لنک 13

آؤٹ آف دی فرائی پین…

حتمی طور پر جل جانے کا یقین، بھسم ہو جانے کا خوف پیدا کرتا ہے۔

پپو نے پروفیسر کو من مانی کا موقع دیا۔ وہ اس وقت مزاحمت نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اُس وقت اُسے بہت ذلالت کا احساس ہو رہا تھا۔ جب پروفیسر مطمئن ہوگیا تو پپو نے اُس سے روپے جھپٹے اور غسل خانے کی طرف لپکا۔ تلاش کرنے پر پپو کو بہت ہی بوسیدہ اور چھوٹا سا غسل خانہ نظر آیا ،خستہ حالی کے باوجود اُس کا دروازہ لاک ہوسکتا تھا۔ پپو نے غسل خانے کا سرسری جائزہ لیا تو صابن دانی کو خالی پایا۔ پپو نے اِسی کو غنیمت جانا اور جلدی سے اپنے آپ کو صاف کرنا شروع کیا۔ تھوڑا سا پانی چھلک کر پینٹ پر گر گیا جسے چھپانے کیلئے پپو نے اپنی شرٹ باہر نکال لی۔

غسل خانے سے باہر جاتے ہوئے اچانک اُس کی نظر اُس گھسے پٹے آئینے پر پڑی جس میں اپنے چہرے پر نظر پڑتے ہی اسے عجیب سا احساس ہوا۔بظاہر اُس کا چہرہ تو باکل پہلے جیسا ہے۔ اُس نے جو کچھ بھی کیا تھا اس کے باوجود وہ بہت زیاد ہ شرمندہ نہ تھا۔
اُس نے سوچا، وہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان آرام سے چہل قدمی کرسکتا ہے صرف اُسے ہی معلوم ہے کہ آگے بڑھنے کیلئے وہ کیا کررہاہے۔

غسل خانے سے باہر نکل کر پپو اُس نوجوان کو تلاش کرتا ہے جس نے اسے کمرہ شےئر کرنے کی پیشکش کی تھی۔ پپو سوچنے لگا کہ کہیں وہ لڑکا بھی باقی آدمیوں کی طرح ہم جنس پرست تو نہیں؟ یا پھرخود اُس کی طرح محض گھر سے بھاگا ہواایک نوجوان ہے۔ اِن سب خیالات کو جھٹک کر وہ سوچنے لگا کہ وہ نوجوان خاصا دوستانہ رویہ رکھتا ہے پپو کو ایسے لوگوں سے بات کر کے اچھا لگنے لگا۔ کافی لوگ وہاں موجودہیں اور بہت سے لوگ آ جا رہے ہیں مگر اُن سب میں اُسے وہ نوجوان کہیں نظر نہیں آرہا۔ پپو سوچتا ہے کہ اب کسی ہوٹل کے کمرے کا کرایہ خود ہی دینا پڑے گا۔ یہ سوچتے ہوئے وہ اُس جگہ سے آدھا کلومیٹر دُور ایک ہوٹل کے سامنے پہنچ جاتا ہے۔
انتظامیہ کی کھڑکی کے سامنے وہ ایک بڑی عمر کے شخص کو دیکھتا ہے جو اپنا بل ادا کر رہا ہے۔

اچانک اُس کی نظر ایک راہ داری کے دروازے پر پڑتی ہے، وہاں اُسے ایک خوبصورت اور چنچل لڑکی نظر آتی ہے ۔ اُس کے لمبے سرخ بال اُس کے گالوں کو چھوتے ہوئے بڑی شان سے اُس کے کندھوں تک آتے ہیں۔ اپنی دو انگلیوں کے درمیان ایک نقلی پلک پکڑے ہوئے وہ ٹکٹکی باندھے خاموشی سے پپو کو دیکھ رہی ہے۔ جب وہ پپو کو دوسری دفعہ اپنی طرف متوجہ دیکھتی ہے تو اسے اپنے پاس بلانے کیلئے اشارہ کرتی ہے۔ اتنی دیر میں پپو کی باری آجاتی ہے اور بکنگ کاؤنٹر پر کھڑا شخص ایک نظر اُس پہ ڈالتا ہے اُس سے170 روپے مانگتا ہے۔ پپو اُس شخص کی توجہ ایک چھوٹی سی تختی کی طرف دلاتا ہے جس پر 135 روپے لکھا ہوا ہے۔ وہ شخص پپو کی بات کو نظرانداز کر کے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ لڑکی پپو کو اپنی طرف بلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس جگہ پر سب ہوٹل والے آنے والے نوجوانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔ وہ پپو کو اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دیتی ہے۔ پپواُس کے بوسیدہ کمرے میں جھانکتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کمرہ تو 100 روپے کے قابل بھی نہیں ہے۔

