لنک 26

’’میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا!‘‘

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے …….. کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

’’اچھا تو تم اب بے گھر ہو؟‘‘ صادق پپو کو طنزیہ لہجے میں کہتا ہے۔
پپو صادق کو پوتنی دا کے سارے کرتوت بتا دیتا ہے اور اسے موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی وجہ سے پولیس نے پپو کے کمرے پر چھاپہ مارا ہے اور پپو بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا ہے۔
’’اچھا! تو تم بے گھر ہو؟‘‘ صادق پپو کی بات سن کر پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔

صادق چونکہ پپو کے کام سے مطمئن ہوتا ہے اس لیے وہ پپو کو بھاٹی میں موجود اپنی ایک حویلی کے چھوٹے سے کمرے میں رہنے کی جگہ دے دیتا ہے اور اس سے بغیر سیکورٹی کے -/500 روپے ماہانہ کرایہ طے کر لیتا ہے۔ اس حویلی کی دیکھ بھال صادق پہلوان کے بھائی اچھو پہلوان کے سپرد ہوتی ہے۔

کچھ دن یونہی گزر جاتے ہیں، پپو کا ذہن مختلف خیالات کی آما جگاہ بنا رہتا ہے۔ وہ اس ریسٹورینٹ سے بھی بھاگ جانا چاہتا ہے پھر وہ سوچتا ہے کہ یہ جگہ پھر بھی ان جگہوں سے تو بہتر ہی ہے جہاں منشیات فروشوں اور طوائفوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔

کسی ایک خیال کے ساتھ بھی پپو زیادہ دیر مطمئن نہیں رہتا۔ باری باری اپنے کمرے کی دو کھڑکیوں کے سامنے جا بیٹھتا ہے اور خیالوں کے تانے بانے بنتا رہتا ہے۔ دو میں سے ایک کھڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا ہے۔ یہ کھڑکی پپو کو خاص طور پر پسند ہے کیونکہ اس کھڑکی سے اس کی نظر سامنے والی کھڑکی پر پڑتی ہے جہاں گڈو نامی لڑکی اچھلتی کودتی نظر آتی ہے۔ اب بھی وہ اسی کھڑکی کے سامنے بیٹھا خیالوں میں مگن ہے ۔ پپو اپنی زندگی کے بارے بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ پتہ نہیں آنے والا کل اس کیلئے کیا فیصلہ کرے گا؟ ایک یہی خیال اسے چین نہیں لینے دیتا۔ بے یقینی کی کیفیت اسے ہمیشہ تنگ کرتی تھی۔ اُسے ہر چیز کافوری جواب چاہئے تھا، جب بھی اس کے ابا کسی بات پر کہتے کہ ’’اچھا! سوچ کر بتاؤں گا‘‘۔ تواسے ہمیشہ بہت غصہ آتا تھا۔

صادق کی بیوی عالیہ، پپو کو ضروریات زندگی کا تمام سامان فراہم کرتی ہے۔ عالیہ پپو اور شبو کی کہانی سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ عالیہ، صادق سے شبو کو بھی نوکری دینے کی سفارش کرتی ہے۔ وہ پپو سے کہتی ہے کہ وہ اس کی کہانی پر مبنی ایک فلم بنائے گی جس میں پپو کا کردار فواد خاں اور شبو کا کرداروینا ملک ادا کرے گی۔

پپو ہیومن رائٹس کے دفتر میں جاتا ہے اور شبو کا پوچھتا ہے۔ وہاں کا نمائندہ اس کو کسی بھی قسم کی معلومات دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔پپو اصرار کرتا ہے اور ڈھٹائی سے وہیں بیٹھا رہتا ہے۔ کچھ دیر بعد پپو کو شبو کی آواز سنائی دیتی ہے۔

’’تم کدھر سے آن ٹپکے ہو؟‘‘ وہ دوسری منزل سے جھانکتے ہوئے کہتی ہے۔ وہ ایک شہزادی کی طرح لگ رہی ہوتی ہے۔
’’میں تمہیں لینے آیا ہوں‘‘ پپو اُسے بتاتا ہے۔
’’کیا مذاق سمجھ رکھا ہے؟ یہ مرکز ہے ، تمہاری خالہ جی کا گھر نہیں، میں یہاں خوش ہوں اور تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں۔‘‘
’’لیکن میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا! میں تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا‘‘۔ ’’کیا لُٹ پڑی ہوئی ہے؟ کیسے لے کر جاؤ گے؟ میں تم پر ہر گز بھروسہ نہیں کر سکتی۔‘‘

