Touch and Go2

ٹچ اینڈ گو میٹنگز (صفحہ نمبر ۲)

پہلی ٹچ اینڈ گو میٹنگ اکثر مریض کے علاج میں آنے کے بعد اگلے روز ہی کروا دی جاتی ہے پھر دو ہفتوں میں بقایا ٹچ اینڈ گو میٹنگز کرائی جاتیں ہیں۔ اس کے بعد مریض کے ساتھ فیملی کے سیشن شروع ہوتے ہیں جن میں صحت مندانہ تبادلہ خیالات کے ساتھ ساتھ نشے سے نجات کے حوالے سے اہم موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا مقصد فیملی کی جذباتی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے اس دوران ان کی توجہ ٹریننگ پر مرکوزرکھنا بھی انتہائی ضروری ہے جس کا مقصد اہل خانہ کو اُس کردار کیلئے تیار کرنا ہوتا ہے جس کے بغیر مریض کی بحالی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ اگر فیملی کو ٹریننگ کیلئے بلایا جائے اور ان کے پیارے سے ملاقات نہ کروائی جائے تو وہ اپنی توجہ ٹریننگ پر نہیں رکھ پاتے کیونکہ ان کا دھیان تو سورج مکھی کے پھول کی طرح اپنے پیارے کی طرف ہوتا ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے بارے میں اہل خانہ کی بریفنگ داخلے سے قبل ہو تو بہت آسانی رہتی ہے کیونکہ مریض نے جس طرح گھر میں ان کا ناک میں دم کر رکھا ہوتا ہے یہ باتیں انہیں آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے۔ داخلے کے بعد جدائی کا وقفہ ان کی سوئی ہوئی محبت کو جھنجھوڑ کر جگا دیتا ہے اور جذبات میں اِک ہلچل سی مچ جاتی ہے اس کیفیت میں وہ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے پس پردہ محرکات سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ بعض اوقات اہل خانہ مریض میں جذباتی اتار چڑھاؤ اور منفی رجحانات دیکھتے ہوئے خود مایوس ہو جاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں علاج کو سبوتاژ کر دیتے ہیں۔ نشے کی زندگی میں مریض تو جب چاہے اپنے موڈ اور مزاج کو جادو کی پُڑیا سے بدل سکتا ہے تاہم اہل خانہ اس ساری صورت حال میں مسلسل تڑپتے رہتے ہیں حتیٰ کہ کچھ افراد خانہ تو روگی ہو جاتے ہیں۔ وہ مریض کے ساتھ محبت اور نفرت کے ایک دوہرے چنگل میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکلنے کیلئے انہیں الگ سے خاص کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملاقات سے پہلے فیملی کو ضروری ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ مریض سے پراگندہ سوالات نہ کریں۔ پراگندہ سوالات وہ ہوتے ہیں جو الجھنیں پیدا کرتے ہیں، جیسے کہ ’’وہ کیسا ہے؟ علاج کیسا جارہا ہے؟ کیا تم یہاں ٹھیک ہو؟ تم خوش تو ہو نہ؟‘‘ بلکہ اس کے بجائے انہیں یہ کہنا چاہئے کہ ’’آپ کا چہرہ کتنا تروتازہ ہو گیا ہے، تمہارے بال کتنے اچھے لگ رہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ تم نے گزشتہ کئی دنوں سے شراب یا منشیات استعمال نہیں کی۔ یہ نئی صورتحال بہت اچھی لگ رہی ہے مجھے تم بہت پیارے ہو اور میں تمہیں صحت مند دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے خوشی ہے کہ تم علاج میں آ گئے ہو اور یہ سب سے بہترین علاج گاہ ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ آپ ایسا تب ہی کہہ سکتے ہیں، جب آپ نے علاج گاہ کے بار ے میں اچھی طرح چھان بین کر لی ہو اور اپنے پیارے کو بہترین علاج گاہ میں ہی داخل کرایا ہو‘‘۔ اگر مریض اس موقع پرعلاج اور کونسلر کے خلاف بات کرے تو ملاقاتی خاموشی سے بغیر کچھ کہے روانہ ہو جاتے ہیں، یہ سب کچھ قدرتی انداز میں ہونا چاہئے کہ جیسے وہ پہلے ہی جانے کیلئے پر تول رہے تھے اور جاتے جاتے کہتے ہیں کہ وہ کل پھر، فلاں وقت آئیں گے۔ اگر مریض کہے کہ آپ کیوں جا رہے ہیں؟ تو وہ اسے کہیں کہ انہیں علاج کے خلاف بات کرنا اچھا نہیں لگا اور وہ امید کرتے ہیں کہ آئند ہ وہ اس قسم کی بات نہیں کرے گا۔ اگر مریض مشکلات اور سہولتوں کی کمی کے بارے میں بات کرے تو ملاقاتی اسے ہدایت کرتے ہیں ’’آپ اس سلسلے میں ہمارے جانے کے بعد خود کونسلر سے بات کریں، ہمیں یقین ہے کہ آپ اچھی بات چیت کے ذریعے ان ضرورتوں کو پورا کر لیں گے‘‘

