فرح سعدیہ: یعنی ایک کوئی نہ کوئی عہد ہو۔ عہد لفظ مجھے اتنا اچھا نہیں لگتا جتنا مجھے اچھا لگتا ہے ’نصب و العین‘، اس لیے اس کا جو مطلب مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ بچپن سے ہی جب پڑھا کرتے تھے کہ آپ کا نصب و العین کیا ہے؟ اور دیکھیں جب بھی ہم کسی بندے کی بات کرتے ہیں تو وہ جس کے اوپر واقعی فوکسڈ ہے وہ ایک ایسی چیز جس سے وہ Deviateنہیں کر رہا ادھر ادھر، بالکل جیسے وہ کوئی نشانہ بعض جو کہ جب کوئی نشانہ لے رہا ہوتا ہے تو مکمل طور پر جب تک فوکسڈ نہیں ہوتا تو نشانہ نہیں لے سکتا اور اس طرح کی چیزیں ہم بیان کریں گے آگے مزید۔ حمیدہ! آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہیں

فرح سعدیہ: اسلام و علیکم

حمیدہ: وعلیکم السلام! جب میرے بھائی پہلی دفعہ سعودیہ گئے تو مجھے ڈپریشن ہوا میری طبیعت خراب رہتی تھی، کئی دفعہ علاج کروایا ہے۔ میں جب اپنے بھائی یا بہن سے ملتی ہوں تو کہتی ہوں کہ آخری دفعہ مل لو بعد میں پھر میں کہاں ہوں گی، ہم کیسے ملیں گے۔

فرح سعدیہ: یہ کس واقعے کے بعد سے یہ ایسا ہونا شروع ہوا یا ہمیشہ سے پہلے دن سے ہی ایسا تھا۔

حمیدہ: نہیں نہیں! جب سے میرے بھائی سعودیہ گئے تھے اس کے بعد سے ہوا۔

فرح سعدیہ: آپ کون سی گولیاں لے رہی ہیں؟

حمیدہ: نیوزیم

ڈاکٹر صداقت علی: پہلی تو بات یہ ہے کی آپ جو دوائی لے رہی ہیں یہ دماغ کو سُن کر دینے والی دوائی ہے جسے ہم ٹریکیولائیزر کہتے ہیں۔
یہ اس مسئلے کو حل کرنے کی دوا نہیں ہے۔ لوگ معصومیت میں یہ لینا شروع کر دیتے ہیں ان کی عادت ہو جاتی ہے یہ ڈپریشن کو بھی جنم دیتی ہیں وہ دوائیاں جو لوگ رات کو سونے سے پہلے لیتے ہیں جن میں سے ایک کا نام جو انہوں نے لیا۔
اس کے علاوہ چالیس، پچاس اور بھی دوائیاں ہیں جب ایک دوائی اس بارے میں بدنام ہو جاتی ہے تو پھر وہ ایک نئے نام سے ملتی ہے، مارکیٹ میں بھیج دیتے ہیں جن کی قطعی ضرورت نہیں اور یہ سب دوائیاں در حقیقت شراب جیسا اثر رکھتی ہیں اور جو لوگ شراب پینا پسند نہیں کرتے تو ان دوائیوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح! نمبر ایک بات تو یہ ہو گئی۔

ڈاکٹر صداقت علی: دوسری بات یہ کہ ان کو وہم ہوتا ہے جو کہ جدائی کا وہم کہلاتا ہے۔ جن لوگوں سے ہمیں بہت زیادہ محبت ہوتی ہے جب وہ ہم سے بہت دور چلے جاتے ہیں تو ہمیں ضرورت ہوتی ہے، ہمارے دماغ کو چونکہ عادت ہوتی ہے تو ہمارا دل چاہتا ہے کہ پل پل ہمارے پاس سگنل آتا رہے ان کی طرف سے کہ وہ خیریت سے ہیں اور جہاں ہیں خوش ہیں۔ چونکہ پل پل ایسا ممکن نہیں تو ہم کئی دفعہ کوشش کرتے ہیں آج کے زمانے میں میسج کر کے، کال کر کے ان کی خیریت دریافت کرتے ہیں اور یہ خیریت دریافت کرنے کا عمل یہ زیادہ سے زیادہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو پھر بے چینی ہوتی ہے جیسا کہ ان کو ہوتی ہے۔ یہ چیزیں بعد میں انسان کو بہت تنگ کرتی ہیں، زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہیں کیونکہ جو کام آپ کر رہے ہیں اس پر آپ کا فوکس نہیں ہوتا بلکہ کسی پیارے کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں جو زندگی میں آپ کے پیارے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
ٖ
فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب! جیسے کہ آپ ’جدائی کے وہم‘ کی بات کر رہے ہیں، اس بارے میں میں نے پڑھا، یہ تو بہت بچپن میں ہوتی ہے کہ جب ہم دودھ پیتے بچے ہوتے ہیں اور اماں تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ کے چلی جاتی تھی اور رات کو ہماری آنکھ کھول جاتی تھی اور دیکھتے تھے کہ ہمارے پاس تو کوئی نہیں یا پھر اماں کہیں گئی ہیں اور ہمیں محسوس ہوا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: وہ ایک عدد شخص کے بارے میں ہوتی ہے جسے آپ ماں یا باپ کہتے ہیں زیادہ تر (ماں) لیکن جوں جوں ہم زندگی میں آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں اور رشتوں کی پہچان ہونے لگتی ہے تو پھر جب ہماری اولاد ہوتی ہے تو یہ اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس کی جڑیں تو وہی ہیں جو آپ نے ابھی فرمایا۔ لیکن جب پھر آگے بچے ہوتے ہیں تو بچوں کے معاملے میں ہم زیادہ اس بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بہ نسبت اپنے ماں باپ کے اور پھر جب بچوں کے بچے ہوتے ہیں تو پھر اور زیادہ۔

فرح سعدیہ: پھر اس کا حل کیا ہو گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: دو خصوصیات ہیں جو کہ انسان کے اندر مکمل طور پر نہیں ہو سکتی۔ دو خصوصیات ہیں جو صرف خدا کے اندر مکمل ہوتی ہیں وہ ہیں کہ پوری قدرت رکھنا اور پورا یقین ہونا یعنی خدا جو چاہتا ہے وہ فوراً ہو جاتا ہے اور جو آگے ہونا ہوتا ہے وہ خدا کو پتا ہوتا ہے۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح ہے! ولی اور رقیب بھی صرف خدا ہی ہو سکتا ہے

ڈاکٹر صداقت علی: اچھا اب یہ جو خوبیاں ہیں صرف خدا کی خوبیاں ہیں جس میں اﷲ تعالی نے اپنی ان خوبیوں میں سے تھوڑا تھوڑا تبرک انسانوں کو دیا ہے۔ کسی کو کچھ زیادہ اور کسی کو کچھ کم یعنی کچھ انسان زیادہ قابل ہوتے ہیں کام کو کرنے کے اعتبار سے اور کوئی کچھ اچھے اندازے لگا سکتے ہیں یعنی تھوڑا بہت تو سب ہی اندازہ لگا سکتے ہیں جیسے کہ کل جمعہ کا روز ہو گا، جیسے آنے والے دنوں میں سردی زیادہ ہو گی تو سب ہی پیشن گوئی کر سکتے ہیں جیسے کل بارش ہو گی کہ نہیں یا اس طرح کی باتیں لیکن مکمل طور پر آج بھی سائنس مکمل طور پر یہ جائزہ نہیں لے سکتی کہ آپ کے آنے والے وقت میں کیا ہو گا مکمل سو فیصداندازہ صرف خدا کر سکتا ہے مکمل سو فیصد کنٹرول صرف خدا کا ہو گا اور انسان کو صرف اس پر یقین کرنا پڑے گا، اکتفاء کرنا پڑے گا۔

فرح سعدیہ: لگتا ہے آپ کبھی بھی جدائی کے وہم کے اٹیک میں اس طرح سے گئے نہیں !

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں یہ سب کچھ میں نے بھی کیا ہے۔ دیکھیں اس معاشرے میں پلنے والا ہر شخص ان توہمات، وہموں میں سے گزرے گا بے یقینی، بے چینی کی کیفیت کو محسوس کرے گا۔اپنی نوجوانی کی عمر میں، میں نے بھی تمام بے یقینیوں اور بے چینیوں کو محسوس کیا۔ جب آپ شانداری سے اپنی اس کمزوری کو سیکھتے ہیں تو اسے قبول کرتے ہیں، جیسے آپ بہت ساری چیزوں کو قبول کر لیتے ہیں، پرندے اڑتے ہیں آپ نہیں اڑ سکتے تو آپ اس چیز کو شانداری سے قبول کر لیتے ہیں لیکن پھر آپ نے جہاز بنایا اور قابو کر لیا۔

فرح سعدیہ: یاد رہے آپ نے مجھے کتاب دی تھی “How to break your addiction to a person” اس نے مجھے بہت مدد کی اور اس کا ایک طریقہ ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں ناضریں کے ساتھ شیئر کروں؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی!

فرح سعدیہ: اس میں ایک تھا کہ جب آپ ایسے لمحے میں ہوں جب آپ کو اندازہ ہو رہا ہو اس کا یا کسی ایسی چیز کا تو اپنے آپ کو اس لمحے ایک خط لکھیں اور ڈاکٹر صاحب میں نے ایسے پھر بے شمار خط لکھے جس میں آپ لکھیں کہ کیا کیا ہوتا تھا جب آپ اس بندے کو چھوڑ دیتے ہیں یا وہ آپ کو چھوڑ دیتا ہے یا دور چلا جاتا ہے جھگڑے کی کسی کیفیت میں تو پھر بعض اوقات جب آپ اسے یاد کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کی نظر ان چیزوں کی طرف نہیں جا رہی ہوتی جن وجوہات کی وجہ سے نوبت آئی تھی۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments