پپو خاموشی سے شیرنی کے پاس بیٹھ جاتا ہے، پپو سوچتا ہے کہ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، وہ اپنے خیالات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرے گا۔ اُس کو تنہائی میں تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ کبھی کبھار آوارہ گردی کرنے نکل جاتا ہے تو اس کو ذہنی سکون ملتا ہے۔ایک آزادی کا احساس اسے مزہ دیتا ہے لیکن گھر کی یاد بار ہا اسے تڑپا دیتی ہے، لیکن اب وہ اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ گھر کا رخ کرے۔ کبھی کبھی تو اسے اپنے آپ سے بھی گھن آتی ہے۔

پپو تین دن بعد ایک پرس چوری کرتا ہے جس میں نقدی ہوتی ہے، جس سے پپو اور شیرنی گلچھڑے اُڑاتے ہیں اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک یہ ’’لوٹ کا مال‘‘ ختم نہیں ہو جاتا، شیرنی دل کھول کر اپنے لئے ’’شاپنگ‘‘ کرتی ہے۔ وہ شام کو تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، جیب پھر کنگلوں کی طرح خالی ہے۔ رات زیادہ ہونے کی وجہ سے پپو سوچتا ہے کہ اب بھیک مانگنے کا وقت گزر چکا ہے، وہ سوچتا ہے کہ اب کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرنا چاہئے۔ دونوں نہاری ہاؤس میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ ذوق و شوق سے نہاری کھانے آتے ہیں اور ترس کھا کر بھیک منگتوں کو بھی اپنے پلے سے نہاری کھلا دیتے ہیں۔ دونوں کسی حاتم طائی کے انتظار میں نہاری ہاؤس کے کونے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اتنے میں شیرنی پپو کی توجہ باہر کھڑے چار اوباش نوجوانوں کی طرف دلاتی ہے۔

’’یہ تو انہی چار لڑکوں کا گینگ ہے جن میں سے ایک کا پرس لے کر میں بھاگا تھا۔‘‘ پپو اپنی رائے دیتا ہے۔ ’’یہ لوگ خواتین کے ساتھ ’اکھ مٹکا‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘ پپو مزید تبصرہ کرتا ہے، ’’شیرنی! ذرا ایک طرف آ جاؤ کہیں ان لفنگوں کی نظر مجھ پر نہ پڑ جائے‘‘ اور اسی اثنا میں دونوں کی توجہ ان لڑکوں سے ہٹ جاتی ہے۔

اس دوران وہ دونوں کھڑکی میں سے ’نئی زندگی‘ کی ویگن کو گزرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
’’میرے لیے ’نئی زندگی ‘ والوں سے ایک سینڈوچ لا دو!‘‘ شیرنی پپو سے پیار بھرے لہجے میں استدعا کرتی ہے۔
پپو اُس کو بتاتا ہے کہ میں تھکا ہوا ہوں، ایک گھنٹے سے مسلسل پیدل چل رہا ہوں اور بڑی مشکل سے ابھی بیٹھنے کا موقع ملا ہے، ویسے بھی نئی زندگی والے ساتھیوں کیلئے کھانا نہیں دیتے، تمہیں خود جا کر اپنا حصہ لینا ہو گا۔
’’تمہیں اتنا خود غرص نہیں ہونا چاہئیے، بھیک کے پیسوں میں میرا حصہ بھی ہے۔‘‘ شیرنی جتاتے ہوئے کہتی ہے۔

* پپو اٹھتا ہے اور سینڈوچ لینے چلا جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے یہی قربانیاں حقیقی محبت کا تقاضا کرتی ہے۔ لنک27 پرجائیے۔

*انکار کرتا رہتا ہے اور اپنے پاؤں اٹھا کر میز پر رکھ دیتا ہے۔لنک28پر جائیے۔