لنک 3

بھاگتے چور کی لنگوٹی…

غافِل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی ، گَر تو نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی

پپو گھر سے چرائی ہوئی کافی رقم ساتھ لاتا ہے اور کسی ہوٹل میں قیام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ چنیوٹ بازار فیصل آباد کے اُن سات بڑے بازاروں میں سے ایک ہے جو گھنٹہ گھر کے پاس ہیں وہ چنیوٹ بازار کے ’نور ہوٹل‘ میں جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

پپو چنیوٹ بازار سے کئی دفعہ گزرا تھا لیکن نور ہوٹل میں رہائش کرنے کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں اور اب اس کی ضرورت اُس کو یہاں کھینچ لائی تھی۔ نور ہوٹل پہنچنے پر پپو دیکھتا ہے کہ اُس کی دیواروں سے جگہ جگہ پینٹ اُکھڑا ہوا ہے، ٹیوب لائٹس ٹوٹی ہوئی ہیں اور ہوا میں جھُول رہی ہیں۔ استقبالیہ کے شیشے والے کیبن میں ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے اور استقبالیہ کے بائیں جانب سیڑھیاں اوپر دوسری منزل کی طرف جارہی ہیں۔

پپو سوچتا ہے کہ وہ چند دن کے لیے کوئی کمرہ کرائے پر لے لے اور پھر اُس میں بند ہو کر بیٹھ جائے۔ پپو دل ہی دل میں ڈر رہاہے۔ اُس کی یہ پریشانی عروج پرہے کہ کہیں کسی کو شبہ نہ ہو جائے کہ وہ گھر سے بھاگا ہوا ہے۔ وہ ہمت کر کے استقبالیہ کلرک کی طرف بڑھتا ہے۔پپوشیشے کے کیبن میں موجود ادھیڑ عمر شخص کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ شخص اخبار پڑھنے میں مگن ہے اور پپو کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ پپو زور سے شیشہ کھٹکھٹاتا ہے جس پر وہ شخص ناگواری سے پپو کی طرف دیکھتا ہے۔

’’مجھے ایک کمرہ چاہئیے‘‘ پپو سہمے ہوئے انداز میں اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔

’’کیا تم فیصل آباد کے رہنے والے ہو؟ میں فیصل آباد کے رہائشی کو کمرہ کرائے پر نہیں دیتا‘‘ اُس شخص نے ناپسندیدہ انداز میں پپو کو گھورتے ہوئے بتایا۔

’’لاؤ اپنا شناختی کارڈ دکھاؤ‘‘ وہ شخص اپنا ہاتھ شیشے کے کیبن سے باہر نکالتا ہے۔

’’میں شیخوپورہ سے آیا ہوں‘‘ پپو جھوٹ بولتا ہے۔

یہ سن کر وہ شخص کہتا ہے کہ صدرِ پاکستان کی آمد متوقع ہے اس لیے کوئی بھی کمرہ کرائے پر نہیں دیا جا رہا۔ یہ سن کر پپو اُس سے بحث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آخر تنگ آکر وہ شخص پپو کی بے عزتی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اسی وقت ہوٹل سے نکل جائے۔ پپو کو بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ گھر ہی صرف ایسی جگہ ہے جہاں مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے اور گھر سے بھاگنے والے اسی طرح ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔
’’یہ دیکھو، میں یہ ساری رقم تم کو دے دوں گا، بس مجھے ایک کمرہ دے دو۔۔۔‘‘ پپو اپنی جیب میں سے ایک بڑی رقم نکال کر اُس شخص کودکھاتاہے۔

اتنی بڑی رقم دیکھ کر بھی وہ شخص پپو کو کمرہ دینے پر رضامند نہیں ہوتا اور اسے بتاتا ہے کہ اس سے پہلے بھی اسی طرح ایک لڑکا اُس کا ٹی وی اور دو کرسیاں چُرا کر بھاگ گیا تھا۔ پپو کو اس کے اس رویے پر بہت غصہ آتا ہے مگر وہ بے بس ہوتا ہے اس لیے ہوٹل سے باہر کی طرف چل پڑتا ہے۔

فلم دیکھتے دیکھتے پپو پر نیند غالب آتی ہے

ہوٹل کے ایک کونے میں مولوی صاحب یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔ وہ اِن دونوں کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو بھی سن چکے ہیں۔ پپو جیسے ہی ہوٹل سے باہر نکلتا ہے تو اُسے اپنے شانے پر ایک دوستانہ گرفت محسوس ہوتی ہے۔