فیملی پہلی دفعہ مریض کو ایسی حالت میں مل رہی ہوتی ہے جبکہ اس نے کئی دنوں سے نشہ نہیں کیا ہوتا۔ اہل خانہ جانتے ہیں کہ محض چند گھنٹے نشے کے بغیر گزریں تو وہ کتنا بے چین و بے حال ہوتا ہے اور کس قدر ردِعمل دیتا ہے؟ اس سے وہ اچھی طرح اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہسپتال میں کئی دن گزر چکے ہیں، جہاں نشہ ملنے کی کوئی صورت بھی نہیں، مریض کتنا ناخوش ہو سکتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اہل خانہ یہ تصور کرتے ہیں کہ جب وہ اسے ملیں گے تو وہ بہت خوش ہو گا۔ کیا وہ نانی کے گھر آیا ہوا ہے؟
ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں تین کونسلر موجود ہوتے ہیں، اگر فیملی کی طرف سے صرف ایک فرد ہی ملاقات کرنے کیلئے آئے مثلاً بیوی، والدہ یا والد تو ملاقات کے بعدایک خاتون کونسلر فیملی ممبر کے ساتھ چلی جاتی ہے جبکہ باقی دو مرد کونسلرمریض کی دلجوئی کیلئے اُس کے پاس کھڑے رہتے ہیں۔ اگر ملاقاتی صرف مرد ہوں تو دونوں کونسلرز مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ میٹنگ کے دوران کونسلر اور ملاقاتی مریض کے کمرے میں موجود صوفے، کرسی یا بیڈ پر نہیں بیٹھتے بلکہ کھڑے رہتے ہیں۔ ملاقات کیلئے آنے والا کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا ہوتا ہے اور کونسلر مریض اور اہل خانہ کے درمیان حفاظتی ’’دیوار‘‘ بناتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہیں، ارے ایسا کیوں؟ ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں تین کونسلرموجود ہوتے ہیں، اگر فیملی کی طرف سے صرف ایک فرد ہی ملاقات کرنے کیلئے آئے مثلاً بیوی، والدہ یا والد تو ملاقات کے بعدایک خاتون کونسلر فیملی ممبر کے ساتھ چلی جاتی ہے جبکہ باقی دو مرد کونسلر مریض کی دلجوئی کیلئے اُس کے پاس کھڑے رہتے ہیں۔ اگر ملاقاتی صرف مرد ہو تو دونوں کونسلرز مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ میٹنگ کے دوران کونسلر اور ملاقاتی مریض کے کمرے میں موجود صوفے، کرسی یا بیڈ پر نہیں بیٹھتے بلکہ کھڑے رہتے ہیں۔ ملاقات کیلئے آنے والا کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا ہوتا ہے اور کونسلر مریض اور اہل خانہ کے درمیان حفاظتی ’’دیوار‘‘ بناتے ہیں۔

1 2 3 4 5