پپو اونچی آواز میں استقبالیہ پر موجود لڑکے کو بلاتا ہے اور اس سے شبو کے بارے میں پوچھتا ہے۔ استقبالیہ پر موجود لڑکا بتاتا ہے کہ وہ شبو کے بارے اسے کوئی معلومات نہیں دے سکتا کیونکہ یہ ادارے کی پالیسی کے خلاف ہے۔ پپو اس کے اس ناروا رویے پر شدید غصے میں آجاتاہے اور دفتر میں کافی غل غپاڑہ اور تھوڑ پھوڑ کرتاہے۔وہ لڑکا پپو کو سمجھاتا ہے کہ ’’تم جتنا مرضی چیخو چلاؤ، ہم تمہیں شبو کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے، ہماری مجبوری سمجھو‘‘۔ پھر وہ پپو کے دونوں کندھے مضبوطی سے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے، اور ہاں! میری بات غور سے سنو!

جب تمہارا بچہ اس دنیا میں آئے گا تو وہ بھی ہم سے اپنے والد کے بارے میں پوچھے گا کہ اُس کا باپ کون ہے؟ وہ کیا کرتا ہے؟ اس کا کاروبار کیا ہے؟ اس کی زندگی کا سٹائل کیا ہے؟ کیا ہم اسے کوئی معقول جواب دے سکیں گے؟ کیا ہم یقین سے کہہ سکیں گے کہ اس کا باپ کون ہے؟

ہماری زبان چپ رہنے کی عادی ہے، کئی دفعہ یہ بولنے سے انکار کردیتی ہے ہماری کچھ مجبوریاں ہیں۔ کیا ہم اسے بتا سکتے ہیں کہ تم نشہ کرنے کیلئے لوگوں سے پیسے چھینتے ہو؟ کھانا کھانے کیلئے داتا دربار کے چکر لگا تے ہو؟ تم کسی کے ساتھ بھی سو سکتے ہو! تم ایک جسم فروش نوجوان ہو جسے پاکیزگی اور غلاظت کے درمیان کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا؟ کیا ہم اسے بتا سکتے ہیں؟ ضرروی نہیں کہ تم ہی اس کے باپ ہو؟ ہوسکتا ہے کہ وہ محض ایک حرامی ہو! ان گلیوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح پلنے والے بہت سے دوسرے حرامی لوتھڑوں کی طرح ایک اور! پپو نڈھال ہوکر زمین پر گرپڑا اور آنکھیں بند کرلیں۔

تمہیں چاہیے کہ خدا سے معافی مانگو اور اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرو کہ تم آئندہ کیا کرنا چاہتے ہو؟ استقبالیہ پر موجود لڑکا پپو کو سمجھاتا ہے۔

* پپو شرمندہ ہوتا ہے اور اُس سے معذرت کرتا ہے اور اُسے بتاتا ہے کہ وہ نشہ میں دھت تھا اس لیے اس سے یہ غلطی ہوگئی۔ لنک35 پر جائیے۔

* پپو ہنگامہ آرائی جاری رکھتا ہے۔ لنک36 پر جائیے۔