Follow up

فالو اپ

ہر علاج کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ان ڈور علاج اور فالو اپ۔ فالو اپ علاج کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے۔ دنیا کی سب بیماریوں میں علاج کے بعد فالو اپ لازمی ہے۔ فالو اپ کے ذریعے پتا چلتا ہے کہ مریض علاج کے بعد جب ڈسچارج ہو جاتا ہے تو اسے بحالی میں کیا مسائل پیش آ رہے ہیں۔ اس دوران معالج مریض کے مرض اور رویوں میں آنے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور مریض کا بھی اپنے معالج سے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔

نشے کے مرض میں فالو اپ کی اہمیت دوسرے سب امراض سے بڑھ کر ہے کیونکہ نشے کے مرض کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں۔ صحت یابی کے بعد دوبارہ نشہ کرنے کا خطرہ ہمیشہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ ایک دفعہ نشہ چھوڑنے کے بعد دوبارہ نشہ کرنا پسپائی یا ری لیپس کہلاتا ہے۔ دوبارہ نشہ کرنے سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے اور مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

عام طور پر دوبارہ نشہ شروع کرنے کے انتہائی خوفناک نتائج نکلتے ہیں۔ بحال ہونے والے مریضوں کی کچھ تعداد نشے کی طلب کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔

انہی وجوہات کی بناء پر "صداقت کلینک" میں نشے کی بحالی کے مریضوں کے لئے فالو اپ کو علاج کا اہم ترین حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ فالو اپ کی اہمیت کو ہم یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ان ڈور علاج کے دوران جب مریض علاج گاہ میں ہوتا ہے تو اس تک کسی بھی طرح کی منشیات کی رسائی نہیں ہوتی۔ "صداقت کلینک" میں اس کے طبی علاج کے ساتھ ساتھ اس کے رویوں پر بھی کام ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کو نشے کے بغیر رہنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں لیکن جب وہ دوبارہ کھلے ماحول میں واپس جاتا ہے۔ جہاں اسے پھر سے ہر قسم کی منشیات تک رسائی ہوتی ہے اور اسے نشے سے بحالی کے بعد دوبارہ سے معاشرے میں ایڈجسٹ ہونا ہوتا ہے تو اس موقع پر اسے اپنے معالجین کی رہنمائی اور مشاورت کی ضرورت رہتی ہے۔ جو اس کی مدد کر سکیں تاکہ وہ ادارے کے اندر سیکھے گئے علوم کو عملی طور پر معاشرے میں جان سکے اور جہاں اسے مشکل پیش آ رہی ہو، وہاں وہ اپنے معالج سے مشاورت کے ساتھ نیا لائحہ عمل تیار کر سکے۔

فالو اپ میں مسلسل ان باتوں کو دہرایا جاتا ہے جو دوران علاج انہیں سکھائی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ گروپ کا وٗنسلنگ سیشن میں نشے کے مرض سے بحالی پانے والے اپنے تجربات ایک دوسرے سے شیئر کر کے ان کے حل کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور نشے سے بچے رہنے کے لئے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

فالو اپ میں مریض کے ساتھ ساتھ اس کی فیملی سے بھی رابطہ رکھا جاتا ہے تاکہ علاج کے بعد مریض کے رویوں میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں جان کر اسے نشے سے دور رہنے میں مدد دی جا سکے۔ فالو اپ کا دورانیہ اس کی مثبت تبدیلیوں سے مشروط ہے۔

یاد رہے کہ فالو اپ پر علاج کی طرح زور دینے کی وجہ یہ ہے کہ ہم مریض سے صرف نشہ ہی نہی چھڑاتے بلکہ اسے معاشرے کا کارآمد شہری بننے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

 

Disease Concept of Addiction

Disease of addiction is a bio-psycho-social-spiritual disease characterized by its chronic, progressive, primary, and potentially fatal nature. It causes the victim to compulsively and repeatedly engage in drug seeking in the face of negative consequences that affect the individual and his family. Although the decision to use the drug for the first time is voluntary, addiction severely hinders an addict’s ability to resist cravings and results in loss of control over amount, time and place, and the duration of drug use.

Chronic

Similar to diabetes, heart disease, hypertension, and other chronic illnesses, addiction is a life-long condition that cannot be cured. However, it can be managed with appropriate care and strategies provided at the rehabilitation program at Sadaqat Clinic.

Progressive

In the absence of treatment, addiction worsens over time, affecting an individual’s quality of life and functioning in the different domains of life.

Primary

Addiction originates independently of another condition. It is not caused by a previous disease, injury, or event.

Potentially fatal

Without timely treatment, addiction can lead to death in some cases.

Addiction is a metabolic disorder that causes the drug (heroin, cannabis, hashish, cocaine, etc.) to quickly disintegrate into toxins upon entering the body. These toxins are then cleared at a very slow rate. This lag in handling leads to the state of intoxication. Intoxication steers a person to a thinking and living pattern based in denial and delusion. Denial does not let the drug user see the menace of addiction approaching. It also leads to slow reflexes and weak responses. Although in such a case, addicts are able to perform previously learned habits and routines to a minimally acceptable level, they have difficulty with new learning and spontaneous decision-making. When such a malady happens, it becomes mandatory for the individual to drink and use drugs to override the pain of toxins in the system.

In brief, addiction originates as a result of faulty biology in the addict. However, while addiction starts in one’s biology, it proceeds to deteriorate the psychological, social, and spiritual areas of their life.