پپو پیچھے مڑکر دیکھتا ہے تو وہ گرفت ایک باریش بزرگ کی ہے، جو پپو کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزرگ پپو کو ایک دوسرے ہوٹل میں لے جاتا ہے اور اُسے اپنا بیٹا ظاہر کر کے ایک کمرہ لے دیتا ہے۔ جس میں ایک ڈبل بیڈ، ایک ڈریسنگ ٹیبل اور ایک ٹی وی پڑا ہوتا ہے۔ وہ بزرگ بھی کمرے میں ٹھہرنے کیلئے ضد کرتے ہیں۔ پپو کو اس بات سے بہت اُلجھن ہوتی ہے مگر وہ بے بس ہے کیونکہ اس شخص کی بدولت ہی اُس کو یہ کمرہ ملا ہے۔

پپو ٹی وی پر فلم دیکھنے لگتا ہے، فلم دیکھتے دیکھتے پپو پر نیند غالب آتی ہے تو وہ اُٹھ کر ٹی وی اور لائٹ بند کرکے کھڑکی سے پردے کو تھوڑا سا ہٹا دیتا ہے اور بیڈ پر لیٹ جاتا ہے۔

یہاں آنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ گھر والوں سے تھوڑی دیر کیلئے چھپ جائے اور دیکھے کہ وہ کیا کرتے ہیں؟پپو کھڑکی میں سے باہر جھانکتا ہے تو اُسے دھند کی دبیز چادر نظر آتی ہے اور اُسے مختلف لوگ اِدھر اُدھر اپنے کاموں میں مشغول نظر آتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں یہ سب کیوں ہوتا ہے؟ کیا اپنے حالات کے سب لوگ خود ذمہ دار ہوتے ہیں؟ کیا وہ زندگی میں غلط فیصلے کرتے ہیں؟

یہی باتیں سوچتے سوچتے وہ اپنے بارے میں سوچنے لگتا ہے کہ کیا اُس نے صحیح فیصلہ کیا ہے؟ اُسے مستقبل کا بھی لائحہ عمل بنانا چاہیے، اس لیے وہ بستر پر لیٹ کر آنے والے دنوں کے بارے میں سوچتا ہے، سوچتے سوچتے آنکھ لگ جاتی ہے۔

صبح ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے سے پپو کی آنکھ کھل جاتی ہے، ابھی وہ مزید سونا چاہتا ہے لیکن اُس کو اطلاع دی جاتی ہے کہ گیارہ بجے اُس نے کمرہ چھوڑنا ہے اور اب ساڑھے گیارہ بج چکے ہیں، اگر وہ ایک دن اور ٹھہرنا چاہتا ہے تو اسے مزید رقم جمع کروانی ہوگی۔

پپو اُٹھ کر اُن مولوی صاحب کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر بے سود۔ وہ شخص اُسے چکر دے کر رات کے کسی پہرتقریباً ساری رقم لے کر بھاگ جاتا ہے۔ کچھ رقم شاید اس لئے چھوڑ جاتا ہے کیونکہ ہوٹل میں اُسی کا پتہ درج ہے۔ پپو سمجھ جاتا ہے کہ وہ شخص باقاعدہ پروگرام بنا کر پپوکو یہاں لے کر آیا اور اسے لوٹ کر چلتا بنا۔ اب تو پپو کے پاس زیادہ رقم بھی نہیں بچی۔ شایدپپو پر مصیبتیں نازل ہونا شروع ہوچکی ہیں۔

* ’’ابھی بھی واپس گھر چلے جاؤ‘‘ پپو کو یہ خیال پھر ستاتا ہے، ہو سکتا ہے اگر وہ خود واپس چلا جائے تو اُس کے گھر والے اُسے معاف کردیں۔ اگر یہ صحیح حل ہے اورآپ کے خیال میں پپو اس خیال پر عمل پیرا ہوگا تولنک6 پرچلے جائیے۔

* وہ سوچتا ہے کہ اُسے ایک بس پکڑ کر اس شہر سے ہی دُور چلا جانا چاہئیے جو اِس کیلئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اگر آپ کے خیال میں یہی مناسب حل ہے تو جائیے لنک7 پر۔