Touch and Go3

ٹچ اینڈ گو میٹنگز (صفحہ نمبر ۳)

عموماً ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں مریض اپنی فیملی کو مختلف طریقوں سے مجبور کرتا ہے تاکہ وہ اُسے گھر لے جائے مثلاً وہ  ہسپتال کے خلاف باتیں کرتا ہے، بار بار فیملی کے سامنے دعویٰ کرتا ہے کہ اگر وہ اُسے گھر لے جائیں گے تو وہ زندگی میں کبھی شراب یا منشیات کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا اور اگر وہ اُس کی بات نہیں مانیں گے تو پھر گھر واپس آتے ہی پہلے سے بھی زیادہ نشہ کرے گا۔ مریض کی یہ بات اہل خانہ کو کاری ضرب لگاتی ہے۔ ایک طرف دوبارہ نشہ کرنے کی دھمکی، دوسری طرف ایک دلفریب وعدہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا آپ اُسے صرف ایک وعدے کیلئے علاج میں لائے تھے؟ وعدے تو وہ صبح وشام کر رہا تھا۔ اگر کوئی دوبارہ نشہ کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور اپنے ہی نقصان کی بات کرتا ہے تو وہ کتنا صحتمند ہے۔ ایسے بندے کی قوت ارادی کتنی ہو گی؟ اور وہ اپنا وعدہ کیسے پورا کرے گا؟ اہلِ خانہ میں سے کوئی روگی ہو چکا ہو تو وہ ایسی مشکل صورت حال میں اپنے آپ کو کیسے سنبھا لے گا؟

بعض اوقات وہ جسمانی تکلیفوں اور پریشانیوں کا ذکر کرتا ہے کہ ’’اُسے یہاں درد ہو رہا ہے وہاں درد ہو رہا ہے بہانے بناتا ہے کہ نیند نہیں آتی‘‘۔ مریض اپنی بیوی سے کہتا ہے ’’میں تمہیں چھوڑ دوں گا یا کبھی بات نہیں کروں گا ‘‘ تو بیوی کہے ‘‘ہم اس پر بعد میں بات کریں گے، اس وقت سب سے اہم آپ کی صحت اور بحالی ہے" مریض کہتا ہے ’’اس کا بزنس تباہ ہو جائے گا اور ہمارے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں رہے گی‘‘ تو پھر بیوی کہے ’’آپ کی صحت اور بحالی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں‘‘۔ کبھی فیملی کو تقسیم کر کے حکمرانی کے اصول پر چلتا ہے ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں آنے والے فیملی ممبران کو ہدایات دیتا ہے کہ ’’اس طرح کریں جیسے وہ کہتا ہے‘‘۔ عجیب وغریب اشارے کنائے کرتا ہے۔ علاج میں خصوصی یا وی آئی پی سلوک چاہتا ہے، کوشش کرتا ہے کہ اُس کی حمایت کی جائے، کبھی خود کو بہت کمزور اور بیچارہ دکھائی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ حتیٰ کہ پہلے سے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر ڈرامہ کرتا ہے جیسے کہ پسینے سے شرابور ہے، ضعف کی کیفیت بتاتا ہے، علاج گاہ میں الگ تھلگ اور روٹھے ہوئے ہونے کی ایکٹنگ کرتا ہے، وہ علاج میں شمولیت سے پرہیز کرتا ہے، بھوک ہڑتال کر کے فیملی کو مسلسل دباؤ میں رکھتا ہے۔ یہ بات بھی آپ کے مدنظر رہنی چاہئے کہ مریضوں کو علاج کے ابتدائی مرحلے میں علاج کے تقاضے پورے کرتے ہوئے %100 خوش نہیں کیا جا سکتا۔ علاج کا تقاضا یہ ہے کہ ڈاکٹر فیملی سے جو کہے فیملی اُس کی ہدایت پر عمل کرتی رہے، کیونکہ علاج گاہ کو ان تمام قباحتوں سے نپٹنے کا طویل تجربہ ہوتا ہے اور جلد ہی مریض بہتری کی طرف چلا جاتا ہے۔

ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا دورانیہ طے شدہ ہوتا ہے اور کونسلر ملاقاتی کو پیشگی بتاتا ہے کہ میٹنگ مقررہ وقت یا اس سے پہلے جب وہ کہے تو ختم کر دی جائے۔ اس موقع پر جب مریض یہ دیکھتا ہے کہ فیملی کونسلر کی بات مان رہی ہے تو پھر وہ بھی ماننے لگتا ہے۔ فیملی ممبرز ایک دوسرے کو دیکھ کر مقررہ وقت کے گزر جانے کا احساس دلاتے ہیں اور میٹنگ ختم کر دیتے ہیں۔ ان تمام مذکورہ بالا ہدایات یا ضروری باتوں کو مدنظر رکھا جائے تو ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے ٹھوس نتائج نکلتے ہیں۔

ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا دورانیہ طے شدہ ہوتا ہے اور کونسلر ملاقاتی کو پیشگی بتاتا ہے کہ میٹنگ مقررہ وقت یا اس سے پہلے جب وہ کہے تو ختم کر دی جائے۔ اس موقع پر جب مریض یہ دیکھتا ہے کہ فیملی کونسلر کی بات مان رہی ہے تو پھر وہ بھی ماننے لگتا ہے۔ فیملی ممبرز ایک دوسرے کو دیکھ کر مقررہ وقت کے گزر جانے کا احساس دلاتے ہیں اور میٹنگ ختم کر دیتے ہیں۔ ان تمام مذکورہ بالا ہدایات یا ضروری باتوں کو مدنظر رکھا جائے تو ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے ٹھوس نتائج نکلتے ہیں۔ یہاں آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اپنے پیارے سے ملاقات میں اس قدر تکلف کیوں؟ پابندیاں کیوں؟ خرچہ ہم کریں اور مرضی ڈاکٹر کی چلے؟ ہم خود فیصلہ کیوں نہ کریں؟

 

 

1 2 3 4 5