بعض ہوٹل والے کمرے تو دے دیتے ہیں مگر پھر یہ دو نمبر کام کرواتے ہیں

کبھی کبھار تو آنے والوں کیلئے وہ بستر کی چادریں بھی نہیں بدلتے یہ ہوٹل والے جانتے ہیں کہ یہاں آنے والے سب نوجوان گھروں سے بھاگے ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ بہت سے نوجوان تو اٹھارہ سال کے بھی نہیں ہوتے۔ اُنہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے پاس کیش بھی ہوتا ہے۔ اِن میں سے بعض ہوٹل والے کمرے تو دے دیتے ہیں مگر پھر یہ دو نمبر کام کرواتے ہیں۔‘‘لڑکی تفصیل سے بتاتی ہے۔

’’یہ دنیا بے ہودہ انسانوں سے بھری ہوئی ہے،جو ایسے لوگوں کا خون چوستے ہیں، ان کے وسائل چھین لیتے ہیں اور انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں،ظلم کی ایسی داستانیں رقم ہوتی ہیں کہ انسان کی روح تک چھلنی ہو جاتی ہے‘‘ پپو سوچتا ہے۔
’’میں نے آج صبح ہی اپنے کمرے کا کرایہ ادا کیا ہے، میں ابھی سو کر اُٹھی ہوں اور اب باہر جانے کا سوچ رہی تھی تاکہ کچھ پیسے بنا سکوں اور اپنے لئے نشہ خرید سکوں۔ میری سہیلیاں بھی مجھ سے بات نہیں کررہیں، اس بات پر میں اتنی بیزار ہوں۔‘‘لڑکی پریشانی کے عالم میں پپو کو بتاتی ہے۔وہ پپو سے التجا کرتی ہے ’’ہم دونوں تمہارے پیسوں سے نشہ کرلیتے ہیں اور پھر تم میرے ساتھ کمرے میں رہ سکتے ہو۔آج میری سالگرہ بھی ہے، تم بہت پیارے لگ رہے ہو، کیا تم میرے ساتھ رہو گے؟‘‘ وہ پپو کے گال پربوسہ دیتے ہوئے کہتی ہے۔

اُس کا یہ کہنا کام دکھا جاتا ہے اور پپو اُس کے ساتھ رہنے پر رضامند ہو جاتا ہے۔ وہ اُس کے کمرے میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھ رہا ہے جبکہ وہ نشہ خریدنے کیلئے باہر گئی ہوئی ہے ۔ پپو نے نشے میں دھت ہونے کا کوئی پروگرام نہیں بنایاتھا۔ وہ صرف کمرے میں بیٹھ کر پروفیسر کو بھلانا چاہتا ہے، مگر یہ تو سب سے ہی بہتر ہے کہ اُسے ایک ایسا خوبصورت ساتھی مل گیا جس سے وہ بات بھی کر سکتا ہے۔

اب اس لڑکی اور نشے کی مدد سے وہ پروفیسر کو آسانی سے بھُلا سکتا ہے۔ اسی اثناء میں وہ لڑکی واپس آجاتی ہے اور اُس کے پاس نسواری رنگ کا پاؤڈر بھی ہے۔ وہ پپو کے سامنے اس پاؤڈر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتی ہے کہ اس سے انسان کے جسم میں طاقت ایسے آجاتی ہے جیسے بجلی بھر گئی ہو۔
پپو اُس لڑکی کے ساتھ بہت سی باتیں کرتا ہے جو اپنا نام بینا بتاتی ہے۔ ایک سال پہلے اُسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔پپو بینا سے گھر سے نکلنے کی وجہ پوچھتا ہے لیکن بینا اُس کے ساتھ اٹھکیلیاں شروع کر دیتی ہے۔
پپو کئی گھنٹوں کی نیند سے بیدار ہوتا ہے۔ بینا شاور لے رہی ہے۔ اُس کے کپڑے کمرے کے فرش پر ہر جگہ بکھرے پڑے ہیں اور اُن کپڑوں کے ساتھ ہی ایک سُرخ رنگ کے بالوں کی وِگ بھی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ بینا کے اصل بال کیسے لگتے ہوں گے، وہ متجسس تھا کہ ابھی تھوڑی دیر میں وہ بینا کو اپنی اصل حالت میں دیکھ لے گا۔ یہ سوچ کر پپو مسکراتا ہے۔

