Important Question Answers 18

اہم سوال و جواب

تمام افراد طے شدہ پروگرام کے تحت صبح کے وقت مریض سے ملتے ہیں جب وہ زیادہ نشے میں ہو اور نہ تروڑک میں۔ سربراہ مریض کو سب کی آمد کا مقصد بیان کرتا ہے اور اس سے وعدہ لیتا ہے کہ وہ خاموشی سے تمام افراد کے نکات سن لے۔ تاہم مریض کو جواب دینے سے بری الذمہ کر دیا جاتا ہے۔ مریض کا کردار ایک سامع کے طور پر متعین کر دیا جاتا ہے کیونکہ انٹروینشن میں مریض کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع نہیں ہوتا۔ بل ولسن اور ڈاکٹر باب نے چار سال کے عرصے میں سو افراد پر مشتمل ایسے لوگوں کی انجمن قائم کی جو باہمی روابط اور کچھ خاص اصولوں پر چلنے سے شراب سے نجات پا چکے تھے۔ 1939ء میں ان لوگوں نے ایک کتاب میں اپنے نشہ کرنے اور چھوڑنے کے تجربات بیان کئے۔ اس کتاب کا نام ’’الکوحلکس انانیمس‘‘ تھا۔ اس کتاب میں نشہ چھوڑنے کے شہرہ آفاق بارہ قدم پیش کئے گئے۔ پھر الکوحلکس انانیمس کے نام پر شراب چھوڑنے والوں کی ایک انجمن قائم کی گئی۔ بل ولسن اور ڈاکٹر باب سمتھ اس کے بانی قرار پائے۔
یہ کتاب چھپتے ہی دھڑا دھڑ شراب کے عادی اس بیماری سے نجات پانے لگے۔ بعد ازاں مریضوں کے اہل خانہ نے اس انجمن کے نقش قدم پر اپنی انجمن تشکیل دی جسے ’’ال انان‘‘ کا نام دیا گیا۔ پھر نارکوٹکس کا نشہ چھوڑنے والوں نے انہی بنیادوں پر اپنی انجمن تشکیل دی اور اس کا نام ’’نارکوٹکس انانیمس‘‘ رکھا۔ بعد ازاں دوسرے نشوں، حتیٰ کہ جوئے اور موٹاپے کی بیماری میں مبتلا لوگوں نے بھی انہی اصولوں پر اپنی انجمنوں کی بنیاد رکھی اور فلاح پائی۔ آج دنیا بھر میں سو سے زیادہ تنظیمیں انہی اصولوں پر کاربند ہیں۔ ان کے بنیادی طریقہ کار میں کوئی فرق نہیں۔ چونکہ پاکستان میں ’’نارکوٹکس انانیمس‘‘زیادہ متحرک ہے اس لئے ہم آئندہ بارہ قدموں کے پروگرام کا ذکر اسی حوالے سے کریں گے۔ نارکوٹکس انانیمس کو عام طور پر ’’این اے‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں کسی بھی نشے سے نجات کی خواہش رکھنے والے شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

* ’’این اے ‘‘ پروگرام کن سرگرمیوں پر مشتمل ہے؟
-1 میٹنگوں میں شمولیت۔
-2 لٹریچرکا مطالعہ۔
-3 راہنما بنانا۔
-4 بارہ قدموں پر کام کرنا۔
-5 راہنما بننا۔
-6 پروگرام کی روایتوں کے مطابق خدمت۔

* سکون کی دعا کیا ہے؟
یہ دعا مریض ایسے وقت دہراتے ہیں جب انہیں نشے کی طلب کا سامنا ہو۔ یہ ’’این اے‘‘ میٹنگوں میں بھی پڑھی جاتی ہے۔

سکون کی دعا
اے ہمارے رب! تو ہمیں اتنا سکون دے کہ اُن حالات کو تسلیم کر سکیں جنہیں ہم بدل نہیں سکتے۔ اتنی ہمت دے کہ ان حالات کو بدل دیں جنہیں ہم بدل سکتے ہیں اورعقل دے کہ ان دونوں میں فرق کر سکیں۔ آمین