Family Intervention2

فیملی انٹروینشن (صفحہ نمبر ۲)۔۔۔ جب وہ مانتا نہیں!

ان واقعات کو '’انٹروینشن ڈیٹا‘‘ کہا جاتا ہے۔ انٹروینشن میں حصہ لینے والے تمام افراد ان نکات پر مبنی اپنی اپنی فہرست تیار کرتے ہیں۔ ان نکات میں وہ مریض کو آگاہ کرتے ہیں کہ اگر اس نے علاج قبول نہ کیا تو آئندہ اسے نشے کے نتیجے میں ہونے والی تکلیفیں تنہا ہی جھیلنی پڑیں گی۔ تکلیفیں اسے نشے سے نجات کی راہ دکھا سکتی ہیں۔

انٹروینشن میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ آٹھ افراد شرکت کرتے ہیں۔ اہل خانہ کے علاوہ قریبی عزیز اور مریض پر اثرو رسوخ رکھنے والے دوسرے افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی نشے کی بیماری سے بحال ہو چکا ہو تو اس کی شمولیت بھی بہت فائدہ مند ہو گی۔ نوجوان پر اعتماد ہوں تو بہت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کوئی مریض کو مشتعل کرنے کا باعث بنتا رہا ہو تو اس کو بھی شامل نہیں ہونا چاہیئے۔

سب کیلئے نشے کی بیماری کو سمجھنا ضروری ہے لیکن سربراہ کا علم تو دوسروں سے بھی بڑھ کر ہونا چاہئے۔ انٹروینشن سے پہلے ماہر کی زیر نگرانی ریہرسل بھی ضروری ہے جس میں ایک شخص مریض کا ’’کردار‘‘ ادا کرتا ہے اور باقی افراد باری باری سے اپنے ’’نکات‘‘ پیش کرتے ہیں۔

تمام افراد طے شدہ پروگرام کے تحت صبح کے وقت مریض سے ملتے ہیں جب وہ زیادہ نشے میں ہو اور نہ تروڑک میں۔ سربراہ مریض کو سب کی آمد کا مقصد بیان کرتا ہے اور اس سے وعدہ لیتا ہے کہ وہ خاموشی سے تمام افرا د کے نکات سن لے۔ مریض کا کردار ایک سامع کے طور پر متعین کر دیا جاتا ہے کیونکہ انٹروینشن میں مریض کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع نہیں ہوتا۔

ذیل میں نمونے کے طور پر انٹروینشن کے کچھ نکات دیے گئے ہیں۔
* دو ہفتے پہلے آپ کی رضائی کو آگ لگ گئی تھی اور اگر میں نہ آتی تو آپ جل گئے ہوتے۔ میں آپ کے سونے تک آپ کی چوکیداری کرتی تھی آئندہ میں یہ ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتی ( بیوی)

* دو دفعہ مقامی تھانے دار آپ کے نشے کے لین دین کے بارے میں مجھے تھانے بلوا چکا ہے۔ اگر کوئی قانونی گرفت ہوئی تو میں آپ کی کوئی مدد نہ کر سکوں گا ( باپ)

* پچھلے ہفتے تم نے میری چیک بک پر جعلی دستخط کر کے پانچ ہزار نکلوائے تھے۔ نشے کی خاطر تم قانون کو ہاتھ میں لو گے تو تمہیں اس کے نتائج خود بھگتنے پڑیں گے ( بھائی)

 

اگلا صفحہپچھلا صفحہ