نشہ بھی کوئی زندگی ہے

میرے ایک دوست نے اپنے والد کو شراب کی بیماری میں تنہا چھوڑ دیا۔ وہ اسے والد کا شغل سمجھتے رہے اور مخل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ دو سال بعد والد کاا نتقال ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کی زندگی کا چراغ کسی شغل نے گل کیا؟

بھائی! شراب پینے اور گالف کھیلنے میں فرق ہو تا ہے! ان کی موت ایک بنیادی، مسلسل اور بتدریج بڑھنے والی بیماری کے ہاتھوں ہوئی جسے بلانوشی کہتے ہیں۔ اگرچہ موت اس بیماری سے یکدم نہیں آتی، تاہم سامنے سے ٹرین آ رہی ہو اور آپ پٹری پر ڈٹے رہیں تو کیا ہو گا؟

upper
Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹر صداقت علی، ٹرننگ پوائنٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ ملک کے ممتاز ماہرِ منشیات ہیں۔ پاکستان میں نشے کے علاج کے حوالے سے ان کا نام سب سے نمایاں ہے۔ انہوں نے ڈو میڈیکل کالج ، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے نشے کے علاج میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ اب تک ہزاروں نشے کے مریض ان کے ہاتھوں شفایاب ہو چکے ہیں۔ (مزید پڑھیے)

lower

ہم بہت سی ایسی چیزوں کاانتخاب کرتے ہیں جو ہماری زندگی پر اچھا یا برا اثر ڈالتی ہیں: ہم کہاں رہتے ہیں؟ کیا کھاتے ہیں؟ ہمارے دوست کیسے ہیں؟ ہم اپنا فارغ وقت کیسے گزارتے ہیں؟ اور بہت کچھ۔ زندگی میں جو راستے ہم چنتے ہیں ان کے نتائج ہوتے ہیں، کچھ اچھے، کچھ برے اور ان میں سے کچھ ہماری صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ ہم طرز زندگی چنتے ہیں۔ مے نوشی بھی ایسا چناؤ ہے جو ایک جان لیوا بیماری کو جنم دے سکتا ہے۔ کیا ہم کوئی ایسا کام کرنے کیلئے تیار ہوں گے جس میں 10 فیصد امکان اس بات کا ہو کہ ہم برباد ہو جائیں گے؟

شراب پینے کا رواج ہماری سوسائٹی میں عام ہے۔ مے نوشوں میں سے کچھ بہت زیادہ اور ہر وقت پینے لگتے ہیں۔ روزانہ 2 جام یا 14 ہفتہ بھر میں پینے والے کو بلا نوش تصور کیا جاتا ہے۔ یاد رہے ایک جام میں 30 سی سی الکوحل ہوتی ہے۔ تمام پینے والوں کو بلانوشی کی بیماری نہیں ہوتی۔ دو دوست اگر کسی خاص عرصے میں شراب کی ایک جیسی مقداریں پئیں تو عین ممکن ہے ایک شراب کی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور دوسرا صرف مزا کرتا رہے۔

ہم معاشرے میں روزانہ اس ’’حسن اتفاق‘‘ کا مشاہدہ کرتے ہیں، جہاں پینا پلانا عام ہے۔ شراب سمیت دیگر منشیات کا استعمال معاشرے اور خاص طور پراعلیٰ درسگاہوں میں وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نشہ کرنے والوں میں سے 10% نشے کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ محض منشیات کا استعمال ہی نہیں بلکہ جینز یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ کس کی زندگی ایڈکشن کے ہاتھوں برباد ہو گی؟ ہاں کوئی نشہ نہ کرے تو نشئی بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

معاشرے میں دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ پینے پلانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ کچھ ’’اصولوں‘‘ کی پاسداری کی جائے۔ اس نظریے کو ماننے والے شرابی اسے قرار دیتے ہیں جو کمزور ارادے کا مالک ہو، پیے تو رک نہ سکے اور اخلاقی ضابطے توڑے۔ یہ لوگ ’’کنٹرول‘‘ کو بہت اہم مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے آپ پر قابو رکھنے والے بلانوش نہیں بنتے۔

