Touch and Go5

ٹچ اینڈ گو میٹنگز (صفحہ نمبر ۵)

اگر علامات پسپائی کی شدت ہو تو یہ بات پہلے ہی اہل خانہ کو بتا دی جاتی ہے تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار رہیں۔ مریض کی بہتر خدمت معالج کی ذمہ داری ہے تاہم علامات پسپائی کی شدت کبھی کبھی مریض کو بے حال کر سکتی ہے، اسے چھپانا یا اس پر معذرت خواہ ہانہ رویہ مناسب نہیں۔ کونسلر میٹنگ کے دوران اپنا یا علاج گاہ کا دفاع نہیں کرتا بلکہ خاموش رہتا ہے اور اس وقت بات کرتا ہے جب ملاقات ختم ہو جاتی ہے۔ اہل خانہ بھی اس موقع پر فیملی کونسلرز سے باز پرس نہیں کرتے کیونکہ اس سے مریض کو شہ ملتی ہے اور وہ معالج کے ساتھ اپنے باہمی رشتے کے تقدس کو پامال کرنے لگتا ہے۔ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا اہل خانہ کیلئے لازم ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ میٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد ہر چیز کی وضاحت کرنا کونسلر کے فرائض میں شامل ہے۔ 

پہلی ٹچ اینڈ گو میٹنگ اچھی ہو تواگلی میٹنگ تک مریض میں مثبت تبدیلیاں نظر آنے لگتیں ہیں۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں اس قسم کا ماحول ہونا چاہیئے کہ اگر کونسلر ملاقاتی سے کہے ’’چلیں‘‘ تو وہ جواب دے ’’جی چلیں میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ اگر مریض کہے کہ وہ کوئی پرائیویٹ بات کرنا چاہتا ہے تو ملاقاتی کو کہنا چاہیئے کہ ’’میرے اور کونسلر کے درمیان کوئی پردہ نہیں، آپ جو بھی بات کرنا چاہتے ہیں ان کے سامنے ہی کریں‘‘۔ اگر مریض کہے کہ یہ کریں وہ کریں یا وہ کہے کہ میں آپ کو کوئی خط دینا چاہتا ہوں تو آپ کہیں ’’یہ بات آپ کونسلر سے کہیں یا پوچھیں ‘‘
ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا ڈھا نچہ ایسا ہوتا ہے کہ مریض کے ذہن پر بہرحال اس کے مثبت اثرات ہی پڑتے ہیں۔ اہلِ خانہ کیلئے اطمینان کی بات یہ ہوتی ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مریض پر سکون ہوتا نظر آتا ہے اور علاج میں اس کی دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے کئی رسم ورواج اہلِ خانہ کو فی الفور سمجھ نہیں آتے تاہم نتائج دیکھ کر وہ مطمئن ہو جاتے ہیں کونسلر ساتھ ساتھ ہر قدم کے پس پردہ محرکات کی وضاحت بھی کرتا ہے لیکن اہلِ خانہ کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں آم کھانے سے غرض ہے پیڑ گننے سے نہیں اگر ہمارا مریض نشے سے نجات کی راہ پر گامزن ہے تو ہمیں اس کے علاوہ کچھ اور نہیں چاہیے۔ جب مریض کی جسمانی تکلیفیں دور ہو چکی ہوتی ہیں تو گروپ کونسلنگ اور انفرادی کو نسلنگ کے ذریعے نشے کے بغیر زندہ رہنے کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ دوران علاج مریض آہستہ آہستہ نشے کے بغیر خوش رہنا سیکھ لیتا ہے وہی مریض جو علاج کے ابتدائی حصے میں منہ سے شعلے نکالتا ہے، علاج کے آخری حصے میں پر سکون ہو جاتا ہے۔

1 2 3 4 5