نشے کے بارے میں غلط فہمیاں

ہمارے معاشرے میں نشہ خاص طور پر شراب کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ غلط فہمیاں صرف نشہ شروع کرنے بلکہ اسے چھوڑنے اور اس کے علاج کے حوالے سے بھی عام ہیں۔ ان غلط فہمیوں کا شکار نشہ کرنے والا اور اس کے اہل خانہ دونوں ہی ہوتے ہیں۔جس کا نتیجہ نشے کی ابتدائی دائمی اور جان لیوا بیماری کی صورت میں نکالتا ہیں۔ ان میں سے بعض غلط فہمیاں دلچسپ ہیں تو بعض غور طلب تاہم ان سب کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے اور وہ ہے نشے کے علاج سے لاپروائی۔ آئیے دیکھیں کہ ہم ان میں سے کس غلط فہمی کاشکار ہیں۔

ہمارے علاج اور خدمات

وہ سکون اور ازدواجی زندگی کی خاطر نشہ کرنے پر مجبور ہے۔

یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ نشے سے سکون اور ازدواجی زندگی میں مدد اس وقت تک ملتی ہیں جب تک نشے کی بیماری نہیں آتی۔ یہ بات آغاز میں ہوتی ہے کہ نشے کی بیماری پروان چڑھنے کے بعد نہیں۔ یہ نارمل لوگوں کا وطیرہ ہے۔ نشئی تو تکلیفوں سے بچنے کے لیے نشہ جاری رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیا آپ کو ان کے چہرے پر سکون کی کوئی رمق نظر آتی ہے؟ رہ گئی بات ازدواجی زندگی کی تو اس کی حقیقت کسی نشئی کی بیوی سے پوچھ لیں نشے کا آغاز خوش گوار مگرانجام بھیانک ہوتا ہے۔ نشئی سائیکوپیتھ ہوتے ہیں، بدل نہیں سکتے۔

بچوں کو سگریٹ نوشی شراب اور دیگر نشوں سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

نشے کے علاج کی ٹریننگ بہت اہم ہے۔

نشے کے مریض کو ایسے القابات سے نوازنا ہی سراسر زیادتی ہے۔ سائیکو پیتھ کا مطلب ہوتا ہے  بدمعاش۔ یہ جملہ ایسے سائیکاٹرسٹ استعمال کرتے ہیں جن کی نشے کے علاج کی ٹریننگ نہیں ہوتی اور جن سے نشے کے مریضوں کا علاج نہیں ہوتا پھر وہ اپنی خفت مٹانے زہریلے اور رقیق حملے کرتے ہیں۔ یعنی ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ سائیکو پیتھ کی اصلاح ان جرائم پیشہ افراد کے لیے مختص ہے جو دیدہ ودانستہ کسی وجہ کے بغیر دوسرے لوگوں کی جان و مال کے درپے ہوتے ہیں اور انہیں اس کا کبھی کوئی ملال نہیں ہوتا جبکہ نشے کے مریضوں میں احساس گناہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ اگرچہ نشے کی بیماری مریضوں کو ذلت اور رسوائی کے کاموں پر مجبور کرتی ہے تاہم علاج کے بعد وہ نا صرف ان زیادیتوں کی تلافی کرتے ہیں بلکہ اعلٰٰی ذوق کے رول ماڈل نظر آتے ہیں۔

پروسس انٹروینشن

علاج کے لیے 72گھنٹے ہی کافی ہوتے ہیں۔

وہ تکلیفیں جو کسی شخص کو منشیات کا استعمال ترک کرنے کے بعد فوری طور پر پیدا ہوتی ہیں انہیں علامات پسپائی کہا جاتا ہے۔ یہ علامات تین سے دس دن تک چلتی ہیں۔ اس کے بعد ہلکی پھلکی جسمانی تکلیفیں اور ذہنی اذیت نمودار ہوتی ہیں جوتقریبا تین ماہ تک چلتی ہیں۔ یہ کیفیت سلگن کہلاتی ہے۔ جس میں نیند نہ آنا، ذہنی دباؤ، مخبوط الحواسی اور الجھن پیدا ہوتی ہے۔ ذرا سی بات پرشدید ذہنی ردعمل ابھرتا ہے۔ ان دنوں مریض کو نشے کے خلاف اپنی سب سے بڑی جنگ لڑنا ہوتی ہے اور اس دوران مریض کا محفوظ جگہ ہونا اور تربیت پانا ضروری ہے۔ یہ قطعی غلط ہے کہ مریض کو نشہ چھوڑنے کے محض تین دن کی مدد چاہیے۔ دنیا بھر کی معیاری علاج گاہوں میں نشے کا بنیادی علاج تین ماہ کا ہوتا ہے اور اس کے بعد کچھ عرصہ اہل خانہ کو مریض کی حفاظت کرنا پڑتی ہے۔ نشے کی زندگی گزارنے کے فوائد مریض کو کچھ عرصہ بعد ہی محسوس ہوتے ہیں پھر ہی مریض میں نشے کے خلاف تحریک پیدا ہوتی ہے۔

ذہنی بیماریاں اور نشہ

کچھ مریض اچانک دوبارہ نشہ شروع کردیتے ہیں۔

کچھ مریض اچانک دوبارہ نشہ شروع کر دیتے ہیں۔ یہ درست نہیں، ری لیپس اچانک نہیں ہوتا بلکہ مریض کی ذہنی صحت گرتے گرتے اس درجے کو پہنچ جاتی ہے۔ جہاں پھر سے وہ نشے کو اختیار کرتا ہے۔ مریض کے دوبارہ اس گڑھے میں گرنے سے پہلے کئی علامتیں پیدا ہوتی ہیں جنہں نا صرف مریض اور اس کا معالج بلکہ اہل خانہ بھی پہچان سکتے ہیں۔ ری لیپس سے بچاؤ کے لیے اس برے وقت سے پہلے حکمت عملی بنانا اور اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ بروقت ری لیپس سے بچاؤ کی تربیت اور اقدامات کسی بھی مرحلے میں مریض کو دوبارہ بحالی کے سفر پر کامزن کر سکتے ہیں۔

کیونکہ میں سڑک چھاپ نہیں۔

ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ صرف وہی شخص شرابی ہوسکتا ہے جو نشے میں دھت ہو کر سڑک پر گرا پڑاہویا شراب کی بوتل کے لیے ہر وقت بدمست پھرتا ہو۔ تعلیم، عہدے اور معاشرتی مقام کا شراب کی بیماری سے کوئی تعلق نہیں۔ شرابیوں میں سے سڑکوں پر لڑکھڑانے والے صرف تین فیصد ہوتے ہیں۔ باقی سب جاب کرتے ہیں، جیسے تیسے گھرچلا رہے ہوتے ہیں اور انہیں تباہی کے لیے مزید وقت درکار ہوتا ہے۔ ہمیں یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہیے کہ نشے کی بیماری بنیادی طور پر آگے بڑھنے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علاج نہ کیا جائے تو شراب کی بیماری سب کے لیے جان لیوا ہے۔ یادرکھیے! جب آپ شراب دیکھ کر ہاتھ نہیں روک سکتے، اپنی شراب کی مقدار کنٹرول نہیں کرسکتے یا وقت بے وقت پینے پر مجبور ہیں تو یقیناً آپ شراب کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

کیونکہ میں شام سے پہلے نہیں پیتا۔

کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ انہیں اس وقت تک شرابی نہیں کہا جا سکتا جب تک وہ صبح کے وقت شراب نہ پیئں۔حالانکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص کس وقت پیتا ہے۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ جب وہ پیتا ہے تو ہاتھ روک سکتا ہے یا اس کی بریکیں فیل ہونے سے مراد یہ بھی نہیں کہ جب پیئے، بے قابو ہو۔ اکثر شرابی پہلے کبھی کبھی، پھر باربار اور آخر کار ہمیشہ ہی نشے میں دھت ہو جاتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ صبح پینا شرابی ہونے کی دلیل ہے۔ اگر کسی شخص کو صبح نہ پینے سے جسم میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو اس میں شراب کی بیماری موجود ہے۔ تاہم صبح نہ پینے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ شرابی نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کی بیوی کہے کہ آپ زیادہ شراب پینے لگے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ حقیقتا مسئلہ موجود ہے اور آپ کو اس کے متعلق کچھ کرنا چاہیے۔ آپ جب تک شراب پیتے رہیں گے، آپ کی پریشانی بڑھتی رہے گی۔