لنک 43

بھاگ پپو بھاگ!

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے!

خواب بالکل حقیقت جیسا تھا پپو جیمز بانڈ کی طرح جنگل میں بھاگا چلا جا رہا ہے، اسے محسوس ہو رہا ہے کہ اس کے پیچھے دشمن لگا ہوا ہے۔ پپو کی نظروں سے بظاہر وہ پوشیدہ ہے لیکن کچھ انہونی بات ضرور ہے اس کے دشمن کے بارے میں جو اسے انتہائی خوفزدہ کئے آواز دے رہا ہے۔ پپو کو پتوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی ہے مگر وہ پلٹ کر پیچھے دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔ اسے لگتا ہے کہ وہ جتنا چاہے تیز بھاگے، وہ اپنے دشمن سے بچ نہیں سکتا۔ اس کا حلق بالکل خشک ہے۔ اس کا دشمن نا صرف انتہائی طاقتور ہے بلکہ چاک و چوبند بھی۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے۔ یکایک وہ لڑکھڑاتا ہے، قلابازیاں کھاتا ہے اور پھر گرتا ہی چلا جاتا ہے۔۔۔

جیسے ہی اس کی آنکھ کھلتی ہے تکلیف کی شدت اُسے آن گھیرتی ہے۔ ہوش میں آتے ہی اُس کا سر درد سے بھر جاتا ہے۔ جیسے جیسے اُسے ہوش آ رہا ہے اذیت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے آس پاس تازہ لکڑی کی خوشبو ہے، کچھ ہی فاصلے پر کوئی لکڑی کاٹ رہا ہے۔

وہ کہاں ہے۔۔۔ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے، اِدھر اُدھر دیکھتا ہے اور پھر درد کی شدت سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ آس پاس لکڑی کا برادہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کے گلے میں بھی برادہ جما ہوا ہے۔ وہ اپنے بازو اور ٹانگیں ہلانے کی کو شش کرتا ہے مگر بے سود۔

وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا ہے اور اُس کی ٹانگیں اور ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اُس کے تن پر کوئی کپڑا نہیں، وہ برہنہ ہے۔ اس کا سارا جسم درد کی شدت سے شل ہے۔ وہ آنکھیں کھول کے سر گھمانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ نظر آتے ہیں۔ وہ کسی نامکمل عمارت میں ہے۔ وہ دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

وہ مدد کیلئے پکارتا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ یہاں اس کی مدد کیلئے کوئی نہیں۔ وہ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ جب وہ ہوش میں تھا تو آخری کام اس نے کیا کیا تھا؟ اسے نشے کی بہت طلب ہو رہی ہے، پھر اسے یاد آتا ہے کہ شاید رات والا کچھ نشہ بچا ہو، وہ ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اُسے درد کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ وہ اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ بے بسی کے عالم میں اپنے اردگرد دیکھتا ہے، اسے اپنے پاس صرف ایک خون میں لتھڑی لوہے کی چین نظر آتی ہے۔ وہ سوچتا ہے شاید اسی سے اسے مارا گیا ہو۔ وہ پھر دماغ پر زور ڈالتا ہے۔ اسے یاد آتا ہے آخری دفعہ اس نے بس سٹاپ پر بیٹھ کر نشہ کیا تھا پھر ایک بس سے دو لڑکے اترے تھے جو ملتان سے آئے تھے، وہ انہیں نشہ بیچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن وہ لڑے کسی صورت بھی نشہ خریدنے پر آمادہ نہ تھے۔ وہ لڑے چرس کے رسیا تھے لیکن کسی صورت بھی ہیروئن پینے کیلئے ہمت جمع نہیں کر پا رہے تھے۔ اس کے بعد وہ ادھر گرد کوئی اور گاہک تلاش کرنے لگا۔ آخر ناکام ہو کر وہ اسی بلڈنگ کے پاس ہی بیٹھ کر نشہ کرنے لگا اس کے بعد کی کوئی بات ا سے یاد نہیں آتی اور اب وہ یہاں بے یارومددگار پڑا تھا۔ اس ناگفتہ بہ حالت میں بھی اسے صرف نشے کی طلب ہو رہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو کوس رہا تھا۔ آخر اس نے سارا نشہ کیوں کر لیا؟ کچھ بچا کر کیوں نہ رکھا؟ اپنی عاقبت نااندیشی پر وہ لعنت ملامت کیا کرتا تھا۔ اسے اس بات کا کوئی ملال نہ تھا کہ اسے اغوا کیا گیا، مارا پیٹا گیا اور اس کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔ اسے صرف نشے کی پرواہ تھی۔