پپو مسلسل منت سماجت کرتا رہا، آخرکار شبو کا دل پیسج گیا

پپو مسلسل منت سماجت کرتا رہا، آخرکار شبو کا دل پیسج گیا۔
’’اگر تم اچھی زندگی گزارنے کا وعدہ کرو تو میں سوچتی ہوں۔ تمہیں تو نشے کے علاوہ کسی چیز سے بھی دلچسپی نہیں، کیا میں اتنی پاگل ہوں کہ ایک نشئی کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچوں؟ اور یہ جو تم منشیات کا دھندہ کرتے ہو، اس میں میں تمہارا ساتھ تو ہر گز نہیں دے سکتی‘‘۔ شبو نے حتمی فیصلہ سنا دیا۔

’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ نشے کو کبھی ہاتھ نہیں لگاؤں گااور منشیات کا دھندہ تو میں کبھی سوچ کر بھی نہیں کر سکتا۔ مجھے صرف تمہاری ضرورت ہے۔ میرا دنیا میں تو کوئی اور ہے بھی نہیں، اگر تم بھی میرا ساتھ نہیں دے سکتی تو پھر اچھا ہے کہ میں مر ہی جاؤں۔‘‘
پپو کی آنکھوں میں آنسو ڈُبڈبانے لگے۔
’’بہت اچھا ہے!‘‘ چلو پھر قیامت کوہی ملیں گے۔ شبو نے چڑ کر جواب دیا۔
’’تم تو پتا نہیں مروگے کہ نہیں ، لیکن تم نے کوئی بھی غلط حرکت کی تو پھر تمہیں میری لاش ہی ملے گی۔‘‘

سکیورٹی گارڈ یہ بات سُن کر شبو کو کھڑکی بند کرکے واپس جانے کو کہتا ہے۔ شبو اُس کو ہوائی بوسہ دیتی ہوئے کھڑکی بند کرتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے۔ پپو دروازے کے قریب بے چینی سے شبو کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ سیکورٹی گارڈ اس کو مرکز سے باہر نکال دیتا ہے۔

’’شاید وہ اپنا سامان پیک کر نے اور کھانے پینے کیلئے چیزیں اکٹھی کر رہی ہو گی‘‘ پپو سوچتا ہے۔ اس خیال کے ساتھ پپو دوبارہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، استقبالیہ پر موجود لڑکا بادل نخواستہ اس کو اندر لابی میں آنے دیتا ہے۔ اس دوران شبو آ جاتی ہے۔ شبو کے ہاتھ میں تھیلے نظرآتے ہیں۔ پپو فوراً سوچتا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ چلنے کیلئے آئی ہے اور تھیلوں میں یقیناًاس کا ساز وسامان ہے۔ ایک ہیومن رائٹس کی نمائندہ جس کا نام ماجدہ ہے شبو سے کہتی ہے، ’’اگرچہ میں تمہاری ماں نہیں ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ تم یہیں رہو‘‘۔ شبو نہیں مانتی۔ ماجدہ کچھ اصرار کرتی ہے اور پھر اپنا سا منہ لے کراندر کی جانب چل پڑتی ہے۔ شبو آبدیدہ ہو جاتی ہے اور ماجدہ کے پیچھے پیچھے مرکز کے اندر چلی جاتی ہے۔ پپو کچھ لمحے پریشانی کے عالم میں گزارتا ہے۔ اندر شبو اور ماجدہ کے درمیان کچھ جذباتی تبادلہ خیالات ہوتا ہے۔ شبو اسے اپنی مجبور ی بتاتی ہے کہ وہ پپو کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ماجدہ خاموش ہو جاتی ہے اور دعا دے کر اسے رخصت کرتی ہے۔ شبو باہر آتی ہے، اندر دیکھتی ہے کہ پپو کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہوتی ہیں۔ دل ہی دل میں شبو خوش ہوتی ہے اور بیگ پپو کو پکڑاتی ہے۔ دونوں ہیومن رائٹس کے دفتر سے باہر نکل جاتے ہیں۔

’’میں نے تمہاری بہت کمی محسوس کی‘‘ شبو پپو سے کہتی ہے۔
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
کچھ دیر تک دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر ڈائیلاگ بولتے ہیں۔ پھر شبو اچانک سنجیدہ ہو جاتی ہے۔
’’کیا وہ ابھی تک منشیات فروشی کرتا ہے؟‘‘ شبو سوال کرتی ہے ۔ پپو اس کی بات کا جواب نہیں دیتا جس پر شبو کچھ پریشان ہو جاتی ہے۔ پپو شبو کو لے کر صادق پہلوان کی حویلی آ جاتا ہے، اپنی جیب سے چابی نکال کر تالا کھولتا ہے اور بڑے پیار سے شبو کو اندر آنے کی دعوت دیتا ہے۔

