بھاٹی گیٹ کے پاس ہی پپو ایک سستے اور صاف ستھرے ہوٹل میں کمرہ کرائے پر لے لیتا ہے۔ شام تک وہ ٹی وی اور شراب سے محظوظ ہوتا ہے۔ پھر وہ تھوڑا آرام کر کے اُس سنیک بار کی طرف جاتا ہے، جو ہوٹل سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے۔ سب لوگ اُسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ پپو اُن کے درمیان اچھا محسوس کرتا ہے۔ ویسے بھی پپو ہر ہفتے وہاں جایا کرتا تھا۔ اُن لوگوں میں جمی بھی ہے مگر وہ پپو سے بات نہیں کرتا اور خاموشی سے چلا جاتا ہے۔ اُس کے بعد اُسے جمی دوبارہ وہاں نظر نہیں آتا۔ باقی لوگ بتاتے ہیں کہ جمی نے ہوٹل بھی چھوڑ دیا ہے۔

پپو، ٹبی گلی کے اُس سنیک بار میں ہر روز جانا شروع کر دیتا ہے۔ وہاں کے سب لوگ اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں حالانکہ پپو کے پاس بہت کم پیسے بچے ہیں جو اُس نے سلطان کی چیزیں بیچ کے حاصل کئے تھے مگر اس سنیک بار میں سب کے سامنے وہ ابھی بھی امیر ہونے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ وہاں آنے والے آوارہ لڑکوں کو اب بھی مفت مشروبات خرید کے دیتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتا کہ وہ دوبارہ ایک سٹرک چھاپ لڑکا بن چکا ہے۔

آخرکار وہ اپنی شان و شوکت برقرار رکھنے کے لیے اپنا بہترین سوئیٹر بھی صرف تین سو روپے میں بیچ دیتا ہے۔اگلے دن وہ اپنی سونے کی چین اور انگوٹھی بھی بیچ دیتا ہے اور ان روپوں سے بھی وہ اپنے ساتھیوں کو مشروب خرید دیتا ہے۔ مشروب ختم ہونے پر، پپو کے ساتھی اور منگوا لیتے ہیں اور سنیک بار کا مالک پیسے وصول کرنے کیلئے پپو کے پاس پہنچتا ہے جبکہ پپو پریشانی سے ہکلانے لگتا ہے۔ پپو کے سب ساتھی عجیب نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے ہیں۔ سنیک بار کا مالک اُن سب پر کڑی نگاہ ڈالتا ہے۔ ’’دعوت ختم ہو گئی ہے، اپنا اپنا راستہ لو‘‘ سنیک بار کا مالک طنزیہ انداز میں کہتا ہے۔
’’بِل میں ادا کروں گا‘‘اس اثناء میں ایک آواز آتی ہے۔
’’یہ تو جمی کی آواز ہے‘‘ پپو سر اُٹھا کے دیکھتا ہے۔ اُس کی نظر جمی پہ پڑتی ہے۔ جمی کا تو حلیہ ہی بدلا ہوا ہے۔
بہترین تراش خراش، سیاہ چمکتے ہوئے جوتے اور زیتون کے رنگ کا قیمتی ارمانی سوٹ اُس کی شان بڑھا رہا تھا۔
پپو جمی کا شکریہ ادا کر کے اپنی نظریں پھیر لیتا ہے۔

’’جب میں مدد کرنے کے قابل ہوتا ہوں تو ضرور کرتا ہوں ‘‘جمی مسکراتا ہوا ایک سونے کی چین میز پر رکھتا ہے۔
’’کیا تم نے کچھ کھایا؟‘‘ایک آواز گونجتی ہے جو کہ سلطان کی معلوم ہوتی ہے۔
لنک47 پر جائیے۔