چرس کیا بلا ہے؟

چرس بھنگ کے پودے کینا بس ستےوا سے حاصل ہوتی ہے۔ جس کو مختلف ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ نام طور پر تصور کیا جا تا ہے کہ چر کی کوئی نشہ نہیں ہے لیکن یہ تصور غلط ہے ۔ نوجوان چہروں کی طرف بہت سی وجوہات کی بنا ء پر راغب ہوتے ہیں لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا، ہم بات یہ ہے کہ اس کے ہم نے کیا ر ل ظاہر گیا ہے۔

چرس اورعلامات پسپائی

ریسرچ نے ثابت کی ہے 100 میں سے %10 یا %15 افراد کی وجہ سے اس کے نشہ کے مریض بنا جا تے ہیں جنہیں تم ایڈ منس“ کہتے ہیں اور باقی افراد ” یوزرز کے زمرے میں آتے ہیں ۔ دراصل ان 10 15 فیصد افراد کے جسم میں کیمیاوی عنانے کی ترتیب کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ پہلے جتنی منتقدار سے انہیں جو خاص ذہنی و دمای کیفیتاتی ہے آہستہ آہستہ اتنی مقدار سے وہ کیفیت اور مزہ نہیں مانتا۔ جیسے جیسے مقدار بڑھتی ہے بے سکونی اور چڑ چڑے پین میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ بیداری کا یہ سفر جاری رہتا ہے اور اب میں اگر چہ سن نہیں لیتا تو اسے شد به مانی اور نانی کان کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے ” علامات پر پانی” بھی کہتے ہیں ۔ یہ وہی ہے کہ اسے مجبوری کے نام میں تکلیف دور کر نے کے لیے چیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اسے ڈرل ایڈیشن کہتے ہیں، یہ وہی ہے جہاں بیکاری۔ اس کی سوچوں اور مل کو اپنے کنٹرول میں لے لیتی ہے اور مریض ایک معمول کی طرح اس کی گرفت میں بے بس ہوتا ہے۔

!نشے میں کہیں وہ تنہا نہ رہ جائے

چرس منشیات کی چھوٹی بہن ہر گز نہیں

چرس پانی کی بجائے تیل میں کھانے والا مرکب ہے اس کا مظاب ہے کہ اگر ایک مرتبہ چوری جسم میں آ جائے تو یہ چر جا میں ذخیرہ ہوجاتی ہے اور پوری طرح خارج ہو نے میں لگ بنگ 28 دن گاتے ہیں ۔ چوں میں 421 کیلاز ہوتے ہیں جس میں گئی اس کی سب سے خطرناک ہے ۔ یہ کہ یار اس کے دل ودمان پر مسلط رہیں گے۔ چیوں کا زہر یا کیمیکل ٹی ای کی د مان کی مٹی پر جم جاتا ہے جس سے متان خلیوں کو جال میل کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ بچوں کے عادی لوگوں کی شخصیت میں اتاتی ، ستی، تعصب اورلی نظر آتی ہے ۔ شیش بھی کینابس ٹیوا سے اخذ کردہ بہت قری الاثر مرکب ہے جس میں ٹی ای سی کا عنصر چھ سے آٹھ دس گنا زیادہ ہوا ہے۔

آٹھ غلطیاں جو اہل خانہ کرتے ہیں

ژوپا مینو

چرس کے با قاعدہ استعمال سے دماغ کے کچھ کیمیائی مادوں میں اضافہ ہوتا ہے جن میں ” ژوپا مینو ” سر فہرست ہیں اور جیسے جیسے بچوں کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے مرلین فرزانگی کی حدود سے نکل کر ” دیوانگی کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے جسے سائیکوسس کہتے ہیں ۔ یہ شادی بھی عام ہے کہ چوں بے ضرر ہے جبکہ یہ دماغ سمیت جسم کے تمام اعضا کو متاثر کرتی ہے ۔ ڈرائیونگ میں یہ خاص حادثات کا باعث بنتی ہے ۔ نوجوانوں کے لیے چھ کی ایک انگوٹے کی طرح ہے اور بھی ماہرین منشیات یقین رکھتے ہیں کہ چوں دوسرے نشوں کی راہ ہموار کرتی ہے کیونکہ جب چپس نہیں شمعین نہیں کرتی تو وہ زیادہ تیز اور نت نئے کو گلے لگا لیتے ہیں ۔ چوس کے مضر اثرات نہ صرف جسمانی میں بلکہ نفسیاتی بھی ہیں اورحقیق بتاتی ہے کہ نشے کے مریضوں میں سے %90 نے آناز چروں سے کیا تھا۔ کبھی خیال کیا جاتا ہے کہ چویں منشیات کی چھوٹی بہن ہے لیکن خدا را چہ سکونشیات کی چھوٹی بہن نہ سمجھیں ۔ نوجوان چرس پینے کے فوائد میں جو دلائل دیتے ہیں وہ زیادہ پرواز
کے گرد گھومتے ہیں ۔ یہ سرورانگیزی کی ایک ملکی شکل ہے جو کہ اپنے آپ کو اچھا محسوس کرنے ، چای بابل ، خوش گفتاری اور باتونی پین سے ظاہر ہوتی ہے ۔ ابتدائی استعمال سے رنگ، آواز اور ذائقے کی حس بہتر ہوتی ہے ، اس لیے چھ کل پینے کے بعد موسیقی کے پروگرام اور مٹھائی اچھی ملتی ہے۔ نشے کی بیماری ایک جنیاتی پیار کی۔ ہے اور ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہے ۔

بے آواز چیخیں

ان ڈور علاج کی ضرورت

ابتدا میں نقش فرد خود کرتا ہے یہ اس کے اختیار میں ہوا ہے بعد میں یہ بہت بڑے جسمانی رول کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ نفسیاتی اور کا ہی پیچیدگیاں بھی شامل ہو جاتی ہیں اور نشہ نہ کرتا مریض کے بس میں نہیں رہتا۔ نشہ کرنے والوں کا علاج ممکن ہے اور بچے کی نشے سے واپسی والدین کی زندگی میں سب سے خوبصورت چیز ہوتی ہے ۔ مرلین کو ان ڈور علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور مختلف ماہر نفسیات اور سائیکاٹرسٹ کی ٹیم اس کے علاج میں شامل ہوتی ہے۔ پہلے اس کی ” ما مات پسپائی کے علاج کے بعد اس کے خیالات اور نظریات کو بدانا شامل ہے ۔ علاج کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مریض کی نیلی کوٹر بینک میں سے گزرنا پڑتا ہے جس میں انہیں مختلف علوم وفنون سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ ان علوم وفنون کو سیکھ کر یہی اس کا اطلاق مریض پر کرتی ہے تو اس سے مریض کی شخصیت اور نظریات میں تبدیلی آتی ہے اور وہ نشہ کرنے سے انکار کرنا سیکھ لیتا ہے ۔ او را یکی نحت مند زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

عادتیں اور علتیں : کیسے بدلیں؟

نشے کے علاج میں ایک سرخیل