ابھی کوئی بھی آ جائے تو ہم تمہیں ہسپتال لے جائیں گے، تم فکر نہ کرو‘‘ وہ شخص کہتا ہے

پپو سوچتا ہے کہ اسے کسی نہ کسی طرح یہاں سے باہر نکلنا ہے اور نشہ خریدنا ہے تاکہ اس کے درد میں کچھ کمی ہو سکے۔ اچانک اسے کسی کے آنے کی آہٹ محسوس ہوتی ہے۔ پپو سوچتا ہے، ’’مجھے ہر صورت یہاں سے باہر نکلنا ہے‘‘۔ جب تک میں نشہ نہیں کروں گا، مجھے چین نہیں آئے گا، ’’خدا کا شکر ہے کوئی آ رہا ہے‘‘۔ اس کے ہونٹ سوکھے ہوئے تھے، گلے میں جیسے کانٹے چبھ رہے تھے اور ننگا جسم بھی گرد سے اٹا پڑا تھا۔ اس نے اپنی پیٹھ پر ہاتھ رکھا تو اسے سوجن کا احساس ہوا۔ اپنے ہاتھ پر خون دیکھ کر اس کے چھکے چھوٹ گئے، ’’اوہ! میرے خدایا!‘‘
اس نے اپنی ٹانگ ہلانے کی کوشش کی لیکن اس میں سکت ہی نہ تھی۔ وہ ادھ مواء پڑا تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں اسے ایک آدمی نظر آتا ہے جو دیکھنے میں مزدور لگتا ہے ۔درمیانی عمر کا یہ آدمی خود کافی پریشان دکھائی دیتا ہے۔
’’ تم ٹھیک ہو‘‘ وہ پپو سے پوچھتا ہے۔
پپو مسکرانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ شخص اپنے تھیلے میں سے پانی کی بوتل نکالتا ہے اور پپو کو پانی پلانے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر وہ اپنی قمیض اتار کر پپو کے جسم کو اس سے ڈھانپ دیتا ہے۔

’’ ابھی کوئی بھی آ جائے تو ہم تمہیں ہسپتال لے جائیں گے، تم فکر نہ کرو‘‘ وہ شخص کہتا ہے۔
’’نہیں، نہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے بس کچھ روپے چاہئیں، اس کیلئے تم بھی چاہو تو اپنا دل خوش کر سکتے ہو، میں تمہیں بھرپور مزہ دے سکتا ہوں، بس تم مجھے ایک دو سو روپے دے دو اور پھر جو چاہو کرو۔ پہلے تم میری رسیاں کیوں نہیں کھول دیتے؟‘‘ پپو بد حواسی میں ہانکے چلا جاتا ہے۔

مزدور نما شخص پپو کی باتیں سنی ان سنی کر دیتا ہے اور پپو کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے، پھر کچھ پانی اس کے منہ میں ٹپکاتا ہے اور اسے خاموش رہنے کیلئے کہتا ہے۔ پپو اسے دوبارہ اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور کچھ روپوں کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ اس آدمی سے کوئی جواب نہ پا کر پپو جھنجھلا جاتا ہے اور اسے عجیب و غریب طعنے دینے لگتا ہے۔ ’’لگتا ہے تمارے اندر کوئی دم نہیں ہے؟ کیا تم ٹھنڈے ہو چکے ہو؟ مجھے دیکھ کر تو بڈھے بھی جوان ہو جاتے ہیں، تم تو ٹس سے مس نہیں ہو رہے؟‘‘ پپو فضول باتیں کئے چلا جاتا ہے۔ ’’خاموش رہو‘‘ وہ آدمی پپو کو ڈانٹ دیتا ہے، ’’میں ایسا آدمی نہیں ہوں‘‘، اگر تمہاری جان کو خطرہ نہ ہوتا تو تمہیں یہیں چھوڑ کر چلا جاتا۔ ابھی میرا سپروائزر آنے والا ہے، اس کے پاس جیپ ہے میں تمہیں ہسپتال پہنچا دوں، پھر تم سے کوئی لینا دینا نہیں ہو گا۔ ’’دہائی خدا کی، کیا زمانہ آ گیا ہے؟‘‘

ہسپتال کا نام سن کر پپو اس کی منت سماجت شروع کر دیتا ہے کہ وہ اسے کھول دے۔ پپو ہسپتال نہیں جانا چاہتا اسے ہر صورت میں نشہ چاہیئے، وہ نشے کیلئے بے حال ہے۔

* آگے پڑھیئے لنک47۔