پروسس انٹروینشن

 

ذہنی بیماریاں اور نشہ

انٹروینشن اور اہل خانہ

انٹروینشن اور اہل خانہ کے ایسے رویے جن کے نتیجے میں مریض نشہ ترک کرنے اور علاج کیلئے رجوع کرنے پر آمادہ ہو، اصلاحی رویے کہلاتے ہیں۔ اصلاحی رویوں میں ہم مریض کو حدود کا پابند کرتے ہیں۔ اصلاحی رویے بظاہر مشکل اور عجیب نظر آتے ہیں لیکن جب معاونت اور اشتعال انگیزی سے حالات بگڑ جاتے ہیں تو ان کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اصلاحی رویے غم وغصے اور مار پٹائی سے پاک ہوتے ہیں۔ غم وغصے سے نجات کیلئے نشے کی بیماری کو حقیقی طور پر بیماری تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اصلاحی رویوں میں ہم مریض پر اس کے عمل (نشہ) اور اس کے نتیجے (بربادی) کے درمیان گہرا تعلق ثابت کرتے ہیں۔ جب تک نشے کی بیماری پر آپ کا علم کافی نہ ہو مریض سے بحث و مباحثہ نہ کریں ایسا کرنے سے محض لڑائی جھگڑا بڑھے گا۔

خود فریبی

اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ صحت مند لوگ بھی اپنا قصور آسانی سے نہیں مانتے دوسرے پر الزام دیتے ہیں اور خود فریبی کے ذریعے اپنے دل کو بہلاتے ہیں۔ نشے کا مریض تو ان باتوں میں چیمپئن ہوتا ہے۔ مریض سے تبادلہ خیال آسان نہیں ہوتا۔ اگر ہم اس کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں تربیت کی ضرورت ہو گی۔

مریض سے وعدے نہ لیں کیونکہ وعدے اس مرض کا علاج نہیں۔ اصل علاج مریض کی بیمار سوچوں کو بدلنا ہے۔ مریض کا چوکیدارا کرنے کی بجائے اسے علاج کے تقاضے پورے کرنے کیلئے کہیں۔ مریض کے نشے کی مقدار کو کنٹرول کرنا چھوڑ دیں۔ نشے کی مقدار تو خود مریض بھی کنٹرول نہیں کر سکتا۔ ہاں! وہ نشہ مکمل چھوڑ سکتا ہے۔ مقدار کنٹرول کرنا کوئی علاج نہیں، محض چور سپاہی کا کھیل ہے۔

تقسیم کرو اور نشہ کرو

مریض کو پھوکی دھمکیاں نہ دیں۔ جو کہیں اس پر عمل کر دکھائیں اور جس پر عمل نہیں کرنا وہ نہ کہیں۔ مریض کے حالات دوسرے اہل خانہ تک پہنچائیں۔ بیماری کو راز نہ بنائیں۔ مریض کی ’’تقسیم کرو اور نشہ کرو‘‘ کی پالیسی ناکام بنائیں۔ مریض کے معاملات تنہا طے کرنے کی بجائے تمام اہل خانہ مل کر قدم اٹھائیں۔ مریض کو موقع فراہم نہ کریں کہ وہ آپ کو نقصان پہنچائے۔ مریض کے ان جوازات کو تسلیم نہ کریں کہ وہ حالات یا آپ کی وجہ سے نشہ کرتا ہے۔ نشے کی جو مقداریں مریض استعمال کرتے ہیں ان کی وجوہات بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہوتی ہیں۔ جب کسی نشہ کرنے والے کو نشے کی بیماری ہو جاتی ہے تب نشہ کرنے کیلئے اسے وجوہات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے بس زیادہ سے زیادہ نشے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کا جسم نشے کو زہریلا بنا دیتا ہے اور تیزی سے ضائع کرتا ہے۔

چند احتیاطی تدابیر

ہر وقت مریض کے پیچھے نہ پڑے رہیں۔ طیش اور آنسو صرف صحت خراب کرنے کا نسخہ ہے۔ آپ کے اذیت لینے سے مریض کا کوئی بھلا نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ خالی برتن سے کسی کو کچھ نہیں دیا جا سکتا۔ دنیاداری، کاروبار اور زندگی کی گاڑی کو چلتا رکھیں۔

میڈیکل ماہرین

مریض کے قرضے ادا نہ کریں۔ اس کے فرائض اپنے ذمہ نہ لیں۔ کاروبار، نوکری اور خوشی غمی کے واقعات سے اس کی غیر حاضری پر بہانے نہ بنائیں۔ وہ نشے میں دھت ہو تو اس کی حفاظت کیلئے چوکیدارا نہ کریں۔ اس کی خاطر جھوٹ بولنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔ نشہ کرتے ہوئے پکڑا جائے تو ناجائز مدد نہ کریں۔ مریض کو اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے دیں کیونکہ بحران مریض کی خود فریبی کو توڑتا ہے اور نشے سے نجات کی راہ ہموار کرتا ہے۔

انفرادی کاؤنسلنگ

جو تکلیفیں نشے کے باعث اس کی طرف بڑھیں ان کو اپنی جان پر نہ لیں۔ اگر نشے کا مزہ اسے پہنچے اور تکلیفیں آپ کو، تو وہ نشہ کیوں چھوڑے؟ جب آپ اس کے ذہن میں یہ بات بٹھانے میں کامیاب ہو جائیں کہ ہم نہیں بلکہ نشہ تمہاری تکلیفوں کا باعث ہے تو پھر وہ ہم سے نہیں نشے سے نفرت کرے گا۔

رابطہ کریں

!جب وہ مانتا نہیں

مریض یا اہل خانہ کافی کوششیں پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔ کبھی تھوڑے وقت کیلئے کامیابی بھی مل جاتی ہے اور کبھی پہلے ہی دن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ نشہ نہ کرنے کے وقفے دنوں پر محیط ہوں یا ہفتوں پر، یہ تو طے ہے کہ علاج کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ نشہ چھوڑ دینے کے بعد بھی بیماری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس کا دوسرا پہلو متحرک ہو جاتا ہے۔ نشہ چھوڑتے ہی یہ بیماری بے چینی، رنج  اور غصے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ان تکلیفوں کی شدت تو چند دنوں میں کم ہو جاتی ہے لیکن طبیعت سلگتی رہتی ہے۔ مریض علاج میں اس بدمزاجی سے نمٹنے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ نشے کے مریض کیلئے بحالی کا سفر تنہا طے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک ہمدرد معالج کے علاوہ بحالی کیلئے ایسے سازگار ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس میں اور لوگ بھی انہی مراحل سے گزر رہے ہوں۔

 علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری سو فیصد جان لیوا ہے۔ بیماری کے علاوہ نشے کی حالت میں ہونے والے حادثات سے بھی زندگی خطرے میں رہتی ہے۔ کبھی مریض گھبرا کر خودکشی کے بارے میں سوچتا ہے اور کبھی ایسا کر گزرتا ہے۔ یاد رہے کہ ہم محض ایک بری عادت کے بارے میں نہیں بلکہ زندگی یا موت کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔ کسی مہلک بیماری میں مبتلا شخص کو صرف اس لئے بے سہارا چھوڑ دینا ظلم ہو گا کہ وہ علاج پر آمادہ نہیں۔ علاج کیلئے کسی کا بیمارہونا ہی کافی ہے اوراس کے بیمارہونے میں کیا شک ہے؟ پروسس انٹروینشن میں کامیابی کیلئے بنیادی کنجی معاونت سے باز رہنا ہے۔ یہ بات نوٹ کریں کہ جب نشے کی بیماری بڑھتی ہے تو مریض کے نشئی رویوں کے بارے میں پیش گوئی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک دفعہ نشے کی بیماری کی تشخیص ہو جائے تو مریض کے مستقبل کے بارے میں ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 

ماحول، کردار، تعلیم اور سماجی رتبوں میں کافی فرق کے باوجود نشے کے مریض کم و بیش ایک جیسے دگرگوں حالات سے دوچار رہتے ہیں۔ غرض نشے کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد پروفیسر، ڈاکٹر، تاجر، مزدور اور جرائم پیشہ افراد ایک ہی جیسے مزاج کے حامل ہو جاتے ہیں اور علاج نہ ہونے کی صورت میں ایک جیسے خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھنے کی صورت میں انجام المناک موت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نشے کے مرض کے بارے میں قبل از وقت اندازے اور قیافے اس مرض کے خلاف جنگ میں ہمارا مؤثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ مریض اس بات سے واقف نہیں ہوتا تاہم ہمیں پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ ’’آگے کیا ہونے والا ہے؟‘‘ چنانچہ ہم مرض کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکتے ہیں۔ ہم بقا کی اس جنگ میں کامیاب ہو کر مریض کو تباہی سے بچا سکتے ہیں۔