پپو کو لگتا ہے کہ یہ شخص اُس کے گھر فون کر سکتا ہے، پپو کو تو مدد چاہئیے ،اگر گھر والوں سے بات ہی کرنی ہوتی تو وہ گھر کو چھوڑتا ہی کیوں؟ پپو ہاتھ دھوتے ہوئے سوچتا ہے کہ وہ عورت قدرے بہتر ہے، اگر پپو کو اُس سے بات کرنے کا موقع مل جائے تو شاید وہ اُس کی مدد کیلئے تیار ہو جائے۔ پپو ہاتھ سکھانے کیلئے تولیہ تلاش کرتا ہے تو ایک سائیڈ پر تولئے قرینے سے رکھے نظر آتے ہیں، پپو انہیں استعمال کرنے کے بجائے اپنی قمیض سے ہی ہاتھ صاف کر لیتا ہے۔

لِونگ روم کی طرف جاتے ہوئے وہ ایک چھوٹے سے سٹڈی روم میں سے گزرتا ہے، اس کمرے میں دو اونچی کرسیاں اور ایک سائیڈ ٹیبل پر ایک ٹی وی اور ڈی وی ڈی پر پپو کی نظر پڑتی ہے۔

* ایک لمحے کو پپو کادل چاہتا ہے ڈی وی ڈی اُٹھا کے، پچھلے دروازے سے باہر نکل جائے اور ٹکسالی گیٹ میں اُسی دکان پہ جا کر بیچ دے تاکہ کچھ پیسے ہاتھ آجائیں۔ اگر یہ حل آپ کے نزدیک مناسب ہے تو جائیے لنک15 پر۔

* پپو اپنی اس سوچ کو چپکے سے سلا دیتا ہے اور سوچتا ہے کہ اُس کی زندگی تو پہلے ہی مسائل سے بھری پڑی ہے۔ اُس میں مزید اضافہ کر نے کے بجائے اُسے کوشش کرنی چاہیے کہ وہ شخص، اپنی بیوی سے پپو کو بات کرنے دے۔ اگر یہ مناسب حل لگتا ہے تو جائیے لنک16 پر۔