دوسرے نظریے کے حامل شراب پینا گناہ کی بات اور قابل گردن زنی سمجھتے ہیں، ان کے خیال میں اچھے لوگ شراب نہیں پیتے اس لئے وہ شرابی بننے سے بچ جاتے ہیں۔ یہ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ شراب پینا بذات خود علت ہے چاہے مےنوشی پر مبنی ہو یا بلانوشی پر۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شراب اور بدکاری میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور بے راہ روی کا شکار لوگ یہ لعنت خود اپنے آپ پر مسلط کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’جب لوگ اچھی زندگی گزارنے پرآمادہ ہو جاتے ہیں تو وہ شراب کی بیماری سے شفا پا لیتے ہیں۔ ‘‘

دونوں نظریات کے حامی طبقے بیماری کے نظریے کو سمجھ نہیں پاتے، ایک گروہ اسے کمزور قوت ارادی کا نتیجہ اور دوسرا مستی اور بے راہ روی سمجھتا ہے۔ دونوں مسئلے کی گہرائی کو نہیں سمجھتے اور توقع رکھتے ہیں کہ اگر بلانوش محض کچھ قوت ارادی کا مظاہرہ کریں تو صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ شراب کے رسیا اپنی بلانوشی پر قابو پانے کی بے حد کوشش کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کامیاب بھی رہتے ہیں، لیکن وہ مستقل اور قابل بھروسہ تبدیلی نہیں لا پاتے۔ بیماری کی بجائے کردار کی خرابی کا نظریہ ماننے والے یہ نہیں جانتے کہ شراب کی بیماری قوت ارادی کو بھی کھوکھلا اور دیمک زدہ کر دیتی ہے۔ محض قوت ارادی کے بل بوتے پر شراب سے دور رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جوں جوں بیماری آگے بڑھتی ہے تو پینے پر قابو رکھنا جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے۔ جو شراب پیتے ہیں لیکن مریض نہیں بنتے، اگرچہ احساس جاگنے پر اپنے طور طریقے بدل لیتے ہیں، تاہم شراب کے مریض مدد کے بغیر شفا نہیں پاتے۔ عام پینے والے اتنے مجبور نہیں ہوتے، وہ چاہیں تو پئیں چاہے تو نہ پئیں، ایسے لوگ فیصلہ کر لیں تو آسانی سے شراب چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر کچھ خاص قسم کے زیادہ پینے والے بھی کسی خاص وجہ سے شراب نوشی ترک کر سکتے ہیں یا سنبھال کر پینا شروع کر سکتے ہیں جیسے خرابی صحت، کسی کی محبت کے زیر اثر، ماحول بدل جانے سے یا پھر ڈاکٹر کی تنبیہ سے۔ تاہم ان کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن ’’اصلی تے وڈے‘‘ شرابیوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ ضروری نہیں کہ وہ شروع میں ہی زیادہ پینے لگیں، لیکن پیتے پیتے ایک مرحلے پر وہ مچھلی کی طرح پینا شروع کر دیتے ہیں محض اس فرق کے ساتھ کہ مچھلی شراب نہیں پیتی! ایک وقت آ تا ہے کہ پھر وہ کنٹرول کھو دیتے ہیں اور رک نہیں سکتے۔ دیوداس بن جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے کیلئے بحالی کے موثر پروگرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

میرے ایک ڈاکٹر دوست اچھی طرح سمجھتے تھے کہ بلانوشی ان کی فیملی میں موروثی حیثیت رکھتی ہے، اکثر ان سے شراب کی بیماری پر بات ہوتی رہتی ہے۔ ان کے والدین اور دادا جی بَلا کے پینے والے تھے لیکن ان سب حقائق سے چشم پوشی برتتے ہوئے وہ پینے پلانے میں مگن رہتے ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے بتایا، ’’میں بالکل فکرمند نہیں، میں اپنی مےنوشی پر کڑی نگاہ رکھتا ہوں‘‘ انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا، ’’اگر مجھے کبھی خطرے کی جھلک دکھائی دی تو میں شراب پینا چھوڑ دوں گا۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’آپ کے خیال میں آپ کو خطرے کی کوئی ’’جھلک‘‘ کس شکل میں دکھائی دے گی اور آخر دوسرے لوگ اس ناگہانی آفت کو کیوں نہیں دیکھ پاتے؟‘‘ سچ تو یہ ہے کہ نشے کی بیماری میں ابتداء سے خود فریبی کا جال بننا شروع کر دیتی ہے۔ لہذا پینے والے اس بَلا کو آتے ہوئے دیکھ نہیں پاتے۔ شراب کی بیماری میں کلوروفارم جیسے زہریلے مادے خون میں گردش کرتے ہیں جن سے حواس خمسہ سست پسماندہ اور شکستہ ہو جاتے ہیں اور پھر وہ کیا کہتے ہیں کہ ’’ہم وہاں ہیں، جہاں سے ہم کو ہماری خبر نہیں آتی‘‘ کہ مصداق فکر مندی سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ شراب پینے سے خون میں زہریلے مادے بنتے ہیں لیکن 90 فیصد لوگوں میں یہ پلک جھپکتے ہی غائب ہو جاتے ہیں، تاہم 10% میں یہ جمع ہو کر دیر تک گردش کرتے ہیں۔ ان زہریلے مادوں کا شراب کی بیماری سے گہرا تعلق ہے، یہی شراب پینے جنون کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، قوت ارادی اس جنون کے سامنے ریت کی دیوار بن جاتی ہے۔ شراب کی بیماری ایک جسمانی معاملہ ہے جس کا تعلق جینز سے ہے۔

اپنے طرز زندگی میں شراب نوشی کو چننے والوں کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ وہ بلانوش بنیں گے یا محض پینے پلانے کا مشغل کرتے رہیں گے۔ کچھ رہنما اصول بہرحال موجود ہیں۔ والدین میں سے ایک بلانوش ہو تو آدھے بچوں میں جینز منتقل ہو سکتی ہیں، اب یہ بچے شراب پئیں تو بلانوشی کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ حد میں رہ کر شراب پی سکیں گے نہ ہی بےحساب پی کر محفوظ رہ سکیں گے۔ یاد رہے کہ بلانوشی کے سارے قوانین ایڈکشن پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ تحفظ صرف شراب اور منشیات سے دور رہنے میں ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد موروثی خطرے کو نظرانداز کر کے شراب نوشی شروع کر دیتی ہے اوراس بیماری کے چنگل میں پھنس جاتی ہے۔ یہ لوگ خود کو قائل کرتے رہتے ہیں کہ جلد ہی شراب کی طلب اور مقدار پر قابو پا لیں گے۔ دس ہزار سال سے لو گ ایسے ہی خود کو قائل کر رہے ہیں اور آپ جانتے ہیں خود کو قائل کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔

بلانوشی کی نشانیاں زیادہ تر قابل شناخت نہیں ہوتیں، خاص طور پر آغاز میں تو ماہرین بھی مرض کی تشخیص میں مشکل حسوس کرتے ہیں۔ بلانوشوں کی ایک بڑی تعداد انتہائی کامیاب لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کی زندگی کا ہر پہلو نپاتلا ہوتا ہے تاہم بلانوشی اس قدر دبے پاؤں آتی ہے کہ انہیں بھی پتا نہیں چلتا۔ قرین قیاس ہے، اگر یہ لوگ بیماری کو آتا دیکھ لیتے تو وہ اس کے راستے سے ہٹ جاتے۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ لوگ ایسا نہیں کرتے، کیونکہ وہ بیماری کو آ تے ہو ئے دیکھ نہیں پاتے۔ شراب تو بہت ’’مزے‘‘ کی بیماری ہے، لوگ ذیابیطس اور دل کی بیماری کو آتا دیکھ کر بھی راستے سے نہیں ہٹتے۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ منشیات کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے؟ چلیں میں واضح کر دیتا ہوں، جب ہم منشیات کی بات کرتے ہیں تو شراب بھی اس میں شامل ہو تی ہے۔ حتٰی کہ بہت سی ادویات جو ڈاکٹر صاحبان لکھتے ہیں وہ بھی منشیات میں ہی شمار ہوتی ہیں جیسے زینکس، ویلیم اور ساسی گون وغیرہ۔ ہم کچھ منشیات سے متعلق زیادہ اور کچھ کے بارے میں کم حساس ہوتے ہیں۔ کچھ کوبرا، کچھ کو کم برا اور کچھ کو تو اچھا سمجھتے ہیں۔ ہم منشیات سے تعصب برتتے ہیں اور منشیات ہم انسانوں سے تعصب برتتی ہیں۔ ہم میں سے کچھ کے ساتھ برا اور کچھ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں، حتیٰ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منشیات اپنی دوستی کو دشمنی میں بدل لیتی ہے۔ پہلے اپنا اعتماد جماتی ہیں اور پھر عین مشکل وقت آنے پر پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتی ہیں۔

منشیات کے عادی تمام افراد بیمار نہیں ہوتے، ان میں سے صرف 10% کا براحال ہو جاتا ہے۔ گلیوں میں بکنے والی منشیات کی نسبت شراب کوئی دھبہ نہیں، بلکہ اونچے طبقے میں حد درجہ قابل قبول ہے۔ شراب پی کر گاڑی چلانا جرم سمجھا جاتا ہے لیکن کسی پارٹی میں ایک دو جام چڑھانے پر کوئی ابروچشم نہیں ابھرتی جبکہ دھت ہو کر گرنااور غل غپاڑہ کرنا بدنامی کا باعث بنتا ہے، لیکن ان حرکتوں کے لیے بھی نرم گوشہ رکھنے والوں کی کمی نہیں، تاہم اگر آپ منشیات کے عادی ہوں اور عین پارٹی کے عروج میں منہ کے بل گرے ہوں تو پھر آپ کو آئندہ منہ نہیں لگایا جائے گا۔ اگر سب دوست منشیات کے رسیا ہوں اور آپ ہی کی طرح منہ کے بل گرتے ہوں تو پھر چاہے آپ کتنے ہی گل کھلائیں سب آپ کی حرکتوں کو ہنسی میں اڑا دیں گے۔

کسی نشے سے متعلق ہم کچھ بھی جذبات رکھتے ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ڈرگز کے خطرناک ہونے میں کوئی کلام نہیں، تاہم کون سا نشہ زیادہ یا کم خطر ناک ہے اس کا فیصلہ کو ئی سقراط بھی نہیں کر سکتا۔ سب منشیات برباد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، ان میں فرق صرف رفتار کاہوتا ہے۔ کیا آپ سلوپوائزننگ کے لیے آمادہ ہیں؟ کسی ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا بھی معزز نہیں ہوتی اور سٹریٹ ڈرگز کی طرح نشے کی بیماری پیدا کر سکتی ہے۔ ڈرگز کے لیگل ہونے نہ ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیا مٹھائی لیگل نہیں ہوتی؟ کیا ذیابیطس کی مرض میں آپ مٹھائی کھا سکتے ہیں؟ نشہ لیگل ہو یا ڈاکٹر کا تجویز کردہ، اس سے کوئی تحفظ نہیں ملتا۔ موروثی عنصر اور حالات مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آخرکار انجام کیا ہو گا؟ اگر نشہ قدرتی جڑی بوٹیوں سے حاصل ہو جیسے چرس یا افیون تو بھی تلوار سر پر لٹکتی رہے گی۔ شراب جسے بہت سے گھرانے کھانے کی میز پر رکھتے ہیں، نے ہمارے ملک کو اتنا نقصان پہنچایا ہے جتنا سب منشیات مل کر بھی نہیں پہنچاسکیں۔

منشیات کو ٹینشن ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ اونچی سوسائٹی میں لوگ ریلیکس ہونے کے لیے شراب لیتے ہیں ’’ وڈے لوگ وڈیاں گلاں‘‘۔ دن بھر کچھ بھی گڑبڑ ہو ان کو پکا یقین ہوتا ہے کہ شام کو شراب سب ٹھیک کر دے گی۔ اس کے بعد چل سو چل دھیرے دھیرے یہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ ظاہر ہے جب مسائل کو شراب کے نشے میں غرق کیا جاتا ہے، تو حل نہیں ہوتے، پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ مسائل حل کرنے کے لئے مہارت کی بجائے دو جام ٹکا لینے سے دماغ فکر کرنا چھوڑ دیتا ہے، پھر شراب ٹکا کر جھوٹ بولتی ہے۔ سب اچھا کی رپورٹ دیتی ہے۔ پینے والے کو لگتا ہے کہ کوئی غم نہیں۔ شراب پینے کے بعد زیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا اور جھٹ پٹ سب کچھ صحیح نظر آنے لگتا ہے۔ بے چینی اور غصے پر قابو پانے کے لیے مہارت حاصل کرنا چاہیں تو کچھ وقت چاہیے جو ہمارے پاس ہوتا نہیں اور شراب جماتی ہے ہتھیلی پر سرسوں۔

شراب ایک عارضی حل ہے جو بلانوشوں کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔ شراب کی بیماری میں یہ عارضی حل مٹھی میں سے ریت کی طرح نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پھر وہ بوتل سے چپکے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں،’’ گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے، رہنے دو ساغر و مینا میر ے آگے‘‘۔ جن مسائل کو حل نہیں کیا جاتا وہ بڑھتے رہتے ہیں۔ نشہ اترتے ہی بے چینی اور بھی بڑھ کر وار کرتی ہے۔ نشے میں دھت ہونے کے باعث جھگڑوں اور خراب رویوں کی وجہ سے نئے مسائل بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ شراب کا ڈپریشن سے بھی گہرا تعلق ہے۔ بلانوشوں میں ذہنی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ وہ مشکل کاموں کو اور بھی مشکل سمجھنے لگتے ہیں۔ شراب بے خوابی کی کیفیت بھی پیدا کرتی ہے جس سے اضطراب اور بھی بڑھ جا تا ہے۔ مسئلوں کا حل بذات خود مسئلہ بن جاتا ہے۔ میر کیا خوب سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب، اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔

منشیات، شراب اور دیگر علتیں گھروں کا امن و سکون تباہ کر دیتی ہیں۔ علتوں میں مبتلا انسان اصلاح کی طرف پہلا قدم خود نہیں بڑھاتے، یہ بیڑہ ان سے پیار کرنے والے اٹھاتے ہیں۔ علاج کا فیصلہ مریض کے ارد گرد صحت مند دماغوں سے ابھرتا ہے۔

منشیات کا استعمال بیمار اور لاچار کر دیتا ہے۔ یہ بیماری تباہ کن ہے۔ تاہم تسلی رکھیں یہ قابل علاج ہے۔ منشیات، شراب اور دیگر علتوں سے نجات کے کئی راستے ہیں۔

سب کو داخلے کی ضرورت نہیں ہوتی ایڈکشن کی ابتداء ہو تو مریض کا علاج میں آنا ضروری نہیں، اہل خانہ ٹریننگ کے ذریعے اپنے پیارے کو علت سے نجات دلا سکتے ہیں ایڈکشن قدم جما چکی ہو تو مریض کو آؤٹ ڈور میں آنا پڑتا ہے۔ بیماری بہت پرانی ہو تو داخلہ ضروری ہو تا ہے، مریض میں علاج کی خواہش اور جذبہ کیسے پیدا کریں، آپ کو یہ سمجھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ صداقت کلینک ایڈکشن کی بے مثال علاج گاہ ہے، جہاں کلائنٹس کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا تا ہے اور وہ اپنی زندگی کی تعمیر نو کر لیتے ہیں۔

وہ فیصلہ آپ کیجیے جو مریض نہیں کر سکتا، اسے گھر سے لانے اور نشے سے نجات دلانے کی ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں۔ صداقت کلینک ایڈکشن کی بے مثال علاج گاہ ہے۔ آخر نشہ آپ کے پیارے کا مقدر کیوں رہے؟ ابھی رابطہ کیجیے۔