پپو مایوس نہیں ہوتا کیونکہ آخر کار جیت اُسی کی ہوگی۔
’’اس وقت کون سے ہوٹل سے کھانا مل جائے گا؟‘‘ پپو چوکیدار سے پوچھتا ہے۔
چوکیدار ہنستے ہوئے اُسے بائیں جانب کی گلی کی ایک بلند عمارت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پپو اپنا بیگ کندھے پررکھ کر ریستوران کی تلاش میں چل پڑتا ہے۔ گلی کے باہر ٹھنڈی ہوا پپو کے چہرے کو چھوتی ہے۔ اُس کو وہاں پر کوئی بھی نظر نہیں آتا جس سے وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ایک چوراہے پر آجاتا ہے، اُسے چند مدھم روشنیاں نظر آتی ہیں وہ مایوسی کے عالم میں لالی ووڈ کی تیز اور آنکھیں چندھیا دینے والی روشنیوں کو تلاش کرتا ہے۔

پپو کچرے اور کوڑے کرکٹ سے اٹی ہوئی گلیوں میں چلنا شروع کر دیتا ہے۔ ان گلیوں سے گزرتے ہوئے پیشاب کی متعفن اور چبھنے والی بدبو سے پپو کا سانس لینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ کچھ قدم آگے آگ لگنے سے کوڑا سلگ رہا تھا۔ رات کے سناٹے میں عجیب و غریب ٹھٹھوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ان گلیوں میں کس قسم کے لوگ آتے ہوں گے، پپو کو اس کا اندازہ ہو رہا تھا۔ پپو کو شبہ ہونے لگا تھا کہ کیا یہ واقعی لالی ووڈ ہے ؟

پپو خیال کرتا ہے کہ اس نے بسوں کے اڈے کو چھوڑ کر بہت بڑی بیوقوفی کی ہے۔ اب اُسے واپس وہیں جانا چاہئیے۔ وہ واپس مڑتا ہے تو ایک شخص انتہائی گندے کپڑوں میں فٹ پاتھ پر لیٹا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر پپو مزید تیز قدموں کے ساتھ بس اڈے کی طرف چلنا شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران پپو محسوس کرتا ہے کوئی شخص اُس کا پیچھا کر رہا ہے اور اسے پکڑنے کی کوشش میں ہے۔ پپو کا خیال صحیح ثابت ہوتا اور کچھ دیر بعد ایک شخص اس کو زبردستی جکڑ لیتا ہے اور اُس کی جیب سے تمام پیسے نکال لیتا ہے اور بھاگ جاتا ہے۔ اس شخص کے مضبوطی کے ساتھ جکڑنے سے پپو کا نازک جسم درد کے مارے چٹخ رہا ہوتا ہے۔ پپو لڑکھڑاتا ہوا چلنا شروع کر دیتا ہے، اس دوران ایک گاڑی تیزی سے اس کے پاس سے گزرتی ہے۔ پپو اُس کو رُکنے کا اشارہ کرتا ہے لیکن وہ رُکنے کی بجائے کسی اور سمت میں چلی جاتی ہے۔ پپو بسوں کے اڈے کی طرف بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔

بسوں کے اڈے پر پہنچتے ہی اسے تین سیکورٹی گارڈ ملتے ہیں۔ پپو لڑکھڑا کر اُن میں سے دو کے ہاتھوں میں گِر جاتا ہے۔ اُس کے منہ میں سے جھاگ نکل رہی ہوتی ہے اور گلا خشک ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ گارڈ پپو کو ایک طرف ڈال دیتے ہیں، پپو صبح تک وہیں پڑا رہتا ہے۔ صبح کے وقت جب نیا گارڈ اپنی ڈیوٹی پر آتا ہے تو وہ پپو سے کہتا ہے’’تمہارے پاس نہ ہی ٹکٹ ہے اور نہ ہی کوئی سازوسامان تو پھر اڈے پر موجود رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اس لیے تم یہاں سے چلے جاؤ‘‘۔

* پپو کو کسی سپاہی کو تلاش کرکے اُس کی مدد حاصل کرنی چاہیے، اس سے پہلے کہ اسے کوئی نقصان پہنچے۔ لنک8 پر جائیے۔

* صبح کا اُجالا ہے اور پپو اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے۔’’ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے سفر کو جاری رکھے‘‘۔ لنک9پر جائیے۔