کیا یہ کسی لڑکی کا گھر ہے؟‘‘ شبو سوال کرتی ہے

’’کیا یہ کسی لڑکی کا گھر ہے؟‘‘ شبو سوال کرتی ہے۔
’’‘‘ہرگز نہیں! تم اتنی شکی مزاج کیوں ہو؟
شبو کھسیانی ہنسی ہنستی ہے۔ پپو شبو کو صادق پہلوان اور اس کی بیوی عالیہ کے بارے سب کچھ بتا دیتا ہے۔ اس دوران صادق اور عالیہ کمرے میں آتے ہیں اور شبو سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔پھر وہ شبو کو ہوٹل میں نوکری دینے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ اس پر شبو حیرانی کے ساتھ ساتھ خوشی کااظہار بھی کرتی ہے۔

کمرے میں بہت سردی ہوتی ہے۔ ٹوٹے ہوئے شیشے کی جگہ پپو نے کارڈ بورڈ لگا دیا تھا ویسے بھی اب اسے گڈو کا ڈانس دیکھنے کی ضرورت نہ تھی۔شبو بار بار اسے چولہا ٹھیک کروانے کیلئے کہتی لیکن پپو نے سنی ان سنی کر دی، اس کے خیال میں چولہا ٹھیک کروانے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ کھانا دونوں ریسٹورنٹ سے ہی کھا لیتے تھے۔

پپو کا سب سے بڑا مسئلہ نشے کا ہے۔ کام کرنے کے بعد وہ اکثر نشہ کرتا ہے جس سے اس کی بوریت دور ہو جاتی ہے۔ پپو کی نشہ کرنے کی عادت شبو کو بہت ناپسند ہے۔ وہ ہر وقت پپو سے اس بارے گِلہ شکوہ بھی کرتی ہے۔ تاہم وہ پپو کے نشے بارے عالیہ کو بتانا بھی نہیں چاہتی ہے۔ عالیہ ان دونوں کو ہیر رانجھا سمجھتی ہے اور شبو یہ ہر گز نہیں چاہتی کہ اُس کا یہ بھرم ٹوٹ جائے۔
ایک دن شبو 14 انچ کا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر آتی ہے تاکہ پپو کی بوریت ختم ہو سکے لیکن اس سے بھی کوئی خاص فائدہ نہ ہوا، پپو اسی طرح نشہ کرتا رہا۔

ایک دن ریسٹورنٹ سے واپسی پر پپو کو پوتنی دا مل جاتا ہے۔ حال چال پوچھنے کے بعد پپو پوتنی دا سے نشہ کرنے کیلئے کچھ مانگتا ہے۔ پوتنی دا جواب میں اس سے رہنے کی جگہ مانگتا ہے۔ ’’پپو پوچھتا ہے کہ کون کون رہنا چاہتا ہے‘‘؟
پوتنی دا جواب دیتا ہے۔
میں اور ’گلابو‘ رہنا چاہتے ہیں۔
پپو حیرانگی سے بجلی بارے پوچھتا ہے تو پوتنی دا بتاتا ہے کہ اس نے بجلی کو چھوڑ دیا ہے۔ پپو اُسے بتاتا ہے کہ حویلی صادق پہلوان کی ہے اور وہ اس کو وہاں رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

پوتنی دا پپو کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر پپو نے اس کو ساتھ نہیں رکھا تو وہ پپو کو نشہ کرنے کیلئے بھی کچھ نہیں دے گا اور اسے اس حویلی میں بھی ٹکنے نہیں دے گا۔ پپو پریشان ہو جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ پوتنی دا کو اچھو پہلوان سے ملوائے تاکہ اس کے رعب دبدبے سے پوتنی دا ڈر جائے اور حویلی میں رہنے کا خیال دل سے نکال دے۔

* آخر کار پپو نشے اور دھمکی سے مرعوب ہو کر پوتنی دا اور گلابو کو اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دے دیتا ہے ۔لنک37پر جائیے۔

* پپو ’سٹینڈ‘ لیتا ہے تاکہ پوتنی دا اپنے ارادے سے باز آ جائے؟ پپو اسے مرعوب کرنے کیلئے اچھو پہلوان سے ملوائے گا۔ لنک38 پر جائیے۔