پپو نشے کی حالت سے تو واپس آجاتا ہے مگر اُسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسیاُس کے ہوش ٹھکانے نہیں، دراصل پپو نے حد سے زیادہ ہی نشہ کرلیا تھا۔ پپو گزشتہ رات کے بارے میں سوچتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ گزری ہوئی رات ایک بہت بُرے دن کا اچھا اختتام تھی۔ پپو زندگی کے اُتار چڑھاؤ کو سمجھنے لگ جاتا ہے اور یہ کہ زندگی کو پُرلطف کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

گڈ مارننگ! کیا مجھے کچھ اور محبت نہیں ملے گی؟

گڈ مارننگ! کیا مجھے کچھ اور محبت نہیں ملے گی؟ پپو غسل خانے کے دروازے سے پکارتا ہے۔
’’کیوں نہیں‘‘ پپو کو آواز سنائی دیتی ہے اور ساتھ ہی دروازہ تھوڑا سا سرکتا ہے اور اُس میں سے بینا کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ پپو نے بینا کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا، دونوں ایک جھٹکے سے بستر پر گر پڑتے ہیں۔ پپو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ ایک چِکنا سا لڑکا اُس کے اوپر ہے۔ وہ پپو سے اٹھکیلیاں کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ پپو اُسے دھکا دے کر اپنے سے الگ کرتا ہے اور قالین پرجا گرتا ہے۔

ایک دُبلا پتلا نوجوان پپو کو گھور رہا ہے۔
’’خوب! مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا،میرے علم میں تھا کہ تم حقیقت سے آگاہ نہیں ہوگے،تم یہاں پر نئے ہو نا‘‘ بینا ہنستے ہوئے کہتی ہے۔
’’اوہ خدایا‘‘ پپو بینا کو اصل حالت میں دیکھ کر کہتا ہے، اُسے واقعی سمجھ نہیں آ رہا کہ اُسے اِس بات کا کیا جواب دینا چاہئیے۔
’’میرا خیال ہے کہ تم تو ہم جنس پرست نہیں ہو، میں نے تمہیں میکڈونلڈزمیں دیکھا اور تم مجھے اچھے لگے تھے۔‘‘
’’کیا یہاں پہ سب لوگ ہم جنس پرست ہیں‘‘ پپو نے دہشت زدہ لہجے میں پوچھا۔
’’
زیادہ تر لڑکے ایسے ہی ہیں‘‘ اُس نے جواب دیا۔
’’کیونکہ ان سب کو بھی اُن کے والدین نے اِسی طرح گھر سے نکال دیا تھا جیسے کہ مجھے میرے والدین نے نکالا ہے۔‘‘
میرا خیال ہے میرے پورے شہر قصور میں صرف میں ہی واحد ہم جنس پرست ہوں،اسی لیے لاہور آگیا، کیونکہ میں نے لالی ووڈ کے بارے میں سنا ہوا ہے۔ یہاں فورٹ روڈ پر میرا پورا خاندان ہم جنس پرستوں کاہے ، ابھی تو وہ مجھ سے ناراض ہیں کیونکہ میں نے اُن کا کرایہ نشے میں اُڑا دیا لیکن کچھ دِنوں میں وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘

وہ کرسی پہ بیٹھ کر اپنے بال سکھانے لگتا ہے۔’’ میرے باپ نے تو مجھے کہہ دیاتھا کہ میں کچرا ہوں اور مجھے گٹر میں ہونا چاہئیے اور دیکھو۔۔۔ میں یہاں ہوں۔‘‘یہ وہ جگہ ہے جس سے میرا گہرا تعلق ہے۔ مجھے پتا ہے یہ بات اچھی نہیں لگتی۔ ’’سچ یہی ہے ۔کڑوا سچ‘‘۔
وہ ہنستے ہنستے سنجیدہ ہوگیا۔

’’تمہیں چاہئے تھا کہ یہ بات مجھے پہلے ہی بتا دیتے‘‘پپوشکوے کے انداز میں بات کرتا ہے۔
’’میں نے کل رات تمہیں پارکنگ میں دیکھا ۔ میں سمجھا تم بھی شاید میری طرح لاپرواہ ہو، میرا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کی زندگیاں اُلجھی ہوئی ہیں۔ میں ہم جنس پرست کا لفظ بار بار استعمال نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ کچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں جب میرا دل کسی جوشیلے شخص کے ساتھ لیٹنے کوچاہتا ہے ، جو میرے دل کو لبھائے اور کبھی میں صرف اٹھکیلیاں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

اب مجھے جانا ہے‘‘ پپو کہتا ہے اور پلٹ جاتا ہے

وہ شیشے کی طرف مُڑ کے اپنے بال سنوارتا ہے۔
’’بہرحال میں معافی چاہتا ہوں ۔ تمہیں پتہ نہیں ہے، تم واقعی بہت خوبصورت ہو اس لیے میرا دل بے ایمان ہوگیا‘‘وہ بستر پر آکر پپو کے سر کو کنگھے سے تھپکتا ہے اور پوچھتا ہے۔
’’کیا کھانے کا موڈ ہے؟‘‘
’’ایک اوربے ہودہ‘‘ ……پپو طنزیہ انداز میں کہتا ہے۔ ’’تمہیں صرف میرے روپے چاہئیے تاکہ تم اُس سے نشہ خرید سکو اور اب باقی کے بچے ہوئے روپوں سے تم کھانا کھانا چاہتے ہو، کیا میرے کچھ پیسے بچے بھی ہیں؟‘‘ پپو نے پوچھا۔

’’جانو! تمہارے پیسے تو سب ختم ہوگئے، کل ہم نے بہت زیادہ ہیروئن استعمال کی تھی، تمہیں بالکل اندازہ نہیں کہ ہیروئن کی قیمت کیا ہے؟ لیکن میرے پاس اتنے پیسے ضرور ہیں جن سے ہم کھانا کھا سکیں ‘‘بینا نے حساب دیتے ہوئے کہا۔
’’اب مجھے جانا ہے‘‘ پپو کہتا ہے اور پلٹ جاتا ہے۔
’’اوئے، بڑے ہو جاؤ‘‘ وہ شیشے میں پپو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔
’’مجھے یہ مت کہنا کہ کل میرے ساتھ تمہیں کوئی لطف نہیں آیا، ہم نے بہت مزہ کیا، مجھے تم پسند ہو اور تمہیں بھی میں پسند ہوں ،اب مجھے یہ باتیں مت سنانا کیونکہ میں ایک لڑکا ہوں، یہ بالکل نامعقول بات ہے۔‘‘بینا شکایتاً کہتا ہے۔

’’کیا تم مذاق کر رہے ہو؟‘‘ پپو نے کہا۔
’’ تم بھی تو اُن میں سے ایک ہو، جو بھوکے مرتے ہیں، بہت سے لوگ جو ہم جنس پرست نہیں ہوتے۔ انہیں روزمرہ کی زندگی گزارنے کیلئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ سب کچھ بھولنا ہی تمہارے لیے بہتر ہے، آخر یہاں اس کی پرواہ بھی کون کرتا ہے؟‘‘بینا جینز پہنتے ہوئے سمجھاتا ہے۔

پپو پریشانی کے عالم میں ہوٹل سے نکلتا ہے اور کسی تنہائی والی جگہ کی تلاش کرتا ہے۔ شاید وہ جانتا ہے کہ آخر وہ اس حال کو کیسے پہنچا؟ کیونکہ وہ بے سازوسامان ہے اور اُس کے پاس کوئی ملازمت نہیں ہے۔ اُس کے پاس جو واحد چیز ہے وہ اُس کا جسم ہے اور عمر رسیدہ شادی شدہ مرد اپنی بیویوں سے پسِ پردہ، اُس کے جسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے اُسے کچھ بھی دینے کیلئے تیار ہیں۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے زندگی کی گاڑی کو آگے چلانے کیلئے اُسے سب طرح کے کام کرنے پڑیں گے۔

* شاید اُسے واپس چلے جانا چاہئیے اور جاکر اُس لڑکی بینا سے کھانا لے لینا چاہئیے۔ ویسے بھی یہ خرچہ اُن پیسوں سے بہت کم ہوگا جو بینا نے نشہ خریدنے کیلئے پپو سے ہتھیا لیے تھے۔ ہو سکتا ہے وہ نشہ حاصل کرنے میں بھی پپو کا مددگار ثابت ہو، تا کہ پپو کو جسم فروشی میں کوئی عار نہ محسوس ہو۔ لنک20پر جائیے۔

* بہتر ہے کہ وہ چالاکی سے معاملہ طے کرلے،کسی کو بوائے فرینڈ بننیمیں کامیاب نہ ہونے دے گا۔ وہ کچھ منٹوں میں کوئی مصیبت پالے بغیر ہی پیسے کما سکتا ہے۔ یہ کوئی اُس کا نیا شوق نہیں بس مجبوری ہے۔ پپو کو کسی میکڈونلڈز پر گاہک ڈھونڈنے کیلئے چلا جانا چاہئیے۔ لنک21 پر جائیے۔