’’ستے میں وجیتے‘‘ ایک بھارتی شو ہے جس کی میز بانی مشہور فلم اداکار عامر خان نے کی۔ یہ شو سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ حل پر مبنی ہے۔ پاکستان میں ولنگ ویز ویڈیو چینل نے الکوحل ابیوز پر مبنی یہ ویڈیو فخریہ انداز سے ہوسٹ کی۔ ولنگ ویز ایک ایسا ادارہ ہے جو الکوحلزم کی دائمی بیماری کا شکار ہو جانے والے افراد اور ان کے خاندان کی مدد کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نہ صرف پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی تربیت دے رہے ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے سرحد پار پہنچانے کیلئے بھی ممکن بنایا ہے۔ موجودہ لوگوں کیلئے الکوحل پینے کے مضر اثرات کے متعلق معاشرے میں آگاہی پھیلانے کی مطابقت کے حوالے سے ولنگ ویز نے مندرجہ ذیل پمفلٹ تیار کئے ہیں۔ ان کو پڑھئیے۔Harmful Drinking: The mystery unfolds
 
اس کے علاوہ ڈاکٹر صداقت علی کی جانب سے متعلقہ موضوع پر مبنی حالیہ مضمون پڑھئیے۔ جس کا عنوان درج ذیل ہے۔Alcohol Hangover: Hanging over the commode or what
 

اس قسط میں عامر خان نے عموماً نظرا نداز کردئیے جانے والے موضوع’’الکوحلزم‘‘ پر روشنی ڈالی ہے۔ شو کے آغاز میں مسٹر ویجے سمہا جو کہ جرنلزم کے میدان میں جانا پہچانا نام رکھتے ہیں نے حقیقی زندگی پر مبنی مثال شئیر کی ہے کہ کس طرح انہوں نے الکوحلک ہونے کے ناطے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ مسٹر ویجے نے اپنے جذبات کے اظہار کے ذریعے ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ کس طرح الکوحل کا استعمال تباہ کن اثرات کا حامل ہے۔ ویڈیو کا دوسرا حصہ جو کو ایک مشہور سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر اشیش ڈِش پانڈے کے نقطہ نظر پر مبنی ہے جو کہ عرصہ دراز سے الکوحلز پر کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے الکوحل کے متعلق اس غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے یہ واضح کیا کہ یہ عادت کی بجائے ایک بیماری ہے۔ انہوں نے جینز کے کردار کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح موروثی کمی ایک پینے والے کو عادی بنا دیتی ہے۔ ویڈیو کے اگلے حصہ میں وہ اُن علامات پر اشارہ کرتے ہیں جن کی بدولت آپ کا پیارا مشکل میں گرفتار ہو جاتا ہے اور پھر اسے مدد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ علاج کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس چیلنج کی نشاندہی کی کہ اس کو پینے سے روکنا ہی نہیں ہے بلکہ خود کو نشے اور خراب روئیوں سے دور رکھنا ہے۔ قسط کا تیسرا حصہ الکوحل انونیمس کی بدولت مریض کی بحالی پر مبنی ہے جو کہ عرصہ چالیس سال سے الوحلزم میں مبتلا تھا اور اس نے اس الکوحلزم کے مکرو چکر سے نجات حاصل کی۔ اسی کی روشنی میں ملک کے مشہور مصنف اور شاعر جناب جاوید اختر نے اپنی متاثرکن کہانی شئیر کی کہ جب وہ دائمی بیماری سے لڑ رہے تھے اور انہوں نے کس طرح اسے شکست دے کر جیت حاصل کی۔ قسط کے آخری حصہ میں ایک والد نے اپنے اکلوتے بیٹے کی کہانی سنائی کہ وہ کس طرح کسی کی غلطی کی بدولت اس کا شکار ہوا اور اسے اس کی قیمت اپنی زندگی گنوا کر ادا کرنی پڑی۔ اگر آپ اس سے متعلقہ مزید مواد پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو درج ذیل تحریر شدہ آرٹیکلز پڑھئیے۔

ڈاکٹر صداقت علی نے ڈؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور ایڈیکشن سائیکاٹری کے شعبے میں مایہ ناز ماہرامراض منشیات و نفسیات ہیں۔ انہوں نے ہیزلڈن اور وائیٹل سمارٹ امریکہ سے تربیت حاصل کی۔ ڈاکٹر صداقت علی ولنگ ویز اور صداقت کلینک کے پراجیکٹ ڈائیریکٹر ہیں۔ ان کو انٹرنیشنل “Who is who”پروفیشنلز کی ڈائیکٹری میں شامل کیا گیا، کسی پاکستانی ڈاکٹر کیلئے یہ پہلا اعزاز ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے بڑے پیمانے پر ان کے انٹرویوز کئے۔ وہ ڈرگ ایڈیکشن، الکوحلزم، جوا، خودکشی کی روک تھام اور گھر سے بھاگنے جیسی بری عادتوں کو اچھی عادتوں میں بدلنے پر اپنے خیالات کا اظہار قومی ٹی وی چینلز پردیتے ہوئے اکثر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو تربیت دیتے ہیں کہ اگر خاندان کا کوئی فرد خود کو تباہ کرنے کے طرز عمل میں مبتلاہے تو اس کیلئے کیسے مداخلت کی جائے۔ انہوں نے بڑی تعداد میں قومی سہولتیں پیدا کی ہیں۔ ایڈکشن اورالکوحلزم کا علاج ولنگ ویزمیں آؤٹ ڈور اور صداقت کلینک میں اِن ڈور بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرصداقت علی کے کچھ ٹی وی پروگرامز درج ذیل ہیں۔

منشیات کے علاج اور کونسلنگ کے میدان میں ولنگ ویز کامیاب اور شاندار ادارہ ہے۔ 1979 میں ہم نے اس کام کا آغاز کیا جب پاکستان اچانک سے ہیرؤین کی زد میں آیا۔ ہم نے بہادر ی سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ذمہ داری اُٹھائی کہ ایڈیکشن کسی بھی مرحلے پر قابل علاج مرض ہے اور آج ہمیں نشے کے علاج کے میدان میں قابل اعتماد راہنما ہونے پر فخر ہے نہ صرف پاکستان میں بلکہ امریکہ، انگلستان اور یورپ میں بھی ہمارے مریض ہیں۔

یہاں مریضوں کا سائنسی طرز پر مبنی علاج کیا جاتا ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔ ہم اپنی ٹیم اور پروگرام کو جدید ترین ترقی کے ساتھ اپ ٹوڈیٹ رکھتے ہوئے اپنے مریضوں کے ساتھ تفصیلاً کام کرتے ہیں۔ یہ پروگرام نہ صرف مریض تک محدود ہے بلکہ خاندان پر بھی کام کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد خاندان میں سکون کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ یہ پروگرام مریض کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے بنایا گیا۔ ہماری تنظیم ایک انتہائی قابل ٹیم پر مشتمل ہے جو کہ تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ ہر چیز کے بارے میں وسیع علم رکھتی ہے۔ ہماری ٹیم میں میڈیکل سپیشلسٹ، سائیکاٹرسٹ، کلینکل سائیکالوجسٹ اور کونسلرز شامل ہیں۔ ہم جدید تحقیق اور طریقوں کے ذریعے اس بیماری کا علاج کر رہے ہیں، ہمارا مشن ایڈیکشن کی روک تھام، علاج اور مینجمنٹ کے حوالے سے ہے کہ بیماری اور اس کی پیچیدگیوں سے دنیا کو آزاد کروایا جائے۔