساتھ ڈنر کا پروگرام بناتے ہیں۔ اصل میں وہ آپس کی گپ شپ، خوبصورت ماحول اور اہمیت کی خواہش پوری کرنے جاتے ہیں۔ کھانا اس میں خاص اہمیت نہیں رکھتا زیادہ تر لطف دوسری چیزوں سے آتا ہے۔ اگر وہ کھانے کو کسی دوسری سرگرمی سے بدل دیں اور باقی سب کچھ ویسے ہی رہنے دیں تو فالتو کھانے پینے سے بچ جائیں گے۔

اگر کوئی عادت ڈالنا مقصود ہو تو کچھ پلاننگ کرنا ہو گی۔ وقت کوئی طے شدہ نہیں، اگر کوئی روٹین، رویہ یا فعل ایسا ہو جس کے فوراً بعد مزہ، فائدہ یا خوشگوار احساس ملے تو عادت بہت جلد پک جاتی ہے، جیسے سگریٹ، شراب اور چاکلیٹ وغیرہ۔ اور کچھ عادتیں ذرا دیر سے پکتی ہیں کیونکہ ان کا کوئی فوری انعام نہیں ہوتا، جیسے پڑھائی۔ کچھ عادتیں تو اور بھی مشکل سے پکتی ہیں جیسے کہ ورزش وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ان عادتوں کو اپنا نہیں پاتے اور ’’مایوس‘‘ ہوکر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں بے بسی ہرگز نہیں! جیسے ایجادات کی مدد سے زندگی بدل جاتی ہے ایسے ہی آج عادتوں کے حوالے سے حالیہ انکشافات کی وجہ سے ان عادتوں کو پکایا جا سکتا ہے جن کا انعام یا ریوارڈ بہت دیر سے ملتا ہے اور ابتداء میں بوریت یا تکلیف ہوتی ہے۔ مثلاً ورزش کی عادت کیلئے ورزش کے اختتام پر کوئی مزیدار مشروب جیسے کہ سردائی پینے سے دماغ سمجھتا ہے  کہ یہ مزہ ورزش سے آیا ہے اور اس طرح عادت پختہ ہونے لگتی ہے۔ پہلوانوں کو ہمیشہ سے اس طرح کسرت کرتے رہنے کی عادت ڈالی جاتی ہے۔کھلاڑی بھی یہی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جن کاموں کے کرنے سے مزہ نہیں آتا لیکن مفید ہوتے ہیں، ان کاموں کے آخر میں مزے کی پیوند کاری کی جانا ضروری ہے یہاں تک کہ ان کے فوائد ظاہر ہونے شروع ہو جائیں، پھر آپ پیوند کاری چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ پھر ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بچوں کو تعلیم کی عادت ڈالنے کیلئے بھی یہ طریقہ کارآمد ہو سکتا ہے۔ بچے خود یا ان کے ماں باپ بچے کو پڑھنے کے فوراً بعد شاباش اور مٹھائی وغیرہ دے سکتے ہیں منہ چوم سکتے ہیں اور گلے لگا سکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اگر آپ اس قسم کا ’’انعام‘‘ ہٹا بھی دیں تو اب ورزش یا پڑھائی اپنا انعام خود بن چکی ہوتی ہے ۔ انعام یا مزہ ضروری ہے چاہے اندر سے ملے چاہے باہر سے۔ جب تک کوئی روٹین مزہ نہیں دیتی دماغ اسے مستقبل میں باقاعدہ استعمال کیلئے منتخب ہی نہیں کرتا۔ دماغ کی یہ احتیاط بھی ضروری ہے اگر ایسا نہ ہو تو ہم فضول اور بے مزہ عادتیں اکٹھی کر لیتے۔ جب ہم کوئی ورزش جیسی اچھی عادت اپنا رہے ہوں تو تھوڑی سی کامیابی پر ہی انعام ضروری ہے۔ مثلاً اگر آپ پہلے جوگر پہن کر گھر پر ہی چکر لگا لیں تو بھی اپنے آپ کو انعام دیں، دماغ کیلئے کامیابی کبھی چھوٹی نہیں ہوتی، یا تو یہ ہوتی ہے یا پھر نہیں ہوتی۔ کامیابی کو چھوٹا یا بڑا ہم قرار دیتے ہیں۔ ایک دفعہ عادت پڑ جائے تو بڑی کامیابیاں ہماری راہ تک رہی ہوتی ہیں لیکن یاد دہانی بھی عادت پکانے میں اہم مقام رکھتی ہے۔ سگریٹ پینے والا دور سے ہی بو سونگھ لیتا ہے۔ لوگوں کو شہرکے ریستوران ازبر ہوتے ہیں۔ سب پتا ہو تا ہے کہ کونسی مزیدار چیز کہاں سے ملتی ہے؟

کھانے پینے کے ساتھ میری بیمار محبت بھی سر چڑھ کر بولتی تھی، کچھ اور بیمار محبتوں سے بھی چھٹکارا پایا، منشیات کی علت کبھی نہ لگی لیکن کچھ اور علتیں ضرور پریشان کرتی رہیں، اب کیا کچا چٹھہ کھولوں؟ یہ ایک لمبی جدوجہد ہے لیکن ایک بری عادت سے میں اب بھی نبرد آزما ہوں اور وہ ہے زیادہ کام کرنے کی عادت۔ ورکوہلزم۔  میں اس علت سے بھی نکل رہا ہوں۔ کیا آپ مانیں گے کہ 37 سال سے میں نے کوئی چھٹی نہیں کی اور نہ ہی میں بیمار ہو ا ہوں میں نے ہر روز کام کیا ہے۔ بلاناغہ۔ خوشی غمی بھی آئی پر کام کرتا رہا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں، بلکہ ایک ایڈکشن کا شاخسانہ تھا جو میں نے اپنے والد سے سیکھی۔

زیادہ کھانے پینے کی عادت سے چھٹکارا پایا، وزن کم کیا، ابھی حال ہی کی بات بتاتا ہوں۔ میں روز 3 بجے اٹھ کر کیفے ٹیریا چلا جاتا اور پھر وہاں سموسہ، ٹماٹو ساس اور چائے چلتی۔ کچھ ہی ماہ میں وزن بڑھ گیا۔ بظاہر لگتا تھا کہ مجھے سموسوں کی ایڈکشن ہو گئی ہے لیکن کھوج لگانے سے پتا چلا کہ میں کام کرتے ہوئے فریش ہونے کیلئے چہل قدمی کرتا کرتا  کیفے ٹیریا چلا جاتا تھا اور پھر ماتحتوں سے گپ شپ کی اور بس واپسی۔میں نے اعلان کردیا کہ جس نے مجھ سے بات کرنی ہو، اس کو پھر میرے ساتھ واک بھی کرنی ہوگی۔ میں نے اسے خالی چہل قدمی اور ماتحتوں سے گپ شپ میں بدل دیا اور سموسے بیچ میں سے نکل گئے ۔تاہم کھانے کے ساتھ میری بیمار محبت کی کہانی بہت پرانی ہے۔ ڈاکٹر بننے کے فوراً بعد میں سعودیہ گیا تھا نوکری ڈھونڈنے کیلئے، قیام دوستوں کے ساتھ تھا۔ کسی کے پاس رہنا اور کسی کے ساتھ کھانا، ہر دم احساس رہتا کہ شاید اگلے وقت کھانا نہیں ملے گا اس لیے زیادہ کھا لیتا۔ یہ عقیدہ گھر کر گیا اور واپسی پرکئی سال بلا وجہ کھاتا رہا۔ پھر جب احساس ہوا تو عقیدہ بدلا۔ حالانکہ زیادہ کھائیں یا کم، جو کچھ بھی ہم کھاتے ہیں 4 گھنٹے میں وہ خرچ ہو جاتا ہے یا جسم میں سٹور ہو جاتا ہے۔ عادت کے پیچھے ایک عقیدہ بھی ہو سکتا ہے جو کہ اسے پیچھے سے دھکا دے رہا ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اس بنیادی عقیدے کے علاوہ ہے کہ اس ’’حرکت‘‘ سے مجھے فائدہ حاصل ہوگا یا مزہ یا پھر اچھا احساس یا تحفظ پیدا ہو گا، تاہم ’’عادت‘‘ کو کسی مناسب تگڑی یا قابل قبول عادت سے بدلا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نا قابل قبول عادت کو کمزور اور نحیف و نزار کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے عادتیں مرتی نہیں، مد ہوش ہو سکتی ہیں۔ عادتیں بدلنے کا سنہری اصول یہ ہے کہ عادتیں آپ ایسے بدلتے ہیں جیسے آپ کپڑے بدلتے ہیں تاہم یاد رہے! آپ میلے کپڑے بدلنے کیلئے میلے کپڑے استعمال نہیں کرتے اجلے کپڑے کام میں لاتے ہیں اور عادتیں بدلنے کی راہ میں ایک رکاوٹ اعصابی دباؤ بھی ہے اس پر بھی براہ راست کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور عادتیں بدلنے کیلئے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ آپ کس عادت کو بدل سکتے ہیں اور یہ عقیدہ منطق کی سطح پر نہیں بلکہ جذبات کی سطح پر حاوی ہونا چاہیے۔ کوچ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کھلاڑی میں کامیابی کا عقیدہ نہیں اور جذباتی طور پرمستحکم نہیں ہے تو ساری پریکٹس اور محنت دھری کی دھری رہ جائے گی۔ اس قسم کے مضبوط عقیدے تنہائی میں نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی محفل میں پیدا ہوتے ہیں جو کہ دوستانہ رویوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمارے ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو سہارا دیتے ہیں۔ کسی کے گھورنے، ڈرانے اور بے عزت کرنے سے عادتیں بدلنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ سہارے اور آسرے انسان کیلئے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں چاہے وہ خیال ہی کیوں نہ ہو۔ شگفتہ پہرے اور شائستہ رویے بھی بے پناہ مدد کرتے ہیں چاہے یہ مصنوعی ہی ہوں۔

ہم ایک ایسا معاشرہ ہیں جو کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر بری عادتوں کے گرداب میں ہے۔ لوگ منشیات، شراب اور کرپشن کی عادتوں میں مبتلا ہیں۔نوجوان لڑکوں میں بے راہ روی واضح نظر آ رہی ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ لوگوں کی عادتوں کو بدلنے کیلئے آسان طریقے موجود ہیں۔ اسی طرح پورے معاشرے کی علتوں کو بھی بدلا جاسکتا ہے مثلا لوگوں کی بجلی ضائع کرنے کی علت کو بدل کرلوڈشیڈنگ یکسر ختم  کی جا سکتی ہے۔

ہم لوگوں کو لعنت ملامت کرکے اور بے عزت کر کے بری عادتیں بدلنے کیلئے کہتے ہیں۔ ہم دقیا نوسی چیزوں سے آج کی دنیا کو بہتر بنانا چاہتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم راتوں رات تبدیلی کے خواب دیکھتے ہیں۔ حقیقت کی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر ہم رات کو کپڑے تیار کر کے ہینگر پر لٹکا دیں تو صبح تیار ہونے میں آسانی ہو گی۔ ایک رات میں بس اتنا ہی ہو سکتا ہے۔ تبدیلی لانے کیلئے اور بھی بہت کچھ  کرنا ضروری ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ بچے پڑھیں تو شروع میں ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھیں۔ پڑھائی کے آخر میں کچھ مزیدار چیز کھلائیں کچھ شاباش دیں اور سینے سے لگائیں۔ آپ اچھا کام کریں تو پھر ٹی وی کے سامنے بیٹھیں اور مزہ کریں۔ ہمیں زندگی کے لطف و سرور اور مزے کو عادتوں کی تعمیر کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر آپ لڑائی جھگڑا کریں گے اور پھر افسردہ ہو کر کیک پیسٹری کھانے بیٹھ جائیں گے تو دماغ یہ سمجھے گا کہ یہ لڑائی جھگڑے کا انعام ہے۔ دماغ کا ایک بڑا حصہ بہت بھولا ہے۔ اس کے بھول پن کو اپنے حق میں استعمال کرنا سیکھیں۔

یہ سادہ اور آسان کام ہے ۔یہ جان لینا کہ عادتوں کو اپنے حق میں کیسے بدل سکتے ہیں صرف معاملات کو آسان دکھاتا ہے، محض جان لینے سے کام نہیں ہوتا، کام کرنے سے ہوتا ہے، کچھ کرتے نظر آنے سے کام نہیں ہوتا ۔ کرنے سے کام ہوتا ہے، اسے ہم جدوجہد کہتے ہیں۔ لیکن روڈ میپ تو ظاہر ہے سب سے پہلے ضروری ہے۔ عادتیں بدلنے کی عادت پڑ جائے تو اسے ہم وِل پاور کہیں گے ۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ول پاور بھی ایک عادت ہوتی ہے ۔ کچھ لوگوں نے قوت ارادی کی عادت کو پکایا ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کچھ کر دکھانے کی بات کرتے ہیں اور بالآخر کچھ کر دکھاتے ہیں اور یہ سب کچھ جادوئی نظر آتا ہے حالانکہ کہ یہ محض عادت کے ڈھانچے کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے ہی ہوتا ہے۔ میں نے اس علم کو حاصل کرتے ہوئے اپنے اندر واضح  تبدیلی محسوس کی ہے،  میں کچھ بھی کرتے ہوئے مستعد رہتا ہوں۔ اپنے پیشہ ورانہ کام کی وجہ سے میں کافی حد تک آگاہی پا چکا ہوں اور جو کچھ میں کر تا ہوں اس پر میری گہری نظر ہوتی ہے ۔میں عادتوں کو بدلتے ہوئے اب جھنجھلاتا نہیں ہوں، ان میں سے زیادہ تر عادتوں کا تعلق کام کاج کی جگہ سے ہے کیونکہ میرا کام میرا جنون بھی ہے ، میں اسے ایک دلچسپ کھیل کی طرح لیتا ہوں جس میں پس پردہ  بے پناہ ریاض بھی شامل ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری وہ عادتیں جن کا تعلق سوچنے کے انداز سے ہے انہیں بدلنے کے بعد میں نے بہت آسانی محسوس کی ، انجانے میں اور مہربانوں کی مہربانی سے میں نے سوچوں کے کچھ ایسے انداز اختیار کر لئے تھے جو تکلیف دہ تھے۔ہماری سوچیں ایک سافٹ وئیر کا درجہ رکھتی ہیں ۔بہت سی پرانی سوچیں اور عقیدے بھی خرابی کی وجہ بنتے ہیں جو نسل در نسل ہمیں ایک ’’تحفے‘‘ کی طرح ملتے ہیں اور پھر دکھوں کا تسلسل چلتا ہے ۔ اب میں غوروفکر کرتا ہوں اپنے ان رویوں کو انعام سے نوازتا ہوں جو تعمیری ہیں اور میں انعام پر غور کرتا ہوں کہ آیا انعام واقعی انعام ہے یا انعام کے روپ میں کوئی گورکھ دھندہ ہے۔ اب میں ان رویوں کو نوازتا ہوں جن کو پروان چڑھانا چاہتا ہوں جو میرے اور دوسرے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ میں اپنے ادارے میں اجتماعی رویوں پر بھی گہری نظر رکھتا ہوں اور ان رویوں کو نوازنے کی کوشش کرتا ہوں جن میں تال میل اور تعمیر کا پہلو نمایاں ہو۔

مجھے اندازہ ہے کہ ایڈورٹائزنگ اور مارکیٹنگ میں بہت کچھ لوگوں کی عادتوں پر اثر انداز ہونے کیلئے کہا جاتا ہے تاکہ آپ ان کی مصنوعات کی عادت میں مبتلا ہو جائیں لیکن ٹوتھ پیسٹ اور برش کا استعمال سو سال پہلے شروع ہوا تو اس وقت ان کے ہاتھ میں یہ ساری سائنسی معلومات نہ تھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ازل سے انسان قیافے یا چھٹی حس کی بنیاد پر بہت کچھ پہلے کر گزرتا ہے اور بعد میں اسرار کے پردے اٹھاتا ہے۔ بحری سفر کے دوران بہت سے لوگ مر جایا کرتے تھے۔ پھر ایک کیپٹن نے اپنے شپ میں لیمن جوس کا رواج ڈالا اور لوگ مرنے سے بچ گئے۔ لوگوں نے اس کے ’’نسخے‘‘ کو دو سو سال بعد اپنایا اور اس سے بھی کافی بعد میں پتہ چلا کہ اموات وٹامن سی کی کمی سے ہو رہیں تھیں۔ وجہ سکروی کی بیماری تھی اور وٹامن سی لیموں میں وافر ہو تا ہے۔

اسی طرح ایک ایڈورٹائزنگ کے ماہر کلاڈی نے پتا چلایا کہ اگرچہ ٹوتھ پیسٹ سے دانت پر جمی نقصان دہ تہہ اترتی ہے اور مسکراہٹ نکھر جاتی ہے لیکن لوگوں کو برش کرنے کے فوراً بعد منہ میں صفائی کا احساس درکار ہو گا اور اس کیلئے کچھ کیمیکلز کار آ مد پائے گئے۔  سچ مچ کی خوبصورت مسکراہٹ کا انتظار کرتے ہوئے لوگ بے صبرے ہو سکتے تھے لہذا اس انتظار کو خوبصورت بنانے اور برشنگ کی عادت پختہ کرنے کیلئے منہ میں صفائی اور تازگی کا مصنوعی احساس پیدا کیا گیا۔ آپ ورزش اور پڑھائی کی عادت ڈالنے کیلئے یا ورکرز کو وقت پر دفتر بلانے کیلئے بھی اس طرح کی ترکیبیں استعمال کر سکتے ہیں۔ اداروں میں بھی اس طرح سامنے کسی چیز کو رکھ کر پس پردہ کچھ اچھی عادتوں کی نشوو نما کی جاسکتی ہے۔ میں ایک بہت بڑے صنعتی ادارے کے حالات سے واقف ہوں جہاں کئی سال پہلے کام بند تھا اور خسارہ آسمان کو چھو رہا تھا۔ ایک صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ آپ اس ادارے کو منافع بخش اور کامیاب بنائیں۔ کمپنی میں ہڑتال تھی۔ ان صاحب نے ذمہ داری قبول کی اور کمپنی میں ورکرز کا تحفظ اور ان کی اچھی صحت کو اپنا پہلا گول بتایا۔ لوگ بہت حیران ہوئے کہ ان صاحب کو تو یہ کام سونپا تھا کہ کمپنی کو منافع بخش بنائیں اور یہ تو ورکرز کے سگے بن رہے ہیں۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے کمپنی منافع بخش ہو گئی۔ بعض عادتیں سنہری ہوتی ہیں اور وہ دوسری بہت سی اچھی عادتوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ۔

جیسے ہمارے ادارے میں بنیادی گول یہ ہے ہر ایک کیلئے عزت ’نفس‘ اوراسی ایک چیز سے سارا کلچرتشکیل پاتا ہے۔ اس طرح ورزش ہم سب کی زندگی میں ایک سنہری عادت ہو سکتی ہے۔  صحت مندی کے علاوہ اس سے کھانے پینے میں بھی اعتدال آ جاتا ہے ۔چلیں یہ تو سمجھ میں آتاہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ ورزش سے فضول خرچی بھی ختم ہو جاتی ہے۔  ہے ناں یہ ایک حیرت انگیز بات؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ احتیاطوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، جو ہونا ہوتا ہے وہ تو ہو جاتا ہے،  ساری احتیاطیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔  میں تو پورے یقین سے کہتا ہوں کہ فرق پڑتا ہے۔ دیکھئے! اندازاً دنیا میں دس لاکھ جہاز دنیا کے مختلف ائیر پورٹوں سے ٹیک آف اور لینڈنگ کرتے ہیں اور یہ احتیاطوں کا ہی ثمر ہے کہ روزانہ خیریت سے یہ کام ہوتا ہے حالانکہ یہ بہت پیچیدہ کام  ہے اسی طرح اگر ہم زندگی میں احتیاطوں کو اپنی عادت بنا لیں تو کامیابی کا امکان بڑھ جا تا ہے۔ آپ کی علتیں چاہے سوچ کی ہوں یا برتاؤ کی یا پھر آپ منشیات کے چنگل میں ہوں، انہیں یقینا بدلا جاسکتا ہے