پپو سوچتا ہے کہ اُسے بھی ’خاندان‘ کے لیے کمائی کر کے لانی چاہیے اور کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے رہنا چاہئیے، ورنہ کہیں اس کا حال بھی پوتنی دا جیسا نہ ہو جائے۔

روزنامہ جنگ سے ایک لیڈی رپورٹر ’خاندان‘ کے بارے میں کہانی لکھنا چاہتی ہے۔ اُسے اس جگہ بارے کیسے معلوم ہوا؟ یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ وہ تمام کرداروں سے انٹرویو کرتی ہے اور یہ آرٹیکل اخبار میں چھپ جاتا ہے۔ اس میں چاچا کا خاکہ بھی پیش کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اُس نے تمام جرائم پیشہ بچوں کی ذمہ داری لی ہوئی ہے جو کہ حقیقت میں سچ نہیں ہے۔

ٹی وی چینلز سے بھی پروڈیوسرز آتے ہیں اور گلیوں میں پھرنے والے بچوں پر فلمیں بناتے ہیں۔ ایک رات اخبار والے پپو کا انٹرویو لیتے ہیں، وہ اُن کو بتاتا ہے کہ اسے نوکری نہیں ملتی جس کی وجہ سے اسے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ اس کے فوراً بعد پپو ’’نئی زندگی‘ سے اپنے لیے کھانا لے کر آتا ہے اور نشہ کرنے کیلئے بھیک مانگنے چلا جاتا ہے۔

پپو سوچتا ہے کہ اب اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ تمام زندگی یہیں گزار دے اور پھر ایک دن چپکے سے موت کی آغوش میں جا سوئے، وہ سوچتا ہے کہ اب مجھ میں مزید ہمت اور توانائی نہیں ہے کہ میں اور کچھ کرنے کے بارے میں سوچ سکوں۔

تین دن کے بعد دو پولیس والے پپو کو موہنی روڈ پر روکتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ چاچا نے ایک لڑکی کی عصمت دری کی ہے، کیا تم اس سلسلہ میں اپنا بیان قلمبند کرواؤ گے؟

پپو سوچتا ہے کہ اگر اُس نے بیان دیا تو بِلاّ قصائی اور چاچا ناراض ہو جائیں گے، ہو سکتا ہے وہ اُس کومار ہی ڈالیں۔ دوسرا خوف اُس کو یہ تھا کہ اگر ’خاندان‘ کو یہ بات پتہ چلی تو اس کے کیا نتائج ہوں گے؟

* اچھا ٹھیک ہے لیکن یہ راز رہنا چاہئیے۔ لنک39 پر جائیے۔
* ’’یہ سب جھوٹ ہے‘‘ وہ کہتا ہے، چاچا تو ہمارے باپ کی طرح ہے۔ لنک40 پر